🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. الحمى من النار فأبردوها عنكم بالماء
بخار جہنم کی تپش کا حصہ ہے، اسے پانی سے ٹھنڈا کیا کرو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8430
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن غالب بن حَرْب والحُسين بن بشَّار (3) الخيّاط، قالا: حَدَّثَنَا عبيد الله بن محمدٍ ابن عائشةَ، حَدَّثَنَا حمَّاد بن سَلَمة، عن حُميد، عن أنس بن مالك، أنَّ رسول الله ﷺ (4) قال:"إذا حُمَّ أحدُكم، فليَشُنَّ (5) عليه الماءَ الباردَ من السَّحَر ثلاثَ ليالٍ" (6) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وشاهدُه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8226 - على شرط مسلم
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب کسی کو بخار ہو تو اس کو چاہئے کہ تین دن سحری کے وقت اس کے جسم پر ٹھنڈے پانی کے چھینٹے ماریں۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ سابقہ حدیث کی شاہد حدیث سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب کسی کو بخار چڑھے تو اس پر تین دن سحری کے وقت ٹھنڈا پانی ڈالا جائے۔ اس کی ایک شاہد حدیث یہ بھی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 8430]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8430 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) تصحف في النسخ الخطية إلى: يسار، والصواب: بشار، بباء موحدة وشين معجمة كما في "تلخيص المتشابه في الرسم" للخطيب ص 688.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ نام تصحیف (نقطوں کی غلطی) کی وجہ سے "یسار" بن گیا ہے، جبکہ درست "بشار" ہے (ایک نقطے والی بے اور بڑی شین کے ساتھ) 📖 حوالہ / مصدر: جیسا کہ خطیب بغدادی کی "تلخيص المتشابه في الرسم" ص 688 میں ہے۔
(4) قوله: "أَنَّ رسول الله ﷺ" سقط من (ز) و (ب).
📝 نوٹ / توضیح: عبارت کا حصہ "أَنَّ رسول الله ﷺ" نسخہ (ز) اور (ب) سے ساقط (غائب) ہے۔
(5) هكذا في الطبعة الهندية، وهو الصواب الموافق لما سلف عند المصنّف برقم (7626)، وفي النسخ الخطية: فلينشّ، بتقديم النون، وهي كذلك في رواية أبي بكر الشافعي عن علي بن أحمد بن النضر عن ابن عائشة عند الضياء في "الأحاديث المختارة" 6/ (2045)، قال الضياء: ولعله تصحيف والله أعلم.
🔍 فنی نکتہ / علّت: انڈین (ہندوستانی) چھاپے میں اسی طرح ہے، اور یہی درست ہے جو مصنف کے ہاں گزرنے والی روایت نمبر (7626) کے موافق ہے، جبکہ قلمی نسخوں میں یہ لفظ "فلینشّ" (نون کی تقدیم کے ساتھ) ہے، اور اسی طرح ضیاء المقدسی کی 📖 حوالہ / مصدر: "الأحاديث المختارة" 6/ (2045) میں ابوبکر شافعی کی روایت (عن علی بن احمد بن النضر عن ابن عائشہ) میں بھی ہے، جس پر ضیاء نے فرمایا: شاید یہ تصحیف (لکھنے کی غلطی) ہے، واللہ اعلم۔
(6) رجاله ثقات. وقد سلف برقم (7626).
⚖️ درجۂ حدیث: اس کے رجال (راوی) ثقہ ہیں۔ 📝 نوٹ / توضیح: یہ روایت نمبر (7626) پر گزر چکی ہے۔