🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. ذِكْرُ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ
فتنۂ دجال کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8537
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا أبو الوليد الطَّيالسي، حدثنا أبو عَوَانة، عن قَتَادة، عن نضر بن عاصم، عن سُبَيع بن خالد، قال: خرجتُ إلى الكوفة زمن فُتِحَت تُستَرُ لأَجلِبَ منها بِغالًا، فدخلتُ المسجدَ فإذا صَدعٌ من الرجال تعرفُ إذا رأيتَهم أنهم من رجال الحجاز، قال: قلت: مَن هذا؟ قال: فحَدَّقَني القومُ بأبصارهم وقالوا: ما تعرفُ هذا؟ هذا حُذيفةُ صاحب رسول الله ﷺ، قال: فقال حذيفة: إنَّ الناس كانوا يسألون رسول الله ﷺ عن الخير، وكنت أسألُه عن الشرِّ، قال: قلت: يا رسول الله، أرأيتَ هذا الخيرَ الذي أعطانا الله، يكون بعدَه شرٌّ كما كان قبلَه؟ قال:"نعم" قلت: يا رسول الله، فما العِصْمةُ من ذلك؟ قال:"السيفُ" قلت: وهل للسيف من بقيّةٍ؟ قال:"نعم" قال: قلت: ثم ماذا؟ قال:"ثم هُدْنةٌ على دَخَنٍ" قال:"جماعةٌ على فُرْقةٍ، فإن كان الله ﷿ يومئذٍ خليفةٌ ضَرَبَ ظهرَك وأخذ مالَك، فاسمَعْ وأطِعْ، وإِلَّا فمُتْ عاضًّا بجِذْلِ شجرة" قال: قلت: ثم ماذا؟ قال:"يخرجُ الدَّجالُ ومعه نهرٌ ونار، فمن وقَع في ناره وقع [أَجرُه] (1) وحُطَّ وِزره، ومن وقع في نهره وَجَبَ وِزرُه وحُطَّ أجرُه" قلت: ثم ماذا؟ قال:"ثمَّ إِنَّما هي قيام الساعة" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8332 - صحيح
سیدنا سبیع بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں تستر کی فتح کے زمانے میں خچر لانے کے لیے کوفہ گیا، میں مسجد میں داخل ہوا تو وہاں لوگوں کی ایک جماعت تھی جنہیں دیکھ کر پہچانا جا سکتا تھا کہ وہ حجاز کے رہنے والے ہیں، میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ لوگوں نے مجھے گھور کر دیکھا اور کہا: کیا تم انہیں نہیں جانتے؟ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ ہیں، تو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے (بیان کرتے ہوئے) فرمایا: لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے بارے میں سوال کرتے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شر کے بارے میں پوچھتا تھا، انہوں نے کہا: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا اس خیر کے بعد جو اللہ نے ہمیں عطا فرمائی ہے، دوبارہ شر ہوگا جیسا کہ اس سے پہلے تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ میں نے عرض کیا: اس سے بچاؤ کا راستہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تلوار۔ میں نے عرض کیا: کیا تلوار کے بعد کچھ باقی رہے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ میں نے عرض کیا: پھر کیا ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر «هُدْنَةٌ عَلَى دَخَنٍ» (دھوئیں پر مبنی صلح) ہوگی، یعنی اختلاف کے باوجود ایک گروہ بن جائے گا، اگر اس دن زمین پر اللہ کا کوئی خلیفہ (حکمران) ہو جو تمہاری پیٹھ پر مارے اور تمہارا مال چھین لے تب بھی (فتنے سے بچنے کے لیے) اس کی سنو اور اطاعت کرو، ورنہ اس حال میں موت کو گلے لگا لو کہ تم کسی درخت کی جڑ کو دانتوں سے مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہو۔ میں نے عرض کیا: پھر کیا ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر دجال نکلے گا جس کے ساتھ ایک نہر اور آگ ہوگی، جو اس کی آگ میں گرا اس کا اجر (اللہ کے ہاں) واجب ہو گیا اور اس کے گناہ جھڑ گئے، اور جو اس کی نہر میں گرا اس کا گناہ ثابت ہو گیا اور اس کا اجر ضائع ہو گیا۔ میں نے عرض کیا: پھر کیا ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر صرف قیامت کا قیام رہ جائے گا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8537]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل سبيع بن خالد، فقد روى عنه جمع وذكره العجلي وابن حبان في الثقات» [ترقيم الرساله 8537] [ترقيم الشركة 8434] [ترقيم العلميه 8332]

الحكم على الحديث: إسناده حسن من أجل سبيع بن خالد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8538
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا محمد بن إبراهيم بن أُورمة (3) ، حدثنا الحسين بن حفص، عن سفيان، عن الأعمش، عن زيد بن وهب، عن حُذيفة قال: إنَّ للفتنة وَقَفاتٍ وبَعَثاتٍ، فمن استطاع منكم أن يموتَ في وَقَفاتِها فليفعل (4)
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8333 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: بے شک فتنوں کے ٹھہرنے کے اوقات (وقفے) بھی ہیں اور ابھرنے (اٹھنے) کے بھی، پس تم میں سے جو کوئی اس بات کی استطاعت رکھتا ہو کہ وہ ان کے ٹھہراؤ (سکون) کے وقت موت پا جائے تو اسے ایسا ہی کرنا چاہیے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے اپنی کتب میں روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8538]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح، محمد بن إبراهيم» [ترقيم الرساله 8538] [ترقيم الشركة 8435] [ترقيم العلميه 8333]

الحكم على الحديث: خبر صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
20. إِخْبَارُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - بِفِتْنَةِ عُثْمَانَ
نبی کریم ﷺ کا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے فتنے (شہادت) کے بارے میں خبر دینا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8539
أخبرني الحسن بن حليم (1) المروَزي، حدثنا أحمد بن إبراهيم السَّدَوَّري، حدثنا سعيد بن هُبيرة، حدثنا محمد بن سُلَيم، حدثنا قَتَادة، عن عبد الله بن شَقيق العُقَيلي، عن مُرَّة البَهْزي قال: قال رسول الله ﷺ:"يُفتَحُ على الأرض فتنٌ كَصَيَاصِي البقر"، فمرَّ رجلٌ مُقنَّع، فقال:"هذا يومئذٍ على الحقِّ"، فقمتُ إليه فأخذتُ بمَجامِعِ ثوبه، فقلت: هذا هو يا رسول الله؟ قال:"هذا"، قال: فإذا هو عثمان (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8334 - سعيد بن هبيرة اتهمه ابن حبان
مرہ بہزی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زمین پر ایسے فتنے ظاہر ہوں گے جو گائے کے سینگوں کی طرح (نوکدار اور الجھے ہوئے) ہوں گے، اسی دوران ایک شخص سر ڈھانپے ہوئے گزرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ شخص اس دن حق پر ہوگا، میں اٹھ کر اس کی طرف گیا اور اس کے کپڑوں سے پکڑ کر عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا یہی وہ شخص ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں یہی ہے، دیکھا تو وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8539]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، سعيد بن هبيرة قال أبو حاتم: ليس بالقوي، واتهمه ابن حبان، لكنه متابع، ومحمد بن سليم» [ترقيم الرساله 8539] [ترقيم الشركة 8436] [ترقيم العلميه 8334]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8540
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن عيسى بن السَّكَن، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا وُهَيب بن خالد، أخبرنا موسى بن عُقبة، أخبرني جدِّي أبو أُمِّي أبو حَبِيبة (1) : أنه دخل الدارَ وعثمانُ محصورٌ فيها، وأنه سمع أبا هريرة يستأذنُ عثمان في الكلام، فأَذِنَ، له، فقام فحَمِدَ الله وأثنى عليه، ثم قال: إني سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"ستَلقَونَ بعدي فتنةً واختلافًا" أو قال:"اختلافًا وفتنة"، فقال له قائل: يا رسول الله، بمَ (2) تأمرنا؟ قال:"عليكم بالأمير وأصحابه"، وهو يشيرُ بذلك إلى عثمان (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8335 - صحيح
ابوحبیبہ سے روایت ہے کہ وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر میں داخل ہوئے جبکہ آپ محصور تھے، انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو سنا کہ انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے بات کرنے کی اجازت طلب کی، آپ نے اجازت دی تو وہ کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمد و ثنا کے بعد کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: تم میرے بعد فتنوں اور اختلاف سے ملو گے، کسی کہنے والے نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: تم امیر اور اس کے ساتھیوں کو لازم پکڑو۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8540]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل أبي حبيب» [ترقيم الرساله 8540] [ترقيم الشركة 8437] [ترقيم العلميه 8335]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8541
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وَهب، أخبرني عمرو بن الحارث، أنَّ بكر بن سَوَادة الجُذَامِيَّ حدثه، أنَّ سُحَيمًا حدَّثه عن رُوَيفِع بن ثابت الأنصاري أنه قال: قُرِّبَ لرسول الله ﷺ تمرٌ ورُطَبٌ (4) ، فأكلوا منه حتى لم يُبقُوا شيئًا إِلَّا نَواه وما لا خير فيه، فقال رسول الله ﷺ:"تدرون ما هذا؟ تذهَبون الخيِّر فالخيِّرَ، حتى لا يبقى منكم إِلَّا مثلُ هذا" (5) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشاهدُه الصحيحُ حديث أبي حُميد الطاعِني الذي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8336 - صحيح
سیدنا رُویفع بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں خشک اور تازہ کھجوریں پیش کی گئیں، صحابہ نے انہیں کھایا یہاں تک کہ صرف گٹھلیاں اور وہ فضلہ بچا جس میں کوئی خیر نہ تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیا ہے؟ تم میں سے بہتر لوگ ایک ایک کر کے رخصت ہو جائیں گے یہاں تک کہ تمہارے درمیان صرف ایسے ہی لوگ بچیں گے (جن میں خیر نہیں ہوگی)۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کی صحیح شاہد حدیث ابوحمید الطاعنی کی مروی روایت ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8541]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وهذا إسناد ليِّن من أجل سحيم، فإنه لا يُعرَف، وذكره ابن حبان في "الثقات" وكذا العجلي، وباقي رجاله ثقات» [ترقيم الرساله 8541] [ترقيم الشركة 8438] [ترقيم العلميه 8336]

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8542
حدَّثَناه علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي والعباس بن الفَضْل الأسفاطي والحسن بن علي بن زياد، قالوا: حدثنا إسماعيل بن أبي أُوَيْس، حدثني سليمان بن بلال، عن يونس بن يزيد، عن ابن شهاب، عن أبي حُميد، أنه سمع أبا هريرة يقول: قال رسول الله ﷺ:"لتُنتَقَيُنَّ كما يُنتقَى التمرُ من الجَفْنة، فليذهَبَنَّ خيارُكم وليبقَيَنَّ شِرارُكم، فموتوا إن استطعتُم" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه. وله رواية أخرى عن يونس بن يزيد:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8337 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں (فتنوں کے ذریعے) اسی طرح چن لیا جائے گا جیسے لگن (بڑے پیالے) سے اچھی کھجوریں چن لی جاتی ہیں، پس تمہارے بہترین لوگ رخصت ہو جائیں گے اور برے لوگ باقی رہ جائیں گے، تو اگر تم سے ہو سکے تو (فتنوں سے بچنے کے لیے) موت کو گلے لگا لو۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8542]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 8542] [ترقيم الشركة 8439] [ترقيم العلميه 8337]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8543
أخبرناه أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل، حدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن عِمران الأنصاري (2) ، حدثنا طلحة بن يحيى الزُّرَقي (3) ، حدثنا يونس بن يزيد، عن ابن شِهاب، عن أبي حُميد مولى مُسافِع قال: سمعت أبا هريرة يحدِّث، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"لَتُنتَقَيُنَّ كما يُنتقَى التَّمْرُ من الجَفْنة، فلَيَذهَبَنَّ خِيارُكم وليَبقَيَنَّ شِرارُكم، حتى يبقى من لا يعبأ الله بهم، فموتوا إن استطعتم" (1) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں (آزمائشوں میں) اسی طرح چن لیا جائے گا جیسے لگن سے اچھی کھجوریں چن لی جاتی ہیں، پس تمہارے بہترین لوگ رخصت ہو جائیں گے اور برے لوگ باقی رہ جائیں گے، یہاں تک کہ وہ لوگ بچیں گے جن کی اللہ کے ہاں کوئی قدر و قیمت نہیں ہوگی، تو اگر تم سے ہو سکے تو موت کو گلے لگا لو۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8543]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال محمد بن عبد الله بن عمران الأنصاري، وقد توبع، وشيخه طلحة حسن الحديث في المتابعات والشواهد، وقد توبع، وأبو حميد تقدَّم الكلام عليه عند الرواية السالفة برقم (8084)» [ترقيم الرساله 8543] [ترقيم الشركة 8440]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8544
حدثنا أبو عَوْن محمد بن أحمد بن ماهانَ الجزَّار بمكة حَرَسها الله على الصَّفا إملاءً، حدثنا أبو عبد الله محمد بن علي بن زيد الصائغُ المكِّي، حدثنا سعيد بن منصور المكّي، حدثنا يعقوب بن عبد الرحمن، عن (2) أبي حازم، عن عُمارة بن عمرو بن حَزم، عن عبد الله بن عمرو، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"يُوشِكُ أن يأتي زمانٌ يُغربَلُ الناسُ فيه غَربلةً، ويَبْقى حُثالةٌ من الناس قد مَرِجَت عهودهم وأماناتُهم، واختلَفوا وكانوا هكذا" وشبَّك بين أصابعه، قالوا: فكيف تأمُرنا يا رسول الله؟ قال:"تأخذون ما تَعرِفون، وتَدَعُون ما تُنكرون، وتُقبلون على أَمرِ خَاصَّتِكم، وتَدَعُون أمر عامَّتِكم" (3) . قال سعيد بن منصور: حُثالة الناس: رُذَالُهم، ومعنى قوله:"مَرِجَت عهودهم" إِذْ لم يَفُوا بها.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8340 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب ایسا زمانہ آئے گا کہ لوگوں کو اس طرح چھانٹ دیا جائے گا جیسے غلہ چھانٹا جاتا ہے، اور صرف نکمے اور گھٹیا لوگ باقی رہ جائیں گے جن کے عہد اور امانتیں بگڑ چکی ہوں گی، اور وہ (اختلاف کی وجہ سے) اس طرح ہو جائیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست کر کے دکھایا۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس چیز کو اختیار کرنا جسے (حق) پہچانتے ہو اور اسے چھوڑ دینا جس کا انکار کرتے ہو، اور تم اپنے خاص (ذاتی و قریبی) معاملات کی فکر کرنا اور عام لوگوں کے معاملات کو چھوڑ دینا۔ سعید بن منصور نے کہا: «حُثالة الناس» سے مراد رذیل لوگ ہیں، اور «مَرِجَت عهودهم» کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے عہدوں کی پاسداری نہیں کریں گے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8544]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8544] [ترقيم الشركة 8442] [ترقيم العلميه 8340]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
21. لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَأْخُذَ اللَّهُ شَرِيطَتَهُ مِنَ الْأَرْضِ
قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک اللہ زمین سے اپنے بہترین بندوں کو نہ اٹھا لے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8545
أخبرنا أحمد بن عثمان بن يحيى بن عمرو البزَّاز ببغداد، حدثنا أبو قِلابة عبد الملك بن محمد الرَّقَاشي، حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثنا همَّام، حدثنا قَتادة، عن الحسن، عن عبد الله بن عمرو قال: قال رسول الله ﷺ:"لا تقومُ الساعة حتى يأخُذَ الله ﷿ شَرِيطتَه من أهل الأرض، فيبقى عَجَاجٌ لا يعرفون معروفًا، ولا يُنكرون منكرًا" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين إن كان الحسنُ سَمِعَه من عبد الله بن عَمْرو.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8341 - على شرط البخاري ومسلم إن كان الحسن عن عبد الله متصلا
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک اللہ تعالیٰ زمین والوں میں سے اپنے منتخب (نیک) لوگوں کو نہ اٹھا لے، پھر صرف شور مچانے والے اوباش لوگ باقی رہ جائیں گے جو نہ تو کسی نیکی کو پہچانیں گے اور نہ ہی کسی برائی سے روکیں گے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح الاسناد ہے بشرطیکہ حسن بصری کا سماع سیدنا عبداللہ بن عمرو سے ثابت ہو۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8545]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، رجاله لا بأس بهم إلا أنَّ الحسن وهو البصري لم يصرّح بسماعه من عبد الله بن عمرو، وقد ذهب علي بن المديني إلى أنه لم يسمع منه شيئًا، وأقرَّه ابن أبي حاتم في "المراسيل" (132).» [ترقيم الرساله 8545] [ترقيم الشركة 8443] [ترقيم العلميه 8341]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
22. يَكُونُ أُمَرَاءُ يُعَذِّبُونَكُمْ وَيُعَذِّبُهُمُ اللَّهُ
ایسے حکمران ہوں گے جو تمہیں تکلیف دیں گے اور اللہ انہیں عذاب دے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8546
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا محمد بن إبراهيم الأصفهاني، حدثنا الحسين بن حفص، حدثنا سفيان، عن الأعمش، عن عُمارة بن عُمَير، عن أبي عمَّار، عن حُذيفة قال: يكون أمراء يُعذِّبونكم ويُعذِّبُهم الله (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8342 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ایسے حکمران ہوں گے جو تمہیں تکلیف دیں گے اور اللہ انہیں عذاب دے گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8546]
تخریج الحدیث: «خبر قوي، لا بأس برجاله غير محمد بن إبراهيم الأصفهاني - وهو ابن أُورمة كما سبق مرارًا عند المصنف - فإنه مجهول لا يُعرَف، لكنه لم ينفرد به.» [ترقيم الرساله 8546] [ترقيم الشركة 8444] [ترقيم العلميه 8342]

الحكم على الحديث: خبر قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں