المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
32. إِنَّ الْبَحْرَ هُوَ جَهَنَّمَ
بے شک سمندر ہی جہنم ہے
حدیث نمبر: 8978
كما حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني (2) ، حدثنا يحيى بن حمَّاد، حدثنا عبد العزيز بن المختار، حدثني عبد الله بن فَيْروزَ الداناجُ، حدثني طَلْق بن حبَيب قال: سمعت جابر بن عبد الله الأنصاريَّ يقول: رأيتُ الدُّخانَ من مسجد الضِّرارِ حين انهارَ (3) . هذا إسناد صحيح. وقد حدَّثني جماعةٌ من أصحابنا الغُرباء أنهم عرفوا هذا المسجدَ وشاهدوا هذا الدُّخان، وقد قدَّمتُ الروايةَ الصحيحة أنَّ جهنَّم تحت الأرض السابعة (4) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8763 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8763 - صحيح
سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے مسجد ضرار کے منہدم ہونے کے وقت اس سے دھواں اٹھتے دیکھا تھا۔“
یہ سند صحیح ہے۔ اور مجھے باہر سے آنے والے ہمارے کئی ساتھیوں نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے اس مسجد کو پہچانا ہے اور اس دھوئیں کا مشاہدہ کیا ہے، اور میں پہلے یہ صحیح روایت پیش کر چکا ہوں کہ جہنم ساتویں زمین کے نیچے ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8978]
یہ سند صحیح ہے۔ اور مجھے باہر سے آنے والے ہمارے کئی ساتھیوں نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے اس مسجد کو پہچانا ہے اور اس دھوئیں کا مشاہدہ کیا ہے، اور میں پہلے یہ صحیح روایت پیش کر چکا ہوں کہ جہنم ساتویں زمین کے نیچے ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8978]
تخریج الحدیث: «إسناده جيد من أجل طلق بن حبيب» [ترقيم الرساله 8978] [ترقيم الشركة 8869] [ترقيم العلميه 8763]
الحكم على الحديث: إسناده جيد
33. وَيْلٌ وَادٍ فِي جَهَنَّمَ وَالصَّعُودُ جَبَلٌ فِي النَّارِ
ویل جہنم کی ایک وادی ہے اور "صعود" آگ کا ایک پہاڑ ہے
حدیث نمبر: 8979
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر، حدثنا عبد الله ابن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن دَرَّاج، عن أبي الهيثم، عن أبي سعيد، عن رسول الله ﷺ قال:"ويلٌ وادٍ في جهنَّم، يَهوِي فيه الكافرُ أربعين خريفًا قبل أن يَبْلُغَ قعرَه، والصَّعُودُ جبلٌ في النار (1) يتصعَّد فيه سبعين خريفًا، يَهوي (2) منه كذلك أبدًا" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8764 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8764 - صحيح
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ویل جہنم کی ایک وادی ہے جس میں کافر اس کی گہرائی تک پہنچنے سے پہلے چالیس سال تک گرتا رہے گا، اور صعود جہنم کا ایک پہاڑ ہے، وہ ستر سال تک اس پر چڑھے گا اور اسی طرح ہمیشہ اس سے گرتا رہے گا۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8979]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8979]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف رواية دراج عن أبي الهيثم» [ترقيم الرساله 8979] [ترقيم الشركة 8870] [ترقيم العلميه 8764]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
34. فِي جَهَنَّمَ وَادٍ، فِي ذَلِكَ الْوَادِي بِئْرٌ يُقَالُ لَهُ: هَبْهَبُ
جہنم میں ایک وادی ہے جس میں "ہبہب" نامی ایک کنواں ہے
حدیث نمبر: 8980
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني إملاء من أصل كتابه، حدثنا إبراهيم بن عبد الله السَّعْدي أخبرنا يزيد بن هارون، حدثنا أزهرُ بن سنان القُرشي، حدثنا محمد بن واسع قال: دخلتُ على بلال بن أبي بُرْدة فقلت له: يا بلالُ، إِنَّ أباك حدَّثني عن جدِّك، عن رسولَ الله ﷺ: أنه قال:"إِنَّ في جهنَّم واديًا (4) . في ذلك الوادي بئرٌ يقال له: هَبهَبُ، حَقٌّ على الله تعالى أن يُسكِنَها كُلَّ جبّار"، فإياكَ أن تكون منهم يا بلال (5) .
هذا حديث تفرَّد به أزهر بن سنان عن محمد بن واسع، لم نكتُبْه عاليًا إلَّا من هذا الوجه.
هذا حديث تفرَّد به أزهر بن سنان عن محمد بن واسع، لم نكتُبْه عاليًا إلَّا من هذا الوجه.
محمد بن واسع سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں بلال بن ابوبردہ کے پاس گیا اور ان سے کہا: ”اے بلال! بے شک تمہارے والد نے تمہارے دادا کے واسطے سے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک جہنم میں ایک وادی ہے۔ اس وادی میں ایک کنواں ہے جسے ہبہب کہا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ کے ذمے یہ حق ہے کہ وہ ہر جابر شخص کو اس میں ٹھہرائے گا۔“ تو اے بلال! اس بات سے بچنا کہ تم بھی ان میں سے ہو جاؤ۔“
یہ حدیث روایت کرنے میں ازہر بن سنان نے محمد بن واسع سے تفرد اختیار کیا ہے، ہم نے اسے صرف اسی سند سے عالی (کم واسطوں سے) لکھا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8980]
یہ حدیث روایت کرنے میں ازہر بن سنان نے محمد بن واسع سے تفرد اختیار کیا ہے، ہم نے اسے صرف اسی سند سے عالی (کم واسطوں سے) لکھا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8980]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف أزهر بن سنان» [ترقيم الرساله 8980] [ترقيم الشركة 8871]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 8981
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب حدثنا بحر بن نَصر، حدثنا عبد الله بن وَهْب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن دَرَّاج، عن أبي الهيثم، عن أبي سعيد، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"يُنصَبُ للكافر (6) يومُ القيامة خمسين ألفَ سنة، كما لم يَعمَلْ في الدنيا، ويظنُّ أنه مُواقعِتُه (1) " (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8766 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8766 - صحيح
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کافر کو قیامت کے دن پچاس ہزار سال کے لیے کھڑا کیا جائے گا، کیونکہ اس نے دنیا میں کوئی (نیک) عمل نہیں کیا تھا، اور وہ یہ گمان کرے گا کہ وہ اس (جہنم) میں گرنے ہی والا ہے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8981]
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8981]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف رواية درّاج عن أبي الهيثم، وقد اضطرب فيه دراج أيضًا، فرواه مرة عن أبي الهيثم عن أبي سعيد، ورواه أخرى عن ابن حجيرة عن أبي هريرة كما وقع عند ابن حبان في "صحيحه" (7352)» [ترقيم الرساله 8981] [ترقيم الشركة 8872] [ترقيم العلميه 8766]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لضعف رواية درّاج عن أبي الهيثم
حدیث نمبر: 8982
أخبرني عبد الله بن محمد بن علي بن زياد العَدْل، حدثنا محمد بن إسحاق الإمام، أخبرنا محمد بن عُزَيز الأَيْلي، أنَّ سَلَامة حدَّثهم عن عُقَيل، حدَّثني ابن شِهاب، أنَّ أبا سَلَمة بن عبد الرحمن وسعيدَ بن المسيب [قالا] : قال أبو هريرة: سمعت رسولَ الله ﷺ يقول:"والذي نفسُ محمدٍ بيده، إِنَّ قَدْرَ ما بين شَفَةِ النَّارِ وقعرِها لَكصَخْرَةٍ زِنَتُها سبعُ خَلِفَاتٍ بشُحومِهنَّ ولُحومِهنَّ وأولادِهنَّ، تَهْوِي فيما بين شَفَةِ النارِ وقَعرِها إلى أن تقعَ قعرَها سبعين خريفًا" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُجرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8767 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُجرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8767 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! جہنم کے کنارے اور اس کی گہرائی کے درمیان اتنا فاصلہ ہے کہ اگر کوئی چٹان جس کا وزن چربی، گوشت اور بچوں سے لدی سات حاملہ اونٹنیوں کے برابر ہو، وہ جہنم کے کنارے اور اس کی گہرائی کے درمیان گرے، تو اسے تہہ تک پہنچنے میں ستر سال لگ جائیں گے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8982]
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8982]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بطرقه وشواهده، وسلامة» [ترقيم الرساله 8982] [ترقيم الشركة 8873] [ترقيم العلميه 8767]
الحكم على الحديث: حديث صحيح بطرقه وشواهده
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! جہنم کے کنارے اور اس کی گہرائی کے درمیان اتنا فاصلہ ہے کہ اس کی تہہ تک پہنچنے میں ستر سال لگ جائیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8982N]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8982N]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 8982N] [ترقيم الشركة 8874]
حدیث نمبر: 8983
أخبرني عبد الله بن الحسين القاضي بَمْرو، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثني يزيد بن هارون أخبرنا محمد بن إسحاق، عن محمد بن إبراهيم التَّيْمي، عن عيسى بن طَلْحة، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"إنَّ الرجل لَيتكلَّمُ بالكلمةِ ما يظنُّ أن تَبلُغَ ما بَلَغَت، يَهوِي بها سبعين خَريفًا في النار" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8769 - صحيح
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8769 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ آدمی بعض اوقات کوئی ایسی بات کہہ دیتا ہے جس کے متعلق وہ گمان بھی نہیں کرتا کہ وہ اتنی دور تک جائے گی (یعنی اتنی بری ہوگی)، مگر وہ اس (ایک بات) کی وجہ سے ستر سال تک جہنم کی گہرائی میں گرتا چلا جاتا ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8983]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8983]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن إسحاق، وقد توبع» [ترقيم الرساله 8983] [ترقيم الشركة 8875] [ترقيم العلميه 8769]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 8984
أخبرنا الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرنا سعيد، عن قَتَادة، عن أبي أيوب، عن عبد الله بن عَمْرو، قوله ﷿: ﴿وَنَادَوْا يَامَالِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ﴾ قال: يُخلِّي عنهم أربعين عامًا لا يُجِيبُهم، ثم أجابهم: ﴿إِنَّكُمْ مَاكِثُونَ﴾ [الزخرف: 77] ، فيقولون: ﴿رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ﴾ [المؤمنون: 107] ، قال: فيُخلِّي عنهم مثل الدنيا، ثم أجابهم: ﴿اخْسَئُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ﴾ [المؤمنون: 108] ، قال: فوالله ما نَبَسَ القومُ بعد هذه الكلمة، إن كان [إِلَّا] الزَّفِيرُ والشَّهيقُ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8770 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8770 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿وَنَادَوْا يَامَالِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ﴾ ”اور وہ پکاریں گے: اے مالک! تیرا رب ہمارا کام ہی تمام کر دے۔“ [سورة الزخرف: 77] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”فرشتے انہیں چالیس سال تک یونہی چھوڑے رکھیں گے اور کوئی جواب نہیں دیں گے، پھر وہ انہیں جواب دیں گے: ﴿إِنَّكُمْ مَاكِثُونَ﴾ ”بے شک تم (اسی حال میں) رہنے والے ہو۔“ [سورة الزخرف: 77] تو وہ (جہنمی) کہیں گے: ﴿رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ﴾ ”اے ہمارے رب! ہمیں اس میں سے نکال دے، پھر اگر ہم دوبارہ ایسا کریں تو بے شک ہم ظالم ہوں گے۔“ [سورة المؤمنون: 107] وہ فرماتے ہیں کہ فرشتے انہیں پھر دنیا کی عمر کے برابر چھوڑے رکھیں گے، پھر انہیں یہ جواب دیں گے: ﴿اخْسَئُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ﴾ ”اسی میں ذلیل و خوار ہو کر پڑے رہو، اور مجھ سے بات نہ کرو۔“ [سورة المؤمنون: 108] راوی کہتے ہیں: پس اللہ کی قسم! اس بات کے بعد ان لوگوں کے منہ سے کوئی حرف نہیں نکلے گا، بس ان کا کام آہ و زاری اور چیخ و پکار ہوگا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8984]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8984]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي» [ترقيم الرساله 8984] [ترقيم الشركة 8876] [ترقيم العلميه 8770]
الحكم على الحديث: إسناده قوي
35. مَقْعَدُ الْكَافِرِ مِنَ النَّارِ مَسِيرَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ
آگ میں کافر کی بیٹھنے کی جگہ تین دن کی مسافت کے برابر ہوگی
حدیث نمبر: 8985
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر الخَوْلاني، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن دَرَّاج أبي السَّمْح، عن أبي الهيثم، عن أبي سعيد، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"مَقعَدُ الكافرِ من النار مسيرةُ ثلاثةِ أيام، وكلُّ ضِرسٍ مثلُ أُحد، وفَخِذه مثلُ وَرِقان، وجلده سوى لحمه وعظامه أربعون ذراعًا" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8771 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8771 - صحيح
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم میں کافر کے بیٹھنے کی جگہ تین دن کی مسافت کے برابر ہوگی، اور اس کی ہر داڑھ احد پہاڑ کی طرح ہوگی، اس کی ران ورقان (پہاڑ) کی طرح ہوگی، اور اس کے گوشت اور ہڈیوں کے علاوہ اس کی کھال (کی موٹائی) چالیس ہاتھ ہوگی۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8985]
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8985]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف دراج في أبي الهيثم» [ترقيم الرساله 8985] [ترقيم الشركة 8877] [ترقيم العلميه 8771]
الحكم على الحديث: حسن لغيره
36. يَفْتَرِقُ النَّاسُ عِنْدَ خُرُوجِ الدَّجَّالِ ثَلَاثَ فِرَقٍ
دجال کے خروج کے وقت لوگ تین گروہوں میں بٹ جائیں گے
حدیث نمبر: 8986
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد الأصبهاني، حدثنا أَسِيد ابن عاصم، حدثنا الحسين بن حفص، حدثنا سفيان بن سعيد، حدثنا سَلَمة بن كُهيل، عن أبي الزَّعراءِ قال: ذُكِرَ الدجالُ عند عبد الله فقال: تفترقون أيُّها الناسُ عند خروجه ثلاثَ فِرَق: فرقةٌ تَتْبعُه، وفرقةٌ تَلحَقُ بآبائها بمنابت الشِّيح، وفرقةٌ تأخذُ شطَّ هذا الفُراتِ يقاتلهم ويقاتلونه حتى يُقتلوا بغَرْبيِّ الشام، فيبعثون طليعةً فيهم فرسٌ أشقرُ أو أبلَقُ، فيقتتلون، فلا يَرجِعُ منهم أحدٌ - قال: وأخبرني أبو صادق عن ربيعةَ بن ناجذٍ: أنه فرسٌ أشقر ويَزعُمَ أهلُ الكتاب أنَّ المسيح ﵇ يَنزِل فيقتلُه. ويخرج يأجوجُ ومأجوجُ، وهم من كل حَدَبٍ يَنسِلون، فيَمُوجُون في الأرض فيُفسِدون فيها - ثم قرأ عبد الله: ﴿وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ﴾ - فيَبعَثُ اللهُ عليهم دابَّةً مثل النَّغَفِ، فتَلِجُ في أسماعِهم ومَناخِرهم فيموتون منها، فتُنتِنُ الأرضُ منهم، فيُجأَرُ إلى الله ﷿، فيرسل ماءً فيطهِّر الأرض منهم. ويَبعَثُ الله ريحًا فيها زَمهَريرٌ باردة، فلا يَدعُ على الأرض مؤمنًا إِلَّا كُفِتَ بتلك الريح، ثم تقوم الساعةُ على شِرار الناس. ثم يقومُ مَلَكٌ بالصُّور بين السماء والأرض فيَنفُخُ فيه، فلا يبقى خلقٌ الله في السماوات والأرض إلَّا مات إلَّا مَن شاءَ ربُّك، ثم يكون بين النَّفختَين ما شاء الله، فليس من بني آدم أحدٌ إِلَّا في الأرض منه شيء، ثم يرسل اللهُ ماءً من تحت العرش مَنِيًّا كَمَنِيِّ الرّجال، فتَنبُتُ لُحْمَانُهم وجُثمانُهم كما تنبت الأرضُ من الثّرى - ثم قرأ عبد الله: ﴿وَاللَّهُ الَّذِي أَرْسَلَ (1) الرِّيَاحَ فَتُثِيرُ سَحَابًا فَسُقْنَاهُ إِلَى بَلَدٍ مَيِّتٍ﴾ حتى بلغ ﴿كَذَلِكَ النُّشُورُ﴾ [فاطر: 9] - ثم يقومُ مَلَكٌ بالصُّور بين السماء والأرض فيَنفُخُ فيه، فتنطلقُ كلُّ روحٍ إلى جسدها فتدخلُ فيه، فيقومون فيَحيَوْنَ تَحيَّةَ رجلٍ واحد قيامًا لرب العالمين. ثم يتمثَّلُ اللهُ تعالى للخَلْق، فيلقَى اليهود فيقول: مَن تَعبُدون؟ فيقولون: نعبدُ عُزيرًا، فيقول: هل يَسُرُّكم الماءُ؟ قالوا: نعم، فيُرِيهِم جَهَنَّمَ وهي كَهَيْئةِ السَّرَاب - ثم قرأ عبد الله: ﴿وَعَرَضْنَا جَهَنَّمَ يَوْمَئِذٍ لِلْكَافِرِينَ عَرْضًا﴾ [الكهف: 100] - ثم يَلقَى النصارى فيقول: مَن تعبدون؟ فيقولون: نعبدُ المسيحَ، فيقول: هل يَسرُّكم الماءُ؟ فيقولون: نعم، فيُرِيهم جهنَّمَ وهي كهيئةِ السَّراب، ثم كذلك من كان يعبد من دونَ الله شيئًا - ثم قرأ عبد الله: ﴿وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ﴾ [الصافات: 24] - حتى يبقى المسلمون فيقول: مَن تَعبُدون؟ فيقولون: نعبدُ الله لا نشركُ به شيئًا، فيَنْتَهِرُهم مرتين أو ثلاثًا: مَن تَعبُدون؟ فيقولون: نعبدُ اللهَ لا نشرك به شيئًا، فيقول: هل تعرفون ربَّكم؟ فيقولون: سبحانَه إذا اعتَرَفَ لنا عَرَفْناه، فعند ذلك يُكشَفُ عن ساقٍ، فلا يبقى مؤمن إِلَّا خَرَّ لله ساجدًا، ويبقى المنافقون ظهورُهم طَبَقٌ واحدٌ كأنما فيها السَّفافيدُ، فيقولون: ربَّنا، فيقول: قد كنتم تُدعَون إلى السجود وأنتم سالِمون. ثم يأمرُ اللهُ بالصِّراط فيُضرَبُ على جهنَّم، فيمرُّ الناس بقدر أعمالهم زُمَرًا، أوائلهم كلَمْح البَرْق، ثم كمَرِّ الرِّيح، ثم كمَرِّ الطَّير، ثم كمَرِّ البهائم، ثم يمرُّ الرجل سعيًا، ثم يمرُّ الرجل مشيًا، حتى يجئَ آخرهم رجلٌ يَتلبَّطُ على بطنه، فيقول: يا ربِّ، لِمَ بطَّأتَ بي؟! قال: إني لم أُبطِئْ بك، إنما أبطأَ بك عملُك. ثم يَأْذَنُ الله في الشَّفاعة، فيكونُ أولَ شافع رُوحُ القُدُس جبريلُ، ثم إبراهيمُ، ثم موسى، ثم عيسى، ثم يقومُ نبيُّكم ﷺ فلا يَشْفَعُ أحدٌ فيما يَشفَعُ فيه، وهو المَقامُ المحمودُ الذي ذكره الله تعالى ﴿عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا﴾ [الإسراء:79] ، فليس من نفس إلَّا وهي تنظرُ إلى بيتٍ في الجنة وبيتٍ في النار، قال: وهو يومُ الحَسْرة، فيرى أهلُ النار البيتَ الذي في الجنة - قال سفيان: أَوّاهٍ لو عَلِمْتُم يومَ يرى أهلُ الجنة الذي في النار فيقولون: لولا أنْ مَنَّ اللهُ علينا- ثم تَشفعُ الملائكةُ والنبيُّون والشهداءُ والصالحون، والمؤمنون، فيُشفِّعُهم الله، ثم يقول: أنا أرحمُ الراحمين، فيُخرِجُ من النار أكثرَ مما أَخرج جميعُ الخلق برحمتِهِ، حتى لا يتركَ أحدًا فيه خيرٌ - ثم قرأ عبد الله: يا أيُّها الكفّارُ ﴿مَا سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ﴾ [المدثر:42] ، وقال بيدِه فعَقَده، فقالوا: ﴿لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ (43) وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ (44) وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ (45) وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّينِ﴾، هل تَرَونَ في هؤلاء من خيرٍ؟! وما يُترَك فيها أحدٌ فيه خيرٌ - فإذا أراد الله أن لا يُخرِجَ أحدًا غيَّرَ وجوهَهم وألوانَهم، فيجئُ الرجلُ فيَشفعُ فيقول: مَن عَرَفَ أحدًا فليُخرجه، فيجئُ فلا يعرفُ أحدًا، فيناديه رجل فيقول: أنا فلان، فيقول: ما أعرفُك، فعند ذلك قالوا: ﴿رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ (107) قَالَ اخْسَئُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ﴾ [المؤمنون: 107 - 108] ، فإذا قال ذلك، انطبَقَت عليهم، فلم يَخْرُجْ منهم بشرٌ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
ابوالزعراء سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس دجال کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”اے لوگو! جب وہ نکلے گا تو تم تین گروہوں میں بٹ جاؤ گے: ایک گروہ اس کی پیروی کرے گا، ایک گروہ زمینوں کی جھاڑیوں میں اپنے باپ دادا کے پاس بھاگ جائے گا، اور ایک گروہ اس دریائے فرات کے کنارے خیمہ زن ہوگا، وہ ان سے لڑے گا اور یہ اس سے لڑیں گے، یہاں تک کہ وہ مغربی شام میں شہید ہو جائیں گے۔ وہ اپنے میں سے ایک ہراول دستہ بھیجیں گے جس کا گھوڑا سرخ یا چتکبرا ہوگا، وہ لڑیں گے اور ان میں سے کوئی بھی واپس نہیں آئے گا۔“ راوی کہتے ہیں: مجھے ابوصادق نے ربیعہ بن ناجذ کے حوالے سے بتایا کہ وہ سرخ گھوڑا ہوگا۔ اور (عبداللہ بن مسعود نے فرمایا:) ”اہل کتاب کا یہ گمان ہے کہ مسیح علیہ السلام نازل ہوں گے اور اسے قتل کریں گے۔ اور یاجوج ماجوج نکلیں گے اور وہ ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے آئیں گے، وہ زمین میں موجزن ہوں گے اور اس میں فساد مچائیں گے۔“ پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ﴾ ”اور وہ ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے آئیں گے۔“ [سورة الأنبياء: 96] پھر فرمایا: ”پھر اللہ تعالیٰ ان پر اونٹوں کی ناک کے کیڑے جیسا ایک کیڑا بھیجے گا جو ان کے کانوں اور نتھنوں میں گھس جائے گا جس سے وہ مر جائیں گے، اور ان کی وجہ سے زمین بدبودار ہو جائے گی۔ پس اللہ عزوجل کے حضور آہ و زاری کی جائے گی، تو وہ پانی بھیجے گا جو زمین کو ان سے پاک کر دے گا۔ اور اللہ ایک ایسی ہوا بھیجے گا جس میں سخت سردی ہوگی، پس وہ زمین پر موجود ہر مومن کی جان قبض کر لے گی، پھر برے لوگوں پر قیامت قائم ہوگی۔ پھر ایک فرشتہ آسمان اور زمین کے درمیان صور لے کر کھڑا ہوگا اور اس میں پھونک مارے گا، تو آسمانوں اور زمین میں موجود اللہ کی ساری مخلوق مر جائے گی سوائے اس کے جسے تمہارا رب چاہے۔ پھر ان دو پھونکوں کے درمیان جتنا اللہ چاہے گا وقفہ ہوگا۔ تو بنی آدم میں سے کوئی ایسا نہیں ہوگا جس کا کوئی نہ کوئی حصہ زمین میں موجود نہ ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ عرش کے نیچے سے مردوں کے نطفے جیسا پانی بھیجے گا، تو اس سے ان کا گوشت اور جسم اسی طرح اگیں گے جیسے مٹی سے زمین کی نباتات اگتی ہے۔“ پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَاللَّهُ الَّذِي أَرْسَلَ الرِّيَاحَ فَتُثِيرُ سَحَابًا فَسُقْنَاهُ إِلَى بَلَدٍ مَيِّتٍ﴾ یہاں تک کہ ﴿كَذَلِكَ النُّشُورُ﴾ تک تلاوت کی ”اور اللہ ہی ہے جس نے ہوائیں بھیجیں جو بادلوں کو اٹھاتی ہیں، پھر ہم اسے ایک مردہ شہر کی طرف ہانک لے جاتے ہیں، اسی طرح اٹھ کھڑا ہونا ہے۔“ [سورة فاطر: 9] پھر فرمایا: ”پھر ایک فرشتہ آسمان اور زمین کے درمیان صور لے کر کھڑا ہوگا اور اس میں پھونک مارے گا، تو ہر روح اپنے جسم کی طرف جائے گی اور اس میں داخل ہو جائے گی، تو وہ رب العالمین کے لیے ایک ہی آدمی کے کھڑے ہونے کی طرح یکبارگی کھڑے ہو جائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ مخلوق کے سامنے تجلی فرمائے گا، وہ یہود سے ملے گا تو فرمائے گا: ”تم کس کی عبادت کرتے تھے؟“ وہ کہیں گے: ”ہم عزیر کی عبادت کرتے تھے۔“ تو وہ فرمائے گا: ”کیا تمہیں پانی پسند ہے؟“ وہ کہیں گے: ”ہاں،“ تو وہ انہیں جہنم دکھائے گا اور وہ سراب کی طرح نظر آئے گی۔“ پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَعَرَضْنَا جَهَنَّمَ يَوْمَئِذٍ لِلْكَافِرِينَ عَرْضًا﴾ ”اور اس دن ہم کافروں کے سامنے جہنم کو پوری طرح پیش کر دیں گے۔“ [سورة الكهف: 100] پھر فرمایا: ”پھر وہ نصاریٰ سے ملے گا تو فرمائے گا: ”تم کس کی عبادت کرتے تھے؟“ وہ کہیں گے: ”ہم مسیح کی عبادت کرتے تھے۔“ تو وہ فرمائے گا: ”کیا تمہیں پانی پسند ہے؟“ وہ کہیں گے: ”ہاں،“ تو وہ انہیں جہنم دکھائے گا اور وہ سراب کی طرح نظر آئے گی۔ پھر اسی طرح ہر وہ شخص پیش ہوگا جو اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کرتا تھا۔“ پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ﴾ ”اور انہیں ٹھہراؤ، بے شک ان سے سوال کیا جانا ہے۔“ [سورة الصافات: 24] پھر فرمایا: ”یہاں تک کہ صرف مسلمان باقی رہ جائیں گے، تو وہ فرمائے گا: ”تم کس کی عبادت کرتے تھے؟“ وہ کہیں گے: ”ہم اللہ کی عبادت کرتے تھے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے تھے۔“ تو وہ انہیں دو یا تین بار جھڑک کر فرمائے گا: ”تم کس کی عبادت کرتے تھے؟“ وہ کہیں گے: ”ہم اللہ کی عبادت کرتے تھے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے تھے۔“ وہ فرمائے گا: ”کیا تم اپنے رب کو پہچانتے ہو؟“ وہ کہیں گے: ”وہ پاک ہے، جب وہ ہمیں اپنا تعارف کرائے گا تو ہم اسے پہچان لیں گے۔“ پس اس وقت پنڈلی سے کپڑا ہٹایا جائے گا، تو کوئی مومن ایسا باقی نہیں رہے گا جو اللہ کے حضور سجدے میں نہ گر پڑے، اور منافقین باقی رہ جائیں گے جن کی پیٹھیں ایک تختے کی طرح ہو جائیں گی گویا ان میں لوہے کی سیخیں پرو دی گئی ہوں۔ وہ کہیں گے: ”اے ہمارے رب!“ تو وہ فرمائے گا: ”تمہیں اس وقت سجدے کے لیے بلایا جاتا تھا جب تم بالکل صحیح سالم تھے۔“ پھر اللہ کے حکم سے جہنم پر پل صراط بچھایا جائے گا، تو لوگ اپنے اعمال کے بقدر گروہوں کی شکل میں گزریں گے، ان کے پہلے لوگ بجلی کی چمک کی طرح گزریں گے، پھر ہوا کے گزرنے کی طرح، پھر پرندے کی اڑان کی طرح، پھر چوپایوں کے گزرنے کی طرح، پھر کوئی آدمی دوڑتے ہوئے گزرے گا، پھر پیدل چلتے ہوئے گزرے گا، یہاں تک کہ ان میں سب سے آخری آدمی آئے گا جو اپنے پیٹ کے بل گھسٹ رہا ہوگا۔ وہ عرض کرے گا: ”اے میرے رب! تو نے مجھے کیوں پیچھے کر دیا؟“ اللہ فرمائے گا: ”میں نے تجھے پیچھے نہیں کیا، بلکہ تیرے عمل نے تجھے پیچھے کیا ہے۔“ پھر اللہ تعالیٰ شفاعت کی اجازت دے گا، تو سب سے پہلے شفاعت کرنے والے روح القدس جبرائیل ہوں گے، پھر ابراہیم، پھر موسیٰ، پھر عیسیٰ، پھر تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوں گے، تو کوئی ایسا نہیں ہوگا جو آپ کی طرح شفاعت کر سکے۔ اور یہی وہ مقامِ محمود ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا﴾ ”قریب ہے کہ آپ کا رب آپ کو مقامِ محمود پر فائز فرمائے۔“ [سورة الإسراء: 79] پھر کوئی جان ایسی نہیں ہوگی جو جنت میں اپنا گھر اور جہنم میں اپنا گھر نہ دیکھے۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اور یہ حسرت کا دن ہوگا، جب جہنم والے جنت میں موجود اپنے گھر کو دیکھیں گے۔“ سفیان (راوی) کہتے ہیں: ”ہائے افسوس! کاش تم جان لو، جب جنت والے جہنم میں موجود اپنے اس گھر کو دیکھیں گے تو وہ کہیں گے: ”اگر اللہ ہم پر احسان نہ فرماتا تو ہم بھی یہیں ہوتے۔“ پھر فرمایا: ”پھر فرشتے، انبیاء، شہداء، صالحین اور مومنین شفاعت کریں گے، تو اللہ ان کی شفاعت قبول فرمائے گا۔ پھر فرمائے گا: ”میں سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہوں۔“ تو وہ اپنی رحمت سے جہنم میں سے اتنے لوگوں کو نکالے گا جو تمام مخلوق کے نکالے ہوئے لوگوں سے بھی زیادہ ہوں گے، یہاں تک کہ اس میں کسی ایسے شخص کو نہیں چھوڑے گا جس میں کوئی بھلائی ہو۔“ پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے تلاوت فرمائی: ”اے کافرو! ﴿مَا سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ﴾ ”تمہیں کس چیز نے جہنم میں ڈالا؟“ [سورة المدثر: 42] اور انہوں نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور گرہ باندھی، پھر کافروں کے جواب کی تلاوت کی: ﴿لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّينِ﴾ ”ہم نماز پڑھنے والوں میں سے نہ تھے، اور ہم مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے تھے، اور ہم خرافات کرنے والوں کے ساتھ مل کر خرافات کرتے تھے، اور ہم روزِ جزا کو جھٹلاتے تھے۔“ [سورة المدثر: 43 - 46] پھر فرمایا: ”کیا تم ان لوگوں میں کوئی بھلائی دیکھتے ہو؟! اور جہنم میں کوئی ایسا شخص نہیں چھوڑا جائے گا جس میں کوئی بھلائی ہو۔ پھر جب اللہ تعالیٰ یہ ارادہ فرما لے گا کہ وہ مزید کسی کو نہیں نکالے گا تو ان کے چہرے اور رنگ مسخ کر دے گا۔ پس ایک آدمی آ کر شفاعت کرے گا اور کہے گا: ”جو کسی کو پہچانتا ہے وہ اسے نکال لے۔“ وہ آدمی جائے گا تو کسی کو نہیں پہچان پائے گا۔ ایک آدمی اسے پکارے گا اور کہے گا: ”میں فلاں ہوں۔“ تو وہ کہے گا: ”میں تجھے نہیں پہچانتا۔“ اس وقت وہ کہیں گے: ﴿رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ﴾ ”اے ہمارے رب! ہمیں اس میں سے نکال دے، پھر اگر ہم دوبارہ ایسا کریں تو بے شک ہم ظالم ہوں گے۔“ [سورة المؤمنون: 107] اللہ فرمائے گا: ﴿اخْسَئُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ﴾ ”اسی میں ذلیل و خوار ہو کر پڑے رہو، اور مجھ سے بات نہ کرو۔“ [سورة المؤمنون: 108] پس جب اللہ یہ فرما دے گا، تو ان پر جہنم بند کر دی جائے گی، پھر ان میں سے کوئی انسان کبھی باہر نہیں نکلے گا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8986]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب: الأهوال/حدیث: 8986]
تخریج الحدیث: «إسناده ليِّن لتفرُّد أبي الزعراء به» [ترقيم الرساله 8986] [ترقيم الشركة 8878]
الحكم على الحديث: إسناده ليِّن