🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب:
باب:
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8497
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حَدَّثَنَا محمد بن غالب، حَدَّثَنَا أبو مسلم بن أبي شعيب الحرَّاني، حَدَّثَنَا مِسكِين بن بُكير، عن شُعبة، عن أبي رَجَاء، عن الحسن، قال: سألتُ أنس بن مالك عن النُّشْرة، فقال: ذَكَروا عن النَّبِيّ ﷺ أَنَّها من عمل الشيطان (3) [كتاب الفتن]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8292 - صحيح
سیدنا حسن فرماتے ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے منتر کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں اس کا ذکر ہوا تھا کہ یہ شیطان کا عمل ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور ابورجاء مطر الوراق ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8497]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8498
حَدَّثَنَا أبو بكر أحمد بن كامل بن خلف القاضي ببغداد، حَدَّثَنَا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل السُّلمي، حَدَّثَنَا سليمان بن عبد الرحمن (1) الدِّمشقي، حَدَّثَنَا الوليد بن مسلم، حَدَّثَنَا يزيد بن سعيد بن ذي عَصْوان، عن يزيد بن عطاء، عن معاذ بن سعد السَّكْسَكي، عن جُنادة بن أبي أُميّة، عن عُبادة بن الصّامت قال: بينما نحن مع رسول الله ﷺ وقوفٌ إذ أقبلَ رجل فقال: يا رسولَ الله، ما مُدَّهُ رَخاءِ أمّتك؟ قال: فسكتَ عنه رسولُ الله ﷺ حتَّى سأله ثلاثَ مرات، ثم وَلَّى الرَّجلُ، فقال رسول الله ﷺ:"عليّ بالرجل" فنُوديَ، فأقبل الرجل، فقال له رسول الله ﷺ:"لقد سألتَني عن شيءٍ ما سألَني عنه أحدٌ من أمَّتي، رَخَاءُ أمَّتي مئة سنة، مدَّةُ رَخاءِ أُمَّتي مئةُ سنة، مدَّةُ رخاءِ أمَّتي مئةُ سنة"، قال: فقال: يا رسول الله، فهل لتلك من أَمَارةٍ أو آيةٍ أو علامة؟ قال:"نَعَم، القَذْفُ والخَسْفُ والرَّجُفُ، وإرسالُ الشياطينِ المُلجَمةِ عن الناس" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8293 - إسناده مظلم
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ وقوف کئے ہوئے تھے، ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، کہنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی امت کی امید کتنی ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خاموشی اختیار فرمائی، اس نے تین مرتبہ پوچھا، آپ ہر مرتبہ خاموش رہے، پھر وہ آدمی چلا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: تو نے مجھ سے ایسا سوال کیا ہے کہ میرے کسی امتی نے یہ سوال مجھ سے نہیں پوچھا، میری امت کی امید سو سال ہے۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی کوئی علامت، کوئی نشانی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، قذف (پتھر پھینکنا) خسف (گہن لگنا)، اور رجف (پہلا نفخہ)۔ اور شیاطین کو لگامیں ڈال کر انسانوں سے ہٹایا جائے گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8498]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. سِتَّةٌ مِنْ آثَارِ الْقِيَامَةِ
قیامت کے آثار میں سے چھ نشانیوں کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8499
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد الأصبهاني، أخبرنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم بن أُورْمَة (1) الأصبهاني، أخبرنا أبو محمد الحسين بن حفص الهَمْداني، حَدَّثَنَا سفيان بن سعيد الثَّوْري، عن الأوزاعي، عن يحيى بن أبي عمرو السَّيْباني، عن ابن الدَّيلَمي، عن حُذَيفة بن اليَمَان قال: إني لأعلمُ أهلَ دِينَين من أمَّة محمد ﷺ في النار، قوم يقولون: إن كان أوّليَّتُنا ضُلالًا، يقولون: ما بالُ خمس صلواتٍ في اليوم والليلة؟ إنّما هما صلاتان: العصرُ والفجرُ، وقوم يقولون: إنما الإيمانُ كلامٌ وإن زَنَى وإن قَتَل (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8294 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: امت محمدیہ کی 2 دوزخی جماعتوں کو میں جانتا ہوں۔ ایک وہ قوم جو کہتے ہیں: ہم سے پہلے لوگ گمراہ تھے، دن میں پانچ نمازوں کی کیا ضرورت ہے۔ نمازیں صرف دو ہی ہیں، نماز عصر اور نماز فجر۔ دوسری وہ قوم جو کہتے ہیں: زبان سے کلمہ پڑھ لیا تو بندہ صاحب ایمان ہے اگرچہ وہ زنا کرے اور اگرچہ وہ قتل کرے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8499]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. الْمُتَحَابُّونَ فِي اللَّهِ لَهُمْ مَنَابِرُ مِنْ نُورٍ يَغْبِطُهُمُ الشُّهَدَاءُ
اللہ کی رضا کے لیے آپس میں محبت کرنے والوں کے لیے نور کے منبر ہوں گے جن پر شہداء رشک کریں گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8500
حَدَّثَنَا أبو بكر أحمد بن كامل القاضي، حَدَّثَنَا محمد بن إسماعيل السُّلَمي، حَدَّثَنَا أبو أيوب الدِّمشقي، حَدَّثَنَا الوليد بن مُسلِم، حَدَّثَنَا عبد الله بن العلاء بن زَبْر الرَّبَعي قال: سمعت بُسرَ بنَ عبيد الله الحَضْرمي يحدِّث، أنه سمع أبا إدريس الخَوْلانيَّ يقول: سمعتُ عوفَ بن مالك الأشجعيَّ يقول: أَتيتُ رسولَ الله ﷺ في غزوة تَبُوك وهو في قُبَّة من أَدَم، فقال لي:"يا عوفُ، اعدُدْ سِتًّا بين يَدَي الساعة: مَوْتي، ثم فتحُ بيتِ المَقدِس، ثم مُوتانٌ يأخذ فيكم كقُعَاص (1) الغَنَم، ثم استفاضةُ المال فيكم حتَّى يُعطَى الرجل مئة دينار فيَظَلُّ ساخطًا، ثم فتنةٌ لا يبقى بيتٌ من العرب إلَّا دَخَلَته، ثم هُدْنةٌ تكون بينكم وبين بني الأصفر فيَغدِرون فيأتونكم تحتَ ثمانين غايةً، تحتَ كل غايةٍ اثنا عشرَ ألفًا" (2) . قال الوليد بن مسلم: فذاكَرْنا هذا الحديثَ شيخًا من شيوخ أهل المدينة؛ قولَه:"ثم فتحُ بيتِ المَقدِس"، فقال الشيخ: أخبرني سعيد المَقبُري، عن أبي هريرة: أنه كان يُحدِّث بهذه السِّتة عن رسول الله ﷺ، ويقول بدلَ"فتح بيت المقدس":"عُمْرانُ بيت المَقدِس" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8295 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عوف بن مالک اشجعی فرماتے ہیں: غزوہ تبوک کے موقع پر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ اس وقت چمڑے کے ایک خیمے میں موجود تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عوف، قیامت سے پہلے 6 چیزیں شمار کر لینا۔ (1) میری وفات۔ (2) بیت المقدس کی فتح (3) کثیر اموات ہوں گی جیسا کہ بھیڑ بکریوں میں کوئی وباء آ جائے، جس سے وہ موت سے بچ نہ سکیں۔ (4) تم میں مال بہت عام ہو جائے گا، حتی کہ کسی کو 100 دینار ملیں گے تو وہ اس پر بھی راضی نہیں ہو گا۔ (5) پھر ایک ایسا فتنہ اٹھے گا جو عرب کے ہر گھر میں پہنچ جائے گا۔ (6) تمہارے اور بنی الاصفر کے درمیان مصالحت ہو گی، لیکن وہ لوگ غداری کریں گے، یہ 80 جھنڈوں کے نیچے (ہر جھنڈے کے نیچے) بارہ ہزار کے لشکر کے ساتھ تم پر چڑھائی کریں گے۔ ولید بن مسلم کہتے ہیں: ہم نے اہل مدینہ کے ایک بزرگ کے پاس یہ حدیث سنائی، تو انہوں نے اپنی اسناد کے ہمراہ ہمیں اس سے ملتا جلتا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سنایا تاہم اس میں بیت المقدس کے فتح ہونے کی بجائے اس کے تعمیر ہونے کا ذکر تھا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8500]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. خَرَابُ يَثْرِبَ حُضُورُ الْمَلْحَمَةِ
مدینہ منورہ کی ویرانی اور بڑی جنگوں (ملحمہ) کا آغاز
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8501
أخبرني محمد بن المؤمَّل، حَدَّثَنَا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حَدَّثَنَا نُعَيم بن حمَّاد المرَوزي بمصر، حَدَّثَنَا الفضل بن موسى، حَدَّثَنَا عبد الأعلى بن أبي المُسَاور، عن عِكْرمة، عن الحارث بن عَمِيرة قال: قدمتُ من الشام إلى المدينة في طلب العلم، فسمعت معاذَ بنَ جبل يقول: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"المتحابُّون في الله لهم منابرُ من نورٍ يومَ القيامةَ يَغبِطُهم الشُّهداءُ". فأقمتُ معه، فذكرتُ له الشَّامَ وأهلَها وأشعارَها، فتجهَّز إلى الشام فخرجتُ معه، فسمعته يقول لعمرو بن العاص: لقد صَحِبتُ النَّبِيَّ ﷺ وأنت أضَلُّ من حمارِ أهلِه، فأصاب ابنَه الطاعونُ وامرأتَه فماتا جميعًا، فحَفَرَ لهما قبرًا واحدًا فدُفِنا، ثم رَجَعْنا إلى معاذ وهو ثقيلٌ فبَكَيْنا، حولَه، فقال: إن كنتم تَبكُون على العلم، فهذا كتابُ الله بين أظهُرِكم فاتَّبِعوه، فإن أشكَلَ عليكم شيءٌ من تفسيره فعليكم بهؤلاء الثلاثة: عُوَيمِرٍ أبي الدرداء، وابنِ أمِّ عبد، وسلمانَ الفارسيِّ، وإيّاكم وزَلَّةَ العالِم وجَدَلَ المنافق. فأقمتُ شهرًا. ثم خرجتُ إلى العراق فأتيتُ ابنَ مسعود فقال: نِعمَ الحيُّ أهل الشام لولا أنهم يَشهَدون على أنفسهم بالنَّجاة، قلت: صَدَقَ معاذٌ، قال: وما قال؟ قلت: أوصاني بك وبعُوَيمرٍ أبي الدرداء وسلمانَ الفارسي، وقال: وإياكم وزَلَّةَ العالِم وجَدَل المنافق، ثم تنحَّيتُ، فقال لي: يا ابن أخي، إنما كانت زَلّةً مني. فأقمتُ عنده شهرًا. ثم أتيت سلمانَ الفارسي، فسمعتُه يقول: قال رسول الله ﷺ:"إِنَّ الأرواحَ جنودٌ مجنَّدةٌ، فما تعارَفَ منها ائتَلَف، وما تناكر منها اختَلَف". فأقمتُ عنده شهرًا، يُقسّم الليلَ ويُقسّم النهارَ بينَه وبين خادمِه (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا حارث بن عمیرہ فرماتے ہیں: میں طلب علم کے لئے شام سے مدینہ شریف آیا، میں نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد بیان کرتے ہوئے سنا کہ جو لوگ اللہ کی رضا کے لئے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں قیامت کے دن ان کے لئے نور کے منبر بچھائے جائیں گے، ان پر شہید بھی رشک کریں گے۔ میں سیدنا معاذ کے پاس ٹھہرا، ان کو ملک شام، وہاں کے باشندوں اور ان کی تہذیب و تمدن کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے ملک شام جانے کی تیاری کر لی اور میں بھی ان کے ہمراہ چل دیا، وہ سیدنا عمرو بن العاص کو یہ کہہ رہے تھے: تو نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کی ہے اور تو گدھے سے زیادہ گمراہ ہے، ان کے بیٹے اور بیوی کو طاعون کی شکایت ہو گئی، وہ دونوں اس بیماری میں فوت ہوئے۔ انہوں نے دونوں کے لئے ایک ہی قبر کھودی اور ان دونوں کو وہاں دفنا دیا، پھر ہم سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی طرف لوٹ کر آ گئے، وہ بہت بوجھل بدن بیٹھے ہوئے تھے اور ہم لوگ آپ کے اردگرد جمع ہو کر رونے لگے، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تم اس بات پر روتے ہو کہ کوئی صاحب علم چلا گیا ہے، تو کوئی بات نہیں، آج بھی اللہ تعالیٰ کی کتاب تمہارے پاس موجود ہے اس کی اتباع کر لو کامیاب ہو جاؤ گے۔ اور اگر تمہیں اس کی تشریحات پر عمل کرنا مشکل لگے، تو تم اس کے ماہرین کے پاس جانا۔ ابوالدرداء، بن ام معبد اور سلمان فارسی۔ عالم کے پھسلنے سے خود کو بچاؤ، اور منافق کے ساتھ بحث و تکرار سے بچو۔ پھر میں تھوڑا سا ہٹ گیا، آپ نے فرمایا: اے میرے بھتیجے! عالم کے پھسلنے سے مراد خود میرا پھسلنا تھا۔ پھر میں پورا مہینہ ان کے پاس رہا۔ پھر میں سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے پاس آ گیا، میں نے ان کو یہ فرماتے ہوئے سنا تمام روحیں گروہ در گروہ اکٹھی رہا کرتی تھیں، جو ایک دوسرے کو (عالم ارواح میں) جانتی تھیں، وہ ایک دوسرے سے محبت کرتی ہیں، جو نہیں جانتی تھیں، وہ اختلاف کرتی ہیں ۔ میں ان کے پاس بھی پورا مہینہ رہا، انہوں نے دن اور رات کو اپنے اور اپنے خادم کے درمیان تقسیم کر رکھا تھا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8501]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. ذِكْرُ الْمُصَالَحَةِ بَيْنَ الرُّومِ وَالْمُسْلِمِينَ ثُمَّ الْمُحَارَبَةِ بَيْنَهُمْ
رومیوں اور مسلمانوں کے درمیان صلح اور پھر ان کے مابین جنگ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8502
فحدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا العباس بن الوليد بن مَزيَد البَيروتي، حَدَّثَنَا محمد بن شعيب بن شابُور، حَدَّثَنَا عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، عن مكحول، عن عبد الله بن مُحَيرِيز: أنَّ معاذ بن جبل كان يقول: عُمْرانُ بيت المَقدِس خرابُ يَثرِبَ، وخرابُ يثربَ حُضورُ المَلحمَة، وحضورُ المَلحَمةِ فتحُ القُسْطَنطينيَّة، وفتحُ القُسطنطينيّة خروجُ الدَّجال. قال: ثم ضربَ معاذٌ على مَنكِب عمر بن الخطّاب فقال: والله إنَّ ذلك لحقٌّ كما أنك جالسٌ (2) . هذا الحديث وإن كان موقوفًا، فإنَّ إسناده صحيح على شرط الرِّجال، وهو اللائق بالمسنَد الذي تقدَّمَه (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8297 - صحيح موقوف
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ بیت المقدس کی تعمیر، یثرب کی بربادی ہے، اور یثرب کی بربادی، جنگوں کے وقت ہے، اور جنگوں کا رونما ہونا قسطنطنیہ کی فتح کے وقت ہو گا اور قسطنطنیہ کی فتح دجال کے ظہور کے وقت ہے۔ پھر سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا کندھا تھپکایا اور فرمایا: اللہ کی قسم! جیسے تم میرے سامنے واقعتاً بیٹھے ہوئے ہو، اسی طرح ان امور کے رونما ہونے میں بھی کوئی شک نہیں ہے۔ ٭٭ یہ حدیث اگرچہ موقوف ہے، لیکن اس کی اسناد رجال کی شرائط کے مطابق صحیح ہے۔ اور یہ اس مسند حدیث کے موافق ہے جس کا ذکر ابھی گزرا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8502]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8503
حَدَّثَنَا أبو أحمد بكر بن محمد الصَّيرَفي بمَرْو، حَدَّثَنَا أبو الأحوَص محمد بن الهَيثم القاضي، حَدَّثَنَا محمد بن كَثير المِصِّيصي، حَدَّثَنَا الأوزاعي، عن حسّان بن عَطيّة، عن ذي مِخمَر - رجل من أصحاب النَّبِيّ ﷺ -، وهو ابن أخي النَّجَاشيّ - أنه سمع رسول الله ﷺ يقول:"لتُصالِحون الرُّومَ صُلحًا آمنًا حتَّى تَغْزُونَ أنتم وهم عدوًّا من ورائهم، فتُنصَرون وتَغنَمون، وتنصرفون حتَّى تنزلوا بمَرْجٍ ذي تُلُول، فيقولُ قائل من الروم: غَلَبَ الصَّليبُ، ويقول قائل من المسلمين: بل اللهُ غَلَبَ، فيَتداوَلانِها بينهم، فيَثُورُ المسلمُ إلى صليبِهم وهم منهم غيرُ بعيد فيَدُقُّه، ويَثُورُ الرومُ إلى كاسرِ صليبِهم فيقتلونَه، ويَثُورُ المسلمون إلى أسلحتِهم فيُقتَلون، فيُكرِمُ اللهُ ﷿ تلك العِصابةَ من المسلمين بالشهادة، فيقول الرُّومُ لصاحب الروم: كَفَيْناكَ جَدَّ العرب، فيَغدِرُون، فيجتمعون للمَلحَمةِ، فيأتونكم تحتَ ثمانينَ غايةً، تحتَ كلِّ غايةٍ اثنا عَشَرَ ألفًا" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8298 - صحيح
نجاشی کے بھتیجے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ روم سے امن کی صلح کرو گے، اور تم ان کے ساتھ مل کر دشمن سے جنگ لڑو گے، تم فتحیاب ہو جاؤ گے، مال غنیمت جمع کرو گے، اور واپس لوٹو گے، راستے میں ٹیلوں والے ایک مقام پر پڑاؤ ڈالو گے، اس دوران ایک رومی شخص بآواز بلند کہے گا: صلیب غالب آ گئی، اس کے جواب میں ایک مسلمان کہے گا: (صلیب غالب نہیں آئی) بلکہ اللہ تعالیٰ کی ذات غالب آئی ہے، ان کے درمیان تکرار شروع ہو جائے گی، مسلمان صلیب کے بالکل قریب ہوں گے، وہ ان کی صلیب پر حملہ کر کے اس کو توڑ دیں گے، رومی لوگ اس صلیب کے توڑنے والے پر حملہ کریں گے اور اس کو قتل کر دیں گے، مسلمان اپنے اسلحہ کو سنبھال لیں گے، ان کی جنگ چھڑ جائے گی، اس جنگ میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی اس جماعت کو شہادت عطا فرمائے گا۔ رومی لوگ روم کے بادشاہ سے کہیں گے: تیرے لئے جدالعرب (قیذار بن اسماعیل) کافی ہے پھر یہ لوگ غداری کریں گے، جنگ کے لئے جمع ہو جائیں گے، اور یہ لوگ 80 جھنڈوں کے سائے میں تم پر حملہ آور ہوں گے، ہر جھنڈے کے نیچے، بارہ ہزار کا لشکر جرار ہو گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8503]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8504
وقد حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا بَحْر بن نَصْر بن سابق الخَوْلاني، حَدَّثَنَا بِشْر بن بكر، حَدَّثَنَا الأوزاعي، حدثني حسَّان بن عطية قال: قام مكحول وابن أبي زكريا إلى خالد بن مَعْدان وقمتُ معهما، قال: فحدَّثَنا (2) خالد عن جُبير بن نُفير قال: انطَلِقْ بنا إلى ذي مِخمَر صاحبِ رسول الله ﷺ، فقال: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"ستصالحُكم الرُّومُ صُلحًا آمنًا، ثم تَغزُون أنتم وهم عدوًّا (3) فتُنصَرون وتَسلَمون وتَفتَحون، ثم تنصرفون بمَرْجٍ، فيَرفَعُ لهم رجلٌ من النَّصرانية الصَّليبَ، فيَعْضَبُ رجلٌ من المسلمين فيقومُ إليهم فيَدُقُّ الصَّليب، فعند ذلك تَعْضَبُ الرومُ فيَجتمِعون للمَلحَمة" (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، وهو أَولى من الأول.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8299 - صحيح
حسان بن عطیہ فرماتے ہیں: مکحول اور ابن ابی زکریا، خالد بن معدان کے پاس گئے، میں بھی ان کے ساتھ تھا، انہوں نے بتایا کہ خالد نے جبیر بن نفیر کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ذی مخمر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم عنقریب روم سے امن کے لئے صلح کر لو گے، پھر تم مل کر دشمن سے جنگ کرو گے، تمہاری مدد کی جائے گی، تم فتحیاب ہو جاؤ گے، پھر تم مرج میں پڑاؤ ڈالو گے، ایک نصرانی شخص صلیب بلند کرے گا، اس کو دیکھ کر ایک مسلمان غصے میں بھڑک اٹھے گا، اور اس کی صلیب پکڑ کر توڑ دے گا، صلیب ٹوٹنے پر روم غصے میں آ جائیں گے، پھر یہ سب تمہارے خلاف جنگ کے لئے جمع ہو جائیں گے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور یہ اسناد، پہلی اسناد سے بہتر ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8504]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8505
أخبرني عبد الله بن محمد الدَّورَقي، حَدَّثَنَا محمد بن إسحاق الإمام، حَدَّثَنَا عَبْدة بن عبد الله الخُزاعيُّ، حدثني الوليد بن المغيرة، حدثني عبد الله بن بِشْر الغَنَوي، حدثني أَبي قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"لَتَفتَحُنَّ القُسطنطِينيَّةَ، ولنِعمَ الأميرُ أميرُها، ولنِعمَ الجيشُ ذلك الجيشُ". قال عبد الله: فدعاني مَسلَمةُ بن عبدِ الملك فسألني عن هذا الحديث، فحدَّثتُه، فغَزا القُسطنطِينيةَ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8300 - صحيح
عبداللہ بن بشر الغنوی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم قسطنطنیہ کو فتح کر لو گے، اس کا امیر کیا ہی اچھا امیر ہو گا اور وہ لشکر کیا ہی اچھا لشکر ہو گا۔ عبیداللہ کہتے ہیں: مسلمہ بن عبدالملک نے مجھے بلوایا اور اس حدیث کے بارے میں مجھ سے پوچھا، تو میں نے ان کو یہ حدیث سنائی، تب اس نے قسطنطنیہ پر حملہ کیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8505]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. التَّرْهِيبُ مِنْ إِمَارَةِ السُّفَهَاءِ
بیوقوفوں کی حکمرانی سے ڈرانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8506
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد البغدادي، حَدَّثَنَا هاشم بن مَرثَد، حَدَّثَنَا سعيد بن عُفَير، حَدَّثَنَا سعيد بن أبي أيوب (1) ، عن أبي قَبيل (2) أنه حَدَّثه، أنه سمع عبدَ الله بنَ عمرو بن العاص يقول: تَذَاكرْنا فتحَ القُسطنطينيَّةِ والرُّومِيَةِ أنها تُفتَح، فدعا عبدُ الله بن عمرو بن العاص بصُندوقٍ ففَتَحَه، فقال: كنا عندَ رسول الله ﷺ نكتبُ، فقال رجل: أيُّ المدينتين تُفتَحُ قبلُ يا رسول الله؟ قال:"مدينةُ هِرَقْلَ"؛ يريدُ مدينةَ القُسطنطِينيَّة (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8301 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہمارے درمیان قسطنطنیہ اور روم کی فتح کی باتیں ہو رہی تھیں، عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے اپنا صندوق منگوایا، اس کو کھولا، پھر فرمایا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہوتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں لکھ لیا کرتے تھے، ایک آدمی نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں میں سے پہلے کون سا شہر فتح ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہرقل کا شہر۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8506]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں