المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
51. يَأْكُلُ التُّرَابُ كُلَّ شَيْءٍ مِنَ الْإِنْسَانِ إِلَّا عَجْبَ ذَنَبِهِ
مٹی انسان کی ہر چیز کھا جائے گی سوائے ریڑھ کی ہڈی کے آخری حصے (عجب الذنب) کے
حدیث نمبر: 9016
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر، حدثنا عبد الله ابن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن دَرّاج، عن أبي الهيثم، عن أبي سعيد الخُدْري، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"يأكلُ الترابُ كلّ شيءٍ من الإنسان إِلَّا عَجْبَ ذَنَبِه" قيل: وما هو يا رسول الله؟ قال:"مِثلُ حَبَّةِ خَردَلٍ، منه يُنشَؤُون" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8801 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8801 - صحيح
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مٹی انسان کی ہر چیز کو کھا لیتی ہے سوائے ریڑھ کی ہڈی کے نچلے سرے کے۔“ عرض کی گئی: اے اللہ کے رسول! وہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رائے کے دانے کی طرح ہوتا ہے، اسی سے (قیامت کے دن) انہیں دوبارہ پیدا کیا جائے گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 9016]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 9016]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره دون قوله: "مثل حبة خردل"، وهذا إسناد ضعيف لضعف دراج أبي السمح في أبي الهيثم العُتْواري» [ترقيم الرساله 9016] [ترقيم الشركة 8907] [ترقيم العلميه 8801]
الحكم على الحديث: صحيح لغيره دون قوله: "مثل حبة خردل"
حدیث نمبر: 9017
أخبرني الشيخ أبو بكر أحمد بن إسحاق الإمام، أخبرنا موسى بن الحسن ابن عَبّاد، حدثنا عفّان بن مُسلِم، حدثنا همّام بن يحيى، عن مَطَر الورَّاق، عن أبي قِلابة قال: دخل نفرّ من القُرّاء على أبي ذرّ، وعنده امرأةٌ سوداءُ عليها عَباءةٌ قطوانيَّة ليس عليها مَجاسِدُ ولا خَلُوقٌ، فقال أبو ذر: أتدرون ما تقولُ هذه؟ تأمرُني أن آتيَ العراقَ، ولو أتيتُ العراقَ لقالوا: هذا صاحبُ رسول الله، فمالُوا علينا من الدنيا، وإنَّ خَليلي أبا (2) القاسم ﷺ عَهِدَ إليَّ: أن جسرَ جَهَنَّمَ دَحْضٌ مَزَلّةٌ، وفي أحمالنا اقتِدارٌ (1) ، لعلَّنا أن ننجوَ منها (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين إن كان أبو قِلابةَ سمع من أبي ذرٍّ الغِفاري ﵀ (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8802 - على شرط البخاري ومسلم إن كان أبو قلابة سمع من أبي ذر
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين إن كان أبو قِلابةَ سمع من أبي ذرٍّ الغِفاري ﵀ (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8802 - على شرط البخاري ومسلم إن كان أبو قلابة سمع من أبي ذر
ابوقلابہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: قاریوں (قرآن کے عالموں) کی ایک جماعت سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی، ان کے پاس ایک سیاہ فام عورت تھی جس پر ایک قطوانی (سیاہ اور کھردرے کپڑے کی) عبا تھی، نہ اس کے پاس کوئی قیمتی لباس تھا اور نہ ہی خوشبو۔ تو سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیا کہہ رہی ہے؟ یہ مجھے کہتی ہے کہ میں عراق جاؤں، حالانکہ اگر میں عراق گیا تو لوگ کہیں گے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، تو وہ دنیاوی مال و اسباب کے ساتھ ہماری طرف جھک پڑیں گے۔ اور یقیناً میرے خلیل ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت فرمائی تھی کہ جہنم کا پل پھسلنے والی جگہ ہے، اور ہمارا بوجھ ہلکا ہے، تو شاید ہم اس سے نجات پا جائیں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح الاسناد ہے، بشرطیکہ ابوقلابہ نے اسے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے سنا ہو۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 9017]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح الاسناد ہے، بشرطیکہ ابوقلابہ نے اسے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے سنا ہو۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 9017]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح، وهذا إسناد شاذٌّ بذكر مطر عن أبي قلابة، فموسى بن الحسن بن عباد» [ترقيم الرساله 9017] [ترقيم الشركة 8908] [ترقيم العلميه 8802]
الحكم على الحديث: خبر صحيح
حدیث نمبر: 9018
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا محمد بن عبد الرحمن الطُّفَاوي، حدثنا أيوب، عن عبد الله ابن أبي مُلَيكة: أنَّ رجلًا سأل ابن عباس عن قوله ﷿: ﴿وَإِن يَوْمَا عِندَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ﴾ [الحج: 47] ، فقال: من أنت؟ فذَكَر له أنه رجلٌ من كذا وكذا، فقال ابن عباس: فما يومٌ كان مقدارُه خمسين ألف سنةٍ؟ فقال الرجل: رَحِمَك اللهُ، إنما سألتُك لتخبرنا، فقال ابن عباس: يومانِ ذَكَرَهما اللهُ ﷿ في كتابه، الله أعلمُ بهما، نكره أن نقول في كتاب الله بغير علمٍ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه. آخر كتاب الأهوال (2) وهو آخر كتاب"الجامع الصحيح المستدرَك" تأليف الحاكم الإمام أبي عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حَمدَوَيهِ الحافظ، ﵀.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8803 - على شرط البخاري
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه. آخر كتاب الأهوال (2) وهو آخر كتاب"الجامع الصحيح المستدرَك" تأليف الحاكم الإمام أبي عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حَمدَوَيهِ الحافظ، ﵀.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8803 - على شرط البخاري
عبداللہ بن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿وَإِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ﴾ ”اور بے شک آپ کے رب کے ہاں ایک دن تمہاری گنتی کے اعتبار سے ایک ہزار سال کی طرح ہے۔“ [سورة الحج: 47] کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے فرمایا: ”تم کون ہو؟“ اس نے بتایا کہ وہ فلاں فلاں جگہ کا آدمی ہے۔ تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”پھر اس دن کا کیا حال ہوگا جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے؟“ اس شخص نے عرض کی: اللہ آپ پر رحم فرمائے! میں نے تو آپ سے اس لیے پوچھا تھا تاکہ آپ ہمیں بتائیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”یہ دو دن ہیں جن کا ذکر اللہ عزوجل نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے، اللہ ہی ان کے بارے میں بہتر جانتا ہے، ہم اس بات کو ناپسند کرتے ہیں کہ اللہ کی کتاب کے بارے میں بغیر علم کے کچھ کہیں۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ یہ کتاب الاہوال کا اختتام ہے، اور یہ حاکم امام ابوعبداللہ محمد بن عبداللہ بن محمد بن حمدویہ الحافظ رحمہ اللہ کی تالیف ”الجامع الصحیح المستدرک“ کی آخری کتاب ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 9018]
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ یہ کتاب الاہوال کا اختتام ہے، اور یہ حاکم امام ابوعبداللہ محمد بن عبداللہ بن محمد بن حمدویہ الحافظ رحمہ اللہ کی تالیف ”الجامع الصحیح المستدرک“ کی آخری کتاب ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 9018]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن عبد الرحمن الطفاوي» [ترقيم الرساله 9018] [ترقيم الشركة 8909] [ترقيم العلميه 8803]
الحكم على الحديث: خبر صحيح