مسند امام شافعی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ عِدَّةِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا وَلَمْ يُدْخَلْ بِهَا
اس عورت کی عدت جس کا شوہر دخول سے پہلے وفات پا گیا ہو کا بیان۔
حدیث نمبر: 1308
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ بِنْتَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَأُمَّهَا بِنْتَ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ كَانَتْ تَحْتَ ابْنٍ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، فَمَاتَ وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا وَلَمْ يُسَمِّ لَهَا صَدَاقًا، فَاتَّبَعَتْ أُمُّهَا صَدَاقَهَا، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: لَيْسَ لَهَا صَدَاقٌ، وَلَوْ كَانَ لَهَا صَدَاقٌ لَمْ نَمْنَعْكُمُوهُ وَلَمْ نَظْلِمْهَا، فَأَبَتْ أَنْ تَقْبَلَ ذَلِكَ، فَجَعَلَ بَيْنَهُمْ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، فَقَضَى أَنَّ لَا صَدَاقَ لَهَا وَلَهَا الْمِيرَاثُ. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ اخْتِلَافِ عَلِيٍّ وَعَبْدِ اللَّهِ مِمَّا لَمْ يَسْمَعِ الرَّبِيعُ مِنَ الشَّافِعِيِّ، وَالثَّانِيَ مِنْ كِتَابِ الصَّدَاقِ وَالْإِيلَاءِ.
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ عبید اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی بیٹی اور اس کی ماں، زید بن خطاب کی بیٹی سے متعلق بیان کرتے ہیں کہ (عبید اللہ بن عمر کی بیٹی) عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے بیٹے کے نکاح میں تھی، کہ وہ صحبت سے پہلے ہی وفات پا گئے اور انہوں نے اس کے لیے حق مہر بھی مقرر نہ کیا تھا، جب اس کی ماں نے اس کے لیے حق مہر کی ادائیگی کا مطالبہ کیا، تو ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس کے لیے حق مہر نہیں ہے اور اگر اس کا حق مہر بنتا تو ہم اسے نہ روکتے اور نہ ہی اس عورت پر ظلم کرتے۔“ اس کی ماں نے یہ بات ماننے سے انکار کر دیا تو انہوں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو فیصل مقرر کیا، تو انہوں نے فیصلہ دیا کہ اس کے لیے حق مہر نہیں البتہ میراث ہے۔ [مسند امام شافعی/ كتاب العدد والسكنى والنفقات /حدیث: 1308]
تخریج الحدیث: «اسناده صحیح اخرجه البيهقي: 247/7 - وفى المعرفة السنن والآثار له (4308).»
8. بَابُ الْإِحْدَادِ
سوگ منانے کا بیان
حدیث نمبر: 1309
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ هَذِهِ الْأَحَادِيثَ الثَّلَاثَةَ، قَالَ: قَالَتْ زَيْنَبُ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ أَبُو سُفْيَانَ فَدَعَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِطِيبٍ فِيهِ صُفْرَةُ خَلُوقٍ أَوْ غَيْرُهُ، فَدَهَنَتْ مِنْهُ جَارِيَةٌ ثُمَّ مَسَحَتْ بِعَارِضَيْهَا، ثُمَّ قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:"لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا".
حمید بن نافع سے روایت ہے کہ اسے زینب بنت ابی سلمہ نے تین احادیث بیان کیں، فرمایا کہ زینب رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں اُم المومنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے پاس اس وقت آئی جب ان کے والد ابوسفیان کا انتقال ہوا تھا، ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے خوشبو منگوائی جس میں خلوق کی زردی یا کسی اور چیز کی ملاوٹ تھی، پھر وہ ایک لونڈی نے انہیں لگائی، پھر خود انہوں نے اسے اپنے رخساروں پر لگایا، پھر فرمایا: ”اللہ کی قسم! مجھے خوشبو کی کوئی خواہش نہ تھی، لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ ”جو عورت اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہے اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ کسی کا سوگ تین دن سے زیادہ منائے سوائے شوہر کے (کہ اس کا سوگ) چار ماہ 10 دن ہے۔“ [مسند امام شافعی/ كتاب العدد والسكنى والنفقات /حدیث: 1309]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاری، الطلاق، باب تحد المتوفى عنها اربعة اشهر وعشراً (5334) ومسلم، الطلاق، باب وجوب الإحداد في عدة الوفاة .... الخ (1486).»
حدیث نمبر: 1310
وَقَالَتْ زَيْنَبُ: دَخَلْتُ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ حِينَ تُوُفِّي أَخُوهَا فَدَعَتْ بِطِيبٍ فَمَسَّتْ مِنْهُ ثُمَّ قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ:"لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا".
اور زینب نے بیان فرمایا کہ اس کے بعد میں زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس اس وقت آئی جب ان کے بھائی فوت ہوئے، تو انہوں نے خوشبو منگوا کر لگائی پھر فرمایا: ”اللہ کی قسم! مجھے خوشبو کی کوئی خواہش نہ تھی لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر ارشاد فرماتے سنا کہ کسی عورت کے لیے جائز نہیں جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے سوائے اس کے خاوند کی میت کے، کیونکہ اس کا سوگ چار ماہ دس دن ہے۔“ [مسند امام شافعی/ كتاب العدد والسكنى والنفقات /حدیث: 1310]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري، الطلاق، باب تحد المتوفى عنها اربعة اشهر وعشرا (5335) ومسلم، الطلاق، باب وجوب الاحداد في عدة الوفاة .... الخ (1487).»
حدیث نمبر: 1311
وَقَالَتْ زَيْنَبُ: سَمِعْتُ أُمِّي أُمَّ سَلَمَةَ تَقُولُ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ ابْنَتِي تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا، وَقَدِ اشْتَكَتْ عَيْنَهَا، أَفَنَكْحِلُهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَا"، مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا. كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ:"لَا"، ثُمَّ قَالَ:"إِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ، وَقَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ". [ ص: 129 ] قَالَتْ زَيْنَبُ: كَانَتِ الْمَرْأَةُ إِذَا تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا، دَخَلَتْ حِفْشًا، وَلَبِسَتْ شَرَّ ثِيَابِهَا، وَلَمْ تَمَسَّ طِيبًا وَلَا شَيْئًا حَتَّى تَمُرَّ بِهَا سَنَةٌ، ثُمَّ تُؤْتَى بِدَابَّةٍ أَوْ حِمَارٍ أَوْ شَاةٍ أَوْ طَيْرٍ فَتَقْبِضُ بِهِ، فَقَلَّمَا تَقْبِضُ بِشَيْءٍ إِلَّا مَاتَ، ثُمَّ تَخْرُجُ، فَتُعْطَى بَعْرَةً فَتَرْمِي بِهَا، ثُمَّ تُرَاجِعُ بَعْدَهُ مَا شَاءَتْ مِنَ الطِّيبِ أَوْ غَيْرِهِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: الْحِفْشُ: الْبَيْتُ الصَّغِيرُ الذَّلِيلُ مِنَ الشَّعَرِ وَالْبِنَاءِ وَغَيْرِهِ. وَالْقَبْصُ: أَنْ تَأْخُذَ مِنَ الدَّابَّةِ مَوْضِعًا بِأَطْرَافِ أَصَابِعِهَا. وَالْقَبْضُ: الْأَخْذُ بِالْكَفِّ كُلِّهَا.
اور زینب نے بیان کیا کہ میں نے اپنی ماں ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سنا، وہ فرماتی ہیں، ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میری بیٹی کا شوہر فوت ہو گیا، اور اس کی آنکھیں خراب ہیں کیا وہ سرمہ لگا سکتی ہے؟“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“، دو یا تین دفعہ کہا، ہر مرتبہ یہ فرماتے تھے کہ نہیں، پھر فرمایا: ”یہ (عدت شرعی) چار ماہ 10 دن ہے، جاہلیت میں تو تمہیں ایک سال بعد مینگنی پھینکنی پڑتی تھی۔“ (یعنی جاہلیت میں تو عدت ایک سال تھی اور اب چار ماہ 10 دن پر بھی صبر نہیں)۔ زینب رضی اللہ عنہا نے فرمایا، جب کسی عورت کا (زمانہ جاہلیت میں) خاوند فوت ہو جاتا تو وہ ایک تنگ کوٹھڑی میں داخل ہو جاتی، اور وہ سب سے برے کپڑے زیب تن کرتی، خوشبو یا کوئی اور چیز استعمال نہ کرتی یہاں تک کہ اسی حال میں سال گزر جاتا، پھر (عدت سے باہر آنے کے لیے) ایک چوپایا، گدھا یا بکری یا کسی پرندے کو لایا جاتا اور وہ اس کو پکڑتی، ایسا کم ہی ہوتا کہ وہ کسی جانور کے کسی حصے کو پکڑتی اور وہ نہ مرتا ہو، پھر عدت سے نکلتی، اور اسے مینگنی دی جاتی جسے وہ پھینکتی، پھر وہ خوشبو یا اور کوئی چیز استعمال کرتی۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: حِفش کا مطلب ہے: چھوٹا، بالوں اور اینٹوں وغیرہ سے بنا ہوا گھر، اور القَبص سے مراد ہے کہ آپ اپنی انگلیوں سے چوپائے کی کسی جگہ کو پکڑیں، اور قبض سے مراد تمام ہتھیلی سے پکڑنا ہے۔ [مسند امام شافعی/ كتاب العدد والسكنى والنفقات /حدیث: 1311]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري،الطلاق، باب تحد المتوفى عنها اربعة اشهر وعشرا (5336) ومسلم، الطلاق، باب وجوب الاحداد فى عدة الوفاة، وتحريمه في غير ذلك الخ (1488)، (1489).»
حدیث نمبر: 1312
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَحَفْصَةَ، أَوْ عَائِشَةَ أَوْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تُحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا". أَخْرَجَ الْأَرْبَعَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الْعِدَدِ.
عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی عورت کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو جائز نہیں کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے سوا اپنے خاوند کے کہ (اس کا سوگ چار ماہ 10 دن ہے۔)“ [مسند امام شافعی/ كتاب العدد والسكنى والنفقات /حدیث: 1312]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم،الطلاق، باب وجوب الإحداد فى عدة الوفاة وتحريمه في غير ذلك الا ثلاثة ايام (1490)، (1841).»
9. بَابٌ فِي امْرَأَةِ الْمَفْقُودِ
گمشدہ شخص کی بیوی کا بیان
حدیث نمبر: 1313
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانٍ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَسَدِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ فِي امْرَأَةِ الْمَفْقُودِ: إِنَّهَا لَا تَتَزَوَّجُ.
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے گم شدہ خاوند والی عورت کے متعلق فرمایا: ”وہ (دوسری جگہ) شادی نہیں کرے گی۔“ [مسند امام شافعی/ كتاب العدد والسكنى والنفقات /حدیث: 1313]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعیف، لضعف عباد بن عبد الله الأسدى اخرجه البيهقي: 444/7 - وفى المعرفة السنن والآثار له (4687).»
حدیث نمبر: 1314
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانٍ، عَنْ هُشَيْمِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ سَيَّارٍ أَبِي الْحَكَمِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي امْرَأَةِ الْمَفْقُودِ إِذَا قَدِمَ، وَتَزَوَّجَتِ امْرَأَتُهُ إِنْ شَاءَ طَلَّقَ، وَإِنْ شَاءَ أَمْسَكَ، وَلَا تُخَيَّرُ. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ الْعِدَدِ.
یسار بن ابی الحکم سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے گمشدہ خاوند والی عورت کے متعلق فرمایا: ”جب اس کا خاوند واپس آئے اور اس کی بیوی نے دوسری جگہ شادی کر لی ہو، تو وہ اگر چاہے تو اسے طلاق دے دے اور اگر چاہے تو نکاح میں روکے رکھے، اور عورت کو اس کا اختیار نہیں دیا جائے گا۔“ [مسند امام شافعی/ كتاب العدد والسكنى والنفقات /حدیث: 1314]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعیف فان هثيم بن بشير مدلس وقد عنعن اخرجه البيهقي: 7 / 444 - وفى المعرفة السنن والآثار له (4687).»
10. بَابٌ فِي سُكْنَى الْمُطَلَّقَةِ
طلاق یافتہ عورت کی رہائش کا بیان
حدیث نمبر: 1315
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ: أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ طَلَّقَهَا أَلْبَتَّةَ وَهُوَ غَائِبٌ بِالشَّامِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ فِيهِ: فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: لَيْسَ لَكِ عَلَيْهِ نَفَقَةٌ، وَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ أُمِّ شَرِيكٍ، ثُمَّ قَالَ: تِلْكَ امْرَأَةٌ يَغْشَاهَا أَصْحَابِي فَاعْتَدِّي عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى تَضَعِينَ ثِيَابَكِ.
فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ابو عمرو بن حفص نے انہیں طلاق بتہ (تیسری طلاق بائن) دی جبکہ وہ شام میں تھے۔ پھر لمبی حدیث بیان کی اور اس میں کہا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا خرچہ اس کے ذمہ نہیں ہے۔“ اور آپ نے اسے ام شریک کے گھر عدت گزارنے کا حکم دیا، پھر فرمایا: ”یہ ایسی عورت ہے جس کے پاس میرے صحابہ کا کثرت سے آنا جانا ہے لہٰذا تو ابن ام مکتوم کے ہاں عدت گزار، وہ نابینا آدمی ہے تو وہاں اپنے کپڑے (حجاب) بھی اتار سکتی ہے۔“ [مسند امام شافعی/ كتاب العدد والسكنى والنفقات /حدیث: 1315]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم، الطلاق، باب المطلقة البائن لا نفقة لها (1480).»
حدیث نمبر: 1316
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي يَحْيَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَسَأَلْتُ عَنْ أَعْلَمِ أَهْلِهَا، فَدَفَعْتُ إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْمَبْتُوتَةِ، فَقَالَ: تَعْتَدُّ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا. فَقُلْتُ: فَأَيْنَ حَدِيثُ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ؟ فَقَالَ: هَاهْ وَوَصَفَ أَنَّهُ تَغَيَّظَ، وَقَالَ: قَتَلَتْ فَاطِمَةُ النَّاسَ وَكَانَ لِلِسَانِهَا ذَرَابَةٌ فَاسْتَطَالَتْ عَلَى أَحْمَائِهَا فَأَمَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ أُمِّ مَكْتُومٍ.
میمون بن مہران کہتے ہیں، میں مدینہ آیا اور میں نے مدینہ کے سب سے بڑے عالم کے متعلق پوچھا تو مجھے سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا گیا، میں نے ان سے طلاق بائن والی عورت کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا: وہ اپنے خاوند کے گھر عدت گزارے گی، تو میں نے کہا، فاطمہ بنت قیس کی حدیث کہاں ہے؟ تو انہوں نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: فاطمہ کے واقعہ نے لوگوں کو ہلاک کر دیا، حالانکہ اس کی زبان میں درشتگی تھی، جو اس کے خاوند کے رشتہ داروں کے لیے ناگوار ہو گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ام مکتوم کے گھر میں عدت گزارنے کا حکم دیا۔ [مسند امام شافعی/ كتاب العدد والسكنى والنفقات /حدیث: 1316]
تخریج الحدیث: «صحيح من غير هذا الطريق اخرجه ابوداؤد،الطلاق، باب من أنكر ذلك على فاطمة بنت قيس (2296).»
حدیث نمبر: 1317
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ وَسُلَيْمَانَ: أَنَّهُ سَمِعَهُمَا يَذْكُرَانِ: أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ طَلَّقَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَكَمِ أَلْبَتَّةَ، فَانْتَقَلَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَكَمِ، فَأَرْسَلَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ، فَقَالَتْ: اتَّقِ اللَّهَ يَا مَرْوَانُ، وَارْدُدِ الْمَرْأَةَ إِلَى بَيْتِهَا. فَقَالَ مَرْوَانُ فِي حَدِيثِ سُلَيْمَانَ: إِنَّ [ ص: 133 ] عَبْدَ الرَّحْمَنِ غَلَبَنِي. وَقَالَ مَرْوَانُ فِي حَدِيثِ الْقَاسِمِ: أَوَمَا بَلَغَكِ شَأْنُ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ؟ فَقَالَتْ: لَا عَلَيْكَ أَنْ لَا تَذْكُرَ شَأْنَ فَاطِمَةَ. فَقَالَ: إِنْ كَانَ إِنَّمَا بِكِ الشَّرُّ فَحَسْبُكِ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ مِنَ الشَّرِّ.
قاسم اور سلیمان بن یسار سے روایت ہے، دونوں بیان کرتے ہیں کہ یحییٰ بن سعید بن عاص نے عبدالرحمن بن حکم کی بیٹی کو طلاق بتہ دے دی، تو عبدالرحمن بن حکم انہیں شوہر کے گھر سے لے آئے، عائشہ رضی اللہ عنہا کو جب معلوم ہوا تو انہوں نے امیر مدینہ مروان بن حکم کو پیغام بھیجا اور فرمایا، اے مروان اللہ سے ڈرو اور عورت کو اس کے (خاوند کے) گھر لوٹا دو۔“ سلیمان کی بیان کردہ حدیث میں ہے کہ مروان نے کہا: ”عبدالرحمن مجھ پر غالب آ گئے (یعنی میری بات نہیں مانی)۔“ اور قاسم کی حدیث میں ہے کہ مروان نے جواباً کہا: ”کیا آپ کو فاطمہ بنت قیس کے معاملہ کا علم نہیں ہے؟“ اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اگر تم فاطمہ کا واقعہ بیان نہ کرتے تو بھی تمہارا یہ حق نہیں (کیونکہ وہ تمہارے لیے دلیل نہیں ہے)۔“ مروان نے اس کے جواب میں کہا: ”اگر فاطمہ کا شوہر کے گھر سے منتقل ہونا شوہر کے رشتہ داروں کے مابین کشیدگی کی وجہ سے تھا، تو وہ کیفیت یہاں بھی موجود ہے۔“ (یعنی ان کے ہاں بھی کشیدگی ہے)۔ [مسند امام شافعی/ كتاب العدد والسكنى والنفقات /حدیث: 1317]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري، الطلاق، باب قصة فاطمة بنت قيس وقول الله عز وجل ﴿واتقوا الله ...﴾ رقم: (5322،5321).»