المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
19. الصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَّا مَا حَرَّمَ حَلَالًا
مسلمانوں کے درمیان صلح جائز ہے سوائے اس کے جو حلال کو حرام کر دے
حدیث نمبر: 7238
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرنا سعيد، عن قَتَادة عن أنس بن مالك: أنَّ رجلًا كان على عهدِ رسولِ الله ﷺ يبتاعُ، وكان في عُقْدته ضعفٌ، فأتَى أهلُه رسولَ الله ﷺ، فقالوا: يا نبيَّ الله، احجُزْ على فلان، فإنه يبتاعُ وفي عُقدتِه ضعفٌ، فدعاه نبيُّ الله ﷺ، فنهاه عن البيع، قال: يا نبيَّ الله، إني لا أصبِرُ عن البيع، فقال:"إن كنتَ غيرَ تاركٍ البيعَ، فقُلْ: ها ولا خِلَابةَ" (2) . و
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7061 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7061 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں خرید و فروخت کیا کرتا تھا اور اس کے معاملے (یعنی عقل یا فیصلے کی قوت) میں کچھ کمزوری تھی، اس کے گھر والے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی: اے اللہ کے نبی! فلاں شخص پر (کاروبار کی) پابندی لگا دیں کیونکہ وہ سودا کرتا ہے اور اس کی فہم و فراست میں کمزوری ہے، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور اسے بیع کرنے سے منع فرما دیا، اس نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! میں تجارت کے بغیر صبر نہیں کر سکتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم نے بیع کرنا نہیں چھوڑنا تو (سودا کرتے وقت) یہ کہہ دیا کرو: «هَا وَلَا خِلَابَةَ» ”یہ لو اور اس میں کوئی دھوکہ نہیں ہونا چاہیے“۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأحكام/حدیث: 7238]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأحكام/حدیث: 7238]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل يحيى بن أبي طالب وعبد الوهاب بن عطاء» [ترقيم الرساله 7238] [ترقيم الشركة 7156] [ترقيم العلميه 7061]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
20. ذِكْرُ قِصَّةِ سُرَقَ
سارق (چوری) کے قصے کا تذکرہ
حدیث نمبر: 7239
أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن أحمد بن عَتّاب العَبْدي ببغداد، حدثنا عبد الملك بن محمد الرَّقَاشي، حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثنا عبد الرحمن بن عبد الله بن دينار، عن زيد بن أسلم، عن عبد الرحمن بن البَيْلماني (1) ، قال: رأيتُ شيخًا بالإسكندرية يقال له: سُرَّقٌ، فأتيتُه وسألتُه، فقال: لي: سمَّاني رسولُ الله ﷺ، ولم أكن لأدعَ ذلك أبدًا، فقلتُ: لم سمَّاك؟ قال: قَدِمَ رجلٌ من أهل البادية ببعيريَنِ فابتعتُهما منه، ثم دخلتُ بيتي وخرجتُ من خلفٍ، فبعتُهما فقَضيتُ بهما حاجتي، وغبتُ حتى ظننتُ أنَّ الأعرابي (2) قد خرج، فإذا الأعرابي مقيمٌ، فأخذَني فذهبَ بي إلى رسول الله ﷺ وأخبَره الخَبَر، فقال:"ما حَمَلَك على ما صنعتَ؟" قلتُ: قضيتُ بهما حاجتي يا رسولَ الله، قال:"اقضِهِ"، قلت: ليس عندي، قال:"أنتَ سُرَّقٌ، اذهب يا أعرابيُّ فبِعْه (3) حتى تستوفيَ حَقَّك"، قال: فجعل الناسُ يَسُومونَه فيَّ ويلتفتُ إليهم فيقول: ماذا تريدون؟ فيقولون: نريد أن نَفْدِيَه منك، فقال: والله إنِّي منكم أحقُّ وأحوجُ إلى الله ﷿، اذهب فقد أعتقتُك (4) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
عبد الرحمن بن بیلمانی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے اسکندریہ میں ایک بزرگ کو دیکھا جنہیں «سرق» (چور) کہا جاتا تھا، میں ان کے پاس گیا اور ان سے اس متعلق سوال کیا، تو انہوں نے مجھے بتایا: میرا یہ نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھا تھا اور میں اسے کبھی نہیں چھوڑوں گا، میں نے پوچھا: آپ کا یہ نام کیوں رکھا؟ انہوں نے کہا: صحرا کا ایک دیہاتی دو اونٹ لے کر آیا، میں نے وہ اس سے خرید لیے، پھر میں اپنے گھر میں داخل ہوا اور پیچھے کے راستے سے نکل گیا، میں نے وہ اونٹ آگے بیچ کر اپنی ضرورت پوری کر لی اور غائب ہو گیا یہاں تک کہ میرا گمان تھا کہ وہ اعرابی (دیہاتی) اب چلا گیا ہوگا، لیکن وہ وہیں مقیم تھا، اس نے مجھے پکڑ لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں لے گیا اور سارا واقعہ گوش گزار کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں اس کام پر کس چیز نے ابھارا جو تم نے کیا؟“ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں نے ان کے ذریعے اپنی ضرورت پوری کر لی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کا حق ادا کرو“، میں نے عرض کی: میرے پاس اس وقت کچھ نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم تو «سرق» ہو، اے اعرابی! جاؤ اور اسے (بطور غلام) بیچ دو یہاں تک کہ تم اپنا پورا حق وصول کر لو“، وہ کہتے ہیں کہ لوگ میرے بارے میں اس اعرابی سے بولی لگانے لگے اور وہ ان کی طرف دیکھ کر کہتا: تم کیا چاہتے ہو؟ وہ کہتے: ہم چاہتے ہیں کہ فدیہ دے کر اسے تم سے چھڑا لیں، تو اس اعرابی نے کہا: اللہ کی قسم! میں تم سب سے زیادہ اس بات کا حقدار اور اللہ عزوجل (کی بخشش) کا محتاج ہوں، (اے شخص!) جاؤ میں نے تمہیں اللہ کے لیے آزاد کر دیا۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأحكام/حدیث: 7239]
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأحكام/حدیث: 7239]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف وقد سلف الكلام عليه عند الحديث (2361).» [ترقيم الرساله 7239] [ترقيم الشركة 7157]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
21. حَبْسُ الرَّجُلِ فِي التُّهْمَةِ احْتِيَاطًا
احتیاط کے طور پر ملزم کو تہمت کی بنیاد پر قید کرنا
حدیث نمبر: 7240
أخبرنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن حاتم الزاهد وأبو عبد الله محمد ابن علي الصنعاني بمكة، قالا: حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن بَهْز بن حَكيم، عن أبيه، عن جدِّه: أنَّ النبيَّ ﷺ حَبَسَ رجلًا في تُهْمة (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7063 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7063 - صحيح
سیدنا بہز بن حکیم اپنے والد اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو کسی الزام کی بنیاد پر قید کر دیا تھا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأحكام/حدیث: 7240]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأحكام/حدیث: 7240]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن. وقد سلف مطولًا برقم (437).» [ترقيم الرساله 7240] [ترقيم الشركة 7158] [ترقيم العلميه 7063]
الحكم على الحديث: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 7241
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن أيوب، أخبرنا عمار بن هارون. وأخبرني عبد الله بن محمد بن زياد العَدْل، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثنا إبراهيم بن خُثَيم، حدثني أبي، عن جدِّي عِرَاك بن مالك (2) ، عن أبي هريرة: أنَّ النبي ﷺ حَبَسَ رجلًا في تُهمةٍ يومًا وليلةً، استظهارًا واحتياطًا (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7064 - إبراهيم بن خثيم متروك
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7064 - إبراهيم بن خثيم متروك
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو کسی الزام کی بنیاد پر، مکمل چھان بین اور احتیاط کے پیشِ نظر ایک دن اور ایک رات کے لیے قید کر دیا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأحكام/حدیث: 7241]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا، إبراهيم بن خثيم متروك كما قال الذهبي في "تلخيصه"، وقال العقيلي: لا يُتابع إبراهيم عليه. وقد روي عن عراك مرسلًا، وهو الصواب.» [ترقيم الرساله 7241] [ترقيم الشركة 7159] [ترقيم العلميه 7064]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا
حدیث نمبر: 7242
أخبرني محمد بن أحمد بن تميم القَنْطري ببردان، حدثنا أبو قِلابة، حدثنا أبو عاصم، عن وَبْر بن أبي دُليلة، عن محمد بن عبد الله بن ميمون (4) ، عن عمرو بن الشَّريد، عن أبيه، قال: قال رسول الله ﷺ:"لَيُّ الواجدِ يُحِلُّ عِرْضَه وعقوبتَه" (5) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7065 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7065 - صحيح
سیدنا عمرو بن شرید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صاحبِ استطاعت (قرض دار) کا ٹال مٹول کرنا اس کی آبرو (پر گرفت) اور اسے سزا دینے کو حلال کر دیتا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأحكام/حدیث: 7242]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأحكام/حدیث: 7242]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 7242] [ترقيم الشركة 7160] [ترقيم العلميه 7065]
22. لَعْنُ رَسُولِ اللَّهِ الرَّاشِي وَالْمُرْتَشِي
رسول اللہ ﷺ نے رشوت دینے والے اور لینے والے پر لعنت فرمائی ہے
حدیث نمبر: 7243
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا أحمد بن سيَّار، حدثنا القَعْنبي وأحمد بن يونس، قالا حدثنا ابن أبي ذئب، عن الحارث بن عبد الرحمن، عن أبي سَلَمة، عن عبد الله بن عمرو، قال: لَعَنَ رسول الله ﷺ الراشيَ والمرتشيَ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشاهدُه الحديثُ المشهور عن أبي هريرة، وحديثُ ثوبان. أمّا حديثُ أبي هريرة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7066 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشاهدُه الحديثُ المشهور عن أبي هريرة، وحديثُ ثوبان. أمّا حديثُ أبي هريرة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7066 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر لعنت فرمائی ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس کی شاہد سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی مشہور حدیث اور سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کی روایت ہے۔ جہاں تک سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کا تعلق ہے: [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأحكام/حدیث: 7243]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس کی شاہد سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی مشہور حدیث اور سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کی روایت ہے۔ جہاں تک سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کا تعلق ہے: [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأحكام/حدیث: 7243]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد جيد من أجل الحارث بن عبد الرحمن: وهو القرشي العامري، خال ابن أبي ذئب. واسم ابن أبي ذئب: محمد بن عبد الرحمن بن المغيرة. والقعنبي: هو عبد الله بن مسلمة، وأحمد بن يونس: هو ابن عبد الله بن يونس، ينسب إلى جدِّه كثيرًا.» [ترقيم الرساله 7243] [ترقيم الشركة 7161] [ترقيم العلميه 7066]
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 7244
فأخبرَناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن محمد، حدثنا مسدَّد، حدثنا أبو عَوَانة، عن عمر بن أبي سَلَمة، عن أبيه، عن أبي هريرة قال: لَعَنَ رسولُ الله ﷺ الراشيَ والمرتشيَ في الحُكم (1) . وأمّا حديثُ ثَوْبان:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7067 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7067 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عدالتی فیصلے کے معاملات میں رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر لعنت فرمائی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأحكام/حدیث: 7244]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا الإسناد تفرَّد به عمر بن أبي سلمة في جعله من حديث أبي هريرة، وهو ضعيف لا يحتمل تفرده، فكيف إذا خالف، فقد خالفه من هو أوثق منه، وهو الحارث بن عبد الرحمن - كما في الحديث السابق - فجعله عن أبي سلمة عن عبد الله بن عمرو، ...» [ترقيم الرساله 7244] [ترقيم الشركة 7162] [ترقيم العلميه 7067]
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 7245
فحدَّثَناه أبو عَون محمد بن أحمد بن ماهان الجزار بمكة حرسها الله تعالى، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا محمد بن سعيد الأصبهاني، حدثنا يحيى ابن (2) زكريا بن أبي زائدة، عن ليث، عن أبي زُرعة، عن ثَوْبان (3) ، عن النبي ﷺ، قال:"لُعِنَ الراشي والمُرتَشي والرائشُ الذي يمشي بينهما" (4) . إنما ذكرتُ عمرَ بنَ أبي سَلَمة وليث بنَ أبي سُليم في الشواهد لا في الأصول.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7068 - ذكر عمر وليث في الشواهد
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7068 - ذكر عمر وليث في الشواهد
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رشوت دینے والے، رشوت لینے والے اور «رائش» یعنی ان دونوں کے درمیان (سودے بازی کے لیے) دوڑ دھوپ کرنے والے پر لعنت کی گئی ہے۔“ میں نے عمر بن ابی سلمہ اور لیث بن ابی سلیم کا ذکر شواہد کے طور پر کیا ہے نہ کہ بنیادی احادیث کے طور پر۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأحكام/حدیث: 7245]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، دون قوله: "والرائش"، وهذا إسناد ضعيف ليث - وهو ابن أبي سليم - ضعيف، كما أنه قد اضطرب في رواية هذا الحديث، وسقط شيخه في رواية الحاكم هنا، وهو أبو خطاب غير منسوب، ولم يرو عنه غير ليث وهو مجهول، وأبو زرعة - وهو يحيى بن أبي عمرو ...» [ترقيم الرساله 7245] [ترقيم الشركة 7163] [ترقيم العلميه 7068]
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 7246
أخبرنا أبو بكر بن أبي دارم الحافظ بالكوفة، حدثنا أحمد بن موسى بن إسحاق التميمي، حدثنا الحسن بن بشر بن سَلْم، حدثنا سَعْدان بن الوليد، عن عطاء، عن ابن عباس، أن رسول الله ﷺ قال:"مَن وُلِّيَ على عشرةٍ يَحكُم بينهم بما أحبُّوا أو كَرِهوا، جيءَ به يومَ القيامة مغلولةً يدُه إلى عنقه، فإن حَكَمَ بما أنزل الله ولم يرتشِ في حُكمه، ولم يَحِفْ، فَكَّ الله عنه يومَ القيامة يومَ لا غُلَّ إِلّا غُلُّه، وإن حَكَمَ بغير ما أنزل الله وارتشَى في حُكمه وحابَى، شُدَّتْ يسارُه إلى يمينه، ثم رُميَ به في جهنم فلم يَبلُغْ قَعْرَها خمسَ مئة عام" (1) . سَعْدان بن الوليد البَجَلي كوفيٌّ قليل الحديث، ولم يُخرجا عنه.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو دس افراد پر حکمران یا قاضی بنایا گیا خواہ وہ اس کے فیصلے کو پسند کریں یا ناپسند، اسے قیامت کے دن اس حال میں لایا جائے گا کہ اس کا ہاتھ اس کی گردن سے بندھا ہوا ہوگا، پس اگر اس نے اللہ کے نازل کردہ احکامات کے مطابق فیصلہ کیا ہوگا اور اپنے فیصلے میں رشوت نہیں لی ہوگی اور نہ ہی ناانصافی کی ہوگی تو اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن اس بیڑی سے آزاد کر دے گا جس دن اس کی دی ہوئی آزادی کے سوا کوئی آزادی نہیں ہوگی، اور اگر اس نے اللہ کے نازل کردہ احکامات کے خلاف فیصلہ کیا ہوگا اور اپنے فیصلے میں رشوت لی ہوگی اور جانبداری برتی ہوگی تو اس کا بایاں ہاتھ دائیں کے ساتھ جکڑ دیا جائے گا پھر اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا اور وہ پانچ سو سال تک اس کی گہرائی تک نہیں پہنچ پائے گا۔“
سعدان بن ولید بجلی کوفی قلیل الحدیث راوی ہیں اور شیخین نے ان سے روایت نہیں کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأحكام/حدیث: 7246]
سعدان بن ولید بجلی کوفی قلیل الحدیث راوی ہیں اور شیخین نے ان سے روایت نہیں کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأحكام/حدیث: 7246]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، أبو بكر بن أبي دارم» [ترقيم الرساله 7246] [ترقيم الشركة 7164]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 7247
أخبرنا أحمد بن كامل القاضي، حدثنا أبو قِلابة، حدثنا محمد بن عبد الله الأنصاري، حدثنا مرحوم بن عبد العزيز العطّار، حدثنا سهل بن عطية، قال: كنتُ عند بلال بن أبي بُردة بالطَّفّ، فجاء الدعل (2) فشكا إليه أنَّ أهلَ الطَّف لا يُؤَدُّون الزكاة، فبعث بلالٌ رجلًا يسأل عما يقولون، فوجد الرجلَ يُطعَن في نسبه، فرجع إلى بلال فأخبره، فكبَّر بلالٌ، وقال: حدثني أبي، عن أبي موسى قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن سَعَى بالناس فهو لغير رِشْدة، أو فيه شَيْءٌ منه" (1) .
هذا حديثٌ عن بلال بن أبي بُردة له أسانيد، هذا أمثلُها.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7070 - ما صححه ولم يصح
هذا حديثٌ عن بلال بن أبي بُردة له أسانيد، هذا أمثلُها.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7070 - ما صححه ولم يصح
سہل بن عطیہ سے روایت ہے کہ میں طف کے مقام پر بلال بن ابی بردہ کے پاس تھا کہ ایک شخص (دعل) آیا اور ان سے شکایت کی کہ اہل طف زکوٰۃ ادا نہیں کرتے، بلال نے ایک آدمی کو ان کی بات کی تحقیق کے لیے بھیجا تو اس آدمی نے پایا کہ اس شکایت کرنے والے شخص کے نسب میں طعن کیا جاتا ہے، اس نے واپس آ کر بلال کو بتایا تو بلال نے اللہ اکبر کہا اور فرمایا: مجھے میرے والد نے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے واسطے سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص لوگوں کی برائی کے لیے دوڑ دھوپ کرے یا چغلی کھائے وہ جائز ولادت سے نہیں ہوتا یا اس میں اس کا کوئی اثر پایا جاتا ہے۔“ بلال بن ابی بردہ سے مروی اس حدیث کی کئی سندیں ہیں جن میں سے یہ سب سے بہتر ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأحكام/حدیث: 7247]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، سهل بن عطية الأعرابي قال ابن حبان في "المجروحين" عنه: شيخ من» [ترقيم الرساله 7247] [ترقيم الشركة 7165] [ترقيم العلميه 7070]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف