🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الشافعی سے متعلقہ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

1. بَابُ الْأَسْرِ وَالْفِدَاءِ
قیدی بنانے اور فدیہ دینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1766
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ، قَالَ: أَسَرَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ بَنِي عُقَيْلٍ، وَكَانَتْ ثَقِيفٌ قَدْ أَسَرَتْ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَدَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالرَّجُلَيْنِ اللَّذَيْنِ أَسَرَتْهُمَا ثَقِيفٌ.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے بنو عقیل میں سے ایک آدمی کو قیدی بنا لیا، جبکہ ثقیف والوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے دو آدمیوں کو قیدی بنایا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ان دو آدمیوں کے بدلے میں دیا جن کو ثقیف والوں نے قید کیا تھا۔ [مسند الشافعی/ كتاب الأسر والفداء وضرب الجزية وأخذها /حدیث: 1766]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث الآتي برقم (1767).» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1767
أَخْبَرَنَا الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ، قَالَ: أَسَرَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ بَنِي عُقَيْلٍ، فَأَوْثَقُوهُ فَطَرَحُوهُ فِي الْحَرَّةِ، فَمَرَّ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ مَعَهُ أَوْ قَالَ: أَتَى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حِمَارٍ، وَتَحْتَهُ قَطِيفَةٌ، فَنَادَاهُ: يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ. فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:"مَا شَأْنُكَ"؟ فَقَالَ: فِيمَ أُخِذْتُ وَفِيمَ أُخِذَتْ سَابِقَةُ الْحَاجِّ؟ قَالَ: أُخِذَتْ بِجَرِيرَةِ حُلَفَائِكُمْ ثَقِيفٍ. وَكَانَتْ ثَقِيفٌ أَسَرَتْ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَرَكَهُ وَمَضَى، فَنَادَاهُ: يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ، [ ص: 48 ] فَرَحِمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَجَعَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: مَا شَأْنُكَ؟ قَالَ: إِنِّي مُسْلِمٌ، قَالَ: لَوْ قُلْتَهَا وَأَنْتَ تَمْلِكُ أَمْرَكَ أَفْلَحْتَ كُلَّ الْفَلَاحِ. قَالَ: فَتَرَكَهُ وَمَضَى، فَنَادَاهُ: يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ، فَرَجَعَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: إِنِّي جَائِعٌ فَأَطْعِمْنِي قَالَ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ: وَإِنِّي عَطْشَانُ فَاسْقِنِي. قَالَ:"هَذِهِ حَاجَتُكَ". فَفَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالرَّجُلَيْنِ اللَّذَيْنِ أَسَرَتْهُمَا ثَقِيفٌ وَأَخَذَ نَاقَتَهُ تِلْكَ.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بنو عقیل کے ایک آدمی کو قیدی بنا لیا، تو انہوں نے اس کو رسیوں سے باندھ کر حرہ (مدینہ کی کالی پتھریلی زمین) میں پھینک دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس سے گزرے اور ہم آپ کے ساتھ تھے، یا فرمایا: اس کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گدھے پر سوار ہو کر آئے اور اس کے نیچے ایک کمبل تھا۔ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یا محمد! یا محمد! کہہ کر آواز دی۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے اور پوچھا: کیا شأن ہے؟ اس نے کہا: مجھے کس جرم میں گرفتار کیا گیا ہے؟ اور حاجیوں کی آگے چلنے والی اونٹنی (عضباء) کو کس قصور میں پکڑا ہے؟ فرمایا: تمہارے حلیف ثقیف کے اقدامات کی وجہ سے گرفتار ہوئی۔ اور ثقیف نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دو صحابہ رضی اللہ عنہما کو گرفتار کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑا اور چلے گئے۔ تو اس نے دوبارہ پکارا: یا محمد! یا محمد! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر شفقت کی اور اس کی طرف لوٹے اور پوچھا: کیا شأن ہے؟ اس نے کہا: میں مسلمان ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تو یہ بات اس وقت کہتا جب تو اپنے معاملے کا مالک تھا (یعنی گرفتار نہ تھا) تو تو پوری طرح کامیاب ہو جاتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑا اور چلے گئے، اس نے پھر پکارا: یا محمد! یا محمد! آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر اس کی طرف لوٹے تو اس نے کہا: میں بھوکا ہوں، مجھے کھلائیے۔ راوی کہتے ہیں، میرا خیال ہے اس نے یہ بھی کہا: اور میں پیاسا ہوں، مجھے پانی پلائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تیری ضرورت ہے۔ پھر اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو آدمیوں کے بدلے چھوڑ دیا جن کو ثقیف والوں نے قیدی بنایا تھا، اور اپنی اونٹنی بھی لے لی۔ [مسند الشافعی/ كتاب الأسر والفداء وضرب الجزية وأخذها /حدیث: 1767]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم، النذر، باب لا وفاء لنذر في معصية الله ولا فيما لا يملك العبد (1641).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1768
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَادَى رَجُلًا بِرَجُلَيْنِ. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ، وَالثَّانِيَ مِنْ كِتَابِ الْأُسَارَى وَالْغُلُولِ، وَالثَّالِثَ مِنْ كِتَابِ قِسْمَةِ الْفَيْءِ.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دو آدمیوں کے بدلے میں دیا۔ [مسند الشافعی/ كتاب الأسر والفداء وضرب الجزية وأخذها /حدیث: 1768]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق برقم (1767).» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ ضَرْبِ الْجِزْيَةِ
جزیہ مقرر کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1769
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ أَنَّ عَلَى كُلِّ إِنْسَانٍ مِنْكُمْ دِينَارًا كُلَّ سَنَةٍ أَوْ قَيِمَتَهُ مِنَ الْمَعَافِرِ، يَعْنِي: أَهْلَ الذِّمَّةِ مِنْهُمْ.
عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (یمن کے) ذمیوں کی طرف لکھا کہ تم میں سے ہر انسان پر ہر سال ایک دینار ہے یا اس کی قیمت کے معافر (کپڑے) دینا ہیں۔ [مسند الشافعی/ كتاب الأسر والفداء وضرب الجزية وأخذها /حدیث: 1769]
تخریج الحدیث: «صحيح من غير هذا الطريق اخرجه ابوداود، الخراج والفئ والامارة، باب في اخذ الجزية (3038)، (1576) والترمذي، الزكاة، باب ماجاء في زكاة البقر (623) - وقال حسن صحيح وصححه ابن الجارود (343) - والحاكم: 1/ 398 - وابن حبان.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1770
أَخْبَرَنِي مُطَرِّفُ بْنُ مَازِنٍ، وَهِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، بِإِسْنَادٍ لَا أَحْفَظُهُ غَيْرَ أَنَّهُ حَسَنٌ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضَ عَلَى أَهْلِ الذِّمَّةِ مِنَ الْيَمَنِ دِينَارًا كُلَّ سَنَةٍ، فَقُلْتُ لِمُطَرِّفِ بْنِ مَازِنٍ: فَإِنَّهُ يُقَالُ: وَعَلَى النِّسَاءِ أَيْضًا، فَقَالَ: لَيْسَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ مِنَ النِّسَاءِ ثَابِتًا عِنْدَهُ.
مجھے مطرف بن مازن اور ہشام بن یوسف نے خبر دی، انہوں نے مسند بیان کی لیکن میں یاد نہیں رکھ سکا البتہ وہ سند حسن ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کے ذمیوں پر ہر سال ایک دینار (جزیہ کی ادائیگی) فرض کی۔ میں نے مطرف بن مازن سے پوچھا: یہ بات کہی جاتی ہے کہ (جزیہ) عورتوں پر بھی (فرض) ہے؟ تو مطرف نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے جزیہ لیا ہو، ان کے ہاں یہ بات ثابت شدہ نہیں ہے۔ [مسند الشافعی/ كتاب الأسر والفداء وضرب الجزية وأخذها /حدیث: 1770]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لابهام الاسناد الذي لم يحفظه الشافعي اخرجه البيهقي: 9/ 193 - وفي المعرفة السنن والآثار له (5522).» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1771
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ، عَنْ أَبِي الْحُوَيْرِثِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ عَلَى نَصْرَانِيٍّ بِمَكَّةَ، يُقَالُ لَهُ: مَوْهَبٌ، دِينَارًا كُلَّ سَنَةٍ. وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ عَلَى نَصَارَى أَيْلَةَ ثَلَاثَ مِائَةِ دِينَارٍ كُلَّ سَنَةٍ، وَأَنْ يُضِيفُوا مَنْ مَرَّ بِهِمْ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ثَلَاثًا وَلَا يَغُشُّوا مُسْلِمًا.
ابوحویرث سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں موہب عیسائی پر ایک دینار سالانہ (جزیہ) لگایا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایلہ کے عیسائیوں پر سالانہ 300 دینار (جزیہ) لگایا اور (انہیں حکم دیا) کہ جو مسلمان ان کے پاس سے گزرے اس کی تین دن تک ضیافت کریں اور کسی مسلمان سے دھوکا نہ کریں۔ [مسند الشافعی/ كتاب الأسر والفداء وضرب الجزية وأخذها /حدیث: 1771]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، ومنقطع: أخرجه البيهقي: 9 / 195 - وفى المعرفة السنن والآثار له (5525). وعبد الرزق (10092).» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1772
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُمْ كَانُوا يَوْمَئِذٍ ثَلَاثَ مِائَةٍ، فَضَرَبَ عَلَيْهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مِائَةِ دِينَارٍ كُلَّ سَنَةٍ. أَخْرَجَ الْأَرْبَعَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الْجِزْيَةِ.
اسحاق بن عبداللہ نے بیان فرمایا کہ وہ (ایلہ کے عیسائی) اس وقت 300 (کی تعداد میں) تھے، اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر سالانہ 300 دینار مقرر کیے۔ [مسند الشافعی/ كتاب الأسر والفداء وضرب الجزية وأخذها /حدیث: 1772]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، ومنقطع اخرجه البيهقي: 9 / 195 - وفى المعرفة السنن والآثار له (5526).» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَابُ أَخْذِ الْجِزْيَةِ مِنَ الْمَجُوسِ
مجوسیوں سے جزیہ لینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1773
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ذَكَرَ الْمَجُوسَ، فَقَالَ: مَا أَدْرِي كَيْفَ أَصْنَعُ فِي أَمْرِهِمْ. فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ: أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:"سُنُّوا بِهِمْ سُنَّةَ أَهْلِ الْكِتَابِ".
جعفر بن محمد نے اپنے باپ سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجوس کا ذکر کیا تو فرمایا: میں نہیں جانتا کہ ان کے معاملے میں کیا کروں۔ تو عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ان کے ساتھ وہی طریقہ برتو جو تم اہل کتاب سے برتتے ہو۔ [مسند الشافعی/ كتاب الأسر والفداء وضرب الجزية وأخذها /حدیث: 1773]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه فان محمد بن على لم يدرك عمر بن الخطاب ولكن يغني عنه الحديث الآتى برقم (1774) . اخرجه البيهقى 189/9، 190 - وفى المعرفة السنن والآثار له (5512) - وعبدالرزاق (10025). و ابن ابى شيبة (32640)، (32641).» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1774
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، سَمِعَ بَجَالَةَ يَقُولُ: لَمْ يَكُنْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخَذَ الْجِزْيَةَ مِنَ الْمَجُوسِ حَتَّى شَهِدَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَهَا مِنْ مَجُوسِ هَجَرَ.
بجالہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجوسیوں سے جزیہ نہیں لیا یہاں تک کہ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے گواہی دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجر کے مجوسیوں سے جزیہ لیا تھا۔ [مسند الشافعی/ كتاب الأسر والفداء وضرب الجزية وأخذها /حدیث: 1774]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري الجزية والموادعة، باب الجزية والموادعة مع اهل الذمة والحرب (3156)، (3157).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1775
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي سَعْدٍ سَعِيدِ بْنِ الْمَرْزُبَانِ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ، قَالَ: قَالَ فَرْوَةُ بْنُ نَوْفَلٍ الْأَشْجَعِيُّ: عَلَامَ تُؤْخَذُ الْجِزْيَةُ مِنَ الْمَجُوسِ، وَلَيْسُوا بِأَهْلِ كِتَابٍ، فَقَامَ إِلَيْهِ الْمُسْتَوْرِدُ، فَأَخَذَ بِلَبَّتِهِ، فَقَالَ: يَا عَدُوَّ اللَّهِ، تَطْعَنُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعَلِيٍّ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، يَعْنِي: عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، وَقَدْ أَخَذُوا مِنْهُمُ الْجِزْيَةَ، فَذَهَبَ بِهِ إِلَى الْقَصْرِ، فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: اتَّئِدَا، فَجَلَسَا فِي ظِلِّ الْقَصْرِ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ بِالْمَجُوسِ، كَانَ لَهُمْ عِلْمٌ يَعْلَمُونَهُ، وَكِتَابٌ يَدْرُسُونَهُ، وَإِنَّ مَلِكَهُمْ سَكِرَ، فَوَقَعَ عَلَى ابْنَتِهِ أَوْ أُخْتِهِ، فَاطَّلَعَ عَلَيْهِ بَعْضُ أَهْلِ مَمْلَكَتِهِ، فَلَمَّا صَحَا جَاءُوا يُقِيمُونَ عَلَيْهِ الْحَدَّ، فَامْتَنَعَ مِنْهُمْ فَدَعَا أَهْلَ مَمْلَكَتِهِ، فَقَالَ: تَعْلَمُونَ دِينًا خَيْرًا مِنْ دِينِ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، قَدْ كَانَ آدَمُ يُنْكِحُ بَنِيهِ مِنْ بَنَاتِهِ فَأَنَا عَلَى دِينِ آدَمَ، مَا يَرْغَبُ بِكُمْ عَنْ دِينِهِ، فَتَابَعُوهُ وَقَاتَلُوا الَّذِينَ خَالَفُوهُمْ، حَتَّى قَتَلُوهُمْ فَأَصْبَحُوا وَقَدْ أُسْرِيَ عَلَى كِتَابِهِمْ، فَرُفِعَ مِنْ بَيْنِ أَظْهُرِهِمْ وَذَهَبَ الْعِلْمُ الَّذِي فِي صُدُورِهِمْ وَهُمْ أَهْلُ كِتَابٍ، وَقَدْ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا الْجِزْيَةَ. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ الْجِزْيَةِ، وَالثَّانِيَ وَالثَّالِثَ مِنَ الْجُزْءِ الثَّانِي مِنَ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ.
نصر بن عاصم نے بیان کیا کہ فروہ بن نوفل اشجعی نے کہا: مجوسیوں سے جزیہ کیوں لیا جاتا ہے، وہ اہل کتاب نہیں ہیں۔ (یہ سن کر) ان کی طرف مستورد کھڑے ہوئے اور انہیں گریبان سے پکڑ کر کہا: اے اللہ کے دشمن! تو ابوبکر، عمر اور امیر المومنین (یعنی علی رضی اللہ عنہم) پر طعن کرتا ہے، جبکہ انہوں نے ان (مجوسیوں) سے جزیہ لیا ہے۔ پھر انہیں قصر (خلافت) کی طرف لے گئے، تو علی رضی اللہ عنہ باہر تشریف لائے اور فرمایا: تم دونوں نرمی برتو۔ تو وہ دونوں محل کے سائے میں بیٹھ گئے۔ پھر علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں لوگوں میں سے سب سے زیادہ مجوسیوں کے بارے میں جاننے والا ہوں۔ ان (مجوسیوں) کے پاس علم تھا جسے وہ جانتے تھے، اور ایک کتاب تھی جسے وہ پڑھتے تھے۔ (ہوا یوں) کہ ان کا بادشاہ نشے میں دھت ہو گیا تو اس نے اپنی بیٹی یا اپنی بہن سے زنا کر لیا، اس بات کا پتا اس کی بادشاہت کے کچھ (سرکردہ) افراد کو لگا۔ جب وہ بیدار ہوا اور لوگ اس پر حد نافذ کرنے کے لیے آئے تو اس نے ان کو روکا اور اپنی مملکت کے سرکردہ افراد کو بلا کر کہا: کیا تم آدم علیہ السلام کے دین سے بہتر کوئی دین جانتے ہو؟ آدم علیہ السلام تو اپنے بیٹوں کا اپنی بیٹیوں سے نکاح کر دیتے تھے، اور میں (بھی تو) آدم علیہ السلام کے دین پر ہوں، تم ان کے دین سے کیوں دور ہو؟ پھر ان لوگوں نے اس کی اتباع کی اور اپنے مخالفین کے ساتھ قتال کیا یہاں تک کہ ان کو قتل کر دیا۔ پھر ان کی حالت یہ ہو گئی کہ ان کی کتاب پر پہرے بٹھا دیے گئے۔ پھر وہ ان سے اٹھا لی گئی، اور ان کے سینوں سے علم ختم ہو گیا، اور وہ اہل کتاب (میں سے) ہیں۔ اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے جزیہ لیا ہے۔ [مسند الشافعی/ كتاب الأسر والفداء وضرب الجزية وأخذها /حدیث: 1775]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعیف لضعف ابي سعد سعيد بن المرزبان، وهو ايضًا مدلس وقد عنعن: اخرجه البيهقي: 9/ 189، 188 - وفى المعرفة السنن والآثار له (5515) - وعبدالرزاق (10029) وابو يعلى (301).»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں