🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. لَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ
اختلاف نہ کرو ورنہ تمہارے دل مختلف ہو جائیں گے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2179
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يزيد بن زُريع، حدثنا خالدٌ الحذّاء، عن أبي مَعْشَر، عن إبراهيم، عن علقمة، عن عبد الله بن مسعود، قال: قال رسول الله ﷺ:"لِيَليَنِّي منكم أُولُو الأحلام والنُّهى، ثم الذين يَلُونهم، ثم الذين يَلُونهم، ولا تختَلِفُوا فتختلفَ قلوبُكم، وإياكُم وهَيْشاتِ الأسواق" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجه البخاري.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2150 - لم يخرجه البخاري وهو على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے سمجھدار لوگ میرے زیادہ قریب رہا کریں پھر وہ جو ان کے قریب ہیں پھر وہ جو ان کے قریب ہیں اور آپس میں اختلاف مت کیا کرو کہ (اگر تم بے جا اختلاف سے باز نہیں آؤ گے تو) تمہارے دل بدل جائیں گے اور تم بازار کے فتنہ سے بچ کر رہو۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے، لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2179]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2180
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا العوّام بن حَوشَب، عن إبراهيم السَّكْسَكِي، عن ابن أبي أَوفى: أنَّ رجلًا أقامَ سلعةً له، فحلَفَ بالله لقد أُعطيَ بها ما لم يُعْطَ بها، فنزلت هذه الآية: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا﴾ الآية [آل عمران: 77] (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه (2) ، إنما اتفقا على حديث عمرو بن دينار والأعمش، عن أبي صالح، عن أبي هريرة: رجل حَلَفَ على سِلْعةٍ له، الحديث (3) ، وهذا غير ذاك بزيادة نزول الآية وغيرها.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2151 - صحيح
سیدنا عبداللہ ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک شخص اپنا سامان بیچنے کے لیے کھڑا تھا۔ اس نے اللہ کی قسم کھا کر کہا کہ یہ سامان اس کو اتنے میں پڑا ہے حالانکہ اس کو وہ سامان اتنے میں نہیں پڑا تھا تو یہ آیت نازل ہوئی: (اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَھْدِاللّٰہِ وَاَیْمَانِھِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا) جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے ذلیل دام لیتے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں نے سیدنا عمرو بن دینار رضی اللہ عنہ اور سیدنا اعمش رضی اللہ عنہ کی ابوصالح کے واسطے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی یہ حدیث نقل کی ہے کہ ایک شخص نے اپنے سامان پر قسم کھائی اس کے بعد پوری حدیث ذکر کی۔ تاہم اس حدیث میں اور سابقہ حدیث میں نزول آیت اور دیگر اضافہ کا فرق ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2180]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ إِنْ بَاعَ مِنْ أَخِيهِ بَيْعًا فِيهِ عَيْبٌ أَنْ لَا يُبَيِّنَهُ لَهُ
کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو عیب دار چیز بیچے اور عیب بیان نہ کرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2181
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن سِنان القزّاز، حدثنا وهب بن جَرير، حدثنا أبي، قال: سمعت يحيى بن أيوب يحدِّث عن يزيد بن أبي حبيب، عن عبد الرحمن بن شُمَاسة، عن عُقْبة بن عامر الجُهَني، قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"المسلمُ أخو المسلمِ، ولا يَحِلُّ لمسلمٍ إن باع من أخيه بيعًا فيه عَيبٌ أن لا يُبيِّنَه له" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2152 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عقبہ بن عام الجہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے اور کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کو کوئی عیب دار چیز اس کا عیب بیان کیے بغیر بیچے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2181]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. لَيْسَ مِنَّا مَنْ غَشَّنَا
جس نے ہمیں دھوکا دیا وہ ہم میں سے نہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2182
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه وعلي بن حَمْشاذَ العَدْل، قالا: أخبرنا بشر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، حدثنا العلاء بن عبد الرحمن، عن أبيه، عن أبي هريرة، قال: مَرَّ النبيُّ ﷺ برجلٍ يبيع طعامًا، فأعجبه، فأدخل يدَه فيه، فإذا هو بطعامٍ مَبْلُولٍ، فقال النبيُّ ﷺ:"ليس مِنّا مَن غَشَّنا" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه هكذا (3) ، وقد رواه محمد وإسماعيل ابنا جعفر بن أبي كثير عن العلاء. أما حديث محمد بن جعفر:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2153 - رواه مسلم بلفظ آخر_x000D_ أَمَّا حَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک ایسے شخص کے پاس سے ہوا جو گندم بیچ رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ اچھا لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلے کے ڈھیر میں اپنا ہاتھ ڈالا تو اس میں گندم گیلی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ جبکہ اس حدیث کو جعفر ابن ابی کثیر کے بیٹوں محمد اور اسماعیل نے علاء کے واسطے سے روایت کیا ہے۔ محمد بن جعفر رضی اللہ عنہ کی حدیث: [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2182]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2183
فأخبرَناه أبو النضر الفقيه وأبو الحسن العَنَزي (1) ، قالا: حدثنا عثمان بن سعيد الدارِمي، حدثنا سعيد بن أبي مريم، أخبرنا محمد بن جعفر، أخبرني العلاء، عن أبيه، عن أبي هريرة، قال: جاء النبي ﷺ إلى السُّوق، فرأى حِنطةً مُصَبَّرة، فأدخل يدَه فيها، فوَجَدَ بَلَلًا، فقال:"ألا مَن غشَّنا فليس مِنّا" (2) . وأما حديث إسماعيل بن جعفر بن أبي كثير:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2154 - سكت عنه الذهبي في التلخيص_x000D_ وَأَمَّا حَدِيثُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ
محمد بن جعفر، علاء کے واسطے سے ان کے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بازار میں تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں پر گندم کا ایک ڈھیر دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس کے اندر ڈال دیا تو اس میں گیلا پن محسوس کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ہم سے دھوکہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ اسماعیل بن جعفر بن ابی کثیر رضی اللہ عنہ کی حدیث: [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2183]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2184
فأخبرَناه دَعْلَج بن أحمد السِّجْزي، حدثنا موسى بن هارون، حدثنا يحيى بن أيوب. وحدثنا أبو الفضل بن إبراهيم، حدثنا إبراهيم بن محمد بن يزيد، حدثنا علي بن حُجر؛ قالا: حدثنا إسماعيل بن جعفر، حدثنا العلاء، عن أبيه، عن أبي هريرة: أنَّ رسول الله ﷺ مَرَّ على صُبْرةٍ من طعام، فأدخل يدَه فيه، فنالتْ أصابعُه بَلَلًا، فقال:"ما هذا يا صاحبَ الطعام!؟" فقال: أصابتْه السماءُ يا رسول الله، قال:"أفلا جعلتَه فوقَ الطعامِ حتى يَراهُ الناسُ"، ثم قال:"مَن غشَّ فليس مِنّي" (3) . وقد أخرج مسلم حديث سُهيل عن أبيه عن أبي هريرة أنَّ النبي ﷺ قال:"مَن غَشّنا فليس مِنّا" (1) . وأما شرحُ الحالِ في هذه الأحاديث فلم يخرجاه (2) ، وكلُّها صحيحة على شرط مسلم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2155 - رواه مسلم مختصرا
اسماعیل بن جعفر، ابوالعلاء رضی اللہ عنہ کے واسطے سے ان کے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر گندم کے ایک ڈھیر کے پاس سے ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس ڈھیر میں داخل کر دیا تو آپ نے انگلیوں میں تری محسوس کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے گندم والے! یہ کیا ہے؟ اس نے جواباً کہا: یا رسول اللہ! بارش برسنے کی وجہ سے یہ گیلی ہو گئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اس (گیلی گندم) کو ڈھیر کی اوپر والی جانب کیوں نہیں کیا تاکہ لوگوں کو یہ نظر آتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ہمارے ساتھ دھوکہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ ٭٭ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے سہیل کی حدیث ان کے والد کے حوالے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص ہمارے ساتھ بددیانتی کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ تاہم ان احادیث کی تشریح کو شیخین نے نقل نہیں کیا حالانکہ وہ تمام کی تمام امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار پر صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2184]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2185
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا أبو الجَوّاب الأحوص بن جَوّاب، حدثنا عمار بن رُزَيق، حدثنا عبد الله بن عيسى، عن عُمير بن سعيد، عن عمِّه، قال: خرج رسول الله ﷺ إلى البقيع، فرأى طعامًا يباع في غَرائر، فأدخل يده، فأخرج شيئًا كَرِهَه، فقال:"مَن غشّنا فليس مِنّا" (3) .
هذا حديث صحيح، وعَمُّ عمير بن سعيد: هو الحارث بن سويد النَّخَعي (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2156 - صحيح
سیدنا عمیر بن سعید رضی اللہ عنہ اپنے چچا کے حوالے سے روایت کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بقیع میں تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ کچھ ناتجربہ کاروں کو گندم بیچی جا رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں اپنا ہاتھ ڈالا اور اس میں سے کوئی ناپسندیدہ چیز نکل آئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ہم سے بددیانتی کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح ہے اور عمیر بن سعید کا چچا، حارث بن سوید النخعی رضی اللہ عنہ ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2185]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2186
حدثنا أبو بكر إسماعيل بن محمد بن إسماعيل الفقيه بالرَّيّ، حدثنا محمد بن الفَرَج الأزرق، حدثنا أبو النضر هاشم بن القاسم، حدثنا أبو جعفر الرازي، عن يزيد بن أبي مالك، حدثنا أبو سِبَاع، قال: اشتريتُ ناقةً من دار واثِلةَ بن الأسْقَع، فلما خرجتُ بها أدركَني واثلةُ وهو يجُرُّ إزاره، فقال: يا عبدَ الله، اشتريتَ؟ قلتُ: نعم، قال: بُيِّنَ لك ما فيها؟ قلت: وما فيها؟ إنها لَسَمينةٌ ظاهرةُ الصِّحّة؟ قال: أردتَ بها سفرًا أو أردتَ بها لحمًا؟ قلت: أردتُ بها الحجَّ، قال: فارتجِعْها، فقال صاحبُها: ما أردتَ إلّا هذا أصلحك الله؟ تُفسِدُ عَليَّ، قال: إني سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"لا يَحِلُّ لأحدٍ يبيعُ شيئًا إلّا بيَّن ما فيه، ولا يَحِلُّ لمن عَلِمَ ذلك إلّا بَيَّنَه" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2157 - صحيح
ابوسباع فرماتے ہیں: میں نے واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کی حویلی سے ایک اونٹنی خریدی۔ جب میں اس کو لے کر نکلا تو آگے سے واثلہ آ ملے۔ وہ اپنے تہہ بند کو گھسیٹتے ہوئے آ رہا تھا۔ اس نے پوچھا: اے عبداللہ! کیا یہ تم نے خریدی ہے؟ میں نے کہا جی ہاں! اس نے کہا: اس میں جو عیب ہے وہ اس نے آپ کے سامنے بیان کیا ہے؟ میں نے کہا: اس کو کیا ہوا ہے؟ بظاہر تو ماشاء اللہ یہ اچھی خاصی صحت مند ہے۔ اس نے کہا: آپ اس پر سفر کرنا چاہتے ہو یا گوشت کھانے کے ارادے سے یہ خریدی ہے؟ میں نے کہا: میں نے حج پر جانے کے لیے یہ خریدی ہے۔ اس نے کہا تو پھر یہ واپس کر دیں، اس کے مالک نے کہا: یہ تم نے خود ہی پسند کی تھی، اللہ تعالیٰ آپ کی اصلاح فرمائے۔ تو نے اس کا نقص میرے اوپر ظاہر کر دیا۔ پھر فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سُنا ہے کسی کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ عیب بتائے بغیر کوئی عیب دار چیز بیچے ۔ اور جو شخص اس کے عیب کو جانتا ہے اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ اس کو چھپائے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2186]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2187
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا الأسود بن عامر، حدثنا شَريك، عن وائل بن داود، عن جُميع بن عُمير، عن خاله أبي بُردة، قال: سُئل رسول الله ﷺ: أيُّ الكسب أطيبُ أو أفضلُ؟ قال:"عَمَلُ الرجلِ بيده، وكلُّ بَيعٍ مَبْرُورٍ" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2158 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کونسا کسب سے زیادہ پاکیزہ یا زیادہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواباً فرمایا: آدمی کا اپنے ہاتھ سے کمانا اور ہر وہ تجارت جو نیکی اور بھلائی پر مشتمل ہو۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2187]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2188
حدثنا أبو العباس، حدثنا العباس بن محمد، حدثنا الأسود بن عامر، أخبرنا سفيان الثَّوْري، عن وائل بن داود، عن سعيد بن عمير، عن عمه، قال: سُئل رسول الله ﷺ: أيُّ الكسبِ أفضلُ؟ قال:"كَسْبٌ مَبْرُورٌ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، ووائل بن داود وابنه بكر بن وائل ثقتان، وقد ذكر يحيى بن مَعِين أنَّ عمَّ سعيد بن عمير البراءُ بن عازب، وإذا اختلفَ الثَّوْري وشريكٌ، فالحُكم للثوريّ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2159 - صحيح
سیدنا سعید بن عمیر رضی اللہ عنہ اپنے چچا کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا: کونسا کسب سب سے افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ کسب جو شبہ، جھوٹ اور خیانت سے پاک ہو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور وائل بن داؤد اور ان کا بیٹا بکر دونوں ثقہ ہیں اور یحیی بن معین نے یہ ذکر کیا ہے کہ سعید بن عمیر کا چچا براء بن عازب رضی اللہ عنہ ہے اور جب ثوری اور شریک کا اختلاف ہو تو فیصلہ ثوری کے حق میں ہوتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: البيوع/حدیث: 2188]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں