🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. الْإِمَارَةُ أَمَانَةٌ وَهِيَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خِزْيٌ وَنَدَامَةٌ
حکمرانی ایک امانت ہے اور قیامت کے دن یہ رسوائی اور ندامت کا سبب ہوگی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7198
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثني عبد العزيز عن إسماعيل بن عبيد الله، أن سليمان بن حبيب حدَّثهم عن أبي أُمامة الباهلي، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"لتُنتَقَضَنَّ عُرَى الإسلام عُروةً عُروةً، فكلما انتقضَتْ عُرُوةٌ تَشبَّثَتْ بالتي يَلِيها (2) ، وأولُ نَقضِها الحُكْمُ، وآخرُها الصَّلاةُ" (3) . قال الحاكم رحمه الله تعالى: عبد العزيز: هذا هو ابن عُبيد الله بن حمزة بن صهيب (1) ، وإسماعيل: هو ابن عبيد الله بن [أبي] المُهاجر، والإسناد كله صحيح، ولم يخرجاه.
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسلام کی رسی ایک ایک کر کے ٹوٹتی جائے گی، جب کبھی ایک رسی ٹوٹے گی، اس کا سارا بوجھ اس کے ساتھ والی پر آ جائے گا۔ سب سے پہلی رسی عدلیہ کی ٹوٹے گی اور سب سے آخری نماز۔ (یعنی اسلام اس وقت کمزور ہونا شروع ہو جائے گا جب جج کرپٹ ہو جائیں گے اور اسلام کی رسی کا آخری دھاگہ نماز ہے جب لوگ اس سے بھی لا پرواہ ہو جائیں گے تو ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں رہے گا) ٭٭ امام حاکم کہتے ہیں: یہ عبدالعزیز، عبیداللہ بن حمزہ بن صہیب کا بیٹا ہے۔ اور اسماعیل جو ہے، وہ عبداللہ بن مہاجر کا بیٹا ہے۔ پوری اسناد صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأحكام/حدیث: 7198]
تخریج الحدیث: «إسناده جيد، وقول المصنِّف: عبد العزيز عن إسماعيل بن عبيد الله، وهمٌ سيأتي التنبيه عليه. وهو في "مسند الإمام أحمد" 36/ (22160).»

الحكم على الحديث: إسناده جيد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7199
أخبرني عبد الله بن محمد بن موسى العَدْل، حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا يزيد بن عبد العزيز الطَّيالسي، حدثنا خالد بن عبد الله الواسطي، عن حسين بن قيس الرَّحَبي، عن عِكْرمة، عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ:"مَن استعملَ رجلًا من عِصابة، وفي تلك العِصابة مَنْ هو أرضَى لله منه، فقد خانَ الله وخانَ رسولَه وخانَ المؤمنين" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7023 - حذفه الذهبي من التلخيص
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے کسی ایسے شخص کو کسی جماعت کا امیر بنایا کہ اس جماعت میں اس سے بھی زیادہ اہلیت کا حامل شخص موجود ہو، اس نے اللہ اور اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ خیانت کی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأحكام/حدیث: 7199]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا، حسين بن قيس الرحبي المعروف بحنش متروك.»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. اسْتِمَاعُ بَيَانِ الْخَصْمَيْنِ وَاجِبٌ عَلَى الْقَاضِي
قاضی پر دونوں فریقین کا موقف سننا واجب ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7200
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، حدثنا عبد الله بن الحسن بن أحمد الحَرَّاني، حدثنا جَدِّي، حدثنا موسى بن أعيَن، عن بكر بن حُنَيس (1) ، عن رجاء بن حَيْوة، عن جُنادة بن أبي أُمية، عن يزيد بن أبي سفيان، قال: قال لي أبو بكر الصِّديِّق حين بعثني إلى الشام: يا يزيدُ إنَّ لك قرابةً عَسَيتَ أن تُؤثرَهم بالإمارة، ذلك أكثرُ ما أخافُ عليك، فقد قال رسول الله ﷺ:"مَنْ وَلِيَ من أمر المسلمين شيئًا، فأمَّرَ عليهم أحدًا محاباةً (2) ، فعليه لعنةُ الله، لا يَقبَلُ اللهُ منه صرفًا ولا عَدْلًا حتى يُدخِلَه جهنَّمَ" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا یزید بن ابی سفیان فرماتے ہیں: سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جب مجھے شام کی جانب بھیجا تو فرمایا: اے یزید! بے شک تیری رشتہ داریاں ہیں، ہو سکتا ہے کہ تم ان کو امارت میں ترجیح دو، اس چیز کا مجھے تم پر بہت خوف ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جس کو مسلمانوں کے کسی کام کا ذمہ دار بنایا جائے، وہ محض اپنے تعلقات کی بناء پر کسی (نااہل) کو ان کا امیر بنا دے، اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے، اللہ تعالیٰ اس کے فرائض و نوافل قبول نہیں کرتا اور اس کو دوزخ میں داخل کرے گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأحكام/حدیث: 7200]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف بكر بن خنيس، وبه أعلَّه الذهبي في "تلخيصه".»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لضعف بكر بن خنيس
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. إِنَّ اللَّهَ مَعَ الْقَاضِي مَا لَمْ يَجُرْ
اللہ قاضی کے ساتھ ہوتا ہے جب تک وہ ظلم و زیادتی نہ کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7201
أخبرني أبو عَوْن محمد بن أحمد بن ماهان البزَّار (4) بمكة حرسها الله تعالى على الصَّفا، حدثنا محمد بن علي بن زيد، حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا شَريك، عن سِماك بن حرب، عن حَنَش، عن علي قال: بَعَثَني رسول الله ﷺ إلى اليمن، فقلتُ: تَبعَثُني إلى قوم ذَوِي أسنانٍ وأنا حَدَثُ السِّنِّ؟! قال:"إذا جلس إليك الخَصْمَانِ، فلا تقضِ لأحدِهما حتى تسمعَ من الآخر كما سمعتَ من الأول". قال عليٌّ: فما زلتُ قاضيًا (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7025 - صحيح
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن کا عامل بنا کر بھیجا، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ مجھے ادھیڑ عمر کے لوگوں کا عامل بنا کر بھیج رہے ہیں جبکہ میں تو ابھی زیادہ عمر والا نہیں ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تیرے پاس دو آدمی اپنا جھگڑا لے کر آئیں تو صرف ایک پارٹی کی بات سن کر فیصلہ نہیں کر دینا بلکہ جس طرح پہلے کی بات سنی ہے اسی طرح دوسرے کی بھی پوری بات سن کر پھر فیصلہ کرنا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں آج تک قاضی ہوں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأحكام/حدیث: 7201]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، شريك»

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7202
أخبرنا أزهر بن حَمدُون المُنادي ببغداد، حدثنا أبو قِلابة، حدثنا عمرو بن عاصم الكِلابي، حدثنا أبو العوام، عن أبي إسحاق الشَّيباني، عن ابن أبي أَوفى قال: قال رسول الله ﷺ:""إِنَّ الله مع القاضي ما لم يَجُرْ، فإذا جارَ تَبَرّأَ اللهُ ﷿ منه" (2) . أبو العوام هذا: عِمران بن داوَرَ (1) القطَّان، والإسناد صحيح، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7026 - صحيح
ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ قاضی کے ساتھ ہوتا ہے جب تک کہ وہ ناانصافی نہ کرے، جب وہ ناانصافی کرتا ہے تب اللہ تعالیٰ اس سے اپنا ذمہ ختم کر دیتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس حدیث کے ایک راوی جو ابوالعوام ہیں، ان کا نام عمران بن داؤد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأحكام/حدیث: 7202]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، من أجل أبي العوام عمران بن داور القطّان أبو قلابة: هو عبد الملك بن محمد الرقاشي، وأبو إسحاق الشيباني: هو سليمان أبي سليمان بن فيروز الكوفي.»

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7203
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا أبو عُتبة أحمد (2) بن الفرج، حدثنا بقيّة بن الوليد، عن يزيد بن أبي مريم، عن القاسم بن مُخيمِرة، عن أبي مريم صاحب رسول الله ﷺ قال: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"مَن وَلِيَ من أمر المسلمين شيئًا فاحتجب دونَ خَلَّتِهم وحاجتِهم وفقرهِم، وفاقَتِهم، احتجبَ اللهُ ﷿ يوم القيامة دون خَلَّتِه وفاقتِه وحاجتِه وفقرِه" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وإسناده شاميٌّ صحيح. وله شاهدٌ بإسناد البصريين صحيح عن عَمرو بن مُرَّة الجُهَني عن رسول الله ﷺ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7027 - صحيح
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی سیدنا ابومریم فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس کو مسلمانوں کے کسی کام کا ذمہ دار بنایا جائے اور وہ ان کی رشتہ داریوں، ان کی ضروریات اور ان کے فقر و فاقہ کا خیال نہ رکھے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی دوستی، اس کی ضروریات اور اس کے فقر و فاقہ کا کوئی لحاظ نہیں کرے گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس کی اسناد شامی ہے، صحیح ہے۔ بصریین کی اسناد کے ہمراہ اس کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے جو کہ عمرو بن مرہ جہنی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ (وہ حدیث درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأحكام/حدیث: 7203]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، إن كان القاسم بن مخيمرة سمع من أبي مريم صحابيِّ الحديث، فقد قال ابن معين: لم نسمع أنه سمع من أحد من أصحاب النبي ﷺ. وأبو مريم: هو الأزدي كما جاء منسوبًا في بعض مصادر التخريج، وقد اختلف فيه قول أهل العلم: هل هو عمرو بن مرة، أم هما اثنان، وممَّن جعلهما اثنين المصنف، فأورد لهذا الحديث شاهدًا وهو الحديث التالي، وانظر القول في ذلك في "مسند أحمد" 24/ (15651).»

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. الْخَصْمَانِ يَقْعُدَانِ بَيْنَ يَدَيِ الْحَاكِمِ
دونوں فریقین حاکم کے سامنے بیٹھیں گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7204
أخبرَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنى، حدثنا محمد بن عبد الله الخُزاعي، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن علي بن الحَكَم، عن أبي حسن، عن عمرو بن مُرَّة قال: قلتُ لمعاوية بن أبي سفيان: إني سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"مَن أغلقَ بابَه دونَ ذوي الحاجةِ والخَلَّةِ والمَسْكنة، أغلقَ الله بابَ السماء دون خَلَّتِهِ [وحاجتِه] (1) وفقرِه ومَسْكَنتِه" (2)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7028 - صحيح
عمرو بن مرہ جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس نے ضرورت مندوں، دوستوں اور مسکینوں پر اپنا دروازہ بند کر لیا، اللہ تعالیٰ اس کی دوستی، اس کی ضروریات اس کے فقر اور مسکنت سے آسمان کے دروازے بند کر لیتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأحكام/حدیث: 7204]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لجهالة أبي حسن - وهو الجزري، فقد قال ابن المديني: مجهول ولا أدري سمع من عمرو بن مرة أم لا. قلنا: وإنما صحَّحه الحاكم لكونه توهم أنَّ أبا حسن الجزري هذا هو عبد الحميد بن عبد الرحمن الذي سبق أن وثَّقه في الرواية السالفة برقم (621)، وانظر التعليق عليه هناك. أبو المثنى: هو معاذ بن المثنى العَنبَري.»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لجهالة أبي حسن - وهو الجزري
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7205
أخبرني الحسن بن حَليم (3) المروزي، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدانُ، أخبرني مصعب بن ثابت بن عبد الله بن الزُّبير، عن أبيه: أنَّ أباه عبد الله بن الزُّبير كانت بينه وبين أخيه عمرو بن الزُّبير خُصومةٌ، فدخل عبدُ الله بن الزُّبير على سعيد بن العاص وعمرُو بن الزُّبير معه على السرير، فقال سعيدٌ لعبد الله: هاهنا قال: لا، قضاءُ رسولِ الله وسنةُ رسول الله ﷺ: أَنَّ الخصمين يَقعدانِ بين يَدَي الحاكم (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7029 - صحيح
مصعب بن ثابت بن عبداللہ بن زبیر اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ان کے والد عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اور ان کے بھائی عمرو بن زبیر رضی اللہ عنہ کے درمیان کوئی ناراضگی تھی، سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سیدنا سعید بن العاص کے پاس گئے، اس وقت عمرو بن زبیر ان کے پاس چارپائی پر بیٹھے ہوئے تھے، سیدنا سعید نے عبداللہ سے کہا: یہاں (بیٹھ جایئے) عبداللہ نے انکار کر دیا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بھی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ کار بھی ہے کہ فریقین حاکم کے سامنے بیٹھا کرتے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأحكام/حدیث: 7205]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف مصعب بن ثابت، أبو الموجِّه: هو محمد بن عمرو الفزاري، وعبدان هو عبد الله بن عثمان بن جبلة.»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لضعف مصعب بن ثابت
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7206
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثنا محمد بن عبد الله بن نُمير، حدثنا أبو معاوية، عن الأعمش، عن القاسم، عن أبيه، عن عبد الله قال: من عَرَضَ له قضاءٌ فليقضِ بما في كتاب الله، فإن جاءه أمرٌ ليس في كتاب الله فليقضِ بما قضى به نبيُّه، فإن جاءه أمرٌ ليس في كتاب الله ﷿ ولم يقضِ به نبيُّه ﷺ، فليقضِ بما قاله الصالحون، فإن جاءه أمرٌ ليس في كتاب الله ولم يقض به نبيُّه ﷺ ولم يقضِ به الصالحون فليَجتهِدْ رأيَه، فإن لم يُحسِنُ، فليُقِرَّ ولا، يستحيي (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. والقاسم: هو ابن عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7030 - صحيح
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جس سے فیصلہ کروایا جائے اس کو چاہیے کہ قرآن پاک کے مطابق فیصلہ کرے، اگر قرآن کریم میں اس کا فیصلہ نہ ملے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کیے ہوئے فیصلوں کے مطابق فیصلہ کر دے، اور اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلوں میں بھی اس کا حل نہ ملے تو صالحین کے اقوال کی روشنی میں فیصلہ کرے، اور اگر صالحین کے اقوال میں بھی اس کا حل نہ ملے تو اپنی رائے سے اجتہاد کرے، اگر صحیح طرح اجتہاد بھی نہ کر سکے تو کسی قسم کی شرم و حیاء کئے بغیر اقرار کر لے (کہ میں یہ فیصلہ نہیں کر سکتا) ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور قاسم، عبدالرحمن بن عبداللہ بن مسعود کے بیٹے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأحكام/حدیث: 7206]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات القاسم: هو ابن عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود، وأبوه عبد الرحمن قد اختلف في سماعه من أبيه عبد الله بن مسعود.»

الحكم على الحديث: رجاله ثقات القاسم: هو ابن عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7207
أخبرنا الحسن بن يعقوب العدل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرنا سعيد بن أبي عَروبة، عن قَتَادة، عن سعيد بن أبي بُرْدة، عن أبيه، عن جَدِّه أبي موسى: أنَّ رجلينِ ادَّعَيا بعيرًا أو دابَّةً إلى النبي ﷺ، وليس لواحدٍ منهما بيِّنةٌ، فجعله النبيُّ ﷺ بينَهما (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه. وقد خالف همَّامُ بن يحيى بن سعيدَ بن أبي عَروبة في متن هذا الحديث:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7031 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوموسیٰ فرماتے ہیں: دو آدمیوں کے درمیان ایک اونٹ یا کسی اور جانور کے بارے میں جھگڑا ہو گیا، دونوں اس کے دعویدار تھے، اس کا فیصلہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پیش کیا گیا، ان میں سے کسی کے پاس بھی گواہ نہیں تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اونٹ میں دونوں کو برابر کے حصہ دار قرار دے دیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ ہمام بن یحیی بن سعید بن ابی عروبہ نے اس حدیث کا متن کچھ مختلف بیان کیا ہے۔ (جیسا کہ درج ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأحكام/حدیث: 7207]
تخریج الحدیث: «حديث مُعَلٌّ عند أهل الحديث مع الاختلاف في إسناده على قتادة، كما أن أبا بردة لم يسمعه من أبيه أبي موسى كما بيَّناه في تعليقنا على "مسند أحمد".»

الحكم على الحديث: حديث مُعَلٌّ عند أهل الحديث مع الاختلاف في إسناده على قتادة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں