🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
142. الْمَهْدِيُّ يَعِيشُ سَبْعًا أَوْ ثَمَانِيًا
سیدنا مہدی علیہ السلام سات یا آٹھ سال تک حکومت کریں گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8888
حدثنا عبد الله بن سَعْد الحافظ، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب وإبراهيم بن إسحاق وجعفر بن أحمد الحافظ قالوا: حدثنا نَصْر بن علي، حدثنا محمد بن مروان، حدثنا عُمارة بن أبي حَفْصة، عن زيد العَمِّي، عن أبي الصِّدّيق الناجيّ، عن أبي سعيد الخُدْري، عن النبي ﷺ قال:"يكون في أمَّتي المهديُّ، إن قَصُرَ فسبعٌ وإلَّا فتِسعٌ، تَنعَمُ أمّتي فيه نعمةً لم ينعموا مثلَها قطُّ، تُؤْتي الأرضُ أُكُلَها لا تَدَّخِرُ عنهم شيئًا، والمالُ يومئذٍ كُدُوسٌ، يقوم الرجلُ فيقول: يا مهديُّ، أعطِني، فيقول: خُذْ" (3) . [آخر كتاب الفتن] قال الحاكم ﵀: قد رَوَيتُ ما انتهى إليه عِلْمي من فِتَن آخر الزَّمان على لسان المصطفى ﷺ بالأسانيدِ اللائقةِ بشَرْط هذا الكتاب، فأمَّا الشيخانِ ﵄ فإنهما ذَكَرا أهوالَ القيامةِ والحَشْرِ مُدرَجًا في الفِتَن، وجَرَيتُ أنا في ذلك على اختيار الإمام أبي بكر محمد بن إسحاق بن خُزَيمة ﵁ في إفراد ذلك عن الفِتَنِ الدُّنَائيّة (1) ، والله الموفِّقُ لما اخترتُه، وهو حَسْبي ونِعمَ الوكيلُ. [كتاب الأهوال] ﷽ قال اللهُ ﵎: ﴿وَيَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ فَفَزِعَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ شَاءَ اللَّهُ وَكُلٌّ أَتَوْهُ دَاخِرِينَ (87) وَتَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً﴾ الآية [النمل: 87 - 88] . وقال عزَّ مِن قائل: ﴿وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرَى فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ﴾ [الزمر: 68] .
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں مہدی ہوں گے، اگر ان کی مدت کم ہوئی تو سات سال ورنہ نو سال ہوگی، اس دور میں میری امت ایسی خوشحالی و نعمتوں میں ہوگی کہ ویسی پہلے کبھی نہ ہوئی ہوگی، زمین اپنی تمام پیداوار دے گی اور ان سے کچھ بھی نہیں چھپائے گی، اور اس زمانے میں مال ڈھیروں کی شکل میں (پڑا) ہوگا، کوئی شخص کھڑا ہو کر کہے گا: اے مہدی! مجھے عطا کیجیے، تو وہ کہیں گے: لے لو۔ [کتاب الفتن کا اختتام] امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
میں نے اپنے علم کے مطابق آخر زمانے کے فتنوں کے بارے میں وہ تمام روایات اس کتاب کی شرائط کے مطابق مناسب اسناد کے ساتھ روایت کر دی ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ مبارک سے مروی تھیں، جہاں تک شیخین کا تعلق ہے تو انہوں نے قیامت کی ہولناکیوں اور حشر کے ذکر کو فتنوں کے باب ہی میں ضمناً ذکر کیا ہے، جبکہ میں نے اس معاملے میں امام ابو بکر محمد بن اسحاق بن خزیمہ رضی اللہ عنہ کے اختیار کردہ طریقے کی پیروی کی ہے کہ ان ہولناکیوں کو دنیاوی فتنوں سے الگ مستقل بیان کیا جائے، اور اللہ ہی میری اس پسند پر توفیق دینے والا ہے، وہی میرے لیے کافی ہے اور بہترین کارساز ہے۔ [کتاب الاہوال یعنی قیامت کی ہولناکیوں کا بیان] اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ﴿وَيَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ فَفَزِعَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ شَاءَ اللَّهُ وَكُلٌّ أَتَوْهُ دَاخِرِينَ (87) وَتَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً﴾ [سورة النمل: 87 - 88] اور اللہ عزوجل کا فرمان ہے: ﴿وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرَى فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ﴾ [سورة الزمر: 68] [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8888]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف زيد العمِّي» [ترقيم الرساله 8888] [ترقيم الشركة 8780]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1. يَنْتَظِرُ صَاحِبُ الصُّورِ مَتَى يُؤْمَرُ بِنَفْخِهِ
صور پھونکنے والا فرشتہ (سیدنا اسرافیل علیہ السلام) اس انتظار میں ہے کہ اسے کب صور پھونکنے کا حکم دیا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8889
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن هشام بن مَلَّاس النُّمَيري، حدثنا مروان بن معاوية الفَزَاري، عن عُبيد الله (1) بن عبد الله بن الأصمِّ، حدثنا يزيد بن الأصمِّ، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"إِنْ طَرَفَ صاحبُ الصُّور مدَّةَ وُكِّل به مستعدٌّ يَنظُر نحوَ العَرْش مخافةَ أن يُؤمَرَ قبل أن يَرتدَّ إِليه طَرْفُهُ، كأنَّ عينيه كوكبانِ دُرِّيَّانِ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8676 - صحيح على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب سے صور پھونکنے والے فرشتے کو اس پر مامور کیا گیا ہے، وہ بالکل تیار ہے اور اس خوف سے کہ کہیں پلک جھپکنے سے پہلے اسے حکم نہ دے دیا جائے، اس کی نظریں مسلسل عرش کی طرف لگی ہوئی ہیں، گویا اس کی دونوں آنکھیں چمکتے ہوئے دو روشن ستاروں کی مانند ہیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8889]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن من أجل عبيد الله بن عبد الله بن الأصم، وكذا حسَّنه الحافظ ابن حجر في "فتح الباري" 20/ 297، لكن اختُلف في رفعه ووقفه» [ترقيم الرساله 8889] [ترقيم الشركة 8781] [ترقيم العلميه 8676]

الحكم على الحديث: إسناده حسن من أجل عبيد الله بن عبد الله بن الأصم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8890
أخبرني أبو الحسن علي بن محمد القرشي بالكوفة، حدثنا الحسن بن علي بن عفّان العامري، حدثنا أسباطُ بن محمد القُرَشي، حدثنا مُطرِّف بن طَريف الحارثي، عن عطيَّة، عن ابن عبَّاس، في قوله ﷿: ﴿فَإِذَا نُفِخَ فِي الصُّورِ﴾ [المؤمنون: 101] قال رسول الله ﷺ:"كيف أَنعَمُ وصاحبُ الصُّورِ قد الْتقَمَ القَرْنَ، وَحَنَى جبهتَه، وأَصغَى بسمعِه!" قال أصحاب رسول الله ﷺ: كيف نقولُ يا رسولَ الله؟ قال:"قولوا: حَسْبُنَا الله ونِعم الوكيلُ، على الله توكَّلْنا" (1) مدارُ هذا الحديث على عطيَّة بن سعد العَوْفِي ﵀، وهو كبيرُ المَحَلِّ في أقرانه من التابعين، ولم يُخرج عنه الشيخان ﵄ في"الصحيحين".
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8677 - عطية ضعيف
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿فَإِذَا نُفِخَ فِي الصُّورِ﴾ [سورة المؤمنون: 101] کے متعلق روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں کیسے چین سے رہ سکتا ہوں جبکہ صور پھونکنے والے فرشتے نے صور کو اپنے منہ میں لے رکھا ہے، اپنی پیشانی جھکا دی ہے اور اپنے کان لگا دیے ہیں (کہ کب حکم ملے)! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم کیا کہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کہو: «حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ، عَلَى اللهِ تَوَكَّلْنَا» ہمیں اللہ ہی کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے، ہم نے اللہ ہی پر توکل کیا۔
اس حدیث کا مدار عطیہ بن سعد العوفی رحمہ اللہ پر ہے اور وہ اپنے ہم عصر تابعین میں بلند مقام رکھتے ہیں، لیکن شیخین نے اپنی صحیحین میں ان سے روایت نہیں کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8890]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف عطية» [ترقيم الرساله 8890] [ترقيم الشركة 8782] [ترقيم العلميه 8677]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8891
وقد حدثنا أبو بكر بن إسحاق وعلي بن حَمْشَادَ العَدْل، قالا: حدثنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُمَيدي، حدثنا سفيان، حدثنا مُطرِّف، عن عطيَّة، عن أبي سعيد قال: قال رسول الله ﷺ:"كيف أَنعَمُ وقد الْتقَمَ صاحبُ القَرْنِ، وأَصغَى بسمعِه، وحَنَى جبينَه، يَنظُر أن يُؤمَرَ فَيَنفُخَ!" فقال المسلمون: فماذا نقولُ يا رسول الله؟ قال:"قولوا: حَسبُنا اللهُ ونِعمَ الوكيلُ، على الله توكَّلْنا" (1) . وقد كَتبْناه من حديث الأعمش عن أبي صالح عن أبي سعيد:
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں کیسے خوش و خرم رہ سکتا ہوں جبکہ صور والے فرشتے نے (صور) منہ میں لے رکھا ہے، اپنے کان (حکم الٰہی کی طرف) لگا رکھے ہیں اور اپنی پیشانی جھکا دی ہے، وہ اس بات کا منتظر ہے کہ اسے کب صور پھونکنے کا حکم دیا جائے! مسلمانوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم کیا کہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کہو: «حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ، عَلَى اللهِ تَوَكَّلْنَا» ہمیں اللہ ہی کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے، ہم نے اللہ ہی پر بھروسہ کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8891]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح إن شاء الله، وهذا إسناد ضعيف لضعف عطية العوفي كما سبق، وقد توبع في الذي بعده» [ترقيم الرساله 8891] [ترقيم الشركة 8782]

الحكم على الحديث: حديث صحيح إن شاء الله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8892
حدَّثَناه أبو علي الحافظ، أخبرنا الإمام أبو بكر بن إسحاق وعلي بن العباس البَجَلي قالا: حدثنا أبو سعيد عبد الله بن سعيد الأشجُّ، حدثنا إسماعيل بن إبراهيم أبو يحيى التَّيْمي، عن الأعمش، عن أبي صالح، عن أبي سعيد، عن رسول الله ﷺ قال:"كيف أَنعَمُ وصاحبُ القَرْنِ قد التقَمَ القَرْنَ، وحَنَى جبهتَه، وأَصغى بسمعِه، ينتظرُ متى يُؤمَرُ فينفخُ!" قلنا: يا رسول الله، فكيف نقول؟ قال:"قولوا: حَسبُنا اللهُ ونِعمَ الوكيلُ، تَوَكَّلْنا على الله" (2) . لم نكتبه من حديث الأعمش عن أبي صالح عن أبي سعيدٍ إلَّا بهذا الإسناد، ولولا أنَّ أبا يحيى التَّيْمي على الطريق لحكمتُ للحديث بالصِّحّة على شرط الشيخين ﵄. ولهذا الحديث أصلٌ من حديث زيد بن أسلمّ عن عطاء بن يَسار عن أبي سعيد:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8678 - أبو يحيى واه
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں کیسے چین سے رہ سکتا ہوں جبکہ صور والے نے صور کو اپنے منہ میں لے لیا ہے، اپنی پیشانی جھکا دی ہے اور کان لگا دیے ہیں، وہ اس انتظار میں ہے کہ اسے کب حکم دیا جائے اور وہ صور پھونک دے! ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم کیا کہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کہو: «حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ، تَوَكَّلْنَا عَلَى اللهِ» ہمیں اللہ ہی کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے، ہم نے اللہ ہی پر بھروسہ کیا۔
ہم نے اس حدیث کو اعمش کے واسطے سے ابو صالح سے اور انہوں نے ابو سعید سے سوائے اسی سند کے کسی اور طریقے سے نہیں لکھا، اور اگر اس کی سند میں ابو یحییٰ التیمی نہ ہوتے تو میں اس حدیث کے صحیح ہونے کا حکم شیخین کی شرط پر لگا دیتا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8892]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح إن شاء الله، وهذا إسناد ضعيف لضعف إسماعيل أبي يحيى التيمي، وبه أعلّه الذهبي في "تلخيصه" فوهّاه، ولم نقف على الحديث من طريقه عند غير المصنف، إلّا أنه قد توبع فيه» [ترقيم الرساله 8892] [ترقيم الشركة 8783] [ترقيم العلميه 8678]

الحكم على الحديث: حديث صحيح إن شاء الله
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8893
حدَّثَناه عليُّ بن عيسى الحِيِري، حدثنا محمد بن عمرو بن النَّضْر بن عمرو الحَرَشي وجعفر بن محمد بن الحسين قالا: حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا خارجة، عن زيد بن أسلمَ، عن عطاء بن يَسَار، عن أبي سعيد الخُدْري، عن النبي ﷺ قال:"ما من صباحٍ إلَّا ومَلَكانِ يناديانِ، يقول أحدُهما: اللهمَّ أَعطِ مُنفِقًا خَلَفًا، ويقول الآخر: اللهمَّ أَعطِ مُمسِكًا تَلَفًا، وملكانِ مُوكَّلان بالصُّور ينتظرانِ متى يُؤْمَرانِ فيَنفخانِ، وملكان يناديانِ يقول أحدُهما ويلٌ للرجال من النساء، وويلٌ (1) للنساءِ من الرجال" (2) . تفرد به خارجةُ بن مُصعَب عن زيد بن أسلم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8679 - خارجة ضعيف
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی صبح ایسی نہیں ہوتی مگر اس میں دو فرشتے پکارتے ہیں، ان میں سے ایک کہتا ہے: اے اللہ! خرچ کرنے والے کو اس کا نعم البدل عطا فرما، اور دوسرا کہتا ہے: اے اللہ! (مال) روک کر رکھنے والے کے مال کو ضائع و برباد کر دے، اور دو فرشتے صور پر مامور ہیں جو اس انتظار میں ہیں کہ انہیں کب حکم ملے اور وہ صور پھونکیں، اور دو فرشتے پکار کر کہتے ہیں کہ مردوں کے لیے عورتوں کی وجہ سے ہلاکت ہے اور عورتوں کے لیے مردوں کی وجہ سے ہلاکت ہے۔
اس حدیث کو روایت کرنے میں خارجہ بن مصعب، زید بن اسلم سے منفرد ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8893]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا، خارجة بن مصعب متروك، وبه أعلّه الذهبي في "التلخيص"» [ترقيم الرساله 8893] [ترقيم الشركة 8784] [ترقيم العلميه 8679]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8894
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مسدَّد، حدثنا يحيى بن سعيد وبِشْر بن المفضَّل قالا: حدثنا سليمان التَّيْمي، عن أسلم العِجْلي، عن بِشر بن شَغَافٍ، عن عبد الله بن عمرو: أن أعرابيًّا أَتى النبيَّ ﷺ فسأله عن الصُّور - وفي حديث يحيى بن سعيد قال: سألتُ رسولَ الله ﷺ عن الصُّور - قال:"قَرْنٌ يُنفَخُ فيه" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8680 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور آپ سے صور کے متعلق سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک سینگ (نما آلہ) ہے جس میں پھونک ماری جائے گی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8894]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8894] [ترقيم الشركة 8785] [ترقيم العلميه 8680]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَنْ تَأْكُلَ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ
بے شک اللہ نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ وہ انبیاء علیہم السلام کے جسموں کو کھائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8895
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو البَختَري عبد الله بن محمد بن شاكر بالكُوفة، حدثنا حسين بن علي الجُعْفيّ، حدثنا عبد الرحمن بن يزيد (4) بن جابر، عن أبي الأشعث الصَّنعاني عن أَوْس بن أَوْس قال: قال رسول الله ﷺ:"إنَّ من أفضلِ أيامِكم الجمعة، فيه خُلِقَ آدمُ، وفيه قُبِضَ، وفيه نَفْحَةُ الصُّور، وفيه الصَّعْقة، فأَكِثروا عليَّ من الصَّلاة، فإنَّ صلاتكم معروضةٌ عليَّ" قالوا: وكيف تُعرَضُ صلاتُنا عليك وقد أَرَمْتَ؟ فقال:"إنَّ الله تعالى حَرَّمَ على الأرض أن تأكلَ أجسادَ الأنبياءِ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8681 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا اوس بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک تمہارے بہترین دنوں میں سے جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم (علیہ السلام) پیدا کیے گئے، اسی دن ان کی روح قبض کی گئی، اسی دن صور پھونکا جائے گا اور اسی دن سب (صور کی ہیبت سے) بیہوش ہوں گے، لہٰذا اس دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔ صحابہ نے عرض کیا: (آپ کی وفات کے بعد) ہمارا درود آپ پر کیسے پیش کیا جائے گا جبکہ آپ کا جسدِ مبارک مٹی میں مل کر بوسیدہ ہو چکا ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے زمین پر انبیاء کے اجسام کو کھانا حرام کر دیا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8895]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات إلّا أنه قد اختلف في تعيين عبد الرحمن بن يزيد كما سلف بيانه عند الرواية رقم (1042)» [ترقيم الرساله 8895] [ترقيم الشركة 8786] [ترقيم العلميه 8681]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8896
أخبرني أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا حمّاد بن سلمة، عن يعلى بن عطاءٍ، عن وكيع بن حُدُس، عن عمِّه أبي رَزِين العُقيلي أنه قال: يا رسول الله، أكلُّنا يرى ربَّه يوم القيامة، وما آيةُ ذلك في خَلْقه؟ فقال رسول الله ﷺ:"أليس كلكم ينظرُ إلى القمر مُخْلِيًا؟" فقالوا: بلى، قال:"فاللهُ أعظمُ". قال: قلت: يا رسول الله، كيف يُحْيِي الله الموتى، وما آيةُ ذلك في خَلقِه؟ قال:"أَمَا (2) مررتَ بوادي أهلِك مَحْلًا؟" قال: بلى، قال: ثم مررت به يهتزُّ خَضِرًا؟" قال: بلي، قال:"فكذلك يُحْيِي اللهُ الموتى، وذلك آيتُه في خلقِه" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8682 - صحيح
سیدنا ابو رزین عقیلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا (قیامت کے دن) ہم سب اپنے رب کا دیدار کریں گے؟ اور اس کی مخلوقات میں اس کی کیا نشانی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے ہر شخص چاند کو اس حال میں نہیں دیکھتا کہ وہ اکیلا ہوتا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں (ضرور دیکھتے ہیں)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اللہ تو اس سے بھی کہیں زیادہ عظمت والا ہے۔ انہوں نے (پھر) عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ مردوں کو کیسے زندہ کرے گا اور اس کی مخلوقات میں اس کی کیا نشانی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارا گزر کبھی اپنے قبیلے کی ایسی وادی سے ہوا ہے جو خشک اور بنجر ہو؟ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر کیا تم وہاں سے دوبارہ گزرے جبکہ وہ (بارش کے بعد) لہلہا رہی تھی اور سرسبز تھی؟ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پس اسی طرح اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ فرمائے گا، اور اس کی مخلوق میں (دوبارہ جی اٹھنے کی) یہی علامت ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8896]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لجهالة وكيع بن حُدُس، ويقال: ابن عُدُس، بالعين» [ترقيم الرساله 8896] [ترقيم الشركة 8787] [ترقيم العلميه 8682]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لجهالة وكيع بن حُدُس
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. خَمْسٌ مِنَ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا اللَّهُ
غیب کی پانچ باتیں ایسی ہیں جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8897
أخبرنا أبو بكر أحمد بن كامل بن خَلَف القاضي، حدثنا محمد بن سعد العَوْفي، حدثنا يعقوب بن عيسى، حدثنا عبد الرحمن بن المغيرة [عن عبد الرحمن بن عيَّاش] (1) عن دَلْهَم بن الأسود، عن عبد الله بن الأسود بن عامر اليَحصُبي (2) ، عن عمِّه لَقِيط بن عامر: أنه خرج وافدًا إلى النبي ﷺ ومعه نَهيكُ بن عاصم بن عن مالك بن المُنتفق، قال: فقَدِمْنا المدينةَ لانسلاخ رَجَب، فصلَّينا معه صلاةَ الغَدَاة، فقام رسول الله ﷺ في الناس خطيبًا، فقال:"أيها الناسُ، إني قد خَبَاتُ لكم صوتي منذُ أربعةِ أيام لأُسمعكم، فهل من امرئٍ بَعَثَه قومُه، قالوا: اعلَمْ لنا ما يقولُ رسول الله ﷺ ثم لعله أن يُلهيه حديثُ نفسه أو حديثُ صاحبِه، أو يُلهِيَه الضَّلَالُ؟ أَلَا إِني مسؤولٌ، هل بلَّغتُ؟ ألَا فاسمَعوا تَعيشوا، ألَا فاسمَعوا تَعيشوا، ألَا اجلِسوا فجلس الناس، وقمتُ أنا وصاحبي. حتى إذا فرَّغ لنا فؤادَه وبصرَه قلت: يا رسول الله إني أسألك عن حاجَتي، فلا تَعجَلَنَّ عليَّ، قال:"سَلْ عمَّا شئتَ" قلت: يا رسول الله، هل عندك من علمِ الغيب؟ فضَحِكَ لَعَمْرُ الله وهزَّ رأسَه وعَلِمَ أني أبتغي بسَقَطِه (3) ، فقال:"ضَنَّ ربُّك بمفاتيحِ خمسٍ من الغيب، لا يعلمُهنَّ إِلَّا الله" وأشار بيده فقلت: وما هنَّ يا رسول الله؟ قال:"عِلمُ المَنِيَّةِ، قد عَلِمَ متى مَنيَّةُ أحدِكم ولا تعلمونه، وعِلمُ يوم الغَيْث، يُشرف عليكم آزِلينَ (1) مُشفقين، فظلَّ يَضحَك وقد عَلِمَ أَنَّ غِيَرَكم (2) قريب" قال لَقِيط: فقلت: يا رسول الله، لن نَعدَمَ من ربٍّ يضحك خيرًا"وعِلمُ ما في غدٍ، قد عَلِمَ ما أنت طاعمٌ في غدٍ ولا تَعلمُه، وعِلمُ يومِ الساعة"، قال: وأَحسَبُه ذكرَ ما في الأرحام. قال: فقلنا: يا رسول الله، علِّمْنا ممّا يَعلمُ الناسُ، وما نَعلمُ، فإنا من قَبيلٍ لا يُصدقون تصديقنا أحدٌ من مَدْحِجَ التي تَدْنُو إلينا، وخَثعَمَ التي تُوالِينا (3) ، وعَشيرتِنا (4) التي نحن منها، قال:"تَلبَثون ما لَبِثْتُم، ثم يُتوفَّى نبيُّكم، ثم تَلبَثون ما لَبِثتم، ثم تُبعَثُ الصَّيحةُ، فَلَعَمْرُ الهِكَ ما تَدَعُ على ظهر الأرض شيئًا إلَّا مات، والملائكةُ الذين مع ربِّك، فخَلَتِ الأرضُ، فأرسل ربُّك السماءَ بهَضْبٍ (5) من تحت العرش، فلَعَمرُ إِلهِكَ ما تَدَعُ على ظهرها من مَصرَعِ قتيلٍ، ولا مَدفَنِ مِيتٍ، إِلَّا شَقَّت القبرَ عنه، حتى يَخلُقَه من قِبَلِ رأسه، فيستوي جالسًا، يقول ربُّكَ: مَهْيَمُ (6) ؟ فيقول: يا ربِّ، أمسِ، لعَهدِه بالحياة يَحسَبُه حديثًا بأهله". فقلت: يا رسول الله، كيف يَجمعُنا بعدما تُمزِّقنا الرِّياحُ والبِلَى والسِّباع؟! قال:"أُنبَّتُك بمِثْل ذلك في آلاءِ الله (1) ؛ الأرضُ أشرَفتَ عليها مَدَرةً باليةً فقلت: لا تَحْيا أبدًا، فأرسَلَ ربُّك عليها السماءَ، فلم تَلبَثْ عليها أيامًا حتى أشرَفَت عليها فإذا هي شَرَبَةٌ (2) واحدةٌ، ولَعَمرُ إلهِكَ لهو أقدرُ على أن يجمعكم من (3) الماء على أن يجمعَ نباتَ الأرض، فتخرجون من الأصْواءِ (4) من مَصارعِكم فتنظرون إليه ساعةً ويَنظُر إليكم"قال: قلت: يا رسول الله، كيف وهو شخصٌ واحد ونحن مِلءُ الأرض، نَنظُر إليه ويَنظُر إلينا؟! قال:"أنبِّئُك بمثل ذلك في إِلِّ الله؛ الشمسُ والقمرُ آيةٌ منه قريبةٌ صغيرة، ترونَهما في ساعة واحدة ويَرَيانِكم، ولا تَضَامُّون في رؤيِتهما، ولَعَمرُ إلهَكَ لهو على أن يراكم وترونَه أقدرُ منهما على أن يريانِكم وترونَهما. قلت: يا رسول الله، فما يفعل بنا ربُّنا إذا لَقِيناه؟ قال:"تُعرضون عليه باديةً له صَفَحاتُكم ولا تَخفَى عليه منكم خافيةٌ، فيأخذُ ربُّك بيده غَرْفةً من الماء فيَنضَحُ بها قِبَلَكم (5) ، فَلَعَمرُ إلهِكَ ما تُخطئ وجهَ واحدٍ منكم قَطْرةٌ، فأما المؤمنُ فتَدَعُ وجهَه مِثلَ الرَّيْطة البيضاء، وأما الكافرُ فتَخطِمُه بمثل الحُمَم الأَسود (6) ، ثم ينصرفُ نبيُّكم فيمرُّ على أثَرِه الصالحون - أو قال: ينصرف على أثره الصالحون. قال: فيسَلُكون جسرًا من النار، يَطأُ أحدُكم الجَمْرةَ فيقول: حَسِّ، فيقول ربُّك: أوانُه (1) ". قال:"فيَطَّلعون على حوض الرسول على أظمأِ ناهلةٍ واللهِ رأيتها قطُّ، فَلَعَمرُ إلهِكَ ما يَبسُط - أو قال: ما يُسقط - واحدٌ منكم يدَه إِلَّا وَقَعَ عليها قَدَحْ يطهِّرُه من الطَّوْفِ (2) والبولِ والأذى، وتَخلُصُ الشمس والقمرُ - أو قال: تُحبَس الشمسُ والقمر فلا ترون منهما واحدًا" فقلت: يا رسول الله، فبِمَ نُبصِرُ يومئذٍ؟ قال:"مِثلَ بَصَرِ ساعتِك هذه، وذلك في يومٍ أسفَرَتْه الأرضُ وتراخَتْه الجبالُ". قلت: يا رسول الله، فيمَ نُجازَى من سيئاتنا وحسناتنا؟ قال:"الحسنةُ بعشر أمثالِها، والسيئةُ بمثلِها أو تُغفَر". قلت: يا رسول الله، فما الجنةُ وما النار؟ قال:"لَعَمْرُ إِلهِكَ، إِنَّ الجنة لها [ثمانية] أبواب ما منهنَّ بابان إلَّا وبينهما مسيرةُ الراكب سبعين عامًا"، وإنَّ للنار سبعة أبواب، ما منهنَّ بابان إلَّا وبينهما مسيرة الراكب سبعين عامًا" قلت: يا رسول الله على ما يُطَّلع من الجنة؟ قال:"أنهارٍ من عسل مُصفًّى، وأنهارٍ من لبن لم يتغيَّرْ طعمُه، وأنهارٍ من كأسٍ ما لها صُداعٌ ولا نَدامةٌ، ومن ماءٍ غيرِ آسِنٍ، وبفاكهةٍ - لَعَمرُ إلهِكَ. ما تعلمون وخير من مثله معه أزواجٌ مُطَهَّرة" قلت: يا رسول الله، أوَلَنا فيها أزواجٌ مُصلِحات؟ قال:"الصالحاتُ للصالحين، تَلَدُّونَهنَّ مثلَ لَذَّاتِكم في الدنيا ويَلذَذْنكم، غير أنه لا تَوالُدَ": قلت: يا رسول الله، هذا أقصى (3) ما نحن بالغون ومُنتَهُون، إليه؟ قلت: يا رسول الله على ما أبايعُك؟ قال: فبَسَط يدَه وقال:"على إقام الصلاة، وإيتاء الزكاة، وإياكَ والشِّركَ، لا تُشرِكْ بالله شيئًا" أو"لا تُشْرِكْ مع الله إلهًا غيرَه" فقلت: وإنَّ لنا ما بينَ المشرقِ والمغرب؟ فَقَبَضَ وبَسَطَ أصابعه، فظنّ أني مشترطٌ شيئًا لا يُعطينيه، فقلت: نَحُلُّ منها حيثُ شئنا، ولا يَجْني على امرئٍ إلَّا نفسُه، قال:"ذلك لك، حُلَّ منها حيثُ شئتَ، ولا تَجْني عليك إلَّا نفسك"، فبايعناه ثم انصرَفْنا، فقال:"ها، إنَّ ذَيْنِ (1) -ثلاثًا- لمن نفر هم أصدقُ الناسِ حديثًا، لأنهم من أَتقى الناسِ الله في الأوّل والآخِر"، فقال كعبُ بن فلانٍ أحد بني بكرِ بن كِلابَ: مَن هم يا رسول الله؟ قال: بنو المُنتفِق". فأقبلتُ عليه فقلت: يا رسول الله، هل لأحدٍ (2) ممَّن مضى منَّا في جاهلية من خير؟ فقال رجلٌ من عُرْض قُريش: إِنَّ أباك المُنتفِقَ في النار، فكأنه وقع حَرٌّ بين جلدِ وجهي ولحمي، مما قال لأَبي على رؤوس الناس، فهَمَمتُ أن أقول: وأبوك يا رسولَ الله؟ ثم نظرتُ فإذا الأُخرى أَجملُ، فقلت: وأهلُك (3) يا رسول الله؟ فقال:"وأهلي لَعَمرُ اللهِ، ما أَتيتَ عليه من قبرِ قرشيٍّ أو عامريٍّ مشرِكٍ فقل: أرسَلَني إليك محمدٌ، فأَبشِرْ بما يسُوؤُك، تُجَرُّ على وجهِك وبطنِك في النار" فقلت: فيمَ أفعلُ ذلك لهم يا رسولَ الله وكانوا على عملِ يَحسبَون أنْ لا إيَّاهُ، وكانوا يَحْسَبُونهم مُصلِحين؟! قال:"ذلك بأنَّ الله بعثَ في آخرِ كلِّ سبعِ أُممٍ نبيًّا، فمَن أطاع نبيَّه كان من المهتدِين، ومن عصى نبيَّه كان من الضالِّين" (4) .
هذا حديث جامعٌ في الباب، صحيح الإسناد، كلُّهم مدنيُّون، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8683 - يعقوب بن محمد بن عيسى الزهري ضعيف
سیدنا لقیط بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ایک وفد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور ان کے ساتھ نہیک بن عاصم بن مالک بن منتفق بھی تھے۔ انہوں نے کہا: ہم رجب کے اختتام پر مدینہ پہنچے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فجر کی نماز ادا کی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے لوگو! میں نے چار دن سے اپنی آواز کو روکے رکھا تھا تاکہ (آج) تمہیں سنا سکوں۔ کیا کوئی ایسا شخص ہے جسے اس کی قوم نے یہ کہہ کر بھیجا ہو کہ ہمارے لیے معلوم کرو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرماتے ہیں؟ پھر ہو سکتا ہے کہ اسے اس کے دل کے خیالات، یا اس کے ساتھی کی باتیں غافل کر دیں، یا گمراہی اسے غافل کر دے؟ سن لو! مجھ سے (قیامت کے دن) پوچھا جائے گا کہ کیا میں نے پیغام پہنچا دیا تھا؟ سن لو، اور بغور سنو تاکہ تم زندہ (باقی) رہو، سن لو، اور سنو تاکہ تم زندہ رہو، سن لو اور بیٹھ جاؤ۔ چنانچہ لوگ بیٹھ گئے، اور میں اور میرا ساتھی کھڑے رہے۔ یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف پوری توجہ اور نگاہ کی، تو میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں آپ سے اپنی ایک حاجت (سوال) کے بارے میں پوچھتا ہوں، آپ مجھ پر جلدی نہ فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو چاہو پوچھو۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کے پاس غیب کا کوئی علم ہے؟ تو اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور اپنا سر ہلایا، اور آپ جان گئے کہ میں آپ کی کسی بات کی کھوج میں ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے رب نے غیب کی پانچ کنجیاں اپنے پاس مخفی رکھی ہیں، جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور آپ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! وہ کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: موت کا علم، اسے معلوم ہے کہ تم میں سے کسی کی موت کب آئے گی جبکہ تم نہیں جانتے۔ اور بارش برسنے کے دن کا علم، جب وہ تم پر جھانکتا ہے جبکہ تم قحط زدہ اور ناامید ہوتے ہو، تو وہ ہنستا رہتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ تمہاری حالت بدلنے کا وقت قریب ہے۔ لقیط نے کہا: میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم اس رب کی طرف سے بھلائی سے کبھی محروم نہیں ہوں گے جو ہنستا ہے۔ (آپ نے فرمایا:) اور کل کیا ہوگا اس کا علم، وہ جانتا ہے کہ تم کل کیا کھاؤ گے جبکہ تم نہیں جانتے۔ اور قیامت کے دن کا علم۔ راوی کہتے ہیں: اور میرا خیال ہے کہ آپ نے ماؤں کے پیٹ میں جو کچھ ہے اس کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا: پھر ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہمیں وہ کچھ سکھائیے جو لوگ جانتے ہیں اور جو ہم (نہیں) جانتے، کیونکہ ہم ایک ایسے قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں کہ ہمارے قریب رہنے والے قبیلہ مذحج، ہمارے پڑوسی قبیلہ خثعم، اور ہمارے اپنے قبیلے والے جس سے ہم تعلق رکھتے ہیں، ان میں سے کوئی بھی ہماری طرح آپ کی تصدیق نہیں کرے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اتنی مدت ٹھہرو گے جتنی تم ٹھہرے (یعنی زندہ رہو گے)، پھر تمہارا نبی فوت ہو جائے گا، پھر تم اتنی مدت ٹھہرو گے جتنی تم ٹھہرے، پھر ایک چنگھاڑ (صور) بھیجی جائے گی، تو تیرے معبود کی قسم! وہ زمین کی پیٹھ پر کسی چیز کو نہیں چھوڑے گی مگر وہ مر جائے گی، اور وہ فرشتے بھی مر جائیں گے جو تیرے رب کے ساتھ ہیں۔ پس زمین خالی ہو جائے گی، پھر تیرا رب عرش کے نیچے سے آسمان سے بارش بھیجے گا، تو تیرے معبود کی قسم! زمین کی پیٹھ پر کسی مقتول کے گرنے کی جگہ اور کسی مردے کی قبر ایسی نہیں بچے گی مگر وہ اس پر سے قبر کو پھاڑ دے گی، یہاں تک کہ وہ اسے اس کے سر کی طرف سے (دوبارہ) پیدا کرے گا، تو وہ سیدھا ہو کر بیٹھ جائے گا۔ تیرا رب فرمائے گا: کیا حال ہے؟ وہ کہے گا: اے میرے رب! (لگتا ہے میں) کل (مرا تھا)، زندگی کے قریب ہونے کی وجہ سے وہ اسے اپنے گھر والوں سے (جدائی کی) نئی بات سمجھے گا۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! جب ہوائیں، بوسیدگی اور درندے ہمیں چیر پھاڑ کر بکھیر دیں گے تو وہ ہمیں کیسے جمع کرے گا؟! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تجھے اللہ کی نشانیوں میں سے اس کی ایک مثال بتاتا ہوں۔ تم ایک ایسی زمین پر آتے ہو جو بوسیدہ ڈھیلوں کی طرح (بنجر) ہوتی ہے تو تم کہتے ہو کہ یہ کبھی زندہ (آباد) نہیں ہوگی، پھر تمہارا رب اس پر آسمان سے بارش بھیجتا ہے، تو اس پر کچھ ہی دن گزرتے ہیں کہ تم اسے دیکھتے ہو تو وہ پانی سے سیراب اور سرسبز ہوتی ہے۔ تو تیرے معبود کی قسم! وہ تمہیں (اس حیات بخش) پانی سے جمع کرنے پر اس سے زیادہ قدرت رکھتا ہے جتنا وہ زمین کی نباتات کو اگانے پر قدرت رکھتا ہے۔ چنانچہ تم اپنے ٹھکانوں اور قبروں سے نکلو گے، تم اسے (رب کو) ایک نظر دیکھو گے اور وہ تمہیں دیکھے گا۔ راوی کہتے ہیں، میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ ایک ذات ہے اور ہم پوری زمین کے برابر (لاتعداد) ہیں، ہم اسے دیکھیں گے اور وہ ہمیں دیکھے گا؟! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تجھے اللہ کی نشانیوں میں سے ایک مثال دیتا ہوں۔ سورج اور چاند اس کی ایک چھوٹی سی نشانی ہیں، تم انہیں ایک ہی وقت میں دیکھتے ہو اور وہ تمہیں دیکھتے ہیں، اور تمہیں ان کے دیکھنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی۔ تو تیرے معبود کی قسم! وہ اس بات پر ان دونوں کے تمہیں دیکھنے اور تمہارے انہیں دیکھنے سے زیادہ قدرت رکھتا ہے کہ وہ تمہیں دیکھے اور تم اسے دیکھو۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! پھر جب ہم اپنے رب سے ملیں گے تو وہ ہمارے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس کے سامنے اس طرح پیش کیے جاؤ گے کہ تمہارے چہرے اس کے سامنے کھلے ہوں گے اور تمہاری کوئی پوشیدہ بات اس سے چھپی نہیں رہے گی۔ پھر تیرا رب اپنے ہاتھ سے پانی کا ایک چلو بھرے گا اور اسے تمہاری طرف چھڑکے گا، تو تیرے معبود کی قسم! وہ پانی تم میں سے کسی ایک کے چہرے سے بھی خطا نہیں کرے گا۔ رہا مومن، تو وہ اس کے چہرے کو سفید چادر کی طرح روشن کر دے گا، اور رہا کافر، تو وہ اس کے چہرے پر سیاہ کوئلے جیسا نشان بنا دے گا۔ پھر تمہارا نبی واپس لوٹے گا اور صالح لوگ اس کے پیچھے چلیں گے (یا فرمایا: صالحین اس کے پیچھے لوٹیں گے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پس وہ آگ کے ایک پل پر چلیں گے، تم میں سے کوئی انگارے پر پاؤں رکھے گا تو کہے گا: ہائے (جل گیا)! تو تیرا رب فرمائے گا: اب یہی وقت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر وہ رسول کے حوض پر ایسے پہنچیں گے جیسے پیاسے اونٹ پانی پر پہنچتے ہیں۔ اللہ کی قسم! میں نے اسے دیکھا ہے، تو تیرے معبود کی قسم! تم میں سے کوئی شخص اپنا ہاتھ نہیں پھیلائے گا (یا فرمایا: نہیں گرائے گا) مگر اس پر ایک پیالہ آ پڑے گا جو اسے پاخانے، پیشاب اور گندگی سے پاک کر دے گا۔ اور سورج اور چاند ختم ہو جائیں گے (یا فرمایا: سورج اور چاند روک لیے جائیں گے) تو تم ان دونوں میں سے کسی کو نہیں دیکھو گے۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! تو اس دن ہم کیسے دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جیسے تم اس وقت دیکھ رہے ہو، اور یہ اس دن ہوگا جب زمین روشن ہو جائے گی اور پہاڑ ہموار ہو جائیں گے۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہمیں ہماری برائیوں اور نیکیوں کا کیا بدلہ ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نیکی کا بدلہ اس جیسی دس نیکیوں کے برابر، اور برائی کا بدلہ اس جیسی ایک برائی کے برابر ہوگا یا پھر وہ معاف کر دی جائے گی۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! جنت اور جہنم کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرے معبود کی قسم! بے شک جنت کے [آٹھ] دروازے ہیں، ان میں سے کوئی سے دو دروازوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا سوار کے لیے ستر سال کا سفر ہوتا ہے۔ اور جہنم کے سات دروازے ہیں، ان میں سے کوئی سے دو دروازوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا سوار کے لیے ستر سال کا سفر ہوتا ہے۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! جنت میں کیا چیزیں دیکھنے کو ملیں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خالص شہد کی نہریں، دودھ کی نہریں جن کا ذائقہ خراب نہیں ہوگا، ایسی شراب کی نہریں جس سے نہ سر درد ہوگا اور نہ کوئی پشیمانی، اور ایسے پانی کی نہریں جو بدبودار نہیں ہوگا۔ اور تیرے معبود کی قسم! ایسے پھل جنہیں تم جانتے ہو اور ان سے بہتر پھل ہوں گے، اور اس کے ساتھ پاکیزہ بیویاں ہوں گی۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا ہمارے لیے اس میں نیک بیویاں ہوں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نیک مردوں کے لیے نیک بیویاں، تم ان سے دنیا کی لذتوں جیسی لذت حاصل کرو گے اور وہ تم سے لذت حاصل کریں گی، سوائے اس کے کہ وہاں توالد و تناسل (بچے پیدا) نہیں ہوں گے۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا یہی وہ آخری منزل ہے جہاں تک ہمیں پہنچنا ہے؟ میں نے (یہ بھی) عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں کس بات پر آپ کی بیعت کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ پھیلایا اور فرمایا: نماز قائم کرنے، زکوٰۃ دینے، اور شرک سے بچنے پر کہ تم اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے (یا فرمایا: اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود نہیں بناؤ گے)۔ تو میں نے عرض کی: اور کیا ہمارے لیے وہ علاقہ (آزاد) ہے جو مشرق اور مغرب کے درمیان ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں بند کر لیں اور پھر پھیلائیں، آپ نے گمان کیا کہ شاید میں کوئی ایسی شرط رکھ رہا ہوں جو آپ مجھے نہیں دے سکتے۔ تو میں نے عرض کی: ہم جہاں چاہیں اس میں ٹھہریں، اور کوئی شخص اپنے علاوہ کسی اور (کے جرم) کا ذمہ دار نہیں ہوگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تمہارے لیے ہے، تم جہاں چاہو ٹھہرو، اور تمہارے (جرم کا) بوجھ صرف تم پر ہوگا۔ چنانچہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی اور پھر واپس لوٹ گئے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو! یہ دونوں (تین بار فرمایا) ان لوگوں میں سے ہیں جو بات کرنے میں سب سے سچے ہیں، کیونکہ یہ دنیا و آخرت میں سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والے ہیں۔ تو قبیلہ بنو بکر بن کلاب کے ایک شخص کعب بن فلاں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! یہ کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ بنو منتفق ہیں۔ پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف متوجہ ہوا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم میں سے جو لوگ جاہلیت میں گزر گئے ہیں، کیا ان کے لیے کوئی بھلائی ہے؟ تو قریش کے ایک کنارے سے ایک شخص نے کہا: تمہارا باپ منتفق جہنم میں ہے۔ (یہ سن کر) مجھے ایسا لگا جیسے میرے چہرے کی کھال اور گوشت کے درمیان آگ لگ گئی ہو، اس بات کی وجہ سے جو اس نے سب لوگوں کے سامنے میرے باپ کے بارے میں کہی تھی۔ میں نے ارادہ کیا کہ کہوں: اے اللہ کے رسول! اور آپ کا باپ؟ پھر میں نے سوچا تو دوسری بات مجھے زیادہ مناسب لگی، تو میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اور آپ کے گھر والے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور میرے گھر والے بھی (جہنم میں ہیں)۔ اللہ کی قسم! تم کسی قریشی یا عامری مشرک کی قبر پر سے گزرو تو اسے کہو: مجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہاری طرف بھیجا ہے، تو اپنے برے انجام کی خوشخبری سن لے، تجھے تیرے چہرے اور پیٹ کے بل جہنم میں گھسیٹا جائے گا۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں ان کے ساتھ ایسا کیوں کروں حالانکہ وہ تو ایسے کام پر تھے جن کے بارے میں وہ سمجھتے تھے کہ وہ ٹھیک ہیں، اور وہ اپنے آپ کو نیک سمجھتے تھے؟! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر سات امتوں کے آخر میں ایک نبی بھیجا، تو جس نے اپنے نبی کی اطاعت کی وہ ہدایت یافتہ ہو گیا، اور جس نے اپنے نبی کی نافرمانی کی وہ گمراہ ہو گیا۔
اس باب میں یہ ایک جامع حدیث ہے، اس کی سند صحیح ہے، اس کے تمام راوی مدنی ہیں، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8897]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا، مسلسلٌ بالمجاهيل؛ عبد الرحمن بن عياش ومَن فوقه، وأما يعقوب بن عيسى» [ترقيم الرساله 8897] [ترقيم الشركة 8788] [ترقيم العلميه 8683]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں