🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند امام شافعی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الشافعی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1819)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. بَابُ قَسْمِ الْمَغْنَمِ
مالِ غنیمت کی تقسیم کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1756
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ وَرَجُلٍ لَمْ يُسَمِّهِ، كِلَاهُمَا عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: لَقِيتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عِنْدَ أَحْجَارِ الزَّيْتِ، فَقُلْتُ لَهُ: بِأَبِي وَأُمِّي مَا فَعَلَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي حَقِّكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ مِنَ الْخُمُسِ؟ فَقَالَ: عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَمَّا أَبُو بَكْرٍ، رَحِمَهُ اللَّهُ، فَلَمْ يَكُنْ فِي زَمَانِهِ أَخْمَاسٌ، وَمَا كَانَ فَقَدْ أَوْفَانَاهُ. وَأَمَّا عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَلَمْ يَزَلْ يُعْطِينَاهُ حَتَّى جَاءَهُ مَالُ السُّوسِ وَالْأَهْوَازِ، أَوْ قَالَ: الْأَهْوَازِ، أَوْ قَالَ: فَارِسَ، أَنَا أَشُكُّ، يَعْنِي الشَّافِعِيَّ، فَقَالَ: فِي [ ص: 40 ] حَدِيثِ مَطَرٍ أَوْ حَدِيثِ الْآخَرِ، فَقَالَ: فِي الْمُسْلِمِينَ خَلَّةٌ، فَإِنْ أَحْبَبْتُمْ تَرَكْتُمْ حَقَّكُمْ فَجَعَلْنَاهُ فِي خَلَّةِ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى يَأْتِيَنَا مَالٌ فَنُوَفِّيكُمْ حَقَّكُمْ مِنْهُ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ لِعَلِيٍّ: أَتُطْمِعُهُ فِي حَقِّنَا، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا الْفَضْلِ أَلَسْنَا أَحَقَّ مَنْ أَجَابَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَرَفَعَ خَلَّةَ الْمُسْلِمِينَ؟ فَتُوُفِّيَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَهُ مَالٌ فَيَقْضِينَاهُ. وَقَالَ: الْحَكَمُ فِي حَدِيثِ مَطَرٍ وَالْآخَرِ: إِنَّ عُمَرَ قَالَ: لَكُمْ حَقٌّ: وَلَا يَبْلُغُ عِلْمِي إِذْ كَثُرَ أَنْ يَكُونَ لَكُمْ كُلُّهُ فَإِنْ شِئْتُمْ أَعْطَيْتُكُمْ مِنْهُ بِقَدَرِ مَا أَرَى لَكُمْ، فَأَبَيْنَا عَلَيْهِ إِلَّا كُلَّهُ فَأَبَى أَنْ يُعْطِيَنَا.
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ نے بیان کیا کہ میں علی رضی اللہ عنہ سے احجار الزیت (یہ مدینہ میں ایک جگہ کا نام ہے) کے پاس ملا تو میں نے ان سے پوچھا: میرے ماں باپ آپ پر قربان، ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نے تم اہل بیت کے خمس کے حق کا کیا کیا؟ تو علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جہاں تک ابوبکر رضی اللہ عنہ کا تعلق ہے، اللہ ان پر رحم کرے، ان کے عہد میں خمس (کے نئے اموال) نہیں تھے، اور جو کچھ (پہلے سے) تھا اس سے انہوں نے ہمیں پورا پورا دیا۔ اور عمر رضی اللہ عنہ بھی ہمیں ہمیشہ دیتے رہے حتیٰ کہ ان کے پاس سوس اور اہواز کا مال آیا (یا فرمایا: اہواز یا فارس، امام شافعی کو شک ہے)۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اب مسلمانوں میں مفلسی ہے، اگر تم چاہو تو تم اپنا حق چھوڑ دو اور ہم اسے مسلمانوں کی محتاجی دور کرنے میں صرف کر دیں یہاں تک کہ ہمارے پاس پھر مال آئے اور ہم اس سے تمہارا حق پورا کر دیں۔ تو عباس رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ انہیں ہمارے حق پر طمع دلاتے ہیں؟ تو میں نے ان سے کہا: اے ابوالفضل! کیا ہم اس کے زیادہ حق دار نہیں کہ امیر المومنین کی بات مانیں اور مسلمانوں کی مفلسی دور کریں؟ پھر عمر رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے اس سے پہلے کہ ان کے پاس مال آتا اور وہ ہمیں ادائیگی کرتے۔ حکم اور ایک دوسرے راوی نے حدیثِ مطر میں فرمایا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہارے لیے حق ہے لیکن مجھے نہیں معلوم کہ جب یہ مال بہت زیادہ ہو جائے تو کیا وہ سارے کا سارا تمہارے لیے ہے؟ اگر تم چاہو تو میں تمہیں اتنا دیتا ہوں جتنا میں تمہارا حق خیال کرتا ہوں۔ (علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا) ہم نے انکار کیا مگر یہ کہ ہمیں سارا دیا جائے، تو عمر رضی اللہ عنہ نے بھی ہمیں دینے سے انکار کر دیا۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الجهاد وقسم الغنائم /حدیث: 1756]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، لضعف شيخ الشافعي ومطر بن طهمان اخرجه البيهقي: 344/6 - وفي المعرفة السنن والآثار له (3999).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1757
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ أَنَّ عُمَرَ قَالَ: مَا أَحَدٌ إِلَّا وَلَهُ فِي هَذَا الْمَالِ حَقٌّ أُعْطِيَهُ أَوْ مُنِعَهُ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ.
مالک بن اوس سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہر ایک کا اس مال میں حق ہے، وہ اسے دیا گیا ہو یا اس سے روک لیا گیا ہو، سوائے تمہارے غلاموں کے۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الجهاد وقسم الغنائم /حدیث: 1757]
تخریج الحدیث: «صحیح: اخرجه ابوداود، الخراج والفئ والإمارة، باب فيما يلزم الامام عن..... الخ (2950).» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1758
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عُمَرَ، نَحْوَهُ، وَقَالَ: لَئِنْ عِشْتُ لَيَأْتِيَنَّ الرَّاعِي بِسَرْوِ حِمْيَرَ حَقُّهُ. أَخْرَجَ الْعَشَرَةَ الْأَحَادِيثَ، وَقَوْلَ الشَّافِعِيِّ مِنْ كِتَابِ قِسْمَةِ الْفَيْءِ.
مالک بن اوس سے عمر رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے اسی طرح مروی ہے اور (مزید) فرمایا: اگر میں زندہ رہا تو سیرِ حمیر کے چرواہے کے پاس بھی اس کا حق پہنچے گا۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الجهاد وقسم الغنائم /حدیث: 1758]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف شیخ الشافعي: اخرجه البيهقى فى المعرفة السنن والآثار، رقم: (4010).» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. بَابٌ مِنْهُ فِي تَنْفِيلِ السَّرِيَّةِ
لشکر کے دستے کو اضافی مالِ غنیمت دینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1759
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِيَّةً فِيهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قِبَلَ نَجْدٍ، فَغَنِمُوا إِبِلًا كَثِيرَةً فَكَانَتْ سُهْمَانُهُمُ اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا أَوْ أَحَدَ عَشَرَ بَعِيرًا، ثُمَّ نُفِّلُوا بَعِيرًا بَعِيرًا. أَخْرَجَهُ مِنْ كِتَابِ قِسْمَةِ الْفَيْءِ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی طرف ایک لشکر روانہ کیا جس میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے۔ انہیں غنیمت میں بہت زیادہ اونٹ ملے۔ ہر مجاہد کا حصہ 12 یا 11 اونٹ تھا، پھر ایک ایک اونٹ انہیں بطورِ انعام دیا گیا۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الجهاد وقسم الغنائم /حدیث: 1759]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري، فرض الخمس، باب ومن الدليل على ان الخمس .... الخ (3134) ومسلم، الجهاد، باب الأنفال (1749).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. بَابُ الْفَرْقِ بَيْنَ الْمُقَاتِلَةِ وَالذُّرِّيَّةِ
جنگجوؤں اور اولاد کے درمیان فرق کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1760
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ [ ص: 42 ] عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: عُرِضْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ أُحُدٍ، وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً فَرَدَّنِي، ثُمَّ عُرِضْتُ عَلَيْهِ عَامَ الْخَنْدَقِ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً فَأَجَازَنِي. قَالَ نَافِعٌ: فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، فَقَالَ: هَذَا فَرْقٌ بَيْنَ الْمُقَاتِلَةِ وَالذُّرِّيَّةِ، وَكَتَبَ أَنْ يَفْرِضَ لِابْنِ خَمْسَ عَشْرَةَ فِي الْمُقَاتِلَةِ، وَمَنْ لَمْ يَبْلُغْهَا فِي الذُّرِّيَّةِ. أَخْرَجَهُ مِنْ كِتَابِ قِسْمَةِ الْفَيْءِ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان فرمایا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے غزوہ احد والے سال پیش کیا گیا اور میری عمر 14 سال تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے (جنگ میں شرکت کے لیے) قبول نہیں فرمایا، پھر میں غزوہ خندق والے سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا جبکہ میری عمر 15 سال تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دے دی۔ نافع رحمہ اللہ نے کہا کہ میں نے یہ حدیث عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو بیان کی تو انہوں نے فرمایا: یہ لڑنے والوں اور لڑکوں کے درمیان فرق (حد) ہے۔ اور لکھا کہ 15 سال والوں کو لڑنے والوں جیسا غنیمت کا حصہ مقرر کیا جائے اور جن کی عمر 15 سال نہیں ہوئی انہیں لڑکوں میں شمار کیا جائے۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الجهاد وقسم الغنائم /حدیث: 1760]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخارى الشهادات باب بلوغ الصبيان وشهادتهم (2664)، (4097) ومسلم، الامارة، باب بيان سن البلوغ (1868).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. بَابُ مَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ ﷺ مِنْ أَمْوَالِ بَنِي النَّضِيرِ
اللہ تعالیٰ نے بنو نضیر کے اموال میں سے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جو مالِ فئے عطا فرمایا اس کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1761
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: وَسَمِعْتُ ابْنَ عُيَيْنَةَ يُحَدِّثُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ: أَنَّهُ سَمِعَ مَالِكَ بْنَ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَالْعَبَّاسَ، وَعَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَخْتَصِمَانِ إِلَيْهِ فِي أَمْوَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عُمَرُ: كَانَتْ أَمْوَالُ بَنِي النَّضِيرِ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِمَّا لَمْ يُوجِفْ عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ بِخَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ، [ ص: 43 ] فَكَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِصًا دُونَ الْمُسْلِمِينَ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْفِقُ مِنْهَا عَلَى أَهْلِهِ نَفَقَةَ سَنَةٍ، فَمَا فَضَلَ جَعَلَهُ فِي الْكُرَاعِ وَالسِّلَاحِ عُدَّةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى، ثُمَّ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَلِيَهَا أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِمِثْلِ مَا وَلِيَهَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ وَلِيتُهَا بِمِثْلِ مَا وَلِيَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ سَأَلْتُمَانِي أَنْ أُولِيكُمَاهَا فَوَلَّيْتُكُمَاهَا عَلَى أَنْ تَعْمَلَا فِيهِ بِمِثْلِ مَا وَلِيَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ ثُمَّ وَلِيتُهَا فَجِئْتُمَانِي تَخْتَصِمَانِ أَتُرِيدَانِ أَنْ أَدْفَعَ إِلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا نِصْفًا؟ أَتُرِيدَانِ مِنِّي قَضَاءَ غَيْرِ مَا قَضَيْتُ بِهِ بَيْنَكُمَا أَوَّلًا؟ فَلَا وَالَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَوَاتُ وَالْأَرْضُ، لَا أَقْضِي بَيْنَكُمَا قَضَاءً غَيْرَ ذَلِكَ، فَإِنْ عَجَزْتُمَا عَنْهَا فَادْفَعَاهَا إِلَيَّ أَكْفِكُمَاهَا. قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَقَالَ لِي سُفْيَانُ: لَمْ أَسْمَعْهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ، وَلَعَلَّ أَخْبَرَنِيهِ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ. قُلْتُ: كَمَا قَصَصْتَ؟ قَالَ: نَعَمْ. أَخْرَجَهُ مِنْ كِتَابِ قِسْمَةِ الْفَيْءِ.
مالک بن اوس بن حدثان رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا جبکہ عباس اور علی رضی اللہ عنہما بھی آپ کے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اموال میں (جو اللہ نے آپ کو بطورِ فئی دیے تھے) آپس کا جھگڑا لے کر آئے۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بنو نضیر کے اموال کو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو بغیر لڑائی کے دیا تھا، جس کے لیے مسلمانوں نے گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے تھے۔ اور یہ اموال خاص طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تھے، مسلمانوں کے علاوہ (یعنی صحابہ کا کوئی حصہ نہ تھا)۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے اپنے گھر والوں کا سالانہ خرچ دیتے اور جو باقی بچتا اسے گھوڑوں اور سامانِ جنگ میں اللہ کے راستے میں جہاد کی تیاری کے لیے خرچ کرتے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے، پھر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس میں اسی طرح ولی بن کر تصرف کیا جس طرح کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا۔ پھر میں نے بھی اس میں اسی طرح ولی بن کر کیا ہے جس طرح کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کیا، پھر تم دونوں (علی اور عباس رضی اللہ عنہما) نے مجھ سے کہا کہ میں تمہیں ولی بنا دوں، تو میں نے تم دونوں کو اس شرط پر ولی بنا دیا کہ تم دونوں بھی اس میں وہی (تصرف) کرو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کیے۔ اب تم دونوں جھگڑا لے کر آئے ہو، کیا تم یہ چاہتے ہو کہ میں تم میں سے ہر ایک کو آدھا آدھا حصہ دے دوں؟ کیا تم دونوں اب مجھ سے پہلے فیصلے کے علاوہ کوئی اور فیصلہ چاہتے ہو؟ نہیں! اس ذات کی قسم جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں، میں تم میں اس کے سوا کوئی اور فیصلہ نہیں کروں گا۔ اگر تم اس سے عاجز آ گئے ہو تو پھر وہ جائیداد میرے سپرد کرو، اور میں اس کا انتظام کر لوں گا۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ مجھ سے سفیان رحمہ اللہ نے کہا: میں نے یہ حدیث زہری رحمہ اللہ سے نہیں سنی اور شاید مجھے عمرو بن دینار رحمہ اللہ نے زہری رحمہ اللہ کے واسطہ سے بتایا۔ (امام شافعی رحمہ اللہ نے کہا) میں نے پوچھا: جس طرح آپ نے واقعہ بیان کیا (اسی طرح ہی)؟ تو فرمایا: ہاں۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الجهاد وقسم الغنائم /حدیث: 1761]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري الجهاد والسير، باب المجن ومن يترس بترس صاحبه (2904) ومسلم، الجهاد، باب حكم الفي (1757).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
16. بَابٌ فِي الْعُدَّةِ
عدت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1762
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"لَوْ جَاءَنِي مَالُ الْبَحْرَيْنِ أَعْطَيْتُكَ هَكَذَا وَهَكَذَا". فَتُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَأْتِهِ، فَجَاءَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَأَعْطَانِي حِينَ جَاءَهُ. قَالَ الرَّبِيعُ: بَقِيَّةُ الْحَدِيثِ حَدَّثَنِي غَيْرُ الشَّافِعِيِّ مِنْ قَوْلِهِ:"لَوْ جَاءَنِي...". أَخْرَجَهُ مِنْ كِتَابِ قِسْمَةِ الْفَيْءِ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میرے پاس بحرین کا مال آیا تو میں تجھے اتنا اتنا دوں گا۔ مال آنے سے پہلے ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے، پھر جب وہ مال ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے مجھے اس سے دیا۔ ربیع رحمہ اللہ نے کہا کہ حدیث کا باقی ماندہ حصہ جب میرے پاس آیا... سے لے کر مجھے شافعی رحمہ اللہ کے علاوہ کسی اور نے بیان کیا ہے۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الجهاد وقسم الغنائم /حدیث: 1762]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري، الهبة وفضلها، باب اذا وهب هبة او وعد ثم مات قبل ان تصل اليه (2598) ومسلم، الفضائل، باب في سخانه (2314).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
17. بَابُ الْغَزْوِ بِالنِّسَاءِ وَحَذْوِهِنَّ مِنَ الْغَنِيمَةِ
عورتوں کے ساتھ جہاد کرنے اور انہیں مالِ غنیمت میں سے حصہ دینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1763
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ [ ص: 45 ] مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ: أَنَّ نَجْدَةَ كَتَبَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِالنِّسَاءِ؟ وَهَلْ كَانَ يَضْرِبُ لَهُنَّ بِسَهْمٍ؟ فَقَالَ: قَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِالنِّسَاءِ فَيُدَاوِينَ الْجَرْحَى، وَلَمْ يَكُنْ يُضْرَبُ لَهُنَّ بِسَهْمٍ، وَلَكِنْ يُحْذَيْنَ مِنَ الْغَنِيمَةِ.
یزید بن ہرمز سے روایت ہے کہ نجدہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو خط لکھ کر پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کو جنگ میں شریک کرتے تھے؟ اور کیا ان کے لیے (مالِ غنیمت سے) کوئی حصہ مقرر کرتے تھے؟ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب میں کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کو جنگ میں ساتھ لاتے، وہ زخمیوں کی دوا دارو کرتیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں کوئی باقاعدہ حصہ نہیں دیتے تھے، البتہ انہیں غنیمت سے کچھ ضرور دیتے تھے۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الجهاد وقسم الغنائم /حدیث: 1763]
تخریج الحدیث: «صحيح اخرجه البيهقي: 29/9، 30 وفى المعرفة السنن والآثار له (5306)، (5345).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1764
أَخْبَرَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ جَعْفَرٍ، يَعْنِي: ابْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ: أَنَّ نَجْدَةَ كَتَبَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ خِلَالٍ. فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنَّ نَاسًا يَقُولُونَ: إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ يُكَاتِبُ الْحَرُورِيَّةَ، وَلَوْلَا أَنِّي أَخَافُ أَنْ أَكْتُمَ عِلْمًا لَمْ أَكْتُبْ إِلَيْهِ، فَكَتَبَ نَجْدَةُ إِلَيْهِ: أَمَّا بَعْدُ، فَأَخْبِرْنِي هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِالنِّسَاءِ؟ وَهَلْ كَانَ يَضْرِبُ لَهُنَّ بِسَهْمٍ؟ وَهَلْ كَانَ يَقْتُلُ الصِّبْيَانَ؟ وَمَتَى يَنْقَضِي يُتْمُ الْيَتِيمِ؟ وَعَنِ الْخُمُسِ لِمَنْ هُوَ؟ فَكَتَبَ إِلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّكَ كَتَبْتَ إِلَيَّ تَسْأَلُنِي: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِالنِّسَاءِ؟ وَقَدْ كَانَ يَغْزُو بِهِنَّ فَيُدَاوِينَ الْمَرْضَى وَيُحْذَيْنَ مِنَ الْغَنِيمَةِ. وَأَمَّا السَّهْمُ فَلَمْ يَضْرِبْ لَهُنَّ بِسَهْمٍ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقْتُلِ الْوِلْدَانَ فَلَا تَقْتُلْهُمْ، إِلَّا أَنْ تَكُونَ تَعْلَمُ مِنْهُمْ مَا عَلِمَ الْخَضِرُ مِنَ الصَّبِيِّ الَّذِي قُتِلَ فَتُمَيِّزَ بَيْنَ الْمُؤْمِنِ وَالْكَافِرِ، فَتَقْتُلَ الْكَافِرَ وَتَدَعَ الْمُؤْمِنَ وَكَتَبْتَ مَتَى يَنْقَضِي يُتْمُ الْيَتِيمِ؟ وَلَعَمْرِي إِنَّ الرَّجُلَ لَتَشِيبُ لِحْيَتُهُ وَإِنَّهُ لَضَعِيفُ الْأَخْذِ ضَعِيفُ الْإِعْطَاءِ، فَإِذَا أَخَذَ لِنَفْسِهِ مِنْ صَالِحِ مَا يَأْخُذُ النَّاسُ فَقَدْ ذَهَبَ عَنْهُ الْيُتْمُ. وَكَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنِ الْخُمُسِ، وَإِنَّا نَقُولُ هُوَ لَنَا، فَأَبَى ذَلِكَ عَلَيْنَا قَوْمُنَا فَصَبَرْنَا عَلَيْهِ. [ ص: 46 ] أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ الْجِزْيَةِ، وَهُوَ أَوَّلُ حَدِيثٍ فِيهِ، وَالثَّانِي مِنْ كِتَابِ الْأُسَارَى وَالْغُلُولِ.
يزيد بن ہرمز سے روایت ہے کہ نجدہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو خط لکھ کر کچھ باتیں پوچھیں۔ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: لوگ کہتے ہیں کہ ابن عباس حروریہ کو لکھتے ہیں، اور اگر مجھے علم چھپانے کی سزا کا خوف نہ ہوتا تو میں اسے کبھی نہ لکھتا۔ نجدہ نے ان کی طرف لکھا تھا کہ حمد و ثنا کے بعد مجھے بتائیے کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنگ میں عورتوں کو ساتھ رکھتے تھے؟ اور کیا انہیں (مال غنیمت سے) حصہ دیتے تھے؟ اور کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں کو قتل کرتے تھے؟ یتیم کی یتیمی کب ختم ہوتی ہے؟ اور خمس کس کا ہے؟ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسے (جواب میں) لکھا: تو نے میرے پاس خط لکھا اور مجھ سے سوال پوچھا ہے کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کو جنگ میں ساتھ لاتے تھے؟ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ساتھ لاتے تھے اور وہ مریضوں کو دوائی دیتیں اور انہیں غنیمت سے کچھ (بطور انعام) دیا جاتا تھا۔ ہاں البتہ ان کے لیے علیحدہ حصہ نہیں نکالا جاتا تھا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (کافروں کے) بچوں کو قتل نہیں کیا لہذا تم بھی ان کو نہ مارو، مگر یہ کہ تجھے بھی خضر علیہ السلام کی طرح کسی بچے کے متعلق وہ علم ہو جائے جو خضر علیہ السلام کو تھا جب انہوں نے بچے کو مارا جس سے تو مومن اور کافر میں تمیز کر سکے اور تو کافر کو قتل کر کے مومن کو چھوڑ دے۔ اور تو نے لکھا کہ یتیم کی یتیمی کب ختم ہوتی ہے؟ مجھے عمر دینے والے کی قسم! بعض دفعہ آدمی کی ڈاڑھی نکل آتی ہے اور اسے نہ لینے کا شعور ہوتا ہے اور نہ ہی دینے کا، جب وہ اپنے فائدے کی وہ اچھی باتیں کرنے لگے جو لوگ کرتے ہیں تو اس کی یتیمی ختم ہو گئی۔ اور تو نے لکھا مجھ سے خمس کے متعلق پوچھتا ہے، تو ہم یہ کہتے ہیں کہ خمس ہمارے لیے ہے لیکن ہماری قوم نے نہ مانا تو ہم نے اس پر صبر کیا ہے۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الجهاد وقسم الغنائم /حدیث: 1764]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم، الجهاد، باب النساء الغازيات يرضخ لهن ولا يسهم.... الخ (1812).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
18. بَابُ قَسْمِ السَّوَادِ
سواد کی تقسیم کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1765
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الثِّقَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: كَانَتْ بَجِيلَةُ رُبُعَ النَّاسِ، فَقَسَّمَ لَهَا رُبُعَ السَّوَادِ. فَاسْتَغَلُّوا ثَلَاثَ أَوْ أَرْبَعَ سِنِينَ، أَنَا شَكَكْتُ ثُمَّ قَدِمْتُ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَمَعِي فُلَانَةُ بِنْتُ فُلَانٍ امْرَأَةٌ مِنْهُمْ قَدْ أَسْمَاهَا، لَا يَحْضُرُنِي ذِكْرُ اسْمِهَا. فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: لَوْلَا أَنِّي قَاسِمٌ مَسْئُولٌ لَتَرَكَتْكُمْ عَلَى مَا قُسِمَ لَكُمْ، وَلَكِنِّي أَرَى أَنْ تَرُدُّوا عَلَى النَّاسِ. أَخْرَجَهُ مِنْ كِتَابِ السِّيَرِ عَلَى سِيَرِ الْوَاقِدِيِّ، وَهُوَ أَوَّلُ حَدِيثٍ فِيهِ.
جریر رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ بجیلہ قبیلہ کے لوگ لوگوں کا چوتھائی حصہ تھے لہذا ان کے لیے سواد (سامان) کا بھی چوتھا حصہ تقسیم کیا، تین یا چار سال تک (راوی کہتا ہے) میں نے اس میں شک کیا ہے۔ وہ اسی طرح رہے (یعنی ان کی تعداد زیادہ رہی) پھر میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور میرے ساتھ ان میں سے ایک عورت فلانہ بنت فلان تھی۔ راوی کہتا ہے انہوں نے اس کا نام لیا لیکن مجھے اب اس کا نام یاد نہیں۔ تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر میں ایسا تقسیم کرنے والا نہ ہوتا کہ جس سے پوچھ کچھ ہوگی تو میں تمہیں اسی مال پر چھوڑ دیتا جو تمہارے لیے تقسیم کر دیا گیا ہے۔ لیکن اب میں سمجھتا ہوں کہ تم (مال کو) لوگوں پر لوٹا دو۔ [مسند امام شافعی/ كتاب الجهاد وقسم الغنائم /حدیث: 1765]
تخریج الحدیث: «صحيح اخرجه البيهقي: 9 / 135 - وفي المعرفة السنن والآثار له (5488) - وابن ابي شيبة (32973)، (33743)»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں