مسند امام شافعی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ زَوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کا بیان
حدیث نمبر: 1103
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنَةُ سَبْعٍ، وَبَنَى بِي وَأَنَا بِنْتُ تِسْعٍ، وَكُنْتُ أَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ، وَكُنَّ جَوَارِيَ يَأْتِينَنِي، فَإِذَا رَأَيْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْقَمِعْنَ مِنْهُ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَرِّبُهُنَّ إِلَيَّ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرمایا: مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عقد کیا جب میں سات سال کی تھی، اور مجھ سے ہم بستری (رخصتی) کی جبکہ میں نو برس کی تھی۔ اور میں لڑکیوں کے ساتھ کھیلتی تھی اور وہ چھوٹی بچیاں تھیں جو میرے پاس آتی تھیں۔ جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے چھپ جاتیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کو میرے پاس بھیجا کرتے تھے۔ [مسند امام شافعی/ كتاب النكاح /حدیث: 1103]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري، النكاح، باب من بنى بامرأة وهى بنت تسع سنين (5158) ومسلم، النكاح، باب جواز التزويج الأب البكر الصغيرة (1422).»
حدیث نمبر: 1104
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا بِنْتُ سَبْعِ سِنِينَ، وَبَنَى بِي وَأَنَا بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنَ الْجُزْءِ الثَّانِي مِنَ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ، وَالثَّانِيَ مِنْ كِتَابِ أَحْكَامِ الْقُرْآنِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرمایا: مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھ برس کی عمر میں نکاح کیا اور نو برس کی عمر میں میری رخصتی ہوئی۔ [مسند امام شافعی/ كتاب النكاح /حدیث: 1104]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق برقم (1103).»
2. بَابُ زَوَاجِ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا
ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کا بیان
حدیث نمبر: 1105
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ: أَنَّ عَبْدَ الْحَمِيدِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمْرٍو، وَالْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَخْبَرَاهُ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ: أَنَّهَا لَمَّا قَدِمَتِ الْمَدِينَةَ أَخْبَرَتْهُمْ أَنَّهَا ابْنَةُ أَبِي أُمَيَّةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ فَكَذَّبُوهَا، وَقَالُوا: مَا أَكْذَبَ الْغَرَائِبَ!، حَتَّى أَنْشَأَ إِنْسَانٌ مِنْهُمُ الْحَجَّ، فَقَالُوا: أَتَكْتُبِينَ إِلَى أَهْلِكِ؟ فَكَتَبَتْ مَعَهُمْ، فَرَجَعُوا إِلَى الْمَدِينَةِ قَالَتْ: فَصَدَّقُونِي وَازْدَدْتُ عَلَيْهِمْ كَرَامَةً، قَالَتْ: فَلَمَّا حَلَلْتُ جَاءَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَنِي فَقُلْتُ لَهُ: مَا مِثْلِي نُكِحَ. أَمَّا أَنَا فَلَا وَلَدَ لِي وَأَنَا غَيُورٌ ذَاتُ عِيَالٍ، قَالَ: أَنَا أَكْبَرُ مِنْكِ، وَأَمَّا الْغَيْرَةُ فَيُذْهِبُهَا اللَّهُ، وَأَمَّا الْعِيَالُ فَإِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، فَتَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يَأْتِيهَا وَيَقُولُ:"أَيْنَ زُنَابُ"؟ حَتَّى جَاءَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ [ ص: 27 ] فَاخْتَلَجَهَا، وَقَالَ: هَذِهِ تَمْنَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ تُرْضِعُهَا فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:"أَيْنَ زُنَابُ"؟ فَقَالَتْ قُرَيْبَةُ بِنْتُ أَبِي أُمَيَّةَ وَوَافَقَهَا عِنْدَهَا: أَخَذَهَا عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِنِّي آتِيكُمُ اللَّيْلَةَ". قَالَتْ: فَقُمْتُ فَوَضَعْتُ ثِفَالِي وَأَخْرَجْتُ حَبَّاتٍ مِنْ شَعِيرٍ كَانَتْ فِي جَرٍّ وَأَخْرَجْتُ شَحْمًا فَعَصَدْتُهُ أَوْ عَصَرْتُهُ، قَالَتْ: فَبَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْبَحَ فَقَالَ حِينَ أَصْبَحَ:"إِنَّ لَكِ عَلَى أَهْلِكِ كَرَامَةً، فَإِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ، وَإِنْ أُسَبِّعْ أُسَبِّعْ لِنِسَائِي".
ابو بکر بن عبد الرحمن بن حارث بن ہشام، ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے بتایا کہ جب وہ مدینہ آئیں تو انہوں نے مدینہ والوں کو بتایا کہ وہ ابوامیہ بن مغیرہ کی بیٹی ہیں تو انہوں نے ان کی بات نہ مانی اور کہا: ”اجنبی لوگ کتنے جھوٹے ہوتے ہیں“۔ یہاں تک کہ ان میں سے ایک انسان حج کو گیا تو انہوں نے کہا: کیا تو اپنے گھر والوں کے لیے کوئی پیغام لکھنا چاہتی ہے؟ انہوں نے ان کو پیغام لکھ کر دے دیا، جب وہ مدینہ واپس آئے تو انہوں نے میری تصدیق کی اور میری پہلے سے زیادہ عزت کرنے لگے۔ فرماتی ہیں: جب میں حلال ہوئی (عدت مکمل ہوئی) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور مجھے منگنی کا پیغام دیا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: میرے جیسی سے کون نکاح کرے گا، اب میرے ہاں (مزید) اولاد نہ ہوگی، اور میں غیرت مند اور صاحبِ عیال ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تجھ سے (عمر میں) بڑا ہوں، رہی غیرت تو اللہ اس کو دور فرما دیں گے، اور اولاد اللہ اور اس کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے لیے ہے“۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے عقد کر لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آتے تو فرماتے: ”زناب کہاں ہے؟“ یہاں تک کہ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے اس کو جلدی سے (ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی گود سے) چھین لیا اور کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو روکتی ہے، جبکہ وہ (ام سلمہ) اسے دودھ پلاتی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زناب کہاں ہے؟“ قریبہ بنت ابوامیہ، جو اس وقت وہاں موجود تھیں، انہوں نے کہا: اسے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے لے لیا ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں رات کو تمہارے پاس آؤں گا“۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں اٹھی اور چکی کے نیچے بچھانے والے چمڑے کو بچھایا، اور گھڑے سے جو کے دانے نکالے، پھر چربی نکالی اور اس کو ان پر نچوڑ دیا (سالن تیار کیا)۔ فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات گزاری اور صبح کی۔ جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک تیرے لیے تیرے گھر والوں کے ہاں عزت ہے، اگر تو چاہے تو میں تیرے لیے سات دن مقرر کرتا ہوں، اور اگر میں نے سات دن مقرر کیے تو اپنی دوسری عورتوں کے لیے بھی سات کروں گا“۔ [مسند امام شافعی/ كتاب النكاح /حدیث: 1105]
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي: 301/7 - وفى المعرفة السنن والآثار لــه (4380) - واحمد: 6/ 295، 307، 308. والنسائي في الكبرى (8926) - وصححه الحاكم: 4 / 16، 17، وابن حبان.»
حدیث نمبر: 1106
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ [ ص: 28 ] عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ وَأَصْبَحَتْ عِنْدَهُ قَالَ لَهَا:"لَيْسَ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ هَوَانٌ، إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ عِنْدَكِ، وَسَبَّعْتُ عِنْدَهُنَّ، وَإِنْ شِئْتِ ثَلَّثْتُ عِنْدَكِ وَدُرْتُ". قَالَتْ: ثَلِّثْ.
عبد الملک بن ابوبکر بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی، اور ان کے ہاں صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کہا: ”تیری وجہ سے تیرے گھر والوں پر کوئی رسوائی نہیں، اگر تو چاہے تو میں تیرے پاس سات دن گزاروں، اور سات ہی ان کے پاس، اور اگر تو چاہے تو تیرے پاس تین دن گزاروں گا پھر باری مقرر کروں گا“۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”آپ تین دن گزاریں“۔ [مسند امام شافعی/ كتاب النكاح /حدیث: 1106]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم،الرضاع، باب قدر ما تستحقه البكر والثيب عن اقامة الزوج عندها عقب الزفاف (1460).»
حدیث نمبر: 1107
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ قَالَ: لِلْبِكْرِ سَبْعٌ، وَلِلثَّيِّبِ ثَلَاثٌ.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: کنواری کے لیے (شادی کے بعد خاوند کے رات گزارنے کے) سات دن ہیں اور بیوہ سے شادی کی صورت میں تین دن ہیں۔ [مسند امام شافعی/ كتاب النكاح /حدیث: 1107]
تخریج الحدیث: «اسناده صحیح اخرجه البيهقي: 302/7 - وفى المعرفة السنن والآثار له (4381) - (4382).»
حدیث نمبر: 1108
أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي رَوَّادٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَهَا فَسَاقَ نِكَاحَهَا وَبِنَاءَهُ بِهَا وَقَوْلَهُ لَهَا:"إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ عِنْدَكِ وَسَبَّعْتُ عِنْدَهُنَّ". أَخْرَجَ الثَّلَاثَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الْخُلْعِ وَالنُّشُوزِ، وَالرَّابِعَ مِنْ كِتَابِ أَحْكَامِ الْقُرْآنِ.
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منگنی کی، پھر اپنے نکاح اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان کے پاس رات گزارنے کی بات بیان کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بات کو بھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے کہی کہ اگر تو چاہے تو میں تیرے ہاں سات دن ٹھہروں گا اور سات ہی ان (دوسری بیویوں) کے ہاں۔ [مسند امام شافعی/ كتاب النكاح /حدیث: 1108]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق برقم (1105).»
3. بَابُ الْقِسْمَةِ
تقسیم کا بیان
حدیث نمبر: 1109
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُوُفِّيَ عَنْ تِسْعِ نِسْوَةٍ، وَكَانَ يَقْسِمُ لِثَمَانٍ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں نو بیویاں تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ کے لیے باری مقرر کر رکھی تھی۔ [مسند امام شافعی/ كتاب النكاح /حدیث: 1109]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري، النكاح، باب كثرة النساء (5067) ومسلم، الرضاع، باب جواز هبتها نوبتها لضرتها (1465).»
حدیث نمبر: 1110
أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَضَ عَنْ تِسْعِ نِسْوَةٍ، وَكَانَ يَقْسِمُ بَيْنَهُنَّ لِثَمَانٍ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے تشریف لے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں نو بیویاں تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں آٹھ کے لیے باری مقرر کر رکھی تھی۔ [مسند امام شافعی/ كتاب النكاح /حدیث: 1110]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق برقم (1109).»
حدیث نمبر: 1111
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ سَوْدَةَ وَهَبَتْ يَوْمَهَا لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ الْخُلْعِ وَالنُّشُوزِ، وَالثَّانِيَ وَالثَّالِثَ مِنْ كِتَابِ أَحْكَامِ الْقُرْآنِ.
ہشام اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ سودہ رضی اللہ عنہا نے اپنی باری کا دن عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہبہ کر دیا تھا۔ [مسند امام شافعی/ كتاب النكاح /حدیث: 1111]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري، الهبة وفضلها، باب هبة المرأة لغير زوجها، وعتقها اذا كان لها زوج فهو جائز ..... الخ (2593)، (5212) ومسلم، الرضاع، باب جواز هبتها نوبتها لضرتها (1463).»
4. بَابُ الْقُرْعَةِ
قرعہ اندازی کا بیان
حدیث نمبر: 1112
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَافِعٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ، فَأَيَّتُهُنَّ خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا. أَخْرَجَهُ مِنْ كِتَابِ الْخُلْعِ وَالنُّشُوزِ.
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر کا ارادہ کرتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی فرماتے۔ ان میں سے جس کا نام نکل آتا اسے اپنے ساتھ (سفر میں) لے جاتے۔ [مسند امام شافعی/ كتاب النكاح /حدیث: 1112]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الشهادات، باب تعديل النساء بعضهن بعضا (2661) - ومسلم، التوبة، في حديث الإفك وقبول توبة القاذف (2770).»