مسند الشافعی سے متعلقہ
1. بَابُ مَا لَا قِصَاصَ فِيهِ وَلَا دِيَةَ
جن میں نہ قصاص ہے اور نہ دیت کا بیان
حدیث نمبر: 1669
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُسْلِمٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَظُنُّهُ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةً، قَالَ: وَكَانَ يَعْلَى يَقُولُ: وَكَانَتْ تِلْكَ الْغَزْوَةُ أَوْثَقَ عَمَلِي فِي نَفْسِي. قَالَ عَطَاءٌ: قَالَ صَفْوَانُ: قَالَ يَعْلَى: كَانَ لِي أَجِيرٌ فَقَاتَلَ إِنْسَانًا، فَعَضَّ أَحَدُهُمَا يَدَ الْآخَرِ فَانْتَزَعَ يَعْنِي الْمَعْضُوضُ يَدَهُ مِنْ فِي الْعَاضِّ، فَذَهَبَتْ إِحْدَى ثَنِيَّتَيْهِ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهْدَرَ ثَنِيَّتَهُ. قَالَ عَطَاءٌ: وَحَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"أَيَدَعُ يَدَهُ فِي فِيكَ تَقْضَمُهَا كَأَنَّهَا فِي فَحْلٍ يَقْضَمُهَا". قَالَ عَطَاءٌ: وَقَدْ أَخْبَرَنِي صَفْوَانُ أَيَّهُمَا عَضَّ فَنَسِيتُهُ.
یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں شرکت کی۔ صفوان رحمہ اللہ نے کہا، اور یعلی رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ یہ غزوہ میرے خیال میں میرے دوسرے اعمال کی نسبت زیادہ قابلِ بھروسہ تھا۔ عطاء رحمہ اللہ نے کہا، صفوان نے کہا، یعلی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرا ایک مزدور تھا، وہ ایک انسان سے لڑ پڑا، ان میں سے ایک نے دوسرے کے ہاتھ پر دانت سے کاٹا، جس کا ہاتھ کاٹا جا رہا تھا اس نے کاٹنے والے کے منہ سے اپنے ہاتھ کو کھینچا تو اس کے سامنے والے دانتوں میں سے ایک دانت ٹوٹ گیا۔ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے اگلے دانت کو رائگاں بنادیا۔ عطاء نے کہا، میرے خیال میں انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا وہ اپنا ہاتھ تیرے منہ میں چھوڑ دیتا کہ تو اسے ایسے چبا جاتا جیسے اونٹ اپنے منہ میں چباتا ہے۔“ عطاء نے کہا مجھے صفوان نے بتایا تھا کہ کس نے دانت سے کاٹا تھا لیکن میں بھول گیا ہوں۔ [مسند الشافعی/ كتاب العتق /حدیث: 1669]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري، الإجارة، باب الأجير في الغذو (2265) ومسلم، القسامة والمحاربين، باب الصائل على نفس الانسان وعضوه ..... الخ (1673)، (1674).»
حدیث نمبر: 1670
أَخْبَرَنَا مُسْلِمٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ: أَنَّ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ أَخْبَرَهُ: أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ إِنْسَانًا جَاءَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَعَضَّهُ إِنْسَانٌ فَانْتَزَعَ يَدَهُ مِنْهُ، فَذَهَبَتْ ثَنِيَّتَهُ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: تَعَدَّتْ ثَنِيَّتُهُ.
ابو ملیکہ نے بیان فرمایا کہ ایک انسان ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اور اس کو ایک دوسرے انسان نے دانت سے کاٹا تو اس نے اپنا ہاتھ اس سے کھینچا کہ اس کا ایک سامنے کا دانت گر گیا، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، اس کا سامنے کا دانت رائیگاں چلا گیا۔ [مسند الشافعی/ كتاب العتق /حدیث: 1670]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري، الإجارة، باب الأجير في الغزو (2266).»
حدیث نمبر: 1671
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"لَوْ أَنَّ امْرَأً اطَّلَعَ عَلَيْكَ بِغَيْرِ إِذْنٍ فَحَذَفْتَهُ بِحَصَاةٍ فَفَقَأْتَ عَيْنَهُ مَا كَانَ عَلَيْكَ جُنَاحٌ".
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کوئی شخص تیرے گھر میں بغیر اجازت کے جھانکے اور تم اسے کنکری مار دو جس سے اس کی آنکھ پھوٹ جائے تو تجھ پر کوئی گناہ نہیں۔“ [مسند الشافعی/ كتاب العتق /حدیث: 1671]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري، الديات، باب من اخذ حقه أو اقتص دون السلطان (1888)، (6902) ومسلم، الآداب، باب تحريم النظر في بيت غيره (2158).»
حدیث نمبر: 1672
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ، يَقُولُ: اطَّلَعَ رَجُلٌ مِنْ جُحْرٍ فِي حُجْرَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِدْرًى يَحُكُّ بِهَا رَأْسَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَوْ أَعْلَمُ أَنَّكَ تَنْظُرُ لَطَعَنْتُ بِهِ فِي عَيْنِكَ، إِنَّمَا جُعِلَ الِاسْتِئْذَانُ مِنْ أَجْلِ الْبَصَرِ".
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی حجرہ میں سوراخ سے دیکھا، (اس وقت) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک کنگھا تھا جس سے سر مبارک کھجا رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تم جھانک رہے ہو تو میں یہی کنگھا تیری آنکھ میں چوبھ دیتا، کیونکہ اجازت کا مطالبہ تو دیکھنے کی وجہ سے ہے۔“ [مسند الشافعی/ كتاب العتق /حدیث: 1672]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري، الاستئذان، باب الاستئذان من اجل البصر (6241) ومسلم، الآداب، باب تحريم النظر في بيت غيره (2156).»
حدیث نمبر: 1673
أَخْبَرَنَا الثَّقَفِيُّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي بَيْتِهِ رَأَى رَجُلًا اطَّلَعَ عَلَيْهِ فَأَهْوَى لَهُ بِمِشْقَصٍ فِي يَدِهِ، كَأَنَّهُ لَوْ لَمْ يَتَأَخَّرْ لَمْ يُبَالِ أَنْ يَطْعَنَهُ. أَخْرَجَ الْخَمْسَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ جِرَاحِ الْعَمْدِ.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں تشریف فرما تھے کہ ایک آدمی کو دیکھا جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھانکا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف تیر کا پھل جھکایا جو آپ کے ہاتھ میں تھا، گویا کہ اگر وہ پیچھے نہ ہٹتا تو آپ کو اس بات کی کوئی پرواہ نہ تھی کہ اس پھل سے اس کی آنکھ چبھ جاتی۔ [مسند الشافعی/ كتاب العتق /حدیث: 1673]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري، الديات، باب من اخذ حقه أو اقتص دون السلطان (6889) ومسلم، الآداب، باب تحريم النظر في بيت غيره (2157).»
2. بَابُ الْقَسَامَةِ
قسامت کا بیان
حدیث نمبر: 1674
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، وَرِجَالٌ مِنْ كُبَرَاءِ قَوْمِهِ: أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ وَمُحَيِّصَةَ خَرَجَا إِلَى خَيْبَرَ مِنْ جَهْدٍ أَصَابَهُمَا، فَتَفَرَّقَا فِي حَوَائِجِهِمَا فَأُتِيَ مُحَيِّصَةُ فَأُخْبِرَ: أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ قَدْ قُتِلَ وَطُرِحَ فِي فَقِيرٍ أَوْ عَيْنٍ فَأَتَى يَهُودَ، فَقَالَ: وَاللَّهِ أَنْتُمْ قَتَلْتُمُوهُ. قَالُوا: وَاللَّهِ مَا قَتَلْنَاهُ، فَأَقْبَلَ حَتَّى قَدِمَ عَلَى قَوْمِهِ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُمْ، فَأَقْبَلَ هُوَ وَأَخُوهُ حُوَيِّصَةُ وَهُوَ أَكْبَرُ مِنْهُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ أَخُو الْمَقْتُولِ فَذَهَبَ مُحَيِّصَةُ يَتَكَلَّمُ وَهُوَ الَّذِي كَانَ بِخَيْبَرَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمُحَيِّصَةَ:"كَبِّرْ كَبِّرْ"، يُرِيدُ السِّنَّ. فَتَكَلَّمَ حُوَيِّصَةُ، ثُمَّ تَكَلَّمَ مُحَيِّصَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِمَّا أَنْ يَدُوا صَاحِبَكُمْ وَإِمَّا أَنْ يُؤْذِنُوا بِحَرْبٍ". فَكَتَبَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ. فَكَتَبُوا: إِنَّا وَاللَّهِ مَا قَتَلْنَاهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحُوَيِّصَةَ وَمُحَيِّصَةَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ:"تَحْلِفُونَ وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبِكُمْ؟". قَالُوا: لَا، قَالَ:"فَتَحْلِفُ يَهُودُ". قَالُوا: لَا لَيْسُوا بِمُسْلِمِينَ، فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ بِمِائَةِ نَاقَةٍ حَتَّى أُدْخِلَتْ عَلَيْهِمُ الدَّارَ، فَقَالَ سَهْلٌ: لَقَدْ رَكَضَتْنِي مِنْهَا نَاقَةٌ حَمْرَاءُ.
سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے اور ان کی قوم کے بڑے لوگوں نے خبر دی کہ عبد اللہ بن سہل بن ابی حثمہ اور محیصہ دونوں خیبر کی طرف مالی مشکلات کی وجہ سے گئے۔ جب وہ دونوں اپنی اپنی ضروریات کے لیے الگ ہوئے تو محیصہ کو خبر آئی کہ عبد اللہ بن سہل تو قتل کر دیے گئے ہیں اور انہیں ایک کنویں یا چشمے کے پاس پھینک دیا گیا ہے۔ محیصہ یہودیوں کے پاس آئے اور ان سے کہا اللہ کی قسم! تم ہی لوگوں نے انہیں قتل کیا ہے۔ انہوں نے کہا، اللہ کی قسم! ہم نے انہیں نہیں مارا۔ پھر محیصہ (خیبر سے لوٹ کر) اپنی قوم والوں کے پاس آئے اور انہیں یہ واقعہ سنایا۔ پھر وہ اور ان کے بڑے بھائی حویصہ اور مقتول کے بھائی عبد الرحمن بن سہل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ محیصہ چونکہ خیبر میں اس وقت موجود تھے اس لیے انہوں نے گفتگو شروع کر دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محیصہ سے فرمایا: ”بڑے کو بات کرنے دو“ یعنی جو عمر میں بڑا ہے۔ پھر حویصہ نے بات کی بعد میں محیصہ نے بات کی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یا تو وہ تمہارے ساتھی (عبداللہ) کی دیت دیں اور یا پھر انہیں جنگ کا نوٹس دیا جائے۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس مقدمہ کے سلسلہ میں لکھا، تو انہوں نے جواب میں لکھا، اللہ کی قسم! ہم نے انہیں قتل نہیں کیا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حویصہ، محیصہ اور عبد الرحمن سے کہا: ”تم قسم کھاؤ تو تمہارے ساتھی کا خون ان پر ثابت ہو جائے گا۔“ انہوں نے کہا، ہم قسم نہیں کھاتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر یہودی قسم کھائیں گے۔“ انہوں نے کہا، نہیں وہ تو مسلمان نہیں ہیں۔ آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس سے عبد اللہ کی دیت میں سو اونٹنیاں انہیں دے دیں۔ یہاں تک کہ یہ اونٹنیاں ان کے گھر پہنچا دی گئیں۔ سہل نے کہا، ان میں سے ایک سرخ اونٹنی نے مجھے لات دے ماری تھی۔ [مسند الشافعی/ كتاب العتق /حدیث: 1674]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخارى، الأحكام، باب كتاب الحاكم إلى عماله والقاضى الى امنائه (7192) ومسلم، القسامة والمحاربين، باب القسامة (1669).»
حدیث نمبر: 1675
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ: أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ وَمُحَيِّصَةَ بْنَ مَسْعُودٍ خَرَجَا إِلَى خَيْبَرَ فَتَفَرَّقَا لِحَاجَتِهِمَا فَقُتِلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلٍ، فَانْطَلَقَ هُوَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ أَخُو الْمَقْتُولِ وَحُوَيِّصَةُ بْنُ مَسْعُودٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرُوا لَهُ قَتْلَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَهْلٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"تَحْلِفُونَ خَمْسِينَ يَمِينًا وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ قَاتِلِكُمْ أَوْ صَاحِبِكُمْ"، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَمْ نَشْهَدْ وَلَمْ نَحْضُرْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"فَتُبْرِئُكُمْ يَهُودُ خَمْسِينَ يَمِينًا". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ نَقْبَلُ أَيْمَانَ قَوْمٍ كُفَّارٍ، فَزَعَمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقَلَهُ مِنْ عِنْدِهِ. قَالَ بَشِيرُ بْنُ يَسَارٍ، قَالَ سَهْلٌ: لَقَدْ رَكَضَتْنِي فَرِيضَةٌ مِنْ تِلْكَ الْفَرَائِضِ فِي مِرْبَدٍ لَهَا.
سہل بن ابوحثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عبد اللہ بن سہل اور محیصہ بن مسعود خیبر کی طرف گئے، پھر دونوں اپنی ضروریات کے لیے علیحدہ علیحدہ ہو گئے کہ عبد اللہ بن سہل قتل کر دیے گئے۔ پھر محیصہ، مقتول کا بھائی عبد الرحمن اور حویصہ بن مسعود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلے آئے، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عبد اللہ بن سہل کے قتل کا واقعہ بیان کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم پچاس قسمیں کھاؤ اور اپنے مقتول یا اپنے ساتھی کی دیت کے مستحق ہو جاؤ گے۔“ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم تو اس وقت وہاں موجود نہ تھے۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر یہود پچاس قسموں سے تم سے چھٹکارا پا لیں گے۔“ انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم کافر قوم کی قسموں کو کیسے قبول کریں۔“ اس نے خیال کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دیت اپنی طرف سے ادا کر دی۔ بشیر بن یسار نے کہا کہ سہل نے فرمایا، مجھے ان دیت کے اونٹوں میں سے ایک اونٹنی نے تھان (اونٹوں کا باڑا) میں لات دے ماری۔ [مسند الشافعی/ كتاب العتق /حدیث: 1675]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: الأدب، باب اكرام الكبير، ويبدأ الأكبر بالكلام والسؤال (6143)، (6142)، (2702). ومسلم، القسامة والمحاربين، باب القسامة (1669).»
حدیث نمبر: 1676
أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلٍ: أَنَّ سَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ أَخْبَرَهُ، وَرِجَالٌ مِنْ كُبَرَاءِ قَوْمِهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِحُوَيِّصَةَ وَمُحَيِّصَةَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ:"تَحْلِفُونَ وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبِكُمْ"، قَالُوا: لَا. قَالَ:"فَتَحْلِفُ يَهُودُ".
سہل بن ابوحثمہ رضی اللہ عنہ اور ان کی قوم کے بڑے لوگوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حویصہ، محیصہ اور عبد الرحمن سے کہا: ”تم قسمیں دو گے تو اپنے ساتھی کے خون کے مستحق ٹھہرو گے۔“ انہوں نے کہا: ”نہیں“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر یہود قسم کھائیں گے۔“ [مسند الشافعی/ كتاب العتق /حدیث: 1676]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق برقم (1674).»
حدیث نمبر: 1677
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ وَالثَّقَفِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدَأَ بِالْأَنْصَارِيَّيْنِ، فَلَمَّا لَمْ يَحْلِفُوا رَدَّ الْأَيْمَانَ عَلَى يَهُودَ.
سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتدا انصاریوں سے کی جب انہوں نے قسمیں نہ اٹھائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسموں کو یہودیوں پر لوٹا دیا۔ [مسند الشافعی/ كتاب العتق /حدیث: 1677]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، القسامة والمحاربين باب القسامة (1669).»
حدیث نمبر: 1678
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
ایک اور سند سے بشیر بن یسار کے واسطہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سابقہ حدیث کی مثل مروی ہے۔ [مسند الشافعی/ كتاب العتق /حدیث: 1678]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق برقم (1677).»