مسند امام شافعی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ عِدَّةِ مَنْ نُكِحَتْ فِي الْعِدَّةِ
عدت کے دوران نکاح کرنے والی کی عدت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1298
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ: أَنَّ طُلَيْحَةَ كَانَتْ تَحْتَ رُشَيْدٍ الثَّقَفِيِّ فَطَلَّقَهَا أَلْبَتَّةَ، فَنَكَحَتْ فِي عِدَّتِهَا. فَضَرَبَهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَضَرَبَ زَوْجَهَا بِالْمِخْفَقَةِ ضَرَبَاتٍ، وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا، ثُمَّ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَكَحَتْ فِي عِدَّتِهَا، فَإِنْ كَانَ زَوْجُهَا الَّذِي تَزَوَّجَهَا لَمْ يَدْخُلْ بِهَا، فُرِّقَ بَيْنَهُمَا، ثُمَّ اعْتَدَّتْ بَقِيَّةَ عِدَّتِهَا مِنْ زَوْجِهَا الْأَوَّلِ، وَكَانَ خَاطِبًا مِنَ الْخُطَّابِ، وَإِنْ كَانَ دَخَلَ بِهَا فُرِّقَ بَيْنَهُمَا ثُمَّ اعْتَدَّتْ بَقِيَّةَ عِدَّتِهَا مِنَ الْأَوَّلِ، ثُمَّ اعْتَدَّتْ مِنَ الْآخَرِ ثُمَّ لَمْ يَنْكِحْهَا أَبَدًا. [ ص: 122 ] قَالَ سَعِيدٌ: وَلَهَا مَهْرُهَا بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْهَا.
ابن مسیب اور سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ طلیحہ، رشید ثقفی کے نکاح میں تھیں کہ اس کے خاوند نے اسے طلاق بائن دے دی، پھر اس نے اپنی عدت میں دوسرا نکاح کر لیا، تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اسے اور اس کے دوسرے خاوند کو درے لگائے اور ان کے درمیان جدائی ڈال دی پھر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جس عورت نے بھی اپنی عدت میں نکاح کیا، اگر اس کے اس خاوند نے جس سے اس نے شادی کی ہے صحبت نہیں کی تو ان دونوں کے درمیان علیحدگی کرا دی جائے گی، پھر وہ اپنے پہلے خاوند سے باقی رہنے والی عدت گزارے گی اور یہ (دوسرا خاوند) نکاح کا پیغام بھیجنے والوں میں سے ایک پیغام بھیجنے والا شمار ہوگا۔ اگر انہوں نے صحبت کر لی ہے تو بھی ان کے درمیان جدائی ڈال دی جائے گی، پھر یہ عورت پہلے اور دوسرے خاوند دونوں کی عدت گزارے گی پھر ہمیشہ کے لیے اس (دوسرے) سے نکاح بھی نہیں کر سکتی۔“ سعید نے کہا، اس عورت کے لیے صحبت کرنے کی وجہ سے مہر بھی ادا کرنا ہوگا۔ [مسند امام شافعی/ كتاب العدد والسكنى والنفقات /حدیث: 1298]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لإنقطاعه فإن سعيد بن المسيب وسليمان بن يسار لم يسمعا من عمر - اخرجه البيهقي: 7/ 441 - وفي المعرفة السنن والآثار له (4680) - وعبد الرزاق (10539).»
حدیث نمبر: 1299
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانٍ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ زَاذَانَ أَبِي عُمَرَ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّهُ قَضَى فِي الَّتِي تَزَوَّجُ فِي عِدَّتِهَا أَنْ يُفَرَّقَ بَيْنَهُمَا، وَلَهَا الصَّدَاقُ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا، وَتُكْمِلُ مَا أَفْسَدَتْ مِنْ عِدَّةٍ، وَتَعْتَدُّ مِنَ الْآخَرِ. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ الْعِدَدِ.
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اس عورت کے متعلق فیصلہ دیا، جس نے اپنی عدت میں شادی کی کہ ان دونوں کو علیحدہ علیحدہ کر دیا جائے (یعنی نکاح فسخ کر دیا جائے) اور اس عورت سے صحبت کی وجہ سے اس کے لیے حق مہر بھی ہے، جس عدت کو عورت نے خراب کیا اسے بھی مکمل کرے، اور دوسرے خاوند سے بھی عدت گزارے۔ [مسند امام شافعی/ كتاب العدد والسكنى والنفقات /حدیث: 1299]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعیف اخرجه البيهقى 441/7 - وفى المعرفة السنن والآثار له (4680) . وعبد الرزاق (10532) و ابن ابي شيبة (18786).»
5. بَابُ عِدَّةِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا وَهِيَ حَامِلٌ
اس حاملہ عورت کی عدت جس کا شوہر وفات پا گیا ہو کا بیان
حدیث نمبر: 1300
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ سُبَيْعَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ وَضَعَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِلَيَالٍ فَمَرَّ بِهَا أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْكَكٍ، فَقَالَ: قَدْ تَصَنَّعْتِ لِلْأَزْوَاجِ، إِنَّهَا أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ سُبَيْعَةُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:"كَذَبَ أَبُو السَّنَابِلِ، أَوْ لَيْسَ كَمَا قَالَ أَبُو السَّنَابِلِ، قَدْ حَلَلْتِ فَتَزَوَّجِي".
عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ سبیعہ بنت حارث رضی اللہ عنہا نے اپنے خاوند کی وفات کے کچھ دنوں بعد بچہ جنا، تو ان کے پاس سے ابوسنابل بن بعکک رضی اللہ عنہ گزرے تو انہوں نے کہا، تو نے شادی کے لیے بناؤ سنگھار کر لیا، جبکہ تیری عدت تو چار ماہ دس دن ہے، سبیعہ نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوسنابل نے غلط بیانی کی یا جس طرح ابو سنابل نے کہا مسئلہ ایسے نہیں، تم عدت سے نکل چکی ہو، شادی کرلو۔“ [مسند امام شافعی/ كتاب العدد والسكنى والنفقات /حدیث: 1300]
تخریج الحدیث: «صحیح ثبت موصولاً اخرجه البخاري، المغازی، باب فضل من شهد بدراً (3991) ومسلم، الطلاق، باب انقضاء عدة المتوفى عنها وغيرها، بوضع حمل (1484).»
حدیث نمبر: 1301
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَأَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا وَهِيَ حَامِلٌ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: آخِرَ الْأَجَلَيْنِ، وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: إِذَا وَلَدَتْ فَقَدْ حَلَّتْ. فَدَخَلَ أَبُو سَلَمَةَ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَتْ: وَلَدَتْ سُبَيْعَةُ الْأَسْلَمِيَّةُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِنِصْفِ شَهْرٍ. فَخَطَبَهَا رَجُلَانِ: أَحَدُهُمَا شَابٌّ، وَالْآخَرُ كَهْلٌ، فَخُطِبَتْ إِلَى الشَّابِّ، فَقَالَ الْكَهْلُ: لَمْ تَحْلِلْ، وَكَانَ أَهْلُهَا غُيَّبًا، وَرَجَا إِذَا جَاءَ أَهْلُهَا أَنْ يُؤْثِرُوهُ بِهَا، فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:"قَدْ حَلَلْتِ، فَانْكِحِي مَنْ شِئْتِ".
ابو سلمہ بن عبد الرحمن نے بیان کیا کہ ابن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے اس حاملہ عورت کے بارے میں پوچھا گیا جس کا خاوند فوت ہو جائے تو ابن عباس نے فرمایا، دو عدتوں میں سے آخری عدت اسے گزارنی ہوگی، اور ابو ہريرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، جب بچہ پیدا ہو جائے تو عدت ختم ہو جائے گی، پھر ابوسلمہ ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور ان سے یہ مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ سبیعہ الاسلمیہ رضی اللہ عنہا نے اپنے خاوند کی وفات کے آدھا ماہ بعد بچہ جنا، تو اسے دو آدمیوں نے نکاح کا پیغام بھیجا، ان میں سے ایک نوجوان تھا جبکہ دوسرا ادھیڑ عمر کا تو انہوں نے نوجوان کو نکاح کا پیغام بھیج دیا، پھر ادھیڑ عمر نے کہا، ابھی تیری عدت ختم نہیں ہوئی، اور ان کے گھر والے کہیں گئے ہوئے تھے، اس شخص نے یہ امید کی کہ جب وہ آئیں گے تو اسے (نوجوان پر) ترجیح دیں گے۔ پھر جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیری عدت ختم ہو چکی ہے جس سے تو چاہے نکاح کرلے۔“ [مسند امام شافعی/ كتاب العدد والسكنى والنفقات /حدیث: 1301]
تخریج الحدیث: «اخرجه النسائي الطلاق، باب عدة الحاحل المتوفى عنها زوجها (3540) - واحمد: 6 / 319- وصححه ابن حبان.»
حدیث نمبر: 1302
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ: أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ [ ص: 124 ] وَأَبَا سَلَمَةَ اخْتَلَفَا فِي الْمَرْأَةِ تَنْفَسُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِلَيَالٍ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: آخِرَ الْأَجَلَيْنِ، وَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ: إِذَا نَفِسَتْ فَقَدْ حَلَّتْ. قَالَ: فَجَاءَ أَبُو هُرَيْرَةَ، فَقَالَ: أَنَا مَعَ ابْنِ أَخِي، يَعْنِي: أَبَا سَلَمَةَ، فَبَعَثُوا كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ، فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ، فَجَاءَهُمْ فَأَخْبَرَهُمْ أَنَّهَا قَالَتْ: وَلَدَتْ سُبَيْعَةُ الْأَسْلَمِيَّةُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِلَيَالٍ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهَا:"قَدْ حَلَلْتِ فَانْكِحِي".
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابن عباس اور ابو سلمہ رضی اللہ عنہما کا اس عورت کے متعلق اختلاف ہو گیا جس کے ہاں خاوند کی وفات کے کچھ دن بعد بچہ پیدا ہوا، ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا، دو عدتوں میں سے آخری عدت اسے گزارنی ہوگی، اور ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا، جب اسے نفاس کا خون آگیا تو اس کی عدت ختم ہوگئی، سلیمان نے کہا کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بھی تشریف لے آئے اور انہوں نے کہا میں بھی اپنے بھتیجے یعنی ابوسلمہ کے ساتھ ہوں (یعنی میرا بھی یہی فتویٰ ہے) آخر انہوں نے ابن عباس کے آزاد کردہ غلام کریب کو ام سلمہ کے پاس بھیجا تو اس نے ان سے یہی مسئلہ پوچھا، پھر وہ ان کے پاس آیا اور اس نے بتایا کہ انہوں نے کہا کہ سبیعہ رضی اللہ عنہا نے اپنے خاوند کی وفات کے کچھ دن بعد بچہ جنا تو اس نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کہا: ”تیری عدت ختم ہو چکی لہذا تو نکاح کرلے“۔ [مسند امام شافعی/ كتاب العدد والسكنى والنفقات /حدیث: 1302]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري، التفسير، باب ﴿وأولات الأحمال اجلهن أن يضعن حملهن ...﴾ (4909)، (5318). و مسلم الطلاق باب انقضاء عدة المتوفى عنها وغيرها، بوضع الحمل (1585).»
حدیث نمبر: 1303
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ: أَنَّ سُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةَ نَفِسَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِلَيَالٍ، فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَتْهُ فِي أَنْ تَنْكِحَ فَأَذِنَ لَهَا.
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سبیعہ الاسلمیہ رضی اللہ عنہا نے اپنے خاوند کی وفات کے کچھ دن بعد بچہ جنا، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کرنے کی اجازت طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت دے دی۔ [مسند امام شافعی/ كتاب العدد والسكنى والنفقات /حدیث: 1303]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاری، الطلاق، باب اولات الاحمال اجلهن أن يضعن حملهن (5320).»
حدیث نمبر: 1304
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْمَرْأَةِ يُتَوَفَّى عَنْهَا [ ص: 125 ] زَوْجُهَا وَهِيَ حَامِلٌ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: إِذَا وَضَعَتْ حَمْلَهَا فَقَدْ حَلَّتْ. فَأَخْبَرَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَوْ وَلَدَتْ وَزَوْجُهَا عَلَى سَرِيرِهِ لَمْ يُدْفَنْ لَحَلَّتْ. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ الرِّسَالَةِ، وَإِلَى آخِرِ الْخَامِسِ مِنْ كِتَابِ الْعِدَدِ.
نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس عورت کے متعلق پوچھا گیا جس کا خاوند فوت ہو گیا اور وہ حاملہ ہو تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جب وضع حمل ہو جائے تو اس کی عدت ختم ہو جائے گی، ان کو ایک انصاری آدمی نے بتایا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر کسی عورت نے بچہ جنا کہ اس کا خاوند چارپائی پر ہے ابھی دفن نہیں کیا گیا تو بھی اس کی عدت ختم ہوگئی۔ [مسند امام شافعی/ كتاب العدد والسكنى والنفقات /حدیث: 1304]
تخریج الحدیث: «صحیح: اخرجه البيهقي: 7 /430 - وفى المعرفة السنن والآثار له (4649) - ومالك في الموطأ، الطلاق، باب عدة المتوفى عنها زوجها اذا كانت حاملاً.»
6. بَابُ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا قَبْلَ انْقِضَاءِ عِدَّتِهَا
عدت ختم ہونے سے پہلے جس عورت کا شوہر فوت ہو جائے اس کا بیان
حدیث نمبر: 1305
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، يُقَالُ لَهُ: حَبَّانُ بْنُ مُنْقِذٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهُوَ صَحِيحٌ، وَهِيَ تُرْضِعُ ابْنَتَهُ فَمَكَثَتْ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا لَا تَحِيضُ، يَمْنَعُهَا الرَّضَاعُ أَنْ تَحِيضَ ثُمَّ مَرِضَ حَبَّانُ بَعْدَ أَنْ طَلَّقَهَا بِسَبْعَةِ أَشْهُرٍ أَوْ ثَمَانِيَةِ أَشْهُرٍ، فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّ امْرَأَتَكَ تُرِيدُ أَنْ تَرِثَ. فَقَالَ لِأَهْلِهِ: احْمِلُونِي إِلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَحَمَلُوهُ إِلَيْهِ، فَذَكَرَ لَهُ شَأْنَ امْرَأَتِهِ وَعِنْدَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُمَا عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مَا تَرَيَانِ؟ فَقَالَا: نَرَى أَنَّهَا تَرِثُهُ إِنْ مَاتَ، وَيَرِثُهَا إِنْ مَاتَتْ، فَإِنَّهَا لَيْسَتْ مِنَ الْقَوَاعِدِ اللَّاتِي قَدْ يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ، وَلَيْسَتْ مِنَ الْأَبْكَارِ الَّلَاتِي لَمْ يَبْلُغْنَ الْمَحِيضَ، ثُمَّ هِيَ عَلَى عِدَّةِ حَيْضِهَا مَا كَانَ مِنْ قَلِيلٍ أَوْ كَثِيرٍ، فَرَجَعَ حَبَّانُ إِلَى أَهْلِهِ وَأَخَذَ ابْنَتَهُ، فَلَمَّا فَقَدَتِ الرَّضَاعَ حَاضَتْ حَيْضَةً ثُمَّ حَاضَتْ حَيْضَةً أُخْرَى ثُمَّ تُوُفِّيَ حَبَّانُ قَبْلَ أَنْ تَحِيضَ الثَّالِثَةَ، فَاعْتَدَّتْ عِدَّةَ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا وَوَرِثَتْهُ. قَالَ: فِي كِتَابٍ فِي حَبَّانَ بْنِ مُنْقِذٍ بِالْبَاءِ.
عبدالرحمن بن ابی بکر نے بیان کیا کہ حبان بن منقذ انصاری نے تندرستی میں اپنی بیوی کو طلاق دی، اور وہ عورت ان کی بیٹی کو دودھ پلاتی تھی کہ 17 ماہ گزر گئے اور اسے حیض نہ آیا، دودھ پلانے کی وجہ سے اسے حیض نہیں آتا تھا، پھر طلاق دینے کے 17 یا 18 ماہ بعد حبان بیمار ہو گئے، تو میں نے ان سے کہا: ”آپ کی بیوی آپ کی وارث بننا چاہتی ہے۔“ انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا: ”مجھے عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس لے چلو۔“ وہ انہیں ان کے پاس لے آئے، تو انہوں نے انہیں اپنی بیوی کے ارادہ کے متعلق بتایا اور عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس، علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بھی تشریف فرما تھے کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ”تم دونوں کا کیا خیال ہے؟“ ان دونوں نے کہا: ”ہمارے خیال میں اگر یہ فوت ہو جائے تو وہ عورت اس کی وارث بنے گی، اور اگر وہ فوت ہو جائے تو یہ وارث بنے گا، کیونکہ یہ نہ تو ان عورتوں میں سے ہے جن کا حیض آنا بند ہو چکا ہو، اور نہ ہی ان لڑکیوں میں سے ہے جو ابھی حیض کی عمر کو نہ پہنچی ہوں۔ پھر یہ اپنی حیض کی عدت پر ہے۔“ (یہ سن کر) حبان اپنے گھر آئے اور اس سے اپنی بچی لے لی، جب دودھ پلانا بند ہوا تو اسے ایک حیض پھر دوسرا حیض آیا، پھر اس کو تیسرا حیض آنے سے پہلے ہی حبان وفات پا گئے، تو اس نے وہ عدت گزاری جو فوت شدہ خاوند والی عورت گزارتی ہے اور اس کے مال کی وارث بھی بنی۔ [مسند امام شافعی/ كتاب العدد والسكنى والنفقات /حدیث: 1305]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لعنعنة ابن جريج وعبد الله بن ابى بكر لم يدرك عثمان اخرجه البيهقي: 7/ 419 - وفى المعرفة السنن والآثار له (4620) - وعبد الرزاق (11101)، (11101).»
حدیث نمبر: 1306
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ: أَنَّهُ كَانَ عِنْدَ جَدِّهِ هَاشِمِيَّةٌ وَأَنْصَارِيَّةٌ، فَطَلَّقَ الْأَنْصَارِيَّةَ وَهِيَ تُرْضِعُ فَمَرَّتْ بِهَا سَنَةٌ، ثُمَّ هَلَكَ وَلَمْ تَحِضْ. فَقَالَتْ: أَنَا أَرِثُهُ لَمْ أَحِضْ، فَاخْتَصَمُوا إِلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَضَى لِلْأَنْصَارِيَّةِ بِالْمِيرَاثِ، فَلَامَتِ الْهَاشِمِيَّةُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: هَذَا عَمَلُ ابْنِ عَمِّكِ، هُوَ أَشَارَ عَلَيْنَا بِهَذَا، يَعْنِي: عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ الْعِدَدِ.
محمد بن یحییٰ بن حبان سے روایت ہے کہ اس کے دادا کے نکاح میں ایک ہاشمی اور ایک انصاری عورت تھی۔ انہوں نے انصاری عورت کو طلاق دے دی، جبکہ وہ دودھ پلاتی تھی اور ایک سال گزر گیا کہ وہ فوت ہو گئے اور اس عورت کو حیض نہ آیا، اس عورت نے کہا: ”میں اس کی وارث بنوں گی کیونکہ مجھے حیض نہیں آیا۔“ یہ اپنا جھگڑا لے کر عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے انصاری عورت کے لیے میراث کا فیصلہ دیا، اس پر ہاشمی عورت نے عثمان رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہا تو انہوں نے فرمایا: ”یہ کام تمہارے چچا زاد بھائی کا ہے، ان کا اشارہ اس سے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی طرف تھا۔“ [مسند امام شافعی/ كتاب العدد والسكنى والنفقات /حدیث: 1306]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لإنقطاعه، فإن محمد بن يحيى بن حبان لم يدرك جده - اخرجه البيهقى 7/ 419 - وفى المعرفة السنن والآثار له (4619) - وعبد الرزاق (11102).»
7. بَابُ عِدَّةِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا وَلَمْ يُدْخَلْ بِهَا
اس عورت کی عدت جس کا شوہر دخول سے پہلے وفات پا گیا ہو کا بیان۔
حدیث نمبر: 1307
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي كِتَابِهِ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الرَّجُلِ يَتَزَوَّجُ الْمَرْأَةَ ثُمَّ يَمُوتُ وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا صَدَاقًا أَنَّ لَهَا الْمِيرَاثَ وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ وَلَا صَدَاقَ لَهَا.
عبد خیر سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے اس آدمی کے بارے میں فرمایا، جس نے شادی کی پھر ہم بستری سے پہلے ہی فوت ہو گیا، اور اس نے بیوی کا حق مہر بھی مقرر نہیں کیا تو اس عورت کے لیے میراث کا حصہ ہے اور اس پر عدت بھی ہے البتہ اس کے لیے حق مہر نہیں ہے۔ [مسند امام شافعی/ كتاب العدد والسكنى والنفقات /حدیث: 1307]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح: اخرجه البيهقي: 7 / 247 - وفي المعرفة السنن والآثار له (4309).»