🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند امام شافعی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الشافعی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1819)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. بَابُ غَزْوَةِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَبَنِي النَّضِيرِ
غزوہ بنی مصطلق اور بنی نضیر کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1746
أَخْبَرَنَا بَعْضُ أَصْحَابِنَا، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ [ ص: 34 ] ابْنَ شِهَابٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُغِيرَ صَبَاحًا عَلَى أَهْلِ أُبْنَى وَأُحَرِّقَ. أَخْرَجَ الثَّلَاثَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ قِتَالِ الْمُشْرِكِينَ، وَإِلَى آخِرِ السَّادِسِ مِنْ كِتَابِ الْأُسَارَى وَالْغُلُولِ.
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ میں صبح کے وقت ابنیٰ کے علاقے پر حملہ کروں اور ان (کے ساز و سامان) کو جلا دوں۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الجهاد وقسم الغنائم /حدیث: 1746]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف اخرجه ابوداود، الجهاد، باب في الحرق في بلاد العدو (2616) . وابن ماجة الجهاد، باب التحريق بأرض العدو (2843).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. بَابُ غَزْوَةِ يَوْمِ حُنَيْنٍ وَتَنْفِيلِ الْقَاتِلِ سَلَبَ الْمَقْتُولِ
غزوہ حنین اور مقتول کا سامان اسے قتل کرنے والے کو دینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1747
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حُنَيْنٍ، فَلَمَّا الْتَقَيْنَا كَانَتِ لِلْمُسْلِمِينَ جَوْلَةٌ فَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَدْ عَلَا رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، قَالَ: فَاسْتَدَرْتُ لَهُ حَتَّى أَتَيْتُهُ مِنْ وَرَائِهِ فَضَرَبْتُهُ عَلَى حَبْلِ عَاتِقِهِ ضَرْبَةً فَأَقْبَلَ عَلَيَّ فَضَمَّنِي ضَمَّةً وَجَدْتُ مِنْهَا رِيحَ الْمَوْتِ، ثُمَّ أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ فَأَرْسَلَنِي، فَلَحِقْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقُلْتُ لَهُ: مَا بَالُ النَّاسِ؟ قَالَ: أَمْرُ اللَّهِ، ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ رَجَعُوا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ"، فَقُمْتُ، فَقُلْتُ: مَنْ يَشْهَدُ لِي؟ ثُمَّ جَلَسْتُ، فَقَالَهَا الثَّانِيَةَ، فَقُمْتُ فَقُلْتُ: مَنْ [ ص: 35 ] يَشْهَدُ لِي ثُمَّ جَلَسْتُ، فَقَالَهَا الثَّالِثَةَ، فَقُمْتُ فِي الثَّالِثَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا لَكَ يَا أَبَا قَتَادَةَ؟ فَاقْتَصَصْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: صَدَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَسَلَبُ ذَلِكَ الْقَتِيلِ عِنْدِي، فَأَرْضِهِ عَنِّي، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: لَاهَا اللَّهِ إِذًا لَا نَعْمِدُ إِلَى أَسَدٍ مِنْ أُسْدِ اللَّهِ تَعَالَى يُقَاتِلُ عَنِ اللَّهِ تَعَالَى فَنُعْطِيكَ سَلَبَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"صَدَقَ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ" قَالَ أَبُو قَتَادَةَ: فَأَعْطَانِيهِ، فَبَعَثَ الدِّرْعَ، فَابْتَعْتُ مَخْرَفًا فِي بَنِي سَلَمَةَ، فَإِنَّهُ لَأَوَّلُ مَا تَأَثَّلْتُ فِي الْإِسْلَامِ. قَالَ مَالِكٌ: الْمَخْرَفُ النَّخْلُ. أَخْرَجَهُ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ.
ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ ہم غزوہ حنین کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، جب ہم دشمن سے ملے تو ابتداء میں مسلمان ڈگمگانے لگے کہ میں نے مشرکوں میں سے ایک آدمی کو دیکھا جو ایک مسلمان پر غالب ہو چکا تھا، میں جلدی سے اس کی طرف مڑا یہاں تک کہ میں نے اس کے پیچھے سے آ کر اس کی گردن پر تلوار دے ماری، پھر وہ میری طرف مڑا اور مجھے اس قدر زور سے بھینچا کہ مجھے موت کا خدشہ محسوس ہوا، پھر اس کو موت نے آ لیا تب اس نے مجھے چھوڑا۔ پھر میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے بعد میں ملا تو میں نے ان سے پوچھا: اب لوگوں کا کیا حال ہے؟ انہوں نے کہا: جو اللہ کا حکم تھا وہ ہوا۔ پھر لوگ (یعنی مسلمان) جنگ میں واپس آگئے (یعنی سنجل گئے) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی کافر کو قتل کیا اور اس پر گواہی ہو تو اس (مقتول کافر) کا سارا ساز و سامان اسے ملے گا۔ (ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) میں کھڑا ہوا اور میں نے کہا: میری طرف سے کون گواہی دے گا؟ پھر میں بیٹھ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی بات دوبارہ کہی تو میں نے کھڑے ہو کر کہا: میری طرف سے کون گواہی دے گا؟ (کسی نے گواہی نہ دی) تو میں پھر بیٹھ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری بار یہی بات دہرائی تو میں تیسری بار کھڑا ہوگیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابو قتادہ کیا ہے؟ پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سارا واقعہ بیان کیا تو قوم سے ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس نے سچ کہا، اور اس مقتول کا سامان میرے پاس ہے، اور آپ میرے حق میں انہیں راضی کر دیں۔ لیکن ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں اللہ کی قسم! ہم اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر کے ساتھ ایسا نہیں کریں گے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے لیے لڑے اور ہم اس کا مال تمہیں دے دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابو بکر نے سچ کہا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ سامان انہیں دے دیا۔ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مجھے وہ سامان دیا تو میں نے زرہ بیچی اور بنو سلمہ میں ایک باغ خریدا، اور یہ وہ پہلا مال تھا جو اسلام لانے کے بعد میں نے حاصل کیا۔ امام مالک نے فرمایا: مخرف کا مطلب ہے نخل (کھجور)۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الجهاد وقسم الغنائم /حدیث: 1747]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخارى، البيوع، باب بيع السلاح في الفتنة وغيرها (2100)، (3142) ومسلم، الجهاد، باب استحقاق القاتل سلب القتيل (1751).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. بَابُ الْمُظَاهَرَةِ بَيْنَ دِرْعَيْنِ
دو زرہوں کو ایک دوسرے کے اوپر پہننے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1748
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ظَاهَرَ يَوْمَ أُحُدٍ بَيْنَ دُرْعَيْنِ. أَخْرَجَهُ مِنْ كِتَابِ الْأُسَارَى وَالْغُلُولِ.
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احد کے دن دو زرہیں اوپر تلے پہنیں۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الجهاد وقسم الغنائم /حدیث: 1748]
تخریج الحدیث: «صحیح اخرجه ابن ماجة الجهاد باب السلاح (2806) والنسائي في الكبرى (8583).» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. بَابُ قَسْمِ الْمَغْنَمِ
مالِ غنیمت کی تقسیم کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1749
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الثِّقَةُ مِنْ أَصْحَابِنَا، عَنْ إِسْحَاقَ الْأَزْرَقِ الْوَاسِطِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ لِلْفَرَسِ بِسَهْمَيْنِ وَلِلْفَارِسِ بِسَهْمٍ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (مالِ غنیمت سے) گھوڑے کے لیے دو حصے اور اس کے مالک کے لیے ایک حصہ مقرر فرمایا۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الجهاد وقسم الغنائم /حدیث: 1749]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخارى الجهاد والسير، باب سهام الفرس (2863) ومسلم، الجهاد، باب كيفية قسمة الغنيمه بين الحاضرين (1762).» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1750
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ: أَنَّ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ كَانَ يَضْرِبُ فِي الْمَغْنَمِ بِأَرْبَعَةِ أَسْهُمٍ: سَهْمٍ لَهُ وَسَهْمَيْنِ لِفَرَسِهِ وَسَهْمٍ فِي ذِي الْقُرْبَى. قَالَ الشَّافِعِيُّ: يَعْنِي، وَاللَّهُ أَعْلَمُ، بِسَهْمِ ذِي الْقُرْبَى سَهْمَ صَفِيَّةَ أُمِّهِ، وَقَدْ شَكَّ سُفْيَانُ، أَحْفَظُهُ عَنْ هِشَامٍ، عَنْ يَحْيَى سَمَاعًا، وَلَمْ يَشُكَّ سُفْيَانُ أَنَّهُ مِنْ حَدِيثِ هِشَامٍ، عَنْ يَحْيَى هُوَ وَلَا غَيْرُهُ مِمَّنْ حَفِظَهُ عَنْ هِشَامٍ.
يحيى بن عباد بن عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ زبیر بن العوام غنیمت میں چار حصے لیتے تھے۔ ایک حصہ ان کا، دو حصے ان کے گھوڑے کے، اور ایک حصہ ذی القربی (رشتہ دار) کا۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: یعنی، اور اللہ خوب جانتے ہیں۔ قرابت کے حصے سے مراد ان کی ماں صفیہ رضی اللہ عنہا کا حصہ ہے۔ سفیان کو اس میں شک ہوا ہے کہ آیا اس نے یہ بات ہشام سے سماعاً (سن کر) یاد کی ہے۔ سفیان کو یہ شک نہیں ہوا کہ یہ ہشام کی یحیی کے واسطے سے حدیث ہے نہ انہیں نہ ان کے علاوہ کسی کو جس نے ہشام سے یاد کیا۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الجهاد وقسم الغنائم /حدیث: 1750]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه: اخرجه البيهقى 9/52 - وفى المعرفة السنن والآثار له (5344).» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1751
أَخْبَرَنَا مُطَرِّفُ بْنُ مَازِنٍ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: لَمَّا قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْمَ ذِي الْقُرْبَى بَيْنَ بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ أَتَيْتُهُ أَنَا وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَؤُلَاءِ إِخْوَانُنَا مِنْ بَنِي هَاشِمٍ لَا نُنْكِرُ فَضْلَهُمْ لِمَكَانِكَ الَّذِي وَضَعَكَ اللَّهُ بِهِ مِنْهُمْ، [ ص: 38 ] أَرَأَيْتَ إِخْوَانَنَا مِنْ بَنِي الْمُطَّلِبِ أَعْطَيْتَهُمْ وَتَرَكْتَنَا أَوْ مَنَعْتَنَا، وَإِنَّمَا قَرَابَتُنَا وَقَرَابَتُهُمْ وَاحِدَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِنَّمَا بَنُو هَاشِمٍ وَبَنُو الْمُطَّلِبِ شَيْءٌ وَاحِدٌ هَكَذَا". وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ.
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریبی رشتہ داروں کا حصہ بنو ہاشم اور بنو مطلب میں تقسیم کیا تو میں اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ ہمارے بنو ہاشم کے بھائی ہیں، ہم ان کی فضیلت کا انکار نہیں کرتے کیونکہ اللہ نے آپ کو ان میں رکھا ہے، لیکن آپ کا ہمارے بنو مطلب کے بھائیوں کے متعلق کیا خیال ہے کہ آپ نے انہیں قرابت کا حصہ دیا اور ہمیں چھوڑ دیا یا منع کیا، حالانکہ ہماری اور ان کی آپ سے رشتہ داری ایک جیسی ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنو ہاشم اور بنو مطلب ایک ہی چیز ہیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں ڈالا۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الجهاد وقسم الغنائم /حدیث: 1751]
تخریج الحدیث: «صحيح من غير هذا الطريق: اخرجه البخارى فرض الخمس، باب ومن الدليل على أن الخمس (3140)، (3502).» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1752
أَخْبَرَنَا، أَحْسَبُهُ دَاوُدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارَ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ. قَالَ الْقَاضِي أَبُو بَكْرٍ الْحِيرِيُّ: وَفِي نُسْخَةِ أُخْرَى، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ مَعْنَاهُ.
ایک سند میں زہری رحمہ اللہ کے واسطہ سے جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ اور دوسرے نسخہ میں عن زہری عن ابن مسیب عن جبیر بن مطعم سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سابقہ حدیث کے ہم معنی مروی ہے۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الجهاد وقسم الغنائم /حدیث: 1752]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري، المغازی، باب غزوة خيبر (4229).» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1753
أَخْبَرَنَا الثِّقَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ مَعْنَاهُ. [ ص: 39 ] قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِمُطَرِّفِ بْنِ مَازِنٍ: أَنَّ يُونُسَ وَابْنَ إِسْحَاقَ رَوَيَا حَدِيثِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ كَمَا وَصَفْتُ، فَلَعَلَّ ابْنَ شِهَابٍ رَوَاهُ عَنْهُمَا مَعًا.
ایک اور سند سے جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سابقہ حدیث کے ہم معنی مروی ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے یہ بات مطرف بن مازن سے کہی کہ یونس اور ابن اسحاق دونوں نے ابن شہاب کی حدیث کو ابن مسیب سے روایت کیا ہے۔ تو انہوں نے فرمایا: ہمیں معمر نے حدیث بیان کی جس طرح میں نے بیان کیا اور شاید ابن شہاب نے اس کو ان دونوں سے ایک ہی وقت میں روایت کیا ہو۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الجهاد وقسم الغنائم /حدیث: 1753]
تخریج الحدیث: «صحيح: اخرجه ابوداود، الخراج والفى والامارة، باب فی بیان مواضع قسم الخمس وسهم ذي القربي (2980) والنسائی، کتاب قسم الفي (4142).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1754
أَخْبَرَنَا عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، وَزَادَ: لَعَنَ اللَّهُ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ.
علی بن حسین رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح بیان کرتے ہیں۔ اور یہ الفاظ زیادہ کیے کہ اللہ کی لعنت ہو اس پر جس نے بنو ہاشم اور بنو مطلب میں تفریق ڈالی۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الجهاد وقسم الغنائم /حدیث: 1754]
تخریج الحدیث: «صحيح بدون الزيادة، وهذه الزيادة ضعيفة لأن السند الذى جاء بها معضل اخرجه البيهقي في المعرفة السنن والآثار (3996).» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1755
أَخْبَرَنَا الثِّقَةُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، قَالَ: قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْمَ ذِي الْقُرْبَى بَيْنَ بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ وَلَمْ يُعْطِ مِنْهُ أَحَدًا مِنْ بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ وَلَا بَنِي نَوْفَلٍ شَيْئًا.
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رشتہ داری کا حصہ بنو ہاشم اور بنو مطلب میں تقسیم کیا اور اس میں سے بنو عبد شمس اور بنو نوفل میں سے کسی آدمی کو کچھ بھی نہیں دیا۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الجهاد وقسم الغنائم /حدیث: 1755]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح اخرجه البيهقي في المعرفة السنن والآثار (3995) وانظر الحديث الذي قبله (1751)، (1753)،(1752).» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں