🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ، فَإِذَا أُصِيبَ دَوَاءُ الدَّاءِ بَرَأَ
ہر بیماری کی دوا ہے، جب دوا بیماری تک پہنچ جاتی ہے تو اللہ کے حکم سے شفا ہوتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8424
فحدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا العباس بن محمد الدُّوري، حَدَّثَنَا أبو النَّضر هاشم بن القاسم، حَدَّثَنَا شَبيبُ بن شَيْبة، حَدَّثَنَا عطاء بن أبي رَبَاح، حَدَّثَنَا أبو سعيد الخُدْري، أنَّ النَّبِيّ ﷺ قال:"إِنَّ الله لم يُنزِلُ (3) داءً - أولم يَخلُق داءً - إِلَّا أَنزَل - أو خَلَق - له دواءً، عَلِمَه من عَلِمَه، وجَهِلَه من جَهِلَه، إِلَّا السَّامَ" قالوا: يا رسول الله، وما السامُ؟ قال:"الموتُ" (4) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8220 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسی بیماری نازل نہیں کی — یا فرمایا کہ پیدا نہیں کی — جس کی شفاء نازل نہ کی ہو — یا فرمایا کہ اس کے لیے دوا پیدا نہ کی ہو، اسے جس نے جان لیا سو جان لیا، اور جو اس سے جاہل رہا سو جاہل رہا، سوائے سام کے۔ صحابہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! سامکیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: موت۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 8424]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، شبيب بن شيبة» [ترقيم الرساله 8424] [ترقيم الشركة 8322] [ترقيم العلميه 8220]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. الْعَسَلُ لِشِفَاءِ الْمَعِدَةِ
معدے کی شفا کے لیے شہد کا استعمال
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8425
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حَدَّثَنَا يحيى بن محمد بن يحيى، حَدَّثَنَا مُسدَّد، حَدَّثَنَا يحيى، عن شُعبة، عن قَتَادة، عن أبي المتوكِّل، عن أبي سعيد الخُدْري: أنَّ رجلًا جاء إلى رسول الله ﷺ فقال: يا رسول الله، إِنَّ أخي يَشتكي بطنَه، فقال:"اسْقِهِ العَسَل" قال: قد سقيتُه فلم يَزِدْهُ إِلَّا استطلاقًا، فقال رسول الله ﷺ في الثالثة أو الرابعة:"صَدَقَ اللهُ وكَذَبَ بَطنُ أخيك"، فذهب فَسَقَاه فبَرَأَ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8221 - على شرط مسلم
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! میرے بھائی کے پیٹ میں تکلیف ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے شہد پلاؤ، اس نے آکر عرض کی کہ میں نے اسے شہد پلایا ہے مگر اس سے اس کی دستوں کی بیماری مزید بڑھ گئی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری یا چوتھی مرتبہ فرمایا: اللہ سچا ہے اور تمہارے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے، چنانچہ وہ گیا اور اسے شہد پلایا تو وہ تندرست ہو گیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 8425]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8425] [ترقيم الشركة 8323] [ترقيم العلميه 8221]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. الْخَرْنُوبُ لِخَرَابِ الْمَوْضِعِ
کسی جگہ کی ویرانی کے لیے "خرنوب" (درخت) کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8426
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حَدَّثَنَا أبو حُذَيفة موسى بن مسعود، حَدَّثَنَا إبراهيم بن طَهْمان، عن عطاء بن السَّائب، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس، عن النَّبِيّ ﷺ قال:"كان سليمانُ نبيُّ الله إذا قام في مُصلَّاه رأى شجرةً نابتةً بين يديه، فيقول: ما اسمُكِ؟ فتقول: كذا، فيقول: لأيِّ شيء أنتِ؟ فتقولُ: لكذا وكذا، فإنْ كانت لدواءٍ كُتِبَت، وإن كانت لِغَرْسٍ غُرِسَت، فبينما هو يُصلّي يومًا إذ رأى شجرةً نابتةً بين يديه، فقال لها: ما اسمُكِ؟ قالت: الخُرْنوب، قال: لأيّ شيء أنتِ؟ قالت: لِخَراب هذا البيت، قال سليمان: اللهمَّ عَمَّ على الجِنِّ مَوْتي حتَّى يَعلَمَ الإنسُ أَنَّ الجنَّ لا تَعلمُ الغيب، قال: فنَحَتَها عَصًا فتوكَّأ عليها، قال: فأَكَلَتها الأَرَضَةُ فَسَقَطَ، فَحَزَرُوا آكِلَتَها الأَرَضِةُ فوجدوه حَولًا (1) فتبيَّنت الإنسُ أَنَّ الجنَّ لو كانوا يعلمون الغيبَ ما لَبِثوا حولًا في العذاب المُهِين - وكان ابن عباس يقرؤها هكذا - فشَكَرَت الجنُّ الأَرَضَةَ، فكانت تأتيها بالماء حيثُ كانَ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8222 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی سلیمان علیہ السلام جب اپنی جائے نماز پر کھڑے ہوتے تو اپنے سامنے ایک درخت اگا ہوا دیکھتے، آپ اس سے پوچھتے: تمہارا نام کیا ہے؟ وہ بتاتا: میرا نام یہ ہے، آپ پوچھتے: تم کس مقصد کے لیے ہو؟ وہ کہتا: اس اس کام کے لیے، پس اگر وہ دوا کے لیے ہوتا تو اسے لکھ لیا جاتا اور اگر وہ پودا لگانے کے لیے ہوتا تو اسے لگا دیا جاتا، ایک دن آپ نماز پڑھ رہے تھے کہ اپنے سامنے ایک درخت اگا ہوا دیکھا، آپ نے اس سے پوچھا: تمہارا نام کیا ہے؟ اس نے کہا: الخرنوب، آپ نے پوچھا: تم کس لیے ہو؟ اس نے کہا: اس گھر (بیت المقدس) کی بربادی کے لیے، سلیمان علیہ السلام نے دعا کی: اے اللہ! میری موت کو جنات پر پوشیدہ رکھ تاکہ انسانوں کو معلوم ہو جائے کہ جنات غیب کا علم نہیں جانتے، راوی کہتے ہیں: آپ نے اس لکڑی سے ایک عصا تراشا اور اس پر ٹیک لگا لی، پھر اسے دیمک نے کھا لیا اور آپ گر پڑے، جب انہوں نے دیمک کے کھانے کا اندازہ لگایا تو اسے ایک سال کا عرصہ پایا، تب انسانوں پر یہ بات واضح ہو گئی کہ اگر جنات غیب کا علم جانتے ہوتے تو وہ ایک سال تک اس ذلت آمیز عذاب میں مبتلا نہ رہتے — اور ابن عباس رضی اللہ عنہما اسے اسی طرح پڑھا کرتے تھے — پھر جنات نے دیمک کا شکریہ ادا کیا اور وہ جہاں بھی ہوتی اسے پانی پہنچایا کرتے تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 8426]
تخریج الحدیث: «صحيح موقوفًا على ابن عباس كما سلف بيانه برقم (7616)» [ترقيم الرساله 8426] [ترقيم الشركة 8324] [ترقيم العلميه 8222]

الحكم على الحديث: صحيح موقوفً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. التَّدَاوِي مِنْ قَدَرِ اللَّهِ
دوا کے ذریعے علاج کرنا بھی اللہ کی تقدیر ہی کا حصہ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8427
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو مُسلِم، حَدَّثَنَا إبراهيم بن حُميد الطويل، حَدَّثَنَا صالح بن أبي الأخضر، عن الزُّهْري، عن عُرْوة، عن حَكيم بن حِزَام أنه قال: يا رسول الله، رُقًى كُنّا نَستَرقى بها، وأدويةٌ كنا نَتداوى بها، هل تردُّ من قَدَر الله؟ فقال:"هو من قَدَرِ الله" (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8223 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! وہ دم (رقیہ) جو ہم کرتے ہیں اور وہ دوائیں جن سے ہم علاج کرتے ہیں، کیا یہ اللہ کی تقدیر میں سے کسی چیز کو ٹال سکتی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ (دم اور دوا) بھی اللہ کی تقدیر ہی میں سے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 8427]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف صالح بن أبي الأخضر» [ترقيم الرساله 8427] [ترقيم الشركة 8325] [ترقيم العلميه 8223]

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. عَلَيْكُمْ بِأَلْبَانِ الْبَقَرِ
تم گائے کا دودھ پیا کرو (کیونکہ اس میں شفا ہے)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8428
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبيّ، حَدَّثَنَا سعيد بن مسعود، حَدَّثَنَا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن الرُّكَين بن الرَّبيع، عن قيس بن مُسلم، عن طارق بن شِهاب، عن عبد الله بن مسعود قال: قال رسولُ الله ﷺ:"عليكم بألْبانِ البقرِ، فإنَّها تَرُمُّ من كل شَجَر، وهو شفاءٌ من كل داء" (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8224 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم گائے کے دودھ کو اپنے اوپر لازم کر لو، کیونکہ وہ ہر قسم کے درخت سے چرتی ہے، اور وہ ہر بیماری کے لیے شفاء ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 8428]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8428] [ترقيم الشركة 8326] [ترقيم العلميه 8224]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8429
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا عبد الله بن أحمد بن حَنبَل، حَدَّثَنَا عبد الله بن محمد، حَدَّثَنَا زيد بن الحُبَاب، حَدَّثَنَا سفيان، عن أبي إسحاق، عن أبي الأحوص (1) ، عن عبد الله قال: قال النَّبِيّ ﷺ:"عليكم بالشَّفاءَينِ: العَسَلِ والقرآنِ" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8225 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دو شفاء دینے والی چیزوں کو لازم پکڑو: شہد اور قرآن۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 8429]
تخریج الحدیث: «صحيح موقوفًا كما سلف بيانه برقم (7623)» [ترقيم الرساله 8429] [ترقيم الشركة 8327] [ترقيم العلميه 8225]

الحكم على الحديث: صحيح موقوفً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. الْحُمَّى مِنَ النَّارِ فَأَبْرِدُوهَا عَنْكُمْ بِالْمَاءِ
بخار جہنم کی تپش کا حصہ ہے، اسے پانی سے ٹھنڈا کیا کرو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8430
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن غالب بن حَرْب والحُسين بن بشَّار (3) الخيّاط، قالا: حَدَّثَنَا عبيد الله بن محمدٍ ابن عائشةَ، حَدَّثَنَا حمَّاد بن سَلَمة، عن حُميد، عن أنس بن مالك، أنَّ رسول الله ﷺ (4) قال:"إذا حُمَّ أحدُكم، فليَشُنَّ (5) عليه الماءَ الباردَ من السَّحَر ثلاثَ ليالٍ" (6) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وشاهدُه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8226 - على شرط مسلم
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو بخار ہو جائے تو اسے چاہیے کہ وہ سحری کے وقت تین راتوں تک اپنے اوپر ٹھنڈا پانی بہائے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور اس کی شاہد حدیث یہ ہے: [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 8430]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات» [ترقيم الرساله 8430] [ترقيم الشركة 8328] [ترقيم العلميه 8226]

الحكم على الحديث: رجاله ثقات
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8431
ما حدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حَدَّثَنَا حامد بن أبي حامد المقرئ، حَدَّثَنَا إسحاق بن سليمان الرازيّ، حَدَّثَنَا الجَرّاح بن الضَّحاك الكندي، عن كُريب بن سُليم، عن أَمَةَ امرأةِ الزُّبير، قالت: كان النَّبِيّ ﷺ إذا حُمَّ الزُّبيرُ يأمرُنا أن نَبرُدَ الماءَ ثم نَحدُرَه عليه (1) .
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی خادمہ سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ جب زبیر رضی اللہ عنہ کو بخار ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حکم فرماتے کہ ہم پانی کو ٹھنڈا کریں اور پھر اسے ان پر بہا دیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 8431]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لجهالة كريب بن سليم الكندي» [ترقيم الرساله 8431] [ترقيم الشركة 8329]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8432
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حَدَّثَنَا الحسين بن الفَضْل البَجَلي، حَدَّثَنَا عفّان، حَدَّثَنَا همَّام، حَدَّثَنَا أبو جَمْرة، قال: كنتُ أدفعُ الزِّحامَ عن ابن عباس، قال: فاحتَبستُ عنه أيامًا، فقال: ما حَبَسَك؟ قلت: الحُمّى، فقال: إِنَّ رسول الله ﷺ قال:"الحُمّى من فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَابْرُدُوها بالماء" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه الزيادة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8228 - على شرط البخاري ومسلم
ابو جمرہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں (ہجوم کی وجہ سے) لوگوں کو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس سے ہٹایا کرتا تھا، پھر میں چند دن ان کی مجلس سے غائب رہا، انہوں نے پوچھا: تمہیں کس چیز نے روکا تھا؟ میں نے عرض کیا: بخار نے، تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بخار جہنم کے جوش میں سے ہے، پس اسے پانی کے ساتھ ٹھنڈا کرو۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس اضافے کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 8432]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،عفان: هو ابن مسلم، وهمام: هو ابن يحيى العَوْذي، وأبو جمرة: هو نصر بن عمران» [ترقيم الرساله 8432] [ترقيم الشركة 8330] [ترقيم العلميه 8228]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8433
أخبرني أبو عبد الرحمن بن [أبي] (3) الوَزير، حَدَّثَنَا أبو حاتم الرَّازيّ، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الله الأنصاري، حَدَّثَنَا إسماعيل بن مُسلم، عن الحَسَن، عن سَمُرة بن جُندُب، أنَّ النَّبِيّ ﷺ قال:"إنَّ الحُمَّى قِطعةٌ من النار، فابرُدُوها عنكم بالماء". قال: وكان رسول الله ﷺ إذا حُمَّ دعا بقِرْبةٍ من ماء فَأَفَرَغَها على قَرْنِه فاغتَسَل (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه الزيادة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8229 - صحيح
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک بخار آگ کا ایک ٹکڑا ہے، پس اسے اپنے سے پانی کے ذریعے ٹھنڈا کرو۔ راوی کہتے ہیں: اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بخار ہوتا تو آپ پانی کی مشک منگواتے اور اسے اپنے سر پر انڈیل کر غسل فرماتے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس اضافے کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 8433]
تخریج الحدیث: «الشطر الأول صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف إسماعيل بن مسلم: وهو المكي أبو إسحاق البصري» [ترقيم الرساله 8433] [ترقيم الشركة 8331] [ترقيم العلميه 8229]

الحكم على الحديث: الشطر الأول صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں