🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. خَيْرُ مَا أُعْطِيَ الْإِنْسَانُ خُلُقٌ حَسَنٌ
انسان کو عطا کی گئی بہترین چیز حسنِ اخلاق ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8414
أخبرني أبو بكر الشافعيُّ، حَدَّثَنَا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حَدَّثَنَا عفّان بن مسلم، حَدَّثَنَا شُعبة وأبو عَوَانة، عن زياد بن عِلاقة (3) . ومنهم سفيان بن عُيَينة الهِلاليُّ:
ابو عوانہ وضاح نے زیاد بن علاقہ کے واسطے سے یہی حدیث روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 8414]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8414] [ترقيم الشركة 8313]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8415
حَدَّثَنَا أبو بكر بن إسحاق وعلي بن حَمْشاذَ وأبو بكر الشافعي، قالوا: حَدَّثَنَا بِشْر بن موسى، حَدَّثَنَا الحُميديُّ، حَدَّثَنَا سفيان، عن زياد بن عِلاقة (4) . ومنهم عثمان بن حَكِيم الأَوْدي:
سفیان بن عیینہ ہلالی نے زیاد بن علاقہ کے واسطے سے وہی روایت بیان کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 8415]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8415] [ترقيم الشركة 8314]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8416
حدَّثَناه أبو جعفر محمد بن أحمد بن سعيد المُذكِّر، حَدَّثَنَا أبو زُرْعة عبيد الله بن عبد الكريم الرازي، حَدَّثَنَا إبراهيم بن موسى، حَدَّثَنَا عيسى بن يونس (5) ، حَدَّثَنَا عثمان بن حَكِيم، عن زياد بن عِلاقة - واللفظُ لحديث أبي زُرعة الإمام (1) - حَدَّثَنَا أسامة بن شَريك، قال: كنّا جلوسًا عند النَّبِيّ ﷺ كأنما على رؤوسنا الطيرُ، لا يتكلّمُ مِنَّا مُتكلِّمٌ، إذ جاءه ناسٌ من الأعراب فقالوا: يا رسول الله، أفْتِنا في كذا، أفْتِنا في كذا، فقال:"يا أيها الناس، وَضَعَ الله الحَرَجَ إِلَّا مَن اقتَرَض لأخيه عِرْضًا، فذلك الذي حَرِجَ وهَلَك". قالوا: أفنَتَداوى يا رسول الله؟ قال:"نعم، إنَّ الله ﷿ لم يُنزِلْ داءً إِلَّا أَنزل له شفاءً، غيرَ داءٍ واحد" قالوا: وما هو يا رسول الله؟ قال:"الهَرَمُ". قالوا: فمن أحبُّ عبادِ الله إلى الله؟ قال:"أحسَنُهم خُلُقًا" (2) . ومنهم شَيْبانُ بن عبد الرحمن النَّحْوي:
سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس طرح بانتہائی ادب و وقار کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ گویا ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں اور ہم میں سے کوئی بھی کلام نہیں کر رہا تھا، اسی دوران کچھ دیہاتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور مختلف امور کے بارے میں دریافت کرنے لگے: اے اللہ کے رسول! ہمیں فلاں کے بارے میں بتائیے، ہمیں فلاں کے بارے میں حکم دیجیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! اللہ تعالیٰ نے حرج کو اٹھا لیا ہے سوائے اس شخص کے جس نے اپنے بھائی کی عزت و آبرو پر ناحق زبان درازی کی ہو، پس وہی شخص گناہ میں پڑا اور ہلاک ہو گیا۔ انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا ہم (بیماری میں) دوا کا استعمال کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، بیشک اللہ عزوجل نے کوئی ایسی بیماری نازل نہیں کی جس کے لیے شفاء نازل نہ کی ہو، سوائے ایک بیماری کے۔ انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! وہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بڑھاپا۔ انہوں نے پوچھا: اللہ کے نزدیک اس کے بندوں میں سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جن کے اخلاق سب سے بہتر ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 8416]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل أبي جعفر المذكّر شيخ المصنّف» [ترقيم الرساله 8416] [ترقيم الشركة 8315]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8417
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حَدَّثَنَا أحمد بن مِهران، حَدَّثَنَا عبيد الله بن موسى، أخبرنا شَيْبان بن عبد الرحمن، عن زياد بن عِلاقة (3) . ومنهم وَرْقاء بن عُمر (4) اليَشكُري:
شیبان بن عبدالرحمٰن نحوی نے بھی زیاد بن علاقہ کے واسطے سے یہی حدیث روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 8417]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل أحمد بن مهران: وهو ابن خالد الأصبهاني» [ترقيم الرساله 8417]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8418
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا محمد بن عيسى بن حيّان المَدَائني، حَدَّثَنَا سلَّام بن سليمان المَدَائني، حَدَّثَنَا وَرْقاءُ، عن زياد بن عِلاقة (5) . ومنهم زهير بن معاوية الجُعْفي:
ورقاء بن عمر یشکری نے بھی زیاد بن علاقہ کے واسطے سے یہی حدیث بیان کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 8418]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا، محمد بن عيسى بن حيان المدائني متروك، وسلام بن سليمان المدائني ضعيف، لكن يغني عن هذا الطريق الطرق الصحيحة المذكورة» [ترقيم الرساله 8418]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8419
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن قُتيبة، حَدَّثَنَا يحيى ابن يحيى، أخبرنا أبو خَيثَمة زهير بن معاوية، عن زياد بن عِلاقةَ، عن أسامة بن شَريك (1) . ومنهم عمرو بن أبي قيس الرازي:
زہیر بن معاویہ جعفی نے بھی زیاد بن علاقہ کے واسطے سے سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 8419]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8419] [ترقيم الشركة 8316]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8420
أخبرَناه عبد الصمد بن علي بن مُكرَم البزّاز ببغداد، حَدَّثَنَا يعقوب بن يوسف القَزْويني، حدثني محمد بن سعيد بن سابق، حَدَّثَنَا عمرو بن أبي قيس، عن سِماك بن حَرْب (2) . ومنهم محمد بن بِشْر بن بَشير الأسلميُّ، وهو من أعزِّ الثِّقات حديثًا:
عمرو بن ابی قیس رازی نے بھی سماک بن حرب کے واسطے سے یہی حدیث روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 8420]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل عمرو بن أبي قيس وسماك بن حرب» [ترقيم الرساله 8420] [ترقيم الشركة 8317]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8421
حدَّثَناه أبو الحسن محمد بن الحسن النَّصْراباذي، حَدَّثَنَا أبو محمد عبد الله بن إسحاق الدُّوريّ، حَدَّثَنَا أبو يعلى البَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا أبو عاصم. قال الحاكم ﵀: وقد أُخبرتُ عن سليمان بن سَيْف (3) الحرَّاني، عن أبي عاصم، حَدَّثَنَا محمد بن بِشر بن بَشير الأسلميّ، عن زياد بن عِلاقة (4) . ومنهم إسرائيلُ بن يونس السَّبيعيُّ:
محمد بن بشر بن بشیر اسلمی نے بھی زیاد بن علاقہ کے واسطے سے یہی حدیث روایت کی ہے اور وہ ثقہ راویوں میں سے ایک بلند پایہ راوی ہیں۔
امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے سلیمان بن سیف حرانی کے واسطے سے ابو عاصم سے یہ روایت پہنچی ہے کہ انہوں نے محمد بن بشر بن بشیر اسلمی سے اور انہوں نے زیاد بن علاقہ سے اسے روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 8421]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، والحديث له إسنادان إلى أبي عاصم» [ترقيم الرساله 8421] [ترقيم الشركة 8318]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8422
أخبرَناه أبو بكر الشافعي، حدثني إسحاق بن الحسن الحَرْبيّ، حَدَّثَنَا عبد الله بن رَجَاء، حَدَّثَنَا إسرائيل، عن أبي إسحاق، فذكر الحديث (1) . قال الحاكم ﵁: قد ذكرتُ من طُرق هذا الحديثِ أقلَّ من النصف، فإني تَتبَّعتُ من اتفق الشيخانِ ﵄ على الحُجَّة به في"الصحيحين"، وبقي في كتابي أكثرُ من النِّصف ليتأمّلَ طالبُ هذا العلم: أيُترَكُ مثل هذا الحديث على اشتهاره وكثرة رواته، بأن لا يوجد له عن الصحابي إلَّا تابعيٌّ واحد مقبول ثقة؟ قال لي أبو الحسن علي بن عمر الحافظ ﵀: لِمَ أسقطا حديثَ أسامة بن شريك من الكتابين؟ قلت: لأنهما لم يَجِدَا لأسامة بن شَريك راويًا غيرَ زياد بن علاقة. فحدَّثني أبو الحسن ﵁، وكتبه لي بخطِّه، قال: قد أخرج البخاري ﵀ عن يحيى بن حمَّاد، عن أبي عَوانة عن بَيَان بن بِشْر، عن قيس بن أبي حازم، عن مِرْداسٍ الأسلميّ، عن النَّبِيّ ﷺ أنه قال:"يذهبُ الصالحون أسلافًا" الحديث (2) ، وليس لمِرداس راوٍ غيرُ قيس. وقد أخرج البخاري (3) حديثين عن زُهرة بن مَعبَد، عن جَدِّه عبد الله بن هشام بن زُهْرة، عن النَّبِيِّ ﷺ، وليس لعبد الله راوٍ غيرُ زُهْرة. وقد اتفقا جميعًا على إخراج حديث قيس بن أبي حازم، عن عَدِيّ بن عَميرة، عن النَّبِيّ ﷺ أنه قال:"مَن استعملناه على عمل" (4) ، وليس لعَديّ بن عَميرة راوٍ غيرُ قيس (5) . وقد اتفقا جميعًا على حديث مَجْزَأة بن زاهر الأسلميّ، عن أبيه، عن النَّبِيّ ﷺ في النهي عن لحوم الحُمُر الأهليّة (1) ، وليس لزاهرٍ راوٍ غيرُ مَجْزأة. وأخرَج البخاري حديث الحسن عن عَمرو بن تَغلِبَ (2) ، وليس لعمرو راوٍ غيرُ الحسن (3) ، وأخرج أيضًا حديث الزُّهْري (4) ، وأخرجا جميعًا حديث الحسن عن عمرو بن تَغلِب، وليس له راو غيرُ الحسن (5) . وحديث زياد بن عِلاقة عن أسامة بن شَريك أصحُّ وأشهرُ وأكثرُ رواةً من هذه الأحاديث، قال أبو الحسن: وقد روى عليُّ بن الأقمر ومجاهد عن أسامة بن شَريك (6) . وقد رُوي هذا الحديث عن جابر بن عبد الله وأبي سعيد الخُدْري عن رسول الله ﷺ. أما حديث جابر:
اسرائیل نے ابواسحاق کے واسطے سے یہی حدیث بیان کی ہے۔ امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے اس حدیث کے جتنے طرق (سندیں) بیان کیے ہیں وہ نصف سے بھی کم ہیں، میں نے ان راویوں کو تلاش کیا ہے جن کی حجیت پر شیخین (امام بخاری و مسلم) نے اپنی صحیحین میں اتفاق کیا ہے، لیکن میری اس کتاب میں ابھی آدھے سے زیادہ حصے کا ذکر باقی ہے تاکہ اس علم کا طالب غور کر سکے کہ کیا ایسی حدیث کو اس کی شہرت اور کثیر راویوں کے باوجود اس بنا پر چھوڑ دیا جائے گا کہ صحابی سے روایت کرنے والا صرف ایک ثقہ و مقبول تابعی ہے؟ امام ابوالحسن علی بن عمر الحافظ (دارقطنی) رحمہ اللہ نے مجھ سے پوچھا: ان دونوں (امام بخاری و مسلم) نے اپنی کتابوں سے اسامہ بن شریک کی حدیث کو کیوں ساقط کیا؟ میں نے عرض کی: اس لیے کہ انہیں اسامہ بن شریک سے روایت کرنے والا زیاد بن علاقہ کے سوا کوئی اور راوی نہیں ملا۔ تب ابوالحسن رحمہ اللہ نے مجھ سے یہ بات کہی اور اسے اپنے ہاتھ سے لکھ کر دیا کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے یحییٰ بن حماد کی سند سے، ابوعوانہ، بیان بن بشر اور قیس بن ابی حازم کے واسطے سے مرداس اسلمی رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث نقل کی ہے: صالح لوگ یکے بعد دیگرے چلے جائیں گے حالانکہ مرداس کا قیس کے سوا کوئی راوی نہیں۔
اسی طرح امام بخاری نے زہرہ بن معبد کی سند سے ان کے دادا عبداللہ بن ہشام بن زہرہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دو احادیث نقل کی ہیں جبکہ عبداللہ کا زہرہ کے سوا کوئی راوی نہیں۔ نیز ان دونوں (بخاری و مسلم) نے قیس بن ابی حازم کی عدی بن عمیرہ سے مروی اس حدیث کی تخریج پر اتفاق کیا ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے ہم کسی کام پر عامل مقرر کریں حالانکہ عدی بن عمیرہ کا قیس کے سوا کوئی راوی نہیں۔ اسی طرح ان دونوں نے مجزاہ بن زاہر اسلمی کی اپنے والد سے روایت کردہ اس حدیث پر اتفاق کیا ہے جس میں گھریلو گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا گیا ہے جبکہ زاہر کا مجزاہ کے سوا کوئی راوی نہیں۔
امام بخاری نے حسن بصری کی عمرو بن تغلب سے مروی حدیث بھی نقل کی ہے جبکہ عمرو کا حسن کے سوا کوئی راوی نہیں ہے۔ حالانکہ زیاد بن علاقہ کی اسامہ بن شریک سے مروی یہ حدیث ان تمام احادیث سے زیادہ صحیح، مشہور اور کثیر راویوں والی ہے۔ ابوالحسن (دارقطنی) فرماتے ہیں: (یہ کہنا درست نہیں کہ اسامہ سے صرف ایک راوی ہے کیونکہ) علی بن اقمر اور مجاہد نے بھی اسامہ بن شریک سے روایت کی ہے۔ اس حدیث کی تائید میں سیدنا جابر بن عبداللہ اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہم سے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مروی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 8422]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي من أجل عبد الله بن رجاء وهو أبو عمر الغُدَاني. وأبو إسحاق» [ترقيم الرساله 8422] [ترقيم الشركة 8320]

الحكم على الحديث: إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ، فَإِذَا أُصِيبَ دَوَاءُ الدَّاءِ بَرَأَ
ہر بیماری کی دوا ہے، جب دوا بیماری تک پہنچ جاتی ہے تو اللہ کے حکم سے شفا ہوتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8423
فحدَّثَناه الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن أيوب، أخبرنا أحمد بن عيسى، حَدَّثَنَا عبد الله بن وَهْب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن عبد رَبّه بن سعيد (1) ، عن أبي الزُّبير، عن جابر، عن رسول الله ﷺ أنه قال:"لكلِّ داءٍ دواءٌ، فإذا أُصيبَ دواء الدّاء بَرَأَ بإذن الله ﷿" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وأما حديث أبي سعيد الخُدْريّ:
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر بیماری کی ایک دوا ہے، پس جب بیماری کو اس کی دوا پہنچ جاتی ہے تو وہ اللہ عزوجل کے حکم سے شفاء یاب ہو جاتی ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 8423]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8423] [ترقيم الشركة 8321]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں