مسند امام شافعی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ صَدَاقِهِ لِأَزْوَاجِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات کے مہر کا بیان
حدیث نمبر: 1113
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: كَمْ كَانَ صَدَاقُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: كَانَ صَدَاقُهُ لِأَزْوَاجِهِ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً وَنَشٌّ. قَالَتْ: أَتَدْرِي مَا النَّشُّ؟ قُلْتُ: لَا. قَالَتْ: نِصْفُ أُوقِيَّةٍ. أَخْرَجَهُ مِنْ كِتَابِ الصَّدَاقِ وَالْإِيلَاءِ وَهُوَ آخِرُ حَدِيثٍ فِيهِ.
ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں: میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حق مہر کیا تھا (جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو دیا)؟ انہوں نے فرمایا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حق مہر اپنی بیویوں کے لیے بارہ اوقیے اور ایک نش تھا۔“ پھر فرمایا: ”جانتے ہو نش کتنا ہوتا ہے؟“ میں نے کہا: ”نہیں“، تو انہوں نے فرمایا: ”آدھا اوقیہ۔“ [مسند امام شافعی/ كتاب النكاح /حدیث: 1113]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم، النکاح باب الصداق وجواز كونه تعلیم قرآن و خاتم حديد... الخ (1426).»
6. بَابُ الزَّوَاجِ عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ
سونے کی گٹھلی کے وزن پر نکاح کا بیان
حدیث نمبر: 1114
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ أَسْهَمَ النَّاسَ الْمَنَازِلَ، فَطَارَ سَهْمُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَلَى سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ: تَعَالَ حَتَّى أُقَاسِمَكَ مَالِي وَأَنْزِلَ لَكَ عَنْ أَيِّ امْرَأَتِي شِئْتَ؟ وَأَكْفِيكَ الْعَمَلَ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: بَارَكَ اللَّهُ [ ص: 32 ] لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ دُلُّونِي عَلَى السُّوقِ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ فَأَصَابَ شَيْئًا، فَخَطَبَ امْرَأَةً فَتَزَوَّجَهَا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"عَلَى كَمْ تَزَوَّجْتَهَا يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ"؟ قَالَ: عَلَى نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، قَالَ:"أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی رہائش گاہوں کے لیے قرعہ اندازی فرمائی، عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا قرعہ سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کے نام نکلا۔ تو سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ”آپ آئیں میں آپ کے لیے اپنا مال تقسیم کروں، اور میں آپ کے لیے اپنی دو بیویوں میں سے جس کو آپ چاہتے ہیں (اس سے علیحدہ ہو کر) آپ کے لیے چھوڑ دیتا ہوں، اور آپ کے لیے مزدوری بھی کروں گا۔“ عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے اس کے جواب میں کہا: ”اللہ تعالیٰ آپ کے اہل اور مال میں برکت عطا فرمائے، مجھے بازار کا راستہ بتا دیجیے۔“ آپ رضی اللہ عنہ بازار نکل گئے اور کچھ مال کمایا، پھر ایک عورت کو منگنی کا پیغام بھیجا اور اس سے شادی کر لی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کہا: ”اے عبدالرحمن! کتنے مہر پر تو نے اس سے شادی کی؟“ عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے کہا: ”سونے کی ایک گٹھلی پر۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولیمہ کر، اگرچہ ایک بکری ہی کا ہو۔“ [مسند امام شافعی/ كتاب النكاح /حدیث: 1114]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخارى البيوع، باب ما جاء في قول الله عز و جل فاذا قضيت الصلوة .... الخ (2049) ومسلم، النكاح، باب الصداق وجواز كونه تعلیم قرآن و خاتم جديد..... الخ (1427).»
حدیث نمبر: 1115
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِهِ أَثَرُ صُفْرَةٍ، فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"كَمْ سُقْتَ إِلَيْهَا"؟ قَالَ: زِنَةَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ. فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"أَوْلِمْ وَلَوْ بَشَاةٍ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آئے تو ان کے (کپڑے یا جسم) پر زرد رنگ کا نشان تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ انہوں نے انصار کی ایک عورت سے شادی کر لی ہے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کتنا مہر دیا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”ایک گٹھلی کے برابر سونا دیا ہے۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”اچھا، تو ولیمہ کر خواہ ایک بکری ہی کا ہو۔“ [مسند امام شافعی/ كتاب النكاح /حدیث: 1115]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري النكاح، باب الصفرة للمتزوج (5153).»
حدیث نمبر: 1116
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ تَزَوَّجَ عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ الصَّدَاقِ وَالْإِيلَاءِ، وَالثَّالِثَ مِنْ كِتَابِ أَحْكَامِ الْقُرْآنِ.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ایک گٹھلی کے وزن کے برابر سونے پر شادی کی۔ [مسند امام شافعی/ كتاب النكاح /حدیث: 1116]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق برقم (1114).»
7. بَابُ الزَّوَاجِ عَلَى سُورَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ
قرآن مجید کی کسی سورت کے عوض نکاح کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1117
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ: أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ وَهَبْتُ نَفْسِي لَكَ، فَقَامَتْ قِيَامًا طَوِيلًا، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ: زَوِّجْنِيهَا إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكَ فِيهَا حَاجَةٌ. فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ تُصْدِقُهَا إِيَّاهُ"؟، فَقَالَ: مَا عِنْدِي إِلَّا إِزَارِي هَذَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِنْ أَعْطَيْتَهَا إِيَّاهُ، جَلَسْتَ لَا إِزَارَ لَكَ، فَالْتَمِسْ شَيْئًا"، فَقَالَ: مَا أَجِدُ شَيْئًا. قَالَ:"فَالْتَمِسْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ". [ ص: 34 ] فَالْتَمَسَ فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا. فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"هَلْ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْءٌ"؟ قَالَ: نَعَمْ سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا لِسُوَرٍ سَمَّاهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"زَوَّجْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ".
سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میں نے خود کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کر دیا“، وہ دیر تک کھڑی رہی، پھر ایک صحابی کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! اس سے میرا نکاح کر دیں اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی ضرورت نہیں“۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: ”اس کو مہر دینے کے لیے تمہارے پاس کوئی چیز ہے؟“ اس صحابی رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میرے پاس اس تہبند کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے“۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ تم اسے دے دو گے تو تم بیٹھ جاؤ گے، تمہارے پاس تہبند نہ ہوگا، کوئی چیز تلاش کرلو“۔ اس نے کہا: ”میں کچھ نہیں پاتا“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تلاش کرو اگرچہ لوہے کی ایک انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو“۔ اس صحابی نے تلاش کیا مگر کچھ نہ ملا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: ”کیا تجھے کچھ قرآن یاد ہے؟“ اس نے کہا: ”ہاں، فلاں فلاں سورتیں“، انہوں نے سورتوں کے نام لیے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہارا نکاح اس سے اس مہر کے ساتھ کیا جو تمہیں قرآن یاد ہے (یعنی تم اسے سکھاؤ گے)۔“ [مسند امام شافعی/ كتاب النكاح /حدیث: 1117]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري، الوكالة، باب وكالة المرأة الامام في النكاح (2310)، (5029)، (5030)، ومسلم، النكاح، باب الصداق جواز كونه تعلیم قرآن و خاتم حديد ..... الخ (1425).»
حدیث نمبر: 1118
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَوَّجَ امْرَأَةً بِسُورَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ.
سہل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کا نکاح قرآن کی سورتوں کے عوض کیا۔ [مسند امام شافعی/ كتاب النكاح /حدیث: 1118]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق برقم (1117).»
حدیث نمبر: 1119
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ، سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ: أَنَّ رَجُلًا خَطَبَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةً قَائِمَةً، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَدَاقِهَا، فَقَالَ:"الْتَمِسْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ". أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ الصَّدَاقِ وَالْإِيلَاءِ، وَالثَّانِيَ مِنْ كِتَابِ الْمَنَاسِكِ، وَالثَّالِثَ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ.
ابو حازم بن دینار سے روایت ہے کہ انہوں نے سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ایک صحابی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑی عورت سے منگنی کا پیغام بھیجا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کے مہر کے متعلق کہا اور فرمایا: ”جاؤ تلاش کرو، اگرچہ لوہے کی ایک انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو۔“ [مسند امام شافعی/ كتاب النكاح /حدیث: 1119]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق برقم (1117).»
8. بَابُ النِّكَاحِ فِي الْمَرَضِ وَصَدَاقِ الْمِثْلِ
حالتِ مرض میں نکاح اور مہرِ مثل کا بیان
حدیث نمبر: 1120
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ وَسَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ [ ص: 35 ] جُرَيْجٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ: أَنَّ ابْنَ أُمِّ الْحَكَمِ سَأَلَ امْرَأَةً لَهُ أَنْ يُخْرِجَهَا مِنْ مِيرَاثِهَا مِنْهُ فِي مَرَضِهِ فَأَبَتْ فَقَالَ: لَأُدْخِلَنَّ عَلَيْكِ فِيهِ مَنْ يُنْقِصُ حَقَّكِ أَوْ يَضُرُّ بِهِ فَنَكَحَ ثَلَاثًا فِي مَرَضِهِ أَصْدَقَ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ أَلْفَ دِينَارٍ، فَأَجَازَ ذَلِكَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ. قَالَ سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ: إِنْ كَانَ صَدَاقَ مِثْلِهِنَّ جَازَ، وَإِنْ كَانَ أَكْثَرَ رُدَّتِ الزِّيَادَةُ وَقَالَ فِي الْمُحَابَاةِ كَمَا قُلْتُ أَنَا فِي كِتَابِ الْوَصَايَا الَّذِي لَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ.
عکرمہ بن خالد سے روایت ہے کہ ام حکیم کے بیٹے نے اپنی بیماری میں اپنی بیوی سے کہا کہ وہ اس کے لیے اس کی میراث سے کچھ نکال دے، تو اس عورت نے انکار کر دیا، تو ام حکیم کے بیٹے نے کہا، میں تجھ پر اس میراث میں ان کو داخل کروں گا جو تیرے حق کو کم کریں گی یا اس میں نقصان دہ ثابت ہوں، لہذا انہوں نے اپنی بیماری میں تین نکاح کر لیے، اور ان میں سے ہر ایک کو ایک ہزار حق مہر دیا، عبدالملک بن مروان نے اس کو جائز قرار دیا۔ سعید بن سالم کہتے ہیں اگر تو ان عورتوں کا مہر، مہر مثل ہو تو درست ہے اور اگر مثل سے زیادہ ہے تو پھر زائد رقم کو واپس کر دیا جائے گا۔ [مسند امام شافعی/ كتاب النكاح /حدیث: 1120]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لعنعة ابن جريج: اخرجه البيهقي في المعرفة السنن والآثار (3929).»
حدیث نمبر: 1121
أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ: أَنَّهُ سَمِعَ عِكْرِمَةَ بْنَ خَالِدٍ يَقُولُ: أَرَادَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ابْنُ أُمِّ الْحَكَمِ فِي شَكْوَاهُ أَنْ يُخْرِجَ امْرَأَةً مِنْ مِيرَاثِهَا فَأَبَتْ فَنَكَحَ عَلَيْهَا ثَلَاثَ نِسْوَةٍ وَأَصْدَقَهُنَّ أَلْفَ دِينَارٍ كُلَّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ، فَأَجَازَ ذَلِكَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ وَشَرَّكَ بَيْنَهُنَّ فِي الثُّمُنِ. قَالَ الرَّبِيعُ: هَذَا قَوْلُ الشَّافِعِيِّ نَصٌّ، قَالَ الشَّافِعِيُّ: أَرَى ذَلِكَ صَدَاقَ مِثْلِهِنَّ وَلَوْ كَانَ أَكْثَرَ مِنْ صَدَاقِ مِثْلِهِنَّ جَازَ النِّكَاحُ، وَبَطَلَ مَا زَادَ عَلَى صَدَاقِ مِثْلِهِنَّ إِنْ مَاتَ مِنْ مَرَضِهِ ذَلِكَ؛ لِأَنَّهُ فِي حُكْمِ الْوَصِيَّةِ وَالْوَصِيَّةُ لَا تَجُوزُ لِوَارِثٍ.
عکرمہ بن خالد بیان کرتے ہیں کہ عبدالرحمن بن امِ حکم نے اپنی بیماری میں ارادہ کیا کہ اس کی بیوی اس کی میراث سے (صدقہ وغیرہ کے لیے حصہ) نکالے، اس عورت نے انکار کر دیا، تو انہوں نے اس پر تین اور عورتوں سے نکاح کر لیا اور ان میں سے ہر ایک کو ایک ہزار دینار حق مہر دیا۔ عبدالملک بن مروان نے اسے جائز قرار دے کر ان سب کو آٹھویں حصے میں حصہ دار بنا دیا۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”میرے خیال میں یہ مہرِ مثل تھا، اور اگر یہ مہرِ مثل سے زائد ہو تو نکاح تو تب بھی جائز ہے البتہ مہرِ مثل سے زائد رقم باطل قرار پائے گا اگر وہ اپنی اسی بیماری میں فوت ہو جائے۔ کیونکہ یہ وصیت کے حکم میں ہے اور وارث کے لیے وصیت جائز نہیں ہے۔“ [مسند امام شافعی/ كتاب النكاح /حدیث: 1121]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لعنعة ابن جريج اخرجه البيهقي: 276/6 - وفي المعرفة السنن والآثار له (3927).»
حدیث نمبر: 1122
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ قَالَ: كَانَتْ بِنْتُ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ وَطَلَّقَهَا تَطْلِيقَةً، ثُمَّ إِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَزَوَّجَهَا فَحُدِّثَ أَنَّهَا عَاقِرٌ لَا تَلِدُ، فَطَلَّقَهَا قَبْلَ مُجَامَعَتِهَا فَمَكَثَتْ حَيَاةَ عُمَرَ وَبَعْضَ خِلَافَةِ عُثْمَانَ، ثُمَّ تَزَوَّجَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ وَهُوَ مَرِيضٌ لِتَشْرَكَ نِسَاءَهُ فِي الْمِيرَاثِ وَكَانَ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ قَرَابَةٌ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام نافع نے بیان کیا کہ حفص بن مغیرہ کی بیٹی عبداللہ بن ابی ربیعہ کے نکاح میں تھی اور انہوں نے اسے طلاق دے دی، پھر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس سے شادی کر لی۔ ان سے یہ بات بیان کی گئی کہ یہ عورت بانجھ ہے اس کے ہاں اولاد نہیں ہوتی تو انہوں نے اس کے ساتھ صحبت سے پہلے ہی اسے طلاق دے دی۔ وہ عمر رضی اللہ عنہ کی زندگی اور عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کے کچھ عرصہ اسی طرح رہی۔ پھر اس سے عبداللہ بن ابی ربیعہ نے دوبارہ شادی کر لی، وہ بیمار تھے تاکہ وہ اس کی بیویوں میں ان کی میراث کی حصہ دار بن سکے، اور ان کی آپس میں رشتہ داری بھی تھی۔ [مسند امام شافعی/ كتاب النكاح /حدیث: 1122]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لعنة ابن جريج: اخرجه البيهقى 6 / 276 - وفى المعرفة السنن والآثار له (3926).»