المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1. كِتَابُ السَّهْوِ
سہو (بھول چوک) کے احکام کی کتاب۔
حدیث نمبر: 1217
أخبرني محمد بن القاسم بن عبد الرحمن العَتَكي، حدثنا إسماعيل بن قُتَيبة السُّلَمي وأحمد بن محمد بن شِيرِين (1) الجُرْجاني، قالا: حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة، حدثنا أبو خالد الأحمر، عن ابن عَجْلان، عن زيد بن أسلم، عن عطاء بن يسار، عن أبي سعيد الخدريِّ قال: قال رسول الله ﷺ:"إذا شكَّ أحدُكم في صلاته، فلْيُلْقِ الشَّكَّ ولْيَبْنِ على اليَقين، فإن استيقَنَ التَّمام سَجَدَ سجدتين، فإن كانت صلاتُه تامّةً كانت الركعة نافلةً والسجدتان، وإن كانت ناقصةً كانت الركعةُ تمامًا لصلاته، والسجدتانِ تُرْغِمان أنفَ الشيطان" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة!
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة!
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہو جائے (کہ کتنی رکعتیں پڑھی ہیں) تو وہ شک کو چھوڑ دے اور یقین پر بنیاد رکھے (یعنی کم پر)، پھر جب اسے تکمیل کا یقین ہو جائے تو دو سجدے کرے، پس اگر اس کی نماز پوری تھی تو یہ ایک رکعت اور دو سجدے نفل ہو جائیں گے، اور اگر نماز میں کمی تھی تو وہ رکعت اس کی نماز کی تکمیل کر دے گی اور وہ دو سجدے شیطان کی ذلت کا باعث ہوں گے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا! [المستدرك على الصحيحين/كتاب السهو/حدیث: 1217]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا! [المستدرك على الصحيحين/كتاب السهو/حدیث: 1217]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل ابن عجلان» [ترقيم الرساله 1217] [ترقيم الشركة 1206]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 1218
أخبرنا مُكرَم بن أحمد القاضي ببغداد، حدثنا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل، حدثنا أيوب بن سليمان بن بلال، حدثني أبو بكر بن أبي أُويس، عن سليمان بن بلال، عن عمر بن محمد بن زيد بن عبد الله بن عمر، عن سالم بن عبد الله، عن عبد الله بن عمر قال: قال رسول الله ﷺ:"إذا صلَّى أحدُكم فلا يَدرِي كم صلَّى ثلاثًا أم أربعًا، فليركَعْ ركعةً يُحسِن سُجودَها ورُكوعَها، ثم يسجدُ سجدتين" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے اور اسے یہ معلوم نہ رہے کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں، تین یا چار؟ تو اسے چاہیے کہ وہ ایک رکعت (مزید) پڑھے اور اس کے رکوع و سجود اچھی طرح ادا کرے، پھر دو سجدے (سہو کے) کرے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب السهو/حدیث: 1218]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب السهو/حدیث: 1218]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل أبي بكر بن أبي أويس: وهو إسماعيل» [ترقيم الرساله 1218] [ترقيم الشركة 1207]
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
2. سَجْدَةُ السَّهْوِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ
سلام سے پہلے سجدۂ سہو کرنا۔
حدیث نمبر: 1219
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحسين بن الحسن بن مُهاجِر، حدثنا أبو الرَّبيع سليمان بن داود المَهْري، حدثنا عبد الله بن وَهْب، أخبرني عبد العزيز بن أبي حازم، عن الضَّحَّاك بن عثمان، عن الأعرج، عن عبد الله بن بُحَينة أنه قال: صلَّى لنا رسولُ الله ﷺ صلاةً من الصَّلوات، فقام من اثنتَين فسُبِّح به، فمضى حتى فَرَغَ من صلاته ولم يَبقَ إلّا السلام، سَجَدَ سجدتَين وهو جالس قبلَ أن يُسلِّم (1) .
هذا حديث مفسَّر صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
هذا حديث مفسَّر صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
سیدنا عبداللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کسی نماز میں دو رکعتوں کے بعد (تشہد کے لیے بیٹھنے کے بجائے) قیام کیا، لوگوں نے سبحان اللہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو توجہ دلائی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھ گئے یہاں تک کہ جب نماز سے فارغ ہوئے اور صرف سلام باقی رہ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھے بیٹھے سلام پھیرنے سے پہلے سہو کے دو سجدے کیے۔
یہ مفصل حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا! [المستدرك على الصحيحين/كتاب السهو/حدیث: 1219]
یہ مفصل حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا! [المستدرك على الصحيحين/كتاب السهو/حدیث: 1219]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، الضحاك بن عثمان وإن كان فيه كلام، قد توبع» [ترقيم الرساله 1219] [ترقيم الشركة 1208]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 1220
أخبرنا إبراهيم بن عِصْمة بن إبراهيم العدل، حدثنا أبي، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا أبو معاوية، حدثنا إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم، عن سعد بن أبي وقاص: أنه نَهَضَ في الركعتين، فسبَّحوا به، فاستتمَّ، ثم سَجَدَ سجدتي السَّهو حين انصرف، وقال: أكنتُم تَرَوني كنتُ أجلس؟ إنما صنعتُ كما رأيتُ رسولَ الله ﷺ يَصنَع (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے بارے میں مروی ہے کہ وہ (پہلے تشہد کے بجائے) دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہو گئے، لوگوں نے انہیں توجہ دلانے کے لیے سبحان اللہ کہا مگر وہ سیدھے کھڑے رہے، پھر جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو انہوں نے سہو کے دو سجدے کیے اور فرمایا: کیا تم یہ سمجھتے تھے کہ میں (توجہ دلانے پر دوبارہ) بیٹھ جاؤں گا؟ میں نے تو ویسا ہی کیا ہے جیسا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب السهو/حدیث: 1220]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب السهو/حدیث: 1220]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات، إلا أنه قد اختلف في رفعه ووقفه والصواب وقفه كما قال الدارقطني في "العلل" (642)» [ترقيم الرساله 1220] [ترقيم الشركة 1209]
الحكم على الحديث: رجاله ثقات
حدیث نمبر: 1221
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن عبد الله الدَّقَّاق، حدثنا علي بن إبراهيم الواسطي، حدثنا وَهْب بن جَرير بن حازم، حدثنا أبي، قال: سمعتُ يحيى بن أيوب يحدِّث عن يزيد بن أبي حبيب، عن سُوَيد بن قَيْس، عن معاوية بن حُدَيج قال: صليتُ مع رسول الله ﷺ المغرب، فسَها فسلَّم في ركعتين، ثم انصرف، فقال له رجل: يا رسولَ الله، إنك سَهَوتَ فسلَّمتَ في ركعتين، فأمر بلالًا فأقام الصلاة، ثم أتمَّ تلك الرَّكعةَ، فسألتُ الناسَ عن الرجل الذي قال: يا رسول الله، إنك سَهَوتَ، فقيل لي: تعرفُه؟ قلت: لا، إلّا أن أراه، فمرَّ بي رجلٌ، فقلت: هو هذا، قالوا: هذا طلحةُ بن عبيد الله (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سہو ہو گیا اور آپ نے دو رکعتوں پر ہی سلام پھیر دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے، تو ایک شخص نے آپ سے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! آپ سے سہو ہو گیا ہے اور آپ نے دو رکعتوں پر سلام پھیر دیا ہے“، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے نماز کی اقامت کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ بقیہ رکعت پوری فرمائی، میں نے لوگوں سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جس نے کہا تھا کہ اے اللہ کے رسول آپ سے سہو ہو گیا ہے، تو مجھ سے کہا گیا: کیا تم اسے جانتے ہو؟ میں نے کہا: نہیں، مگر یہ کہ اسے دیکھ لوں، پھر ایک شخص میرے پاس سے گزرا تو میں نے کہا: یہی وہ شخص ہے، لوگوں نے کہا: یہ سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ ہیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب السهو/حدیث: 1221]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب السهو/حدیث: 1221]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح وهذا إسناد حسن» [ترقيم الرساله 1221] [ترقيم الشركة 1210]
الحكم على الحديث: حديث صحيح وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 1222
أخبرني أبو عبد الرحمن محمد بن عبد الله بن أبي الوزير التاجر، حدثنا أبو حاتم محمد بن إدريس الحَنْظَلي، حدثنا محمد بن عبد الله الأنصاري، حدثنا أَشْعَث بن عبد الملك الحُمْراني، عن محمد بن سِيْرين، عن خالد الحَذَّاء، عن أبي قِلَابة، عن أبي المهلَّب، عن عِمْران بن حُصَين: أنَّ النبيَّ ﷺ تشهَّد في سَجدتي السَّهو، ثم سلَّم (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، إنما اتَّفقا على حديث خالد الحَذَّاء عن أبي قِلابة (2) ، وليس فيه ذِكرُ التشهد لسجدتي السهو:
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، إنما اتَّفقا على حديث خالد الحَذَّاء عن أبي قِلابة (2) ، وليس فيه ذِكرُ التشهد لسجدتي السهو:
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سہو کے دونوں سجدوں میں تشہد پڑھا اور پھر سلام پھیرا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، ان دونوں نے صرف خالد حذاء کی ابو قلابہ سے روایت پر اتفاق کیا ہے جس میں سہو کے سجدوں کے تشہد کا ذکر نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب السهو/حدیث: 1222]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، ان دونوں نے صرف خالد حذاء کی ابو قلابہ سے روایت پر اتفاق کیا ہے جس میں سہو کے سجدوں کے تشہد کا ذکر نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب السهو/حدیث: 1222]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، إلّا أنَّ ذكر التشهد في سجدتي السهو شاذٌّ في حديث عمران بن حصين، فقد رواه جمع عن خالد الحذاء لم يذكروا فيه التشهد، وقد حكم عليه بالشذوذ البيهقي في "السنن" 2/ 355، والحافظ ابن حجر في "الفتح" 4/ 491، إلّا أنَّ الحافظ استدرك وذكر له شاهدين بإسنادين ضعيفين ...» [ترقيم الرساله 1222] [ترقيم الشركة 1211]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
3. سَجْدَةُ السَّهْوِ بَعْدَ السَّلَامِ
سلام کے بعد سجدۂ سہو کرنا۔
حدیث نمبر: 1223
أخبرَناه أبو أحمد بن أبي الحسن، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا محمد بن عبد الله الأنصاري، حدثنا أشعث، عن محمد بن سِيرين، عن خالد الحَذَّاء، عن أبي قِلابة، عن أبي المهلَّب، عن عِمْران بن حُصَين: أنَّ النبي ﷺ صلَّى بهم فسَهَا في صلاته، فَسَجَدَ سَجدَتي السَّهو بعد السَّلام والكلام (3) .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز پڑھائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز میں سہو ہو گیا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرنے اور کلام کرنے کے بعد سہو کے دو سجدے کیے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب السهو/حدیث: 1223]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، محمد بن يحيى: هو الذهلي» [ترقيم الرساله 1223] [ترقيم الشركة 1212]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1224
أخبرني أبو بكر محمد بن أحمد بن حاتم العدل بمَرْو، حدثنا محمد بن عمرو الفَزَاري، حدثنا يوسف بن عيسى، حدثنا الفضل بن موسى، حدثنا عبد الله بن كَيْسان، عن عكرمة، عن ابن عباس: أنَّ النبيَّ ﷺ سَمَّى سَجدَتي السَّهو المُرغِمَتين (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وأبو مجاهد عبد الله بن كَيْسان ثقةٌ ممن يُجمَع حديثُه في المَراوِزَة.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وأبو مجاهد عبد الله بن كَيْسان ثقةٌ ممن يُجمَع حديثُه في المَراوِزَة.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سہو کے دونوں سجدوں کا نام «المرغمتين» (شیطان کو ذلیل و رسوا کرنے والے) رکھا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور ابو مجاہد عبداللہ بن کیسان ان ثقہ راویوں میں سے ہیں جن کی حدیث اہل مرو کے ہاں جمع کی جاتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب السهو/حدیث: 1224]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور ابو مجاہد عبداللہ بن کیسان ان ثقہ راویوں میں سے ہیں جن کی حدیث اہل مرو کے ہاں جمع کی جاتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب السهو/حدیث: 1224]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف عبد الله بن كيسان» [ترقيم الرساله 1224] [ترقيم الشركة 1213]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
4. سَجْدَتَا السَّهْوِ إِذَا لَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى
جب یہ معلوم نہ ہو کہ کتنی رکعتیں پڑھی ہیں تو دو سجدے سہو کرنا۔
حدیث نمبر: 1225
حدثنا أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه، أخبرنا علي بن الحَسَن بن بَيَان، حدثنا عبد الله بن رَجَاء، أخبرنا حرب بن شَدَّاد، أخبرنا يحيى بن أبي كَثِير، حدثني عِيَاض قال: سألتُ أبا سعيد الخُدْري فقلت: أحدُنا يصلي فلا يدري كم صلى، قال: قال لنا رسول الله ﷺ:"إذا صلَّى أحدكم فلم يَدْرِ كم صلَّى، فليسجد سجدتين، وإذا جاء أحدَكُم الشيطانُ فقال: إنك قد أحدثْتَ، فليقل: كذبتَ، إلّا ما وَجَدَ رِيحًا بأنفه، أو سَمِع صوتًا بأُذنِه" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ان سے سوال کیا کہ ہم میں سے کوئی نماز پڑھتا ہے اور اسے یہ معلوم نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھ لی ہیں، تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا تھا: ”جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے اور اسے یہ یاد نہ رہے کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں، تو وہ (سہو کے) دو سجدے کرے، اور جب تمہارے پاس شیطان آئے اور کہے کہ تم بے وضو ہو گئے ہو، تو وہ (اپنے دل میں) کہے: «کذبتَ» ”تو نے جھوٹ بولا ہے“، الا یہ کہ وہ اپنی ناک سے بو محسوس کرے یا اپنے کان سے آواز سن لے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب السهو/حدیث: 1225]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب السهو/حدیث: 1225]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عياض: وهو ابن هلال» [ترقيم الرساله 1225] [ترقيم الشركة 1214]
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 1226
حدثنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد السلام، حدثنا جعفر بن محمد بن الفُضَيل الراسِيّ، حدثنا عمَّار بن مَطَر الرُّهَاوي، حدثنا عبد الرحمن بن ثابت، عن أبيه، عن مكحول، عن كُرَيب مولى ابن عباس، عن ابن عباس، عن عبد الرحمن بن عوف قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن سَها في صلاتِه في ثلاثٍ وأربعٍ فليُتمَّ، فإِنَّ الزيادةَ خيرٌ من النُّقْصان" (1) .
هذا حديث مفسَّرٌ صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث مفسَّرٌ صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس سے اپنی نماز کی تین یا چار رکعتوں میں سہو ہو جائے تو وہ اسے پورا کرے، کیونکہ (رکعت کی) زیادتی کمی سے بہتر ہے۔“
یہ حدیث مفسر اور صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب السهو/حدیث: 1226]
یہ حدیث مفسر اور صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب السهو/حدیث: 1226]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا، عمار بن مطر الرهاوي متروك الحديث، وبه أعلّه الذهبي في "تلخيصه"» [ترقيم الرساله 1226] [ترقيم الشركة 1215]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا