مسند امام شافعی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. بَابُ بُطْلَانِ النِّكَاحِ بِغَيْرِ وَلِيٍّ وَرَدِّهِ
ولی کے بغیر نکاح کے باطل ہونے اور اسے رد کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1143
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْبَدٍ: أَنَّ عُمَرَ رَدَّ نِكَاحَ امْرَأَةٍ نُكِحَتْ بِغَيْرِ وَلِيٍّ.
عبدالرحمن بن معبد سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے اس عورت کے نکاح کو باطل قرار دیا جس نے ولی کے بغیر نکاح کیا۔ [مسند امام شافعی/ كتاب النكاح /حدیث: 1143]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه فان عبد الرحمن بن معبد لم يسمع من عمر بن الخطاب اخرجه البيهقی: 7/ 111 - وفى المعرفة السنن والآثار له (4072) - وعبد الرزاق (10485) . وسعيد بن منصور (575).»
حدیث نمبر: 1144
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، قَالَ: أُتِيَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِنِكَاحٍ لَمْ يَشْهَدْ عَلَيْهِ إِلَّا رَجُلٌ وَامْرَأَةٌ، فَقَالَ: هَذَا نِكَاحُ السِّرِّ، فَلَا أُجِيزُهُ، وَلَوْ كُنْتُ تَقَدَّمْتُ فِيهِ لَرَجَمْتُ. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ، وَالثَّانِيَ مِنْ كِتَابِ أَحْكَامِ الْقُرْآنِ، وَإِلَى آخِرِ السَّادِسِ مِنْ كِتَابِ عِشْرَةِ النِّسَاءِ.
ابوالزبیر نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک ایسے نکاح کا معاملہ لایا گیا جس میں صرف ایک مرد اور ایک عورت گواہ تھے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ خفیہ نکاح ہے، اور میں اسے جائز قرار نہیں دیتا، اور اگر میں پہلے اسے بیان کر چکا ہوتا تو اب میں رجم کرتا۔“ [مسند امام شافعی/ كتاب النكاح /حدیث: 1144]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، فان ابا الزبير لم يسمع من عمر اخرجه البيهقي: 7 / 126 - وفي المعرفة السنن والآثار له (4103).»
16. بَابُ الْمُخْتَفِي وَالْمُخْتَفِيَةِ وَالْوَاصِلَةِ وَالْمَوْصُولَةِ
کفن چور مرد، کفن چور عورت، بال جوڑنے والی اور بال جڑوانے والی کا بیان۔
حدیث نمبر: 1145
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ، عَنْ أُمِّهِ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ الْمُخْتَفِيَ وَالْمُخْتَفِيَةَ.
عمرہ بنتِ عبدالرحمن سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خلوت کے راز ظاہر کرنے والے اور کرنے والی (دونوں) پر لعنت فرمائی۔ [مسند امام شافعی/ كتاب النكاح /حدیث: 1145]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لارساله اخرجه البيهقى 8 / 270 - وفى المعرفة السنن والآثار له (5170).»
حدیث نمبر: 1146
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتِ: أَتَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ ابْنَةً لِي أَصَابَتْهَا الْحَصْبَةُ فَتَمَزَّقَ شَعْرُهَا أَفَأَصِلُ فِيهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لُعِنَتِ الْوَاصِلَةُ وَالْمَوْصُولَةُ". أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ الْجَنَائِزِ، وَالثَّانِيَ مِنْ كِتَابِ الْوُضُوءِ.
اسماء رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میری بیٹی کو خسرہ کا بخار ہوا تو اس کے بال جھڑ گئے، کیا اس کے سر میں مصنوعی بال لگا دوں؟“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مصنوعی بال لگانے والی اور لگوانے والی دونوں پر لعنت کی گئی ہے۔“ [مسند امام شافعی/ كتاب النكاح /حدیث: 1146]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري، اللباس، باب الموصوله (5936)، (5941) - ومسلم، اللباس والزينة، باب تحريم فعل الواصلة والمستوصله..... الخ (2122).»
17. بَابُ الْأَيِّمِ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا وَالْبِكْرُ تُسْتَأْذَنُ
بیوہ یا مطلقہ عورت اپنے ولی کے مقابلے میں اپنے نفس کی زیادہ حقدار ہے اور کنواری لڑکی سے اجازت لی جائے گی کا بیان۔
حدیث نمبر: 1147
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"الْأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا، وَالْبِكْرُ تُسْتَأْذَنُ فِي نَفْسِهَا، وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیوہ عورت اپنی ذات پر اپنے ولی سے زیادہ حق رکھتی ہے، اور کنواری سے اس کے نکاح میں اجازت لی جائے، اور اس کی اجازت اس کا چپ رہنا ہے۔“ [مسند امام شافعی/ كتاب النكاح /حدیث: 1147]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم، النكاح، باب استيذان الشيب في النكاح بالنطق، والبكر بالسكوت (1421).»
حدیث نمبر: 1148
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"الْأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا، وَالْبِكْرُ تُسْتَأْذَنُ فِي نَفْسِهَا، وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا". أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنَ الْجُزْءِ الثَّانِي مِنَ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ، وَالثَّانِيَ مِنْ كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ.
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیوہ اپنی ذات پر اپنے ولی سے زیادہ حق رکھتی ہے، اور کنواری سے اس کے نکاح میں اجازت لی جائے، اور اس کی خاموشی اس کی اجازت ہے۔“ [مسند امام شافعی/ كتاب النكاح /حدیث: 1148]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق برقم (1147).»
18. بَابُ وِلَايَةِ الْآبَاءِ وَرَدِّ نِكَاحِ الثَّيِّبِ إِذَا كَرِهَتْهُ
باپوں کی سرپرستی اور ثیبہ عورت کے نکاح کو مسترد کرنے کا بیان جب وہ اسے ناپسند کرے۔
حدیث نمبر: 1149
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَ نُعَيْمًا أَنْ يُؤَامِرَ أُمَّ ابْنَتِهِ فِيهَا.
ابن جریج سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نعیم کو بیٹی کے نکاح کی صورت میں اس کی ماں سے مشورہ کرنے کا حکم دیا۔ [مسند امام شافعی/ كتاب النكاح /حدیث: 1149]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لإعضاله: اخرجه البيهقي في المعرفة السنن والآثار (4084).»
حدیث نمبر: 1150
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَمُجَمِّعٍ ابْنَيْ يَزِيدَ بْنِ جَارِيَةَ، عَنْ خَنْسَاءَ ابْنَةِ خِذَامٍ: أَنَّ أَبَاهَا زَوَّجَهَا، وَهِيَ ثَيِّبٌ، فَكَرِهَتْ ذَلِكَ فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّ نِكَاحَهَا. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ أَحْكَامِ الْقُرْآنِ، وَالثَّانِيَ مِنَ الْجُزْءِ الثَّانِي مِنَ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ.
خنساء بنتِ خزام رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کے باپ نے ان کا نکاح کر دیا جبکہ وہ ثیبہ تھیں، انہیں یہ نکاح منظور نہیں تھا لہذا وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نکاح کو باطل (فسخ) قرار دیا۔ [مسند امام شافعی/ كتاب النكاح /حدیث: 1150]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخارى النكاح، باب اذا زوج الرجل ابنته وهي كارهة فنكاحه مردود (5138)، (5139).»
19. بَابُ نِكَاحِ الْأَيَامَى
بے نکاح مردوں اور عورتوں کے نکاح کا بیان۔
حدیث نمبر: 1151
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: الزَّانِي لا يَنْكِحُ إِلا زَانِيَةً [النُّورِ: 3] الْآيَةَ، قَالَ: هِيَ مَنْسُوخَةٌ نَسَخَتْهَا وَأَنْكِحُوا الأَيَامَى مِنْكُمْ [النُّورِ: 32] فَهِيَ مِنْ أَيَامَى الْمُسْلِمِينَ.
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے اللہ کے فرمان: ”زانی مرد نکاح نہ کرے مگر زانیہ عورت سے“ (النور: 3) کی تفسیر میں مروی ہے، فرمایا: یہ آیت منسوخ ہے اور اسے (اللہ کے اس حکم) ”اور تم میں سے جو بے نکاح ہوں ان کے نکاح کر دو“ (النور: 32) نے منسوخ کیا ہے، اور یہ مسلمانوں کے بے نکاح مرد و عورت ہیں۔ [مسند امام شافعی/ كتاب النكاح /حدیث: 1151]
تخریج الحدیث: «اسناده صحیح اخرجه البيهقي: 154/7 - وابن ابى شيبة (16922) - وسعيد بن منصور (862)، (863).»
حدیث نمبر: 1152
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّهُ قَالَ: هِيَ مَنْسُوخَةٌ نَسَخَتْهَا وَأَنْكِحُوا الأَيَامَى مِنْكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ [النُّورِ: 32] فَهِيَ مِنْ أَيَامَى الْمُسْلِمِينَ، يَعْنِي قَوْلَهُ: الزَّانِي لا يَنْكِحُ إِلا زَانِيَةً [النُّورِ: 3] الْآيَةَ.
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: یہ منسوخ ہے اور اسے ﴿وانكحوا الايامي منكم...﴾ نے منسوخ کیا ہے اور اس سے مراد مسلمانوں کے بے نکاح مرد و زن ہیں، یعنی اللہ کا فرمان ﴿الزاني لا ينكح إلا زانية﴾ منسوخ ہے۔ [مسند امام شافعی/ كتاب النكاح /حدیث: 1152]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق برقم (1151).»