🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: " أَرْجُو أَنْ تَكُونُوا شَطْرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ "
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ تم (میری امت) اہل جنت کا آدھا حصہ ہو گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8908
حدَّثَنا به عبدُ الصمد، حدثنا هشام، عن قَتَادةَ، عن الحسن. فقد حَكَمَ إمامُ الأئمة محمد بن يحيى الذُّهْلي ﵁، ولم يُخرِّج محمدُ بن إسماعيل ومسلمُ بن الحجَّاج ﵄ في هذه الترجمة حرفًا. وذُكِرَ أنَّ الحسن لم يسمع من عِمران بن حُصين. قال الحاكم ﵀: والذي عندي أنَّ الحسن قد سَمِعَ من عِمْران بن حُصَين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8692 - على شرط البخاري ومسلم
یہ حدیث ہمیں عبد الصمد نے ہشام، قتادہ اور حسن بصری کے واسطے سے بیان کی۔ امام الائمہ محمد بن یحییٰ ذہلی رحمہ اللہ نے اس پر فیصلہ دیا ہے، جبکہ امام بخاری اور امام مسلم رحمہما اللہ نے اس باب میں کوئی روایت ذکر نہیں کی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ حسن بصری نے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا۔
امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک حسن بصری کا سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8908]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 8908] [ترقيم الشركة 8799] [ترقيم العلميه 8692]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8909
وقد حدثنا بالحديث عليُّ بن حَمْشاذَ العَدْل، أخبرنا أبو المثنَّى، حدثنا مُسدَّد ومحمد بن المِنْهال الضَّرير قالا: حدثنا معاذ بن هشام، حدثني أَبي، عن قَتَادةَ، عن الحسن، عن عِمران بن حُصَين قال: كنَّا مع رسول الله ﷺ في مسيرٍ وقد تفاوَتَ بين أَصحُبِه (3) السَّيرُ، فَرَفَعَ بهاتين الآيتين صوتَه: ﴿يَاأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ﴾، قرأَ أبو موسى (4) إلى قوله: ﴿وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ﴾، فلما سمع ذلك أصحابه حثُّوا المَطيَّ وعرفوا أنه عندَ قولٍ يقولُه، فقال:"أتدرون أيُّ يوم ذلك؟" قالوا: الله ورسوله أعلمُ؟ قال:"ذاكم يومَ يُنادَى آدم فيناديه ربُّه فيقول: يا، آدمُ ابْعَثْ بَعْثَ النارِ [قال: يا رب، وما بعثُ النار؟ قال: من كل ألفٍ تسعُ مئةٍ وتسعةٌ وتسعون في النار] (1) وواحدٌ في الجنّة"، فأُبِلسَ أصحابُه حتى ما أَوضَحُوا بضاحكةٍ، فلما رأى رسولُ ﷺ الذي بأصحابه قال:"اعْمَلُوا وأَبِشروا، فوالذى نفسُ محمدٍ بيدِه، إنكم مع خليقَتينِ ما كانتا مع شيءٍ إِلَّا كَثَّرتاه، يأجوجَ ومأجوجَ، ومَن هَلَكَ من بني آدم وبني إبليسَ"، فسُرِّيَ عن القوم بعضُ الذي يَجِدُون، ثم قال:"اعمَلوا (2) وأَبشِروا فوالذي نفسُ محمدٍ بيدِه ما أنتم في الناس إِلَّا كالشَّامَةِ في جَنْبِ البعير، أو كالرَّقْمة في ذراع الدَّابّة" (3) . وهكذا رواه سعيدُ بن أبي عَرُوبة عن قَتَادةَ:
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور صحابہ کے درمیان چلنے کی رفتار میں فرق آ گیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو آیات کے ساتھ اپنی آواز بلند فرمائی: ﴿يَاأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ﴾ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ﴿وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ﴾ [سورة الحج: 1 - 2] تک تلاوت فرمائی، جب صحابہ نے یہ سنا تو انہوں نے اپنی سواریاں تیز کر دیں اور وہ سمجھ گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی (اہم) بات فرمانے والے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون سا دن ہے؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ دن ہے جب آدم (علیہ السلام) کو پکارا جائے گا، ان کا رب انہیں پکار کر فرمائے گا: اے آدم! جہنم کا لشکر (یعنی جہنم میں جانے والے) نکالو، انہوں نے عرض کیا: اے میرے رب! جہنم کا لشکر کتنا ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے آگ میں جائیں گے اور ایک جنت میں۔ یہ سن کر صحابہ اتنے مایوس اور غمگین ہوئے کہ ان کے چہروں پر مسکراہٹ کا نشان تک نہ رہا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کی یہ کیفیت دیکھی تو فرمایا: تم عمل کرتے رہو اور خوش ہو جاؤ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! تم دو ایسی مخلوقات (یاجوج اور ماجوج) کے ساتھ ہو کہ وہ جس چیز کے ساتھ بھی ہوں اسے کثیر کر دیتی ہیں، اور آدم کی اولاد اور ابلیس کی ذریت میں سے جو ہلاک ہو گئے (ان کی وجہ سے تمہاری نسبت کم ہو جائے گی)۔ تب لوگوں کا غم کچھ کم ہوا جو وہ محسوس کر رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمل کرو اور خوشخبری حاصل کرو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! تم (دیگر) لوگوں میں (تعداد کے لحاظ سے) ایسے ہی ہو جیسے اونٹ کے پہلو میں ایک تل کا نشان ہو، یا جیسے چوپائے کے ہاتھ پر کوئی مخصوص نشان ہو۔
اسی طرح اسے سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8909]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح رجاله ثقات، وقد سلف برقم (2954) من طريق محمد بن المثنى عن معاذ بن هشام وانظر الكلام عليه مفصَّلًا برقم (78)» [ترقيم الرساله 8909] [ترقيم الشركة 8800]

الحكم على الحديث: حديث صحيح رجاله ثقات
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8910
حدَّثَناهُ أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا إبراهيم بن عبدان السَّعْدي، حدثنا رَوْح بن عُبادة، حدثنا سعيدٌ وهشامُ (4) بن أبي عبد الله، عن قَتَادةَ، عن الحسن، عن عِمران بن حُصَين قال: بينما نحن مع رسول الله ﷺ في بعض أسفارِه؛ فذكر الحديثَ بنحوه (5) . وقد رُوِّينا هذا الحديثَ عن عبد الله بن عبَّاس:
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے، پھر انہوں نے اسی کے مثل حدیث ذکر کی۔
ہمیں یہ حدیث عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8910]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح رجاله ثقات كسابقه» [ترقيم الرساله 8910] [ترقيم الشركة 8801]

الحكم على الحديث: حديث صحيح رجاله ثقات كسابقه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8911
حدَّثَناه الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن شاذانَ الجَوهَري، حدثنا سعيد بن سليمان، حدثنا عَبَّاد بن العوَّام عن هلال بن خَبَّاب، عن عِكْرمة، عن ابن عباس قال: تَلَا رسولُ الله ﷺ هذه الآيةَ وعنده أصحابُه: ﴿يَاأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ﴾ إلى آخر الآية، فقال:"هل تدرون أيُّ يومٍ ذاك؟" قالوا: الله ورسوله أعلم، قال:"ذاكَ يومَ يقولُ اللهُ لآدم: قُمْ فابعَثْ بَعْثَ النارِ - أو قال: بعثًا إلى النار - فيقول: يا ربِّ، مِن كم؟ قال: من كلِّ ألفٍ تسعَ مئةٍ وتسعةً وتسعين إلى النار، وواحدٌ إلى الجنَّة"، فشَقَّ ذلك على القوم ووَقَعَت عليهم الكآبةُ والحُزْن، فقال رسول الله ﷺ:"إني لأرجو أن تكونوا رُبعَ أهلِ الجنة ثم قال:"إني لأرجو أن تكونوا ثُلثَ أهل الجنة ثم قال:"إني لأرجو أن تكونوا شَطْرَ أهل الجنة"، ففَرِحُوا، فقال رسول ﷺ:"اعمَلوا وأَبشِروا، فإنكم بين (1) خَلِيقتَينِ لم تكونا مع أحدٍ إِلَّا كَثرَتاه، يأجوج ومأجوجَ، وإنما أنتم في الناس - أو في الأُمم. كالشَّامةِ في جَنْب البعير، أو كالرَّقْمة في ذراع الناقة، وإنما أُمَّتي جزءٌ من ألفِ جزءٍ" (2) .
هذا حديث صحيح بهذه الزِّيادة، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8697 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کی موجودگی میں یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿يَاأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ﴾ [سورة الحج: 1] آخر آیت تک، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون سا دن ہوگا؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ دن ہے جب اللہ تعالیٰ آدم (علیہ السلام) سے فرمائے گا: اٹھو اور «بَعْثَ النَّارِ» (آگ کا لشکر) نکالو - یا فرمایا: ایک لشکر آگ کی طرف روانہ کرو - انہوں نے عرض کیا: اے میرے رب! کتنے میں سے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے آگ کی طرف اور ایک جنت کی طرف۔ یہ بات لوگوں پر بہت شاق گزری اور ان پر افسردگی اور غم طاری ہو گیا۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے امید ہے کہ تم جنتیوں کا چوتھائی حصہ ہو گے، پھر فرمایا: مجھے امید ہے کہ تم جنتیوں کا تہائی حصہ ہو گے، پھر فرمایا: مجھے امید ہے کہ تم جنتیوں کا آدھا حصہ ہو گے، تو وہ خوش ہو گئے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم عمل کرتے رہو اور خوشخبری حاصل کرو، کیونکہ تم دو ایسی مخلوقات (یاجوج اور ماجوج) کے درمیان ہو کہ وہ جس کے ساتھ بھی ہوں اس کی تعداد کو بہت زیادہ کر دیتی ہیں، اور تم (دیگر) لوگوں میں - یا امتوں میں - ایسے ہی ہو جیسے اونٹ کے پہلو میں ایک تل کا نشان ہو، یا جیسے اونٹنی کے ہاتھ پر کوئی مخصوص نشان ہو، اور میری امت (کل مخلوق کا) ہزارواں حصہ ہے۔
یہ حدیث اس اضافے کے ساتھ صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8911]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وصحَّحه الطبري في "تهذيب الآثار" وابن حجر في "مختصر زوائد البزار" (1485)» [ترقيم الرساله 8911] [ترقيم الشركة 8802] [ترقيم العلميه 8697]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. أَكْرَمُ خَلِيقَةِ اللَّهِ عَلَى اللَّهِ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
اللہ کی مخلوق میں سب سے زیادہ معزز ابوالقاسم ﷺ کی ذاتِ گرامی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8912
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد بن غالب، حدثنا عفَّان ومحمد بن كَثير: قالا حدثنا مَهْديُّ بن ميمون حدثنا محمد بن عبد الله بن أبي يعقوب، عن بِشْر بن شَغَافٍ، عن عبد الله بن سَلَام؛ قال (1) : وكنَّا جلوسًا في المسجد يومَ الجُمُعة، فقال: إنَّ أعظمَ أيام الدنيا يومُ الجمعة، فيه خُلِقَ آدم، وفيه تقومُ الساعة، وإِنَّ أكرمَ خَليقة الله على الله أبو القاسم ﷺ، قال: قلت: رَحِمَك الله، فأين الملائكةُ؟ قال: فنظر إليَّ وضحك وقال: يا ابنَ أخي هل تدري ما الملائكةَ؟ إنما الملائكةُ خلقٌ كخَلْق السماء وخلق الأرض وخلق الرياح وخلق السَّحاب وخلق الجبال، وسائر الخلق، التي لا تعصى الله شيئًا، وإنَّ أكرمَ خليقةٍ على الله أبو القاسم ﷺ، وإنَّ الجنة في السماء، وإنَّ النار في الأرض، فإذا كان يومُ القيامة بَعَثَ الله الخليقة أُمَّةً أُمّةً، ونبيًا نبيًا، حتى يكونَ أحمد وأمَّتُه آخرَ الأُمم مركزًا، قال: ثم يُوضَعُ جسرٌ على جنَّهم، ثم ينادي منادٍ: أين أحمدُ وأمّتُه؟ قال: فيقوم فتَتبعُه أمّتُه بَرُّها وفاجرها، قال: فيأخذون الجسرَ، فيَطمِسُ الله أبصارَ أعدائه، فيتهافتون فيها من شمال ويمينٍ، ويَنجُو النبيُّ ﷺ والصالحون معه، فتَلَقَّاهم الملائكةُ ربَّنا نُبُوِّئُهم منازلَهم من الجنة على يمينِك وعلى يسارِك، حتى ينتهي إلى ربِّه ﷿، فيُلقَى له كرسيٌّ عن يمين الله ﷿، ثم ينادي منادٍ: أين عيسى وأمّتُه؟ فيقوم فتَتبعُه أمّتُه بَرُّها وفاجرُها، فيأخذون الجسرَ، فيَطمِسُ اللهُ أبصارَ أعدائه، فيتهافتون فيها من شِمالٍ، ويمينٍ، ويَنجُو النبيُّ ﷺ والصالحون معه، فتَلَقَّاهم الملائكةُ؛ ربَّنا نُبُوِّئُهم منازلَهم في الجنة على يمينِك وعلى يسارك، حتى ينتهيَ إلى ربِّه، فيُلقَى له كرسيٌّ من الجانب الآخر، قال: ثم يَتبعُهم الأنبياءُ والأُمم حتى يكونَ آخرُهم نوحًا، رَحِمَ الله نوحًا (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وليس بموقوفٍ، فإنَّ الله عبد بن سَلَام على تقدُّمه في معرفة قديمةٍ من جُملة الصحابة، وقد أسنَدَه بذِكْر رسول الله ﷺ في غير موضعٍ، والله أعلم (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8698 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم جمعہ کے دن مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے تو انہوں نے فرمایا: دنیا کے ایام میں سب سے عظیم دن جمعہ کا دن ہے، اسی میں آدم (علیہ السلام) پیدا کیے گئے، اسی میں قیامت قائم ہوگی، اور اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق میں سب سے زیادہ معزز ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ آپ پر رحم کرے، پھر فرشتوں کا کیا مقام ہے؟ تو انہوں نے میری طرف دیکھا اور مسکرا کر فرمایا: اے بھتیجے! کیا تم جانتے ہو کہ فرشتے کیا ہیں؟ فرشتے تو آسمان، زمین، ہواؤں، بادلوں، پہاڑوں اور دیگر مخلوقات کی طرح ایک مخلوق ہیں جو کسی بھی معاملے میں اللہ کی نافرمانی نہیں کرتے، اور اللہ کے نزدیک سب سے معزز مخلوق ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ انہوں نے مزید فرمایا: بے شک جنت آسمان میں ہے اور جہنم زمین میں ہے، پس جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ تعالیٰ مخلوقات کو ایک ایک امت اور ایک ایک نبی کر کے اٹھائے گا، یہاں تک کہ احمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کی امت تمام امتوں کے بعد آخری مقام پر ہوگی۔ انہوں نے کہا: پھر جہنم پر پل (صراط) رکھا جائے گا، پھر ایک پکارنے والا پکارے گا: احمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کی امت کہاں ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوں گے اور آپ کی امت کے نیک و بد سب آپ کے پیچھے چلیں گے، وہ پل پر قدم رکھیں گے تو اللہ تعالیٰ آپ کے دشمنوں کی آنکھوں کو اندھا کر دے گا اور وہ دائیں بائیں آگ میں گرنے لگیں گے، جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھ موجود صالحین نجات پا جائیں گے، تو فرشتے ان کا استقبال کرتے ہوئے کہیں گے: اے ہمارے رب! ہم انہیں جنت میں ان کی منزلوں تک پہنچاتے ہیں جو تیرے دائیں اور بائیں جانب ہیں، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب عزوجل تک پہنچ جائیں گے اور آپ کے لیے اللہ عزوجل کے دائیں جانب کرسی رکھی جائے گی۔ پھر پکارنے والا پکارے گا: عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی امت کہاں ہے؟ تو وہ کھڑے ہوں گے اور ان کے پیچھے ان کی امت کے نیک و بد چلیں گے، وہ پل پر قدم رکھیں گے تو اللہ ان کے دشمنوں کی آنکھوں کو اندھا کر دے گا اور وہ دائیں بائیں آگ میں گرنے لگیں گے، جبکہ نبی (علیہ السلام) اور ان کے ساتھ موجود صالحین نجات پا جائیں گے، فرشتے ان سے ملیں گے (اور کہیں گے): اے ہمارے رب! ہم انہیں جنت میں ان کی منزلوں پر ٹھہراتے ہیں جو تیرے دائیں اور بائیں جانب ہیں، یہاں تک کہ وہ اپنے رب تک پہنچ جائیں گے اور ان کے لیے دوسری جانب کرسی رکھی جائے گی۔ پھر اسی طرح دیگر انبیاء اور ان کی امتیں ان کے پیچھے آئیں گی یہاں تک کہ سب سے آخر میں نوح (علیہ السلام) ہوں گے، اللہ تعالیٰ نوح (علیہ السلام) پر رحم فرمائے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور یہ موقوف نہیں ہے کیونکہ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ قدیم علوم کی معرفت میں تقدم رکھنے کے باوجود صحابہ کرام میں شامل ہیں اور انہوں نے کئی مقامات پر اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر کے ساتھ مسند کیا ہے، واللہ اعلم۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8912]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،موقوف محمد بن غالب: هو الحافظ المعروف بتمتام، وعفان: هو ابن مسلم الصفّار، ومحمد بن كثير: هو العبدي البصري» [ترقيم الرساله 8912] [ترقيم الشركة 8803] [ترقيم العلميه 8698]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. ذِكْرُ أَهْلِ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ
ساتوں آسمانوں کے رہنے والوں کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8913
أخبرنا عبد الله بن إسحاق الخُراساني العدل ببغداد، حدثنا أحمد بن الوليد الفَحَّام، حدثنا رَوْح بن عُبَادة، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن علي بن زيد، عن يوسف بن مِهْران، عن ابن عباس أنه قرأَ: ﴿وَيَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَاءُ بِالْغَمَامِ وَنُزِّلَ الْمَلَائِكَةُ تَنْزِيلًا﴾ [الفرقان: 25] قال: تَشقَّقُ سماء الدنيا وتَنزِلُ الملائكة على كل سماء، وهم أكثرُ ممَّن في الأرض من الجنِّ والإنس فيقول أهلُ الأرض: أفيكم ربُّنا؟ فيقولون: لا، ثم يَنزِل أهل السماء الثانية، وهم أكثرُ من أهل السماء الدنيا وأهل الأرض، فيقولون: أفيكم ربُّنا؟ فيقولون: لا، ثم يَنزل أهل السماء الثالثة، وهم أكثرُ من أهل السماء الثانية وسماءِ الدنيا وأهل الأرض، فيقولون: أفيكم ربُّنا؟ فيقولون: لا، ثم يَنزِل أهلُ السماءِ، الرابعة، وهم أكثرُ من أهلِ السماء الثالثة والثانية والدنيا وأهلِ الأرض، فيقولون: أفيكم ربُّنا؟ فيقولون: لا، ثم يَنزِل أهلُ السماء الخامسة، وهم أكثرُ من أهل السماء الرابعة والثالثة والثانية والدنيا وأهلِ الأرض، فيقولون: أفيكم ربُّنا؟ فيقولون: لا، ثم يَنزِل أهلُ السماء السادسة، وهم أكثرُ من أهل السماء الخامسة والرابعة والثالثة والثانية والدنيا وأهلِ الأرض، فيقولون: أفيكم ربُّنا؟ فيقولون: لا، ثم يَنزِل أهل السماء السابعة وهم أكثرُ من أهل السماء السادسة والخامسة والرابعة والثالثة والثانية والدنيا وأهلِ الأرض، فيقولون: أفيكم ربُّنا؟ فيقولون: لا، ثم يَنزِل الكَرُوبيُّون، وهم أكثرُ من أهل السماوات السبع والأَرَضِين، وحَمَلةُ العَرْش، لهم قرونٌ كُعُوبٌ كُعوبَ (1) القَنَا، ما بين قَدَم أحدهم كذا وكذا، ومن أخَمصِ قدمه إلى كَعْبه مسيرةُ خمس مئة عامٍ، ومن كَعْبه إلى ركبته مسيرةُ خمس مئة عام (2) ، ومن ركبتِه إلى أَرنَبَتِه مسيرةُ خمس مئة عامٍ، ومن تَرقُوَتِه إلى موضع القُرْطِ مسيرةُ خمسِ مئة عام (3) . رُواة هذا الحديثِ عن آخرهم مُحَتجٌّ بهم غيرَ عليِّ بن زيد بن جُدْعان القُرَشي، وهو وإن كان موقوفًا على ابن عبَّاس، فإنه عجيبٌ بمَرَّةٍ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8699 - إسناده قوي
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَيَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَاءُ بِالْغَمَامِ وَنُزِّلَ الْمَلَائِكَةُ تَنْزِيلًا﴾ [سورة الفرقان: 25] کی تلاوت کی اور فرمایا: اس دن آسمانِ دنیا بادلوں کے ساتھ پھٹ جائے گا اور ہر آسمان سے فرشتے نازل ہوں گے، جن کی تعداد زمین پر موجود تمام جنوں اور انسانوں سے کہیں زیادہ ہوگی، اہل زمین (ان کی ہیبت دیکھ کر) پوچھیں گے: کیا ہمارا رب تم میں موجود ہے؟ وہ جواب دیں گے: نہیں۔ پھر دوسرے آسمان کے فرشتے نازل ہوں گے جن کی تعداد پہلے آسمان کے فرشتوں اور تمام اہل زمین سے بھی زیادہ ہوگی، وہ پوچھیں گے: کیا ہمارا رب تم میں ہے؟ وہ جواب دیں گے: نہیں۔ پھر تیسرے آسمان کے فرشتے اتریں گے جن کی تعداد پہلے دو آسمانوں کے فرشتوں اور تمام اہل زمین سے زیادہ ہوگی، وہ پوچھیں گے: کیا ہمارا رب تم میں ہے؟ وہ کہیں گے: نہیں۔ پھر چوتھے آسمان کے فرشتے اتریں گے جن کی تعداد تمام پچھلے آسمانوں کے فرشتوں اور اہل زمین سے زیادہ ہوگی، وہ پوچھیں گے: کیا ہمارا رب تم میں ہے؟ وہ کہیں گے: نہیں۔ پھر پانچویں آسمان کے فرشتے اتریں گے جن کی تعداد پہلے چاروں آسمانوں اور تمام اہل زمین سے زیادہ ہوگی، وہ پوچھیں گے: کیا ہمارا رب تم میں ہے؟ وہ کہیں گے: نہیں۔ پھر چھٹے آسمان کے فرشتے اتریں گے جن کی تعداد پہلے پانچوں آسمانوں اور تمام اہل زمین سے زیادہ ہوگی، وہ پوچھیں گے: کیا ہمارا رب تم میں ہے؟ وہ کہیں گے: نہیں۔ پھر ساتویں آسمان کے فرشتے اتریں گے جن کی تعداد تمام چھ آسمانوں اور تمام اہل زمین سے زیادہ ہوگی، وہ پوچھیں گے: کیا ہمارا رب تم میں ہے؟ وہ کہیں گے: نہیں۔ پھر کَرُوبیُّون (مقرب فرشتے) نازل ہوں گے جن کی تعداد تمام ساتوں آسمانوں کے فرشتوں اور زمین والوں سے بھی زیادہ ہوگی، اور پھر عرش اٹھانے والے فرشتے اتریں گے، جن کے سینگوں کے جوڑ نیزوں کی گرہوں کی طرح (مضبوط) ہوں گے، ان میں سے ایک کے پاؤں کے درمیان کا فاصلہ بہت زیادہ ہوگا، اس کے تلوے سے ٹخنوں تک کی مسافت پانچ سو سال کی ہوگی، ٹخنوں سے گھٹنوں تک پانچ سو سال کی مسافت ہوگی، گھٹنوں سے ناک کے بانسے تک پانچ سو سال کی مسافت ہوگی اور اس کی ہنسلی کی ہڈی سے کان کے بندے کی جگہ تک کا فاصلہ پانچ سو سال کی مسافت کے برابر ہوگا۔
اس حدیث کے تمام راوی سوائے علی بن زید بن جدعان قرشی کے قابلِ حجت ہیں، اور اگرچہ یہ روایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما پر موقوف ہے، لیکن یہ انتہائی حیران کن اور عجیب ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8913]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف علي بن زيد» [ترقيم الرساله 8913] [ترقيم الشركة 8804] [ترقيم العلميه 8699]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. تَشْرِيحُ آيَةِ (يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ)
اس آیت کی تشریح کہ "جس دن زمین دوسری زمین سے بدل دی جائے گی"
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8914
أخبرنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدمُ بن أبي إياس، حدثنا شُعْبة قال: سمعت أبا إسحاق يقول: سمعت هُبيرةَ بن يَرِيمَ يقول: سمعت عبدَ الله بن مسعود تلا ﴿يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ﴾ [إبراهيم: 48] قال: أرضٌ كالفِضّة بيضاءُ نقيَّةٌ لم يُسفَكْ فيها دمٌ، ولم يُعمَل فيها خطيئةٌ، يُسمِعُهم الداعي ويُنفِذُهم البصرُ، حفاةً عُراةً قيامًا، ثم يُلجِمُهم العَرَقُ (1) . وقيل: عن أبي إسحاق عن عمرو بن ميمون عن عبد الله:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8699 - إسناده قوي
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ﴾ [سورة إبراهيم: 48] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے کہا: وہ زمین چاندی کی طرح سفید اور شفاف ہوگی جس میں کبھی خون نہیں بہایا گیا ہوگا اور نہ ہی اس میں کوئی گناہ کیا گیا ہوگا، پکارنے والے کی آواز سب کو سنائی دے گی اور نگاہ سب تک پہنچ جائے گی، لوگ ننگے پاؤں، برہنہ بدن اور کھڑے ہوں گے، پھر پسینہ انہیں لگام دے دے گا (یعنی منہ تک پہنچ جائے گا)۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8914]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح، عبد الرحمن بن الحسن القاضي» [ترقيم الرساله 8914] [ترقيم الشركة 8805] [ترقيم العلميه 8699]

الحكم على الحديث: خبر صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8915
أخبرَناه أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي بمَرْو، حدثنا سعيد بن مسعود حدثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن أبي إسحاق قال: سمعت عمرَو بنَ ميمون يُحدِّث عن عبد الله، في قوله ﷿: ﴿يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ﴾، قال: أرضٌ بيضاء نقيَّةٌ لم يُسفَكْ فيها دمٌ، ولم يُعمَلْ فيها بخطيئةٍ، يُسمِعُهم الداعي ويُنفِذُهم البصرُ، حفاةً عُراةً كما خُلِقوا، حتى يُلجِمَهم العرقُ (1) .
هذا حديث صحيح الإسنادَينِ جميعًا على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8700 - صحيح على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ﴾ کے متعلق مروی ہے کہ وہ زمین سفید اور شفاف ہوگی جس میں نہ تو خون بہایا گیا ہوگا اور نہ ہی کوئی گناہ کیا گیا ہوگا، پکارنے والے کی پکار سب کو سنائی دے گی اور نگاہ سب کو محیط ہوگی، لوگ ننگے پاؤں اور برہنہ ہوں گے جیسے وہ پیدا کیے گئے تھے، یہاں تک کہ پسینہ انہیں لگام دے دے گا۔
یہ دونوں سندیں شیخین کی شرط پر صحیح ہیں لیکن انہوں نے انہیں روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8915]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8915] [ترقيم الشركة 8806] [ترقيم العلميه 8700]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. ذِكْرُ الْمَقَامِ الْمَحْمُودِ
مقامِ محمود کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8916
أخبرنا إسماعيل بن محمد بن الفَضْل الشَّعراني، حدثنا جدِّي، حدثنا إبراهيم بن حمزة الزُّبيري، حدثنا إبراهيم بن سعد، عن ابن شهاب، عن علي بن حسين، عن جابر، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"تُمَدُّ الأرضُ يوم القيامة مدًّا لعَظَمِة الرحمن، ثم لا يكونُ لبشرٍ من بني آدم إلَّا مواضعَ قدميهِ، ثم أُدعَى أولَ الناس، فأَخِرُّ ساجدًا، ثم يُؤذَنُ لي فأَقومُ فأقول: يا ربِّ، أخبَرني هذا - لجبريلَ، وهو عن يمين الرحمن، واللهِ ما رآه جبريلُ قبلَها قطُّ أنك أَرسلْتَه إليَّ، قال: وجبريلُ ساكتٌ لا يتكلَّمُ، حتى يقول الله: صَدَقَ، ثم يُؤذَنُ لي في الشَّفاعة، فأقول: يا ربِّ، عبادك عَبَدُوك (1) في أطرافِ الأرض؛ فذلك المَقامُ المحمودُ" (2) . هذا إسنادٌ صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد أرسَلَه يونس بن يزيد ومعمرُ بن راشد عن الزُّهري. أما حديثُ يونسَ:
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن زمین کو رحمان کی عظمت کے لیے پھیلا دیا جائے گا، پھر کسی انسان کے لیے سوائے اس کے قدموں کی جگہ کے اور کوئی جگہ نہ ہوگی، پھر سب سے پہلے مجھے بلایا جائے گا تو میں سجدے میں گر جاؤں گا، پھر مجھے اجازت ملے گی تو میں کھڑا ہوں گا اور کہوں گا: اے میرے رب! اس نے - یعنی جبرائیل (علیہ السلام) کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جو رحمان کے دائیں جانب ہوں گے، اور اللہ کی قسم جبرائیل نے اس سے پہلے اللہ کو کبھی نہیں دیکھا ہوگا - مجھے خبر دی تھی کہ تو نے انہیں میری طرف (رسول بنا کر) بھیجا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور جبرائیل خاموش ہوں گے، کچھ نہیں بولیں گے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اس نے سچ کہا، پھر مجھے شفاعت کی اجازت دی جائے گی تو میں عرض کروں گا: اے میرے رب! تیرے ان بندوں نے زمین کے گوشوں میں تیری عبادت کی تھی؛ پس یہی وہ مقام محمود ہے۔
یہ سند شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، جبکہ یونس بن یزید اور معمر بن راشد نے اسے زہری سے مرسل روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8916]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لاضطرابه، فقد اختلف فيه على ابن شهاب الزهري في وصله وإرساله وفي رفعه ووقفه، ولم نقف عليه مسندًا من حديث جابر عند غير المصنف، وقد انفرد إبراهيم بن حمزة الزبيري بذكر جابر فيه، وإبراهيم هذا صدوق ليس به بأس إلَّا أنه لم تكن له تلك المعرفة بالحديث كما ...» [ترقيم الرساله 8916] [ترقيم الشركة 8807]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لاضطرابه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8917
فحدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وَهْب، أخبرني يونس، عن ابن شهاب، عن علي بن الحسين، عن رجلٍ من أهل العِلْم - ولم يُسمَّه -: أنَّ الأرض تُمَدُّ يومَ القيامة؛ ثم ذكر الحديثَ بنحوه (1) . أما حديثُ مَعمَر:
علی بن حسین (امام زین العابدین) ایک صاحبِ علم (جن کا نام ذکر نہیں کیا) سے روایت کرتے ہیں کہ قیامت کے دن زمین پھیلا دی جائے گی؛ پھر انہوں نے اسی کے مثل حدیث ذکر کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8917]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات، وهو موقوف» [ترقيم الرساله 8917] [ترقيم الشركة 8808]

الحكم على الحديث: رجاله ثقات
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں