المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
11. الْخَصْمَانِ يَقْعُدَانِ بَيْنَ يَدَيِ الْحَاكِمِ
دونوں فریقین حاکم کے سامنے بیٹھیں گے
حدیث نمبر: 7208
أخبرَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن أيوب (ح) وأخبرني أبو الوليد وأبو بكر بن قُرَيش، حدثنا الحسن بن سفيان، حدثنا هُدْبة بن خالد، حدثنا همَّام بن يحيى، عن قَتَادة، عن سعيد بن أبي بُرْدة، عن أبيه، عن أبي موسى: أنَّ رجلينِ ادَّعيا بعيرًا، فأقام كلُّ واحدٍ منهما شاهدَينِ، فقسمه النبيُّ ﷺ بينَهما (2) . وهذا الحديث أيضًا صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7032 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7032 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوموسیٰ فرماتے ہیں: دو آدمیوں کے درمیان ایک اونٹ کے بارے میں جھگڑا ہو گیا، دونوں نے گواہ پیش کر دیئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اونٹ دونوں میں برابر برابر تقسیم کر دیا۔ ٭٭ یہ حدیث بھی امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأحكام/حدیث: 7208]
تخریج الحدیث: «حديث مُعَلٌّ كما سبق.»
الحكم على الحديث: حديث مُعَلٌّ كما سبق.
حدیث نمبر: 7209
أخبرنا الحسن بن حَلِيم (1) المروزي، حدثنا أبو المُوجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرني أسامة بن زيد [عن] (2) مولى أمِّ سَلَمة، عن أمِّ سَلَمة قالت: أتى رجلان النبيِّ ﷺ يَتَدارآنِ في مواريثَ بينهما، ليس لهما بيّنةٌ، فأمرهما النبيُّ ﷺ أن يقتسما ويتوخَّيا، ثم يَستَهما، ولْيُحلِلْ كلُّ واحدٍ منهما صاحبَه (3) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ومولى أمٍّ سَلمة: هو عُبيد الله بن أبي رافع المخرَّج في"الصحيحين".
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7033 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7033 - صحيح
ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ دو آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آئے، ان کے درمیان وراثت کا کوئی جھگڑا تھا لیکن کسی کے پاس بھی گواہ نہیں تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ وہ آپس میں بھائی بندی کے طور پر تقسیم کر لیں، اپنے اپنے حصے نکال لیں اور دونوں میں سے ہر ایک، اپنے بھائی کے لئے اس کا حصہ حلال کر دے۔ ٭٭ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے غلام ” عبیداللہ بن ابی رافع “ ہیں، ان کی مرویات بخاری اور مسلم میں موجود ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأحكام/حدیث: 7209]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل أسامة بن زيد: وهو الليثي، ومولى أم سلمة: هو عبد الله بن رافع، جاء مسمّى في مصادر التخريج، وليس هو عُبيدَ الله بن أبي رافع كما ذهب إليه المصنِّف بناءً على ما أورده في الرواية التالية.»
الحكم على الحديث: إسناده حسن من أجل أسامة بن زيد: وهو الليثي
حدیث نمبر: 7210
حدثنا أبو نصر أحمد بن سهل الفقيه ببخاري، حدثنا صالح بن محمد بن حبيب الحافظ، حدثنا محمد بن أبي بكر وأحمد بن المِقدام، قالا: حدثنا الفُضيل بن سليمان، حدثنا أسامة بن زيد، حدثني عُبيد الله بن أبي رافع مولى أمِّ سَلَمة، قال: سمعتُ أمَّ سَلَمةَ تقول: كنتُ عند النبيِّ ﷺ فجاءه رجلانِ يختصمانِ في ميراثٍ بينهما، وليس لواحدٍ منهما بينِّةٌ، وقال كلُّ واحدٍ منهما لصاحبه: يا رسول الله، حَقِّي هذا الذي طلبتُه لفلان، قال:"لا، ولكن اذهبا فتَوخَّيا ثم استَهِما، ثم اقسِما، ثمَّ لْيُحلِلْ كلُّ واحدٍ منكما صاحبَه" (4) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7034 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7034 - على شرط مسلم
ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمی آئے، وراثت کے سلسلے میں ان کے درمیان جھگڑا تھا، لیکن کسی کے پاس بھی گواہ نہیں تھے، ہر ایک کا موقف یہ تھا کہ یہ میرا حق ہے اور یہ میں نے فلاں سے لیا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں چلے جاؤ، برادرانہ طور پر حصے بناؤ، تقسیم کر لو اور تم میں سے ہر ایک اپنے بھائی کو اس کا حصہ حلال کر دے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأحكام/حدیث: 7210]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، الفضيل بن سليمان - وهو النميري - ليِّن، وقد خالف جميعَ من رواه عن أسامة بن زيد، حيث سمَّى مولى أم سلمة عُبيدَ الله بن أبي رافع، والصوابُ رواية الجمهور عن أسامة بن زيد أنَّ اسمه عَبد الله بن رافع، كما تقدَّم في تخريج الحديث السابق.»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 7211
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا عبد الوارث، عن عطاء بن السائب، عن أبي يحيى، عن ابن عباس: أنَّ رجلًا ادَّعى عند رجل حقًّا، فاختَصَما إلى نبي الله ﷺ، فسأله البيِّنةَ، فقال: ما عندي بيِّنةٌ، فقال للآخر:"احلِفْ"، فحَلَفَ فقال: والله ما له عندي شيء، فقال رسولُ الله ﷺ:"بَلَى، هو عندَك، ادفع إليه حقَّه" ثم قال له رسول الله ﷺ:"شهادتُك بأنْ لا إله إلَّا اللهُ كفّارةٌ ليمينِك" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7035 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7035 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک آدمی نے کسی شخص پر اپنے حق کا دعویٰ کر دیا، وہ اپنا جھگڑا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں لے گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے گواہ طلب کئے، اس نے کہا: میرے پاس تو کوئی گواہ نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے سے فرمایا: تم قسم کھاؤ، اس نے قسم کھا لی اور کہا: اللہ کی قسم! اس کا میرے ذمے کسی قسم کا کوئی حق نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا حق تیرے پاس ہی ہے، تو اس کا حق اس کو ادا کر دے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: تیرا یہ گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے، یہ تیری قسم کا کفارہ ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأحكام/حدیث: 7211]
تخریج الحدیث: «ضعيف لاضطراب عطاء بن السائب في متنه وسنده، وتفرّده به، وقد عدَّ الإمام الذهبي هذا الحديث في "ميزان الاعتدال" 3/ 72 من مناكيره.»
الحكم على الحديث: ضعيف لاضطراب عطاء بن السائب في متنه وسنده
حدیث نمبر: 7212
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد الأصبهاني، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا أبو نُعيم وأبو حذيفة، قالا: حدثنا سفيان، عن الحسن بن عمرو، عن محمد بن مسلم بن السائب (1) ، عن عبد الله قال: قال رسول الله ﷺ:"إذا رأيتَ أمَّتي تَهَابُ، فلا تقول للظالم: يا ظالمُ، فقد تُوُدِّعَ منهم" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7036 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7036 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم دیکھو کہ میری امت ظالم کو ” ظالم “ کہنے سے ڈر رہی ہے تو (سمجھ لو کہ دعاؤں کی قبولیت) ان سے رخصت ہو گئی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأحكام/حدیث: 7212]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لانقطاعه، محمد بن مسلم - وهو أبو الزبير المكي - لم يسمع من عبد الله بن عمرو كما قال ابن معين وأبو حاتم وابن عدي، وقد أدخل أبو شهاب الحناط بينهما عمرَو بن شعيب كما سيأتي، وعمرو أيضًا لم يسمع من جدِّ أبيه عبد الله بن عمرو. أبو نعيم: هو الفضل بن دُكين، وأبو حذيفة: هو موسى بن مسعود النهدي، وسفيان: هو الثَّوري.»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لانقطاعه
حدیث نمبر: 7213
أخبرني محمد بن علي (1) بن دُحَيم الشَّيباني، حدثنا أحمد بن حازم الغِفاري، حدثنا مالك بن إسماعيل النَّهْدي، حدثنا الأجلح، عن الشَّعبي، عن عبد الله بن الخليل، عن زيد بن أرقم: أنَّ عليًّا بعثه النبيُّ ﷺ إلى اليمن، فارتفع إليه ثلاثةٌ يتنازعون ولدًا، كلُّ واحد يَزعُمُ أنَّه ابنُه. قال: فخَلَا باثنين، فقال: أتَطيبانِ نَفْسًا لهذا الباقي بالولد؟ قالا: لا، وخَلَا باثنين، فقال لهما مثلَ ذلك، فقالا: لا، فقال: أُراكم شُركاءَ متشاكِسون (2) وأنا مُقرِعٌ بينكم، فأقرعَ بينهم فجعلَه لأحدِهم، وأغرَمَه ثُلُثَي الدِّيَة للباقين. قال: فذكر ذلك للنبي ﷺ، فضحك حتى بَدَتْ نَواجِذُه (3) . قد أعرض الشيخان ﵄ عن الأجلح بن عبد الله الكِندي أصلًا، وليس في رواياته بالمتروك، فإنَّ الذي يُنقَم عليه به مذهبُه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7037 - الأجلح ليس بالمتروك
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7037 - الأجلح ليس بالمتروك
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یمن کی جانب (قاضی بنا کر) بھیجا، آپ کی خدمت میں تین آدمیوں کا جھگڑا پیش کیا گیا۔ ایک بچے کے بارے میں تینوں کا دعویٰ تھا کہ وہ اس کا بیٹا ہے۔ آپ نے ان میں سے دو آدمیوں کو الگ کر کے پوچھا: کیا تم اس تیسرے آدمی کو سچا سمجھتے ہو؟ انہوں نے کہا: جی نہیں۔ آپ نے پھر (ان میں سے ایک آدمی لیا اور اس کے ساتھ تیسرے آدمی کو الگ کیا) ان سے بھی اسی طرح پوچھا، انہوں نے بھی انکار کر دیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم تینوں بدکردار شریک ہو، میں تمہارے درمیان قرعہ اندازی کروں گا، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کے درمیان قرعہ اندازی کی، جس کے نام قرعہ نکلا، بچہ اس کو دے دیا اور باقی دو دعویداروں کو اس سے دو تہائی دیت دلوائی۔ سیدنا زید بن ارقم فرماتے ہیں: اس بات کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں کیا گیا، آپ (سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے اس فیصلے پر خوش ہو کر) مسکرائے، اتنا مسکرائے کہ آپ کے دندان مبارک ظاہر ہو گئے۔ ٭٭ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اجلح بن عبداللہ کندی کی روایات نقل نہیں کی ہیں۔ حالانکہ ان کی روایات میں کوئی متروک راوی نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأحكام/حدیث: 7213]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لاضطرابه، وقد سلف بيانه برقم (2865).»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لاضطرابه
حدیث نمبر: 7214
حدثنا أبو الفضل محمد بن إبراهيم المزكِّي، حدثنا أحمد بن سَلَمة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا جَرير، عن منصور، عن مجاهد، عن يوسف مولى الزُّبير، عن عبد الله بن الزُّبير، قال: كانت جاريةٌ لزَمْعَةَ يَطَؤُها، وكانت تُظَنُّ برجلٍ آخرَ أنه يقع عليها، فمات زَمْعةُ وهي حاملٌ، فولدت غلامًا يُشبهُ الرجلَ الذي كان يُظَنُّ به (1) ، فذكرت سَوْدةُ للنبي ﷺ، فقال:"أما الميراثُ فله، وأما أنتِ فاحتَجِبي منه، فإنه ليس لك بأخٍ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7038 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7038 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: زمعہ کی ایک لونڈی تھی، جس سے آپ وطی کیا کرتے تھے، اس لونڈی کے بارے میں گمان کیا جاتا تھا کہ کسی اور آدمی نے بھی اس سے وطی کی ہے۔ زمعہ کا وصال ہوا تو اس وقت وہ حاملہ تھی، اس کے ہاں بیٹا پیدا ہوا، اس کی شباہت اس آدمی جیسی تھی جس کے بارے میں گمان کیا جاتا تھا کہ اس نے اس لونڈی کے ساتھ وطی کی ہے، سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ بچہ (زمعہ کا) وارث ہے۔ تم اس شخص سے پردہ کرو کیونکہ وہ تمہارا بھائی نہیں ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأحكام/حدیث: 7214]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قوله: "فإنه ليس لك بأخٍ" وهذا إسناد ضعيف، يوسف مولى الزبير: هو ابن الزبير القرشي الأسدي مولاهم، وقد روى عنه اثنان ولم يؤثر توثيقه عن غير ابن حبان، وقال الحافظ: مقبول، وقد انفرد بهذه اللفظة، ولا يحتمل تفرده، وقد ضعفها بعضُ أهل العلم، كما بيَّناه في "مسند أحمد". جرير: هو ابن عبد الحميد، ومنصور: هو ابن المعتمر، ومجاهد: هو ابن جبر المكي.»
الحكم على الحديث: حديث صحيح دون قوله: "فإنه ليس لك بأخٍ" وهذا إسناد ضعيف
12. إِنَّ لِكُلِّ نَخْلَةٍ مَبْلَغَ جَرِيدِهَا حَرِيمًا
کھجور کے ہر درخت کی شاخوں کے پھیلاؤ کی حد تک اس کی حریم (ملکیتی جگہ) ہے
حدیث نمبر: 7215
أخبرني الحسن بن حَليم المروَزي، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرني ابن جُريج، أخبرنا زياد بن سعد، عن هِلال بن أسامة: أنَّ أبا ميمونة سُليمًا، من أهل المدينة رجلُ صِدْقٍ - قال: بينا أنا جالسٌ عند أبي هريرة جاءته امرأةٌ فارسية معها ابنٌ لها، وقد طلَّقها زوجُها، فقالت: يا أبا هريرة، ثم رَطَنَت فقالت بالفارسية: زوجي يريد أن يذهبَ بابني، قال: فجاء زوجُها فقال: من يُحاقُّني؟ فقال أبو هريرة: إنِّي لا أقولُ في هذا إلَّا أَنِّي سمعتُ أنَّ امرأةً جاءت إلى النبي ﷺ وأنا قاعدٌ عنده، فقالت: فِداكَ أبي وأمِّي يا رسول الله، إِنَّ زوجي يريدُ أن يذهبَ بابني، وهو يَسقِيني من بئر أبي عِنَبة، وقد نَفَعَني، فقال:"استَهِما عليه" فقال زوجُها: من يُحاقُّني في ولدي يا رسولَ الله؟ فقال النبي ﷺ:"يا غلامُ، هذا أبوك، وهذه أمُّك، فخُذْ بيدِ أيِّهما شئتَ" فأخذ الغلامُ بيد أمِّه، فانطلقت به (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7039 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7039 - صحيح
ابومیمونہ سلیمان اہل مدینہ میں سے ایک سچا آدمی ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ان کے پاس ایک ایرانی عورت آئی، اس کے پاس اس کا ایک بچہ بھی تھا، اس کا شوہر اس کو طلاق دے چکا تھا، عورت نے کہا: یا ابا ہریرہ، اس کے بعد اس نے عجمی زبان میں بات کرنا شروع کی (کہنے لگی) میرا شوہر میرا بیٹا لے جانا چاہتا ہے، ابومیمونہ کہتے ہیں: پھر اس کا شوہر آ گیا اور کہنے لگا: مجھے (میرے بچے سے) کون جدا کرے گا؟ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں موجود تھا، آپ کے پاس ایک عورت آئی اور کہنے لگی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر قربان ہو جائیں، میرا شوہر میرے بیٹے کو لے جانا چاہتا ہے جبکہ ابوعتبہ کے کنویں سے میرا یہی بیٹا مجھے پانی بھر کر لا کر دیتا ہے اور دیگر بہت سارے کام بھی کرتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرعہ اندازی کر لو، اس کے شوہر نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے بیٹے کو مجھ سے کون جدا کر سکتا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے لڑکے! یہ تیرا باپ ہے اور یہ تیری ماں ہے، تو جس کے ساتھ جانا چاہتا ہے، اس کا ہاتھ تھام لے۔ اس لڑکے نے ماں کا ہاتھ تھام لیا، چنانچہ وہ عورت لڑکا لے گئی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأحكام/حدیث: 7215]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،أبو الموجِّه: هو محمد بن عمرو الفزاري، وعبدان: هو عبد الله بن عثمان بن جبلة، وعبد الله: هو ابن المبارك، وابن جريج: هو عبد الملك بن عبد العزيز.»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 7216
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثنا أبو كامل الجَحْدري، حدثنا فُضَيل بن سليمان، عن موسى بن عُقبة، عن إسحاق بن يحيى، عن عُبادة بن الصامت، قال: قَضَى رسولُ الله ﷺ في النَّخلة والنخلتين والثلاثِ، فيختلفون في حقوق ذلك، فقضى أنَّ لكلِّ نخلةٍ مبلغَ جَريدِها حَرِيمًا (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7040 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7040 - صحيح
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک باغ، دو باغ اور تین باغوں کا فیصلہ کیا۔ تین آدمی اپنے اپنے حقوق کے بارے میں جھگڑ رہے تھے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ جس درخت باغ کے درخت کی شاخیں جہاں تک پہنچیں وہاں تک اسی باغ کی حدود ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأحكام/حدیث: 7216]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، فضيل بن سليمان»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
13. ظُهُورُ شَهَادَةِ الزُّورِ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ
جھوٹی گواہی کا عام ہونا علاماتِ قیامت میں سے ہے
حدیث نمبر: 7217
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا سفيان، عن إسماعيل بن أُمية، عن الزُّهْري، عن سعيد بن المسيّب، يبلغ به النبيَّ ﷺ قال:"حَرِيمُ قَلِيب العاديَّة خمسون ذراعًا، وحَريمُ قَلِيب البادي خمسةٌ وعشرون ذِراعًا" (1) . وَصَله وأسنَده عمرُ بن قيس عن الزُّهري:
سیدنا سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: چلتے ہوئے کنویں کی حدود پچاس ذراع ہے، اور نئے کنویں کی حدود بچیس ذراع ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأحكام/حدیث: 7217]