مسند امام شافعی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَابٌ فِي سُكْنَى الْمُطَلَّقَةِ
طلاق یافتہ عورت کی رہائش کا بیان
حدیث نمبر: 1318
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا كَانَتْ تَقُولُ: اتَّقِ اللَّهَ يَا فَاطِمَةُ فَقَدْ عَلِمْتِ فِي أَيِّ شَيْءٍ كَانَ ذَلِكَ.
محمد بن ابراہیم سے روایت ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں، اے فاطمہ! اللہ سے ڈرو تجھے معلوم ہے کہ یہ حکم کیوں تھا؟ (یعنی شوہر کے گھر کی بجائے ابن ام مکتوم کے گھر عدت گزارنے کا) [مسند امام شافعی/ كتاب العدد والسكنى والنفقات /حدیث: 1318]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري،الطلاق، باب قصة فاطمة بنت قيس ..... الخ (5322) ومسلم، الطلاق، باب المطلقة البائن لا نفقة لها (1480) بمعناه.»
حدیث نمبر: 1319
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: إِلا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ [الطَّلَاقِ: 1] قَالَ: أَنْ تَبْدُوَ عَلَى أَهْلِ زَوْجِهَا فَإِذَا بَدَتْ فَقَدْ حَلَّ إِخْرَاجُهَا. أَخْرَجَ الْأَرْبَعَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الْعِدَدِ، وَالْخَامِسَ مِنْ كِتَابِ أَحْكَامِ الْقُرْآنِ.
ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ”سوائے اس کے کہ وہ واضح بے حیائی کا ارتکاب کریں“ (الطلاق: 1) کے سلسلہ میں روایت ہے فرمایا کہ اس کی بے حیائی اس کے گھر والوں پر واضح ہو جائے تو پھر اس کو گھر سے بھیج دینا درست ہے۔ [مسند امام شافعی/ كتاب العدد والسكنى والنفقات /حدیث: 1319]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن: اخرجه البيهقي: 7/ 431 ـ وفي المعرفة السنن والآثار له (4656) - وعبد الرزاق (11021)، (11022) وابن ابي شيبة (19198).»
11. بَابٌ فِي نَفَقَةِ الْمُطَلَّقَةِ
طلاق یافتہ عورت کے نفقہ کا بیان
حدیث نمبر: 1320
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ: أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ طَلَّقَهَا أَلْبَتَّةَ وَهُوَ غَائِبٌ بِالشَّامِ فَبَعَثَ إِلَيْهَا وَكِيلَهُ بِشَعِيرٍ فَسَخِطَتْهُ، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا لَكِ عَلَيْنَا مِنْ شَيْءٍ فَجَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ:"لَيْسَ لَكِ عَلَيْهِ نَفَقَةٌ".
فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ابو عمرو بن حفص نے انہیں تیسری آخری طلاق دی اور وہ اس وقت شام میں تھے وہاں موجود نہ تھے (یعنی وہیں سے طلاق بھیج دی)، تو اس کے وکیل نے ان (فاطمہ) کی طرف کچھ جَو بھیج دیے، جس پر وہ ناراض ہو گئیں تو اس نے کہا: ”اللہ کی قسم! تمہارا کچھ بھی حق ہم پر نہیں ہے۔“ (یہ سن کر) وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے یہ بات ذکر کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھیک ہے تیرا نفقہ (خرچہ) اس کے ذمہ نہیں ہے۔“ [مسند امام شافعی/ كتاب العدد والسكنى والنفقات /حدیث: 1320]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق برقم (1315).»
حدیث نمبر: 1321
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: نَفَقَةُ الْمُطَلَّقَةِ مَا لَمْ تَحْرُمْ فَإِذَا حَرُمَتْ فَمَتَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ.
ابوالزبیر سے روایت ہے کہ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مطلقہ کا خرچہ ہے جب تک کہ وہ حرام نہ ہو اور جب حرام ہوگئی (یعنی تین طلاقیں واقع ہوگئیں) تو اسے اچھے طریقے سے فائدہ پہنچانا ہے۔ [مسند امام شافعی/ كتاب العدد والسكنى والنفقات /حدیث: 1321]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح اخرجه البيهقى 475/7 - وفى المعرفة السنن والآثار له (3762).»
حدیث نمبر: 1322
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قَالَ عَطَاءٌ: لَيْسَتِ الْمَبْتُوتَةُ الْحُبْلَى مِنْهُ فِي شَيْءٍ إِلَّا أَنْ يُنْفِقَ عَلَيْهَا مِنْ أَجْلِ الْحَبَلِ، فَإِذَا كَانَتْ غَيْرَ حُبْلَى فَلَا نَفَقَةَ لَهَا. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ أَحْكَامِ الْقُرْآنِ وَالثَّانِيَ وَالثَّالِثَ مِنْ كِتَابِ الْعِدَدِ.
ابن جریج رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ عطا رحمہ اللہ نے فرمایا: تین طلاق یافتہ حاملہ عورت کے لیے خاوند کے ذمہ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ وہ اس کے حمل کی وجہ سے اس پر خرچ کرے، اور اگر وہ حاملہ نہ ہو تو اس کا خرچہ خاوند پر نہیں ہے۔ [مسند امام شافعی/ كتاب العدد والسكنى والنفقات /حدیث: 1322]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح اخرجه البيهقى 375/7 - وفى المعرفة السنن والآثار له (4763) - وعبد الرزاق (12015).»
12. بَابٌ فِي سُكْنَى الْمُتَوَفَّى عَنْهَا وَنَفَقَتِهَا
بیوہ کی رہائش اور اس کے نفقہ کا بیان
حدیث نمبر: 1323
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ عَمَّتِهِ زَيْنَبَ بِنْتِ كَعْبٍ: أَنَّ الْفُرَيْعَةَ بِنْتَ مَالِكِ بْنِ سِنَانٍ أَخْبَرَتْهَا: أَنَّهَا جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ أَنْ تَرْجِعَ إِلَى أَهْلِهَا فِي بَنِي خُدْرَةَ، فَإِنَّ زَوْجَهَا خَرَجَ فِي طَلَبِ أَعْبُدٍ لَهُ حَتَّى إِذَا كَانَ بِطَرَفِ الْقُدُومِ لَحِقَهُمْ فَقَتَلُوهُ. فَسَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَرْجِعَ إِلَى أَهْلِي فَإِنَّ زَوْجِي لَمْ يَتْرُكْنِي فِي مَسْكَنٍ يَمْلِكُهُ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"نَعَمْ"، فَانْصَرَفْتُ حَتَّى إِذَا كُنْتُ فِي الْحُجْرَةِ أَوْ فِي الْمَسْجِدِ دَعَانِي أَوْ أَمَرَ بِي فَدُعِيتُ، فَقَالَ:"كَيْفَ قُلْتِ"؟ فَرَدَدْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ الَّتِي ذَكَرْتُ لَهُ مِنْ شَأْنِ زَوْجِي. فَقَالَ:"امْكُثِي فِي بَيْتِكِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ". قَالَتْ: فَاعْتَدَدْتُ فِيهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، فَلَمَّا كَانَ عُثْمَانُ أَرْسَلَ إِلَيَّ فَسَأَلَنِي عَنْ ذَلِكَ، فَأَخْبَرْتُهُ فَاتَّبَعَهُ وَقَضَى بِهِ.
فریعہ بنت مالک بن سنان رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور عرض کیا کہ آپ مجھے اپنے ماں باپ کے گھر بنی خدرہ میں بھیج دیں، کیونکہ ان کا شوہر اپنے بھاگے ہوئے غلاموں کی تلاش میں نکلا تھا، جب قدوم کے مقام پر پہنچا تو غلاموں نے اسے قتل کر دیا۔ فریعہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میکے جانے کی اجازت مانگی کیونکہ خاوند نے کوئی ایسا گھر نہیں چھوڑا تھا جس کا وہ مالک ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“ (تم جا سکتی ہو)۔ جب میں واپس حجرے یا مسجد میں پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا یا مجھے بلانے کا حکم دیا اور مجھے بلایا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تو نے کیا کہا؟“ فرماتی ہیں پھر میں نے دوبارہ اپنے خاوند کا واقعہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے (شوہر والے) گھر ہی رہو یہاں تک کہ تمہاری عدت پوری ہو جائے۔“ وہ کہتی ہیں، میں نے وہاں چار ماہ 10 دن عدت گزاری، مزید کہتی ہیں کہ جب عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ تھے تو انہوں نے کسی کو میرے پاس بھیجا اور مجھ سے یہ مسئلہ دریافت کیا، تو میں نے انہیں بتایا پھر انہوں نے اسی کے مطابق فیصلہ کیا۔ [مسند امام شافعی/ كتاب العدد والسكنى والنفقات /حدیث: 1323]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابوداؤد الطلاق، باب في المتوفى عنها تنتقل (2300) والترمذى، الطلاق واللعان، باب ما جاء أین تعتد المتوفى عنها زوجها (1204) وقال ”حسن صحيح“ وابن ماجة (2031) والنسائي (3558). وصححه ابن الجارود (759) والحاكم 2/ 208 - وابن حبان.»
حدیث نمبر: 1324
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ فِي الْمَرْأَةِ الْبَادِيَةِ يُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا: إِنَّهَا تَنْثَوِي حَيْثُ يَنْثَوِي أَهْلُهَا.
هشام بن عروہ رحمہ اللہ نے اپنے باپ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس دیہاتی عورت کے متعلق فرمایا جس کا خاوند فوت ہو گیا ہو کہ: ”یہ وہیں قیام پذیر ہو گی جہاں اس کے گھر والے رہتے ہیں۔“ [مسند امام شافعی/ كتاب العدد والسكنى والنفقات /حدیث: 1324]
تخریج الحدیث: «اسناده صحیح اخرجه البيهقي في المعرفة السنن والآثار (4667).»
حدیث نمبر: 1325
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ وَعَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ مِثْلَهُ أَوْ مِثْلَ مَعْنَاهُ لَا يُخَالِفُهُ.
ایک اور سند سے ہشام نے اپنے باپ اور عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ سے سابقہ حدیث کی طرح یا ہم معنی بیان کیا ہے۔ [مسند امام شافعی/ كتاب العدد والسكنى والنفقات /حدیث: 1325]
تخریج الحدیث: «صحيح اخرجه البيهقى فى المعرفة السنن والآثار له (4668).»
حدیث نمبر: 1326
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ قَالَ: لَيْسَ لِلْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا نَفَقَةٌ، حَسْبُهَا الْمِيرَاثُ. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ الرِّسَالَةِ، وَإِلَى آخِرِ الرَّابِعِ مِنْ كِتَابِ الْعِدَدِ.
جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بیوہ کے لیے خرچہ نہیں ہے، اسے صرف وراثت کا حصہ ہی کافی ہے۔ [مسند امام شافعی/ كتاب العدد والسكنى والنفقات /حدیث: 1326]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لعنعنة ابن جريج وابي الزبير - اخرجه البيهقي: 431/7 - وفي المعرفة السنن والآثار له (4651) - وعبد الرزاق (12085) - (1287) وابن ابي شيبة (18970).»
حدیث نمبر: 1327
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: لَا يَصْلُحُ لِلْمَرْأَةِ تَبِيتُ لَيْلَةً وَاحِدَةً إِذَا كَانَتْ فِي عِدَّةِ وَفَاةٍ أَوْ طَلَاقٍ إِلَّا فِي بَيْتِهَا.
سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عبید اللہ رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ: ”کسی عورت کے لیے یہ بات درست نہیں کہ وہ خاوند کی وفات یا طلاق کی عدت میں سے کوئی ایک رات بھی اپنے گھر کے علاوہ (کہیں اور) گزارے۔“ [مسند امام شافعی/ كتاب العدد والسكنى والنفقات /حدیث: 1327]
تخریج الحدیث: «صحيح اخرجة البيهقي: 436/7 - وفى المعرفة السنن والآثار له (4674) - ومالك في الموطأ، الطلاق، باب مقام المتوفى عنها زوجها في بيتها حتى تحل.»