🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب الأَمْرَاضِ الْمُكَفِّرَةِ لِلذُّنُوبِ
باب: گناہوں کے لیے کفارہ بننے والی بیماریوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3089
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ يُقَالُ لَهُ أَبُو مَنْظُورٍ،عَنْ عَمِّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمِّي، عَنْ عَامِرٍ الرَّامِ أَخِي الْخَضِرِ، قَالَ أَبُو دَاوُد، قَالَ النُّفَيْلِيُّ: هُوَ الْخَضِرُ، وَلَكِنْ كَذَا قَالَ، قَالَ: إِنِّي لَبِبِلَادِنَا إِذْ رُفِعَتْ لَنَا رَايَاتٌ وَأَلْوِيَةٌ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ قَالُوا: هَذَا لِوَاءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْتُهُ، وَهُوَ تَحْتَ شَجَرَةٍ قَدْ بُسِطَ لَهُ كِسَاءٌ، وَهُوَ جَالِسٌ عَلَيْهِ، وَقَدِ اجْتَمَعَ إِلَيْهِ أَصْحَابُهُ، فَجَلَسْتُ إِلَيْهِمْ، فَذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَسْقَامَ، فَقَالَ:" إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا أَصَابَهُ السَّقَمُ، ثُمَّ أَعْفَاهُ اللَّهُ مِنْهُ، كَانَ كَفَّارَةً لِمَا مَضَى مِنْ ذُنُوبِهِ، وَمَوْعِظَةً لَهُ فِيمَا يَسْتَقْبِلُ، وَإِنَّ الْمُنَافِقَ إِذَا مَرِضَ ثُمَّ أُعْفِيَ كَانَ كَالْبَعِيرِ، عَقَلَهُ أَهْلُهُ، ثُمَّ أَرْسَلُوهُ فَلَمْ يَدْرِ لِمَ عَقَلُوهُ، وَلَمْ يَدْرِ لِمَ أَرْسَلُوهُ، فَقَالَ رَجُلٌ مِمَّنْ حَوْلَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الْأَسْقَامُ؟ وَاللَّهِ مَا مَرِضْتُ قَطُّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُمْ عَنَّا، فَلَسْتَ مِنَّا، فَبَيْنَا نَحْنُ عِنْدَهُ إِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ عَلَيْهِ كِسَاءٌ، وَفِي يَدِهِ شَيْءٌ قَدِ الْتَفَّ عَلَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَمَّا رَأَيْتُكَ أَقْبَلْتُ إِلَيْكَ، فَمَرَرْتُ بِغَيْضَةِ شَجَرٍ، فَسَمِعْتُ فِيهَا أَصْوَاتَ فِرَاخِ طَائِرٍ، فَأَخَذْتُهُنَّ فَوَضَعْتُهُنَّ فِي كِسَائِي، فَجَاءَتْ أُمُّهُنَّ فَاسْتَدَارَتْ عَلَى رَأْسِي، فَكَشَفْتُ لَهَا عَنْهُنَّ فَوَقَعَتْ عَلَيْهِنَّ مَعَهُنَّ، فَلَفَفْتُهُنَّ بِكِسَائِي، فَهُنَّ أُولَاءِ مَعِي، قَالَ: ضَعْهُنَّ عَنْكَ، فَوَضَعْتُهُنَّ، وَأَبَتْ أُمُّهُنَّ إِلَّا لُزُومَهُنَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ: أَتَعْجَبُونَ لِرُحْمِ أُمِّ الْأَفْرَاخِ فِرَاخَهَا؟ قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَوَالَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ، لَلَّهُ أَرْحَمُ بِعِبَادِهِ مِنْ أُمِّ الْأَفْرَاخِ بِفِرَاخِهَا، ارْجِعْ بِهِنَّ حَتَّى تَضَعَهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُنَّ، وَأُمُّهُنَّ مَعَهُنَّ، فَرَجَعَ بِهِنَّ".
خضر کے تیر انداز بھائی عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے ملک میں تھا کہ یکایک ہمارے لیے جھنڈے اور پرچم لہرائے گئے تو میں نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پرچم ہے، تو میں آپ کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت کے نیچے ایک کمبل پر جو آپ کے لیے بچھایا گیا تھا تشریف فرما تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد آپ کے اصحاب اکٹھا تھے، میں بھی جا کر انہیں میں بیٹھ گیا ۱؎، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیماریوں کا ذکر فرمایا: جب مومن بیمار پڑتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اس کو اس کی بیماری سے عافیت بخشتا ہے تو وہ بیماری اس کے پچھلے گناہوں کا کفارہ ہو جاتی ہے اور آئندہ کے لیے نصیحت، اور جب منافق بیمار پڑتا ہے پھر اسے عافیت دے دی جاتی ہے تو وہ اس اونٹ کے مانند ہے جسے اس کے مالک نے باندھ رکھا ہو پھر اسے چھوڑ دیا ہو، اسے یہ نہیں معلوم کہ اسے کس لیے باندھا گیا اور کیوں چھوڑ دیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد موجود لوگوں میں سے ایک شخص نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! بیماریاں کیا ہیں؟ اللہ کی قسم میں کبھی بیمار نہیں ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اٹھ جا، تو ہم میں سے نہیں ہے ۲؎۔ عامر کہتے ہیں: ہم لوگ بیٹھے ہی تھے کہ ایک کمبل پوش شخص آیا جس کے ہاتھ میں کوئی چیز تھی جس پر کمبل لپیٹے ہوئے تھا، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جب میں نے آپ کو دیکھا تو آپ کی طرف آ نکلا، راستے میں درختوں کا ایک جھنڈ دیکھا اور وہاں چڑیا کے بچوں کی آواز سنی تو انہیں پکڑ کر اپنے کمبل میں رکھ لیا، اتنے میں ان بچوں کی ماں آ گئی، اور وہ میرے سر پر منڈلانے لگی، میں نے اس کے لیے ان بچوں سے کمبل ہٹا دیا تو وہ بھی ان بچوں پر آ گری، میں نے ان سب کو اپنے کمبل میں لپیٹ لیا، اور وہ سب میرے ساتھ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کو یہاں رکھو، میں نے انہیں رکھ دیا، لیکن ماں نے اپنے بچوں کا ساتھ نہیں چھوڑا، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا: کیا تم اس چڑیا کے اپنے بچوں کے ساتھ محبت کرنے پر تعجب کرتے ہو؟، صحابہ نے عرض کیا: ہاں، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے سچا پیغمبر بنا کر بھیجا ہے، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے اس سے کہیں زیادہ محبت رکھتا ہے جتنی یہ چڑیا اپنے بچوں سے رکھتی ہے، تم انہیں ان کی ماں کے ساتھ لے جاؤ اور وہیں چھوڑ آؤ جہاں سے انہیں لائے ہو، تو وہ شخص انہیں واپس چھوڑ آیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3089]
سیدنا عامر رام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم لوگ اپنے علاقے میں تھے کہ ہمارے لیے جھنڈے اور نشانات بلند کیے گئے (ہمارے علاقے میں جہادی مہمیں پہنچ گئیں)، میں نے پوچھا: یہ کیا ہیں؟ تو لوگوں نے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا ہے۔ چنانچہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت کے نیچے تشریف فرما تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک چادر بچھائی گئی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم آپ کے پاس جمع تھے، سو میں بھی ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیماریوں کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن کو جب کوئی بیماری آتی ہے اور پھر اللہ اسے عافیت اور شفا دے دیتا ہے تو وہ اس کے سابقہ گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے اور آئندہ کے لیے نصیحت کا سبب ہوتی ہے، اور منافق جب بیمار پڑتا ہے اور پھر اسے عافیت دی جاتی ہے تو اس کی مثال اونٹ کی سی ہوتی ہے جسے اس کے گھر والوں نے باندھا ہو اور پھر کھول دیا ہو، اسے معلوم نہیں ہوتا کہ کیوں باندھا تھا اور یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ کیوں چھوڑ دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے ایک نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! یہ بیماریاں کیا ہوتی ہیں؟ میں تو اللہ کی قسم! کبھی بیمار نہیں ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اٹھ جا، تو ہم میں سے نہیں ہے۔ (پھر کسی دوسرے موقع پر) ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی آیا، وہ چادر اوڑھے ہوئے تھا اور اس کے ہاتھ میں کچھ تھا جسے اس نے لپیٹا ہوا تھا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب میں نے آپ کو تشریف لاتے دیکھا تو آپ کی طرف چل پڑا، میں درختوں کے ایک جھنڈ کے پاس سے گزرا تو اس میں سے پرندے کے بچوں کی آواز سنی، پس میں نے انہیں پکڑ لیا اور اپنی چادر میں ڈال لیا، پھر ان کی ماں آئی تو میرے سر پر منڈلانے لگی، میں نے اس کے لیے اس کے بچوں کو ننگا کیا تو وہ ان کے ساتھ ان کے اوپر آ پڑی، تو میں نے انہیں اپنی چادر میں لپیٹ لیا اور یہ وہی میرے پاس ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں چھوڑ دے۔ تو میں نے انہیں چھوڑ دیا، مگر ان کی ماں نے (اڑ جانے سے) انکار کیا اور بچوں کے ساتھ پڑی رہی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا: کیا تم اس ماں کی اپنے بچوں پر شفقت سے تعجب کر رہے ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم اس ذات کی جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے! بلاشبہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ساتھ ان بچوں کی ماں سے بڑھ کر رحیم اور شفیق ہے، انہیں واپس لے جا اور وہیں رکھ آ جہاں سے تو نے انہیں اٹھایا ہے اور ان کی ماں بھی ساتھ رہے۔ چنانچہ وہ آدمی انہیں واپس لے گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3089]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5056) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی ابو منظور شامی مجہول ہیں)
وضاحت: ۱؎: یعنی میں بھی ان کے حلقے میں شریک ہو گیا، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وعظ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحت سنوں اور دیکھوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرماتے ہیں۔
۲؎:آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تہدیدا فرمایا، یعنی مومن پر کوئی نہ کوئی مصیبت ضرور آتی ہے، تاکہ آخرت میں اس کے گناہوں کا کفارہ ہو، اس کے برخلاف کافروں کو اکثر دنیا میں راحت رہتی ہے، تاکہ آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہ رہے، جو کچھ انہیں ملنا ہے دنیا ہی میں مل جائے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو منظور الشامي مجهول : (تقريب التهذيب: 8394) والسند مظلم
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 114

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3090
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ الْمِصِّيصِيُّ، الْمَعْنَى قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْمَلِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد، قَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ السَّلَمِيُّ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا سَبَقَتْ لَهُ مِنَ اللَّهِ مَنْزِلَةٌ، لَمْ يَبْلُغْهَا بِعَمَلِهِ، ابْتَلَاهُ اللَّهُ فِي جَسَدِهِ، أَوْ فِي مَالِهِ، أَوْ فِي وَلَدِهِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: زَادَ ابْنُ نُفَيْلٍ، ثُمَّ صَبَّرَهُ عَلَى ذَلِكَ، ثُمَّ اتَّفَقَا حَتَّى يُبْلِغَهُ الْمَنْزِلَةَ الَّتِي سَبَقَتْ لَهُ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى.
خالد سلمی اپنے والد سے (جنہیں شرف صحبت حاصل ہے) روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیان کرتے ہوئے سنا: جب بندے کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسا رتبہ مل جاتا ہے جس تک وہ اپنے عمل کے ذریعہ نہیں پہنچ پاتا تو اللہ تعالیٰ اس کے جسم یا اس کے مال یا اس کی اولاد کے ذریعہ اسے آزماتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اسے صبر کی توفیق دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ بندہ اس مقام کو جا پہنچتا ہے جو اسے اللہ کی طرف سے ملا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3090]
محمد بن خالد سے روایت ہے، امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم بن مہدی نے اس راوی (محمد بن خالد) کے متعلق کہا کہ یہ سلمی ہیں، وہ اپنے والد سے، وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کا شرف حاصل تھا، کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: بیشک بندے کے لیے جب اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی مقام و مرتبہ مقدر ہو چکا ہو اور وہ اپنے اعمال کی بنا پر اس تک نہ پہنچ سکتا ہو، تو اللہ اسے اس کے اپنے جسم یا مال یا اولاد کی آزمائش میں ڈال دیتا ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن نفیل نے یہ اضافہ بیان کیا: اور پھر اللہ تعالیٰ اسے صبر کی توفیق بھی دیتا ہے۔ پھر دونوں راوی حدیث بیان کرنے میں متفق ہو جاتے ہیں: حتیٰ کہ اسے اس مقام و مرتبہ تک پہنچا دیتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلے ہی سے اس کے لیے مقدر ہو چکا ہوتا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3090]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 15562)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/272) (صحیح)» ‏‏‏‏ (شواہد اور متابعات سے تقویت پا کر یہ حدیث بھی صحیح ہے ورنہ اس کے اندر محمد بن خالد اور ان کے والد خالد سلمی دونوں مجہول ہیں، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحہ، نمبر: 2599)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (1568)
وللحديث شاھد عند أبي يعلٰي الموصلي (10/482 ح 6095 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. باب إِذَا كَانَ الرَّجُلُ يَعْمَلُ عَمَلاً صَالِحًا فَشَغَلَهُ عَنْهُ مَرَضٌ أَوْ سَفَرٌ
باب: جب کوئی شخص کوئی نیک عمل (پابندی سے) کر رہا ہو پھر کوئی مرض یا سفر اسے مشغول کر دے اور وہ اسے نہ کر سکے تو کیا اسے اس عمل کا ثواب ملے گا؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3091
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، وَمُسَدَّدٌ، الْمَعْنَى قَالَا: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّكْسَكِيِّ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ مَرَّةٍ، وَلَا مَرَّتَيْنِ، يَقُولُ:" إِذَا كَانَ الْعَبْدُ يَعْمَلُ عَمَلًا صَالِحًا، فَشَغَلَهُ عَنْهُ مَرَضٌ، أَوْ سَفَرٌ، كُتِبَ لَهُ كَصَالِحِ مَا كَانَ يَعْمَلُ، وَهُوَ صَحِيحٌ مُقِيمٌ".
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک یا دو بار ہی نہیں بلکہ متعدد بار یہ کہتے ہوئے سنا: جب بندہ کوئی نیک عمل (پابندی سے) کر رہا ہو، پھر کوئی مرض، یا سفر اسے مشغول کر دے جس کی وجہ سے اسے وہ نہ کر سکے، تو بھی اس کے لیے اتنا ہی ثواب لکھا جاتا ہے جتنا کہ اس کے تندرست اور مقیم ہونے کی صورت میں عمل کرنے پر اس کے لیے لکھا جاتا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3091]
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بارہا سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: جب کوئی بندہ نیک عمل کرتا رہا ہو مگر بیماری یا سفر کی وجہ سے وہ نہ کر سکے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے وہ عمل اسی طرح عمدہ کیفیت میں لکھتا رہتا ہے جبکہ وہ تندرست اور مقیم تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3091]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الجھاد 134(2996)، (تحفة الأشراف: 9035)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/410، 418) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2996)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. باب عِيَادَةِ النِّسَاءِ
باب: عورتوں کی عیادت (بیمار پرسی) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3092
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أُمِّ الْعَلَاءِ، قَالَتْ: عَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا مَرِيضَةٌ، فَقَالَ:" أَبْشِرِي يَا أُمَّ الْعَلَاءِ، فَإِنَّ مَرَضَ الْمُسْلِمِ يُذْهِبُ اللَّهُ بِهِ خَطَايَاهُ، كَمَا تُذْهِبُ النَّارُ خَبَثَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ".
ام العلاء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب میں بیمار تھی تو میری عیادت کی، آپ نے فرمایا: خوش ہو جاؤ، اے ام العلاء! بیشک بیماری کے ذریعہ اللہ تعالیٰ مسلمان بندے کے گناہوں کو ایسے ہی دور کر دیتا ہے جیسے آگ سونے اور چاندی کے میل کو دور کر دیتی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3092]
سیدہ ام علاء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں بیمار ہو گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے اور فرمایا: اے ام علاء! تمہیں خوشخبری ہو، بلاشبہ مسلمان کی بیماری کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے جیسے کہ آگ سونے اور چاندی کا کھوٹ نکال دیتی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3092]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18339) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر المعجم الكبير للطبراني (10/186 ح 10406 وسنده حسن) وھو يغني عنه (معاذ علي زئي)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3093
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى. ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ أَبُو دَاوُد وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ بَشَّارٍ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْخَزَّازِ،عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَأَعْلَمُ أَشَدَّ آيَةٍ فِي الْقُرْآنِ، قَالَ:" أَيَّةُ آيَةٍ يَا عَائِشَةُ؟ قَالَتْ: قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى: مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ سورة النساء آية 123، قَالَ: أَمَا عَلِمْتِ يَا عَائِشَةُ أَنَّ الْمُؤْمِنَ تُصِيبُهُ النَّكْبَةُ أَوِ الشَّوْكَةُ فَيُكَافَأُ بِأَسْوَإِ عَمَلِهِ، وَمَنْ حُوسِبَ عُذِّبَ، قَالَتْ: أَلَيْسَ اللَّهُ يَقُولُ: فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا سورة الانشقاق آية 8، قَالَ: ذَاكُمُ الْعَرْضُ، يَا عَائِشَةُ، مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ عُذِّبَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں قرآن مجید کی سب سے سخت آیت کو جانتی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ کون سی آیت ہے اے عائشہ!، انہوں نے کہا: اللہ کا یہ فرمان «من يعمل سوءا يجز به» جو شخص کوئی بھی برائی کرے گا اسے اس کا بدلہ دیا جائے گا (سورۃ النساء: ۱۲۳)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ تمہیں معلوم نہیں جب کسی مومن کو کوئی مصیبت یا تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اس کے برے عمل کا بدلہ ہو جاتی ہے، البتہ جس سے محاسبہ ہو اس کو عذاب ہو گا۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرماتا ہے «فسوف يحاسب حسابا يسيرا» اس کا حساب تو بڑی آسانی سے لیا جائے گا (سورۃ الانشقاق: ۸)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے مراد صرف اعمال کی پیشی ہے، اے عائشہ! حساب کے سلسلے میں جس سے جرح کر لیا گیا عذاب میں دھر لیا گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3093]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں خوب جانتی ہوں کہ قرآن مجید میں سب سے سخت آیت کون سی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کون سی آیت ہے وہ؟ اے عائشہ! کہتی ہیں، میں نے کہا: اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: ﴿مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ﴾ [سورة النساء: 123] جس نے بھی کوئی برائی کی، اسے اس کا بدلہ دیا جائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ مومن کو جو کوئی پریشانی آتی ہے یا کانٹا بھی چبھ جاتا ہے تو اسے اس کے کسی سب سے برے عمل کا بدلہ دے دیا جاتا ہے اور جس کا حساب لیا گیا تو اسے عذاب ہوا۔ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: تو کیا اللہ نے نہیں فرمایا: ﴿فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا﴾ [سورة الانشقاق: 8] عنقریب بندے کا حساب لیا جائے گا آسان حساب؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے مراد اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضری ہے، اے عائشہ! جس سے حساب میں پوچھ گچھ ہو گئی، اسے عذاب ہوا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ ابن بشار کے لفظ ہیں، اور اس کی سند میں «عَنْ» کی بجائے «حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ» ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3093]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16240)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العلم 36 (103)، وتفسیر القرآن 1 (4939)، صحیح مسلم/الجنة وصفة نعیمھا 18 (2876)، سنن الترمذی/صفة القیامة 5 (2426)، وتفسیر القرآن 75 (3337)، مسند احمد (4/47) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد لكن شطر من حوسب عذب الخ صحيح ق
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أبو عامر الخزاز صالح بن رستم: حسن الحديث، وأصله متفق عليه بالإختصار البخاري (4939) ومسلم (2876)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. باب فِي الْعِيَادَةِ
باب: عیادت (بیمار پرسی) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3094
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ عَرَفَ فِيهِ الْمَوْتَ، قَالَ:" قَدْ كُنْتُ أَنْهَاكَ عَنْ حُبِّ يَهُودَ"، قَالَ: فَقَدْ أَبْغَضَهُمْ أسْعَدُ بْنُ زُرَارَةَ فَمَهْ، فَلَمَّا مَاتَ أَتَاهُ ابْنُهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ قَدْ مَاتَ، فَأَعْطِنِي قَمِيصَكَ أُكَفِّنْهُ فِيهِ، فَنَزَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَمِيصَهُ، فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ.
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ابی کے مرض الموت میں اس کی عیادت کے لیے نکلے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس پہنچے تو اس کی موت کو بھانپ لیا، فرمایا: میں تجھے یہود کی دوستی سے منع کرتا تھا، اس نے کہا: عبداللہ بن زرارہ نے ان سے بغض رکھا تو کیا پایا، جب عبداللہ بن ابی مر گیا تو اس کے لڑکے (عبداللہ) آپ کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! عبداللہ بن ابی مر گیا، آپ مجھے اپنی قمیص دے دیجئیے تاکہ اس میں میں اسے کفنا دوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی قمیص اتار کر دے دی۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3094]
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ابی (منافق) کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے، اس بیماری میں جس میں کہ وہ مر گیا تھا۔ چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ہاں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر موت کے اثرات محسوس کیے (اور) فرمایا: میں تجھے منع کیا کرتا تھا کہ یہود سے محبت نہ رکھ۔ اس نے کہا: اسعد بن زرادہ نے ان سے بغض رکھا تو کیا ہوا؟ پھر جب وہ مر گیا تو اس کا بیٹا (عبداللہ رضی اللہ عنہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا: اے اللہ کے نبی! بے شک عبداللہ بن ابی مر گیا ہے، تو آپ مجھے اپنی قمیص عنایت فرما دیں کہ میں اسے اس میں کفن دوں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قمیص اتار کر اسے دے دی۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3094]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 108)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/201) (حسن)» ‏‏‏‏ (بیہقی نے دلائل النبوة (5؍ 285) میں ابن اسحاق کی زہری سے تحدیث نقل کی ہے، نیز قمیص کا جملہ صحیحین میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث سے ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود 8؍ 410)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد لكن قصة القميص صحيحة ق
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن إسحاق عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 114

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. باب فِي عِيَادَةِ الذِّمِّيِّ
باب: ذمی کی بیمار پرسی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3095
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ غُلَامًا مِنَ الْيَهُودِ كَانَ مَرِضَ، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ، فَقَعَدَ عِنْدَ رَأْسِهِ، فَقَالَ لَهُ:" أَسْلِمْ، فَنَظَرَ إِلَى أَبِيهِ وَهُوَ عِنْدَ رَأْسِهِ، فَقَالَ لَهُ أَبُوهُ: أَطِعْ أَبَا الْقَاسِمِ، فَأَسْلَمَ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَقُولُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْقَذَهُ بِي مِنَ النَّارِ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک یہودی لڑکا بیمار پڑا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس عیادت کے لیے آئے اور اس کے سرہانے بیٹھ گئے پھر اس سے فرمایا: تم مسلمان ہو جاؤ، اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا جو اس کے سرہانے تھا تو اس سے اس کے باپ نے کہا: ابوالقاسم ۱؎ کی اطاعت کرو، تو وہ مسلمان ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے: تمام تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس نے اس کو میری وجہ سے آگ سے نجات دی ۲؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3095]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہودیوں کا ایک لڑکا بیمار ہو گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے سر کے پاس بیٹھ گئے، اور اس سے فرمایا: اسلام قبول کر لو۔ تو اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا جب کہ وہ بھی اس کے سر کے پاس ہی بیٹھا ہوا تھا۔ تو اس کے باپ نے اس سے کہا: ابوالقاسم کی بات مان لو۔ چنانچہ اس نے اسلام قبول کر لیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے اٹھے تو فرما رہے تھے: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْقَذَهُ مِنَ النَّارِ» حمد اس اللہ کی جس نے اس کو میرے ذریعے سے آگ سے نجات دی۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3095]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الجنائز 79 (1356)، والمرضی 11 (5657)، (تحفة الأشراف: 295)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/175، 270، 280) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ابوالقاسم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیت ہے۔
۲؎: اس سے معلوم ہوا کہ لڑکا جب باشعور ہو تو اس کا اسلام صحیح ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5657)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. باب الْمَشْىِ فِي الْعِيَادَةِ
باب: عیادت کے لیے پیدل چل کر جانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3096
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي، لَيْسَ بِرَاكِبِ بَغْلٍ، وَلَا بِرْذَوْنٍ.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بغیر کسی خچر اور گھوڑے پر سوار ہوئے میری عیادت کو تشریف لاتے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3096]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لاتے، بغیر اس کے کہ کسی خچر پر سوار ہوں یا گھوڑے پر۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3096]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/المرضی 16 (5664)، سنن الترمذی/ المناقب 53 (3851)، (تحفة الأشراف: 3021)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الفرائض 2 (1616) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: بلکہ پا پیادہ تشریف لاتے تھے، کیونکہ اس میں زیادہ ثواب ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5664)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. باب فِي فَضْلِ الْعِيَادَةِ عَلَى وُضُوءٍ
باب: باوضو عیادت کرنے کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3097
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ رَوْحِ بْنِ خُلَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دَلْهَمٍ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، وَعَادَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ مُحْتَسِبًا، بُوعِدَ مِنْ جَهَنَّمَ مَسِيرَةَ سَبْعِينَ خَرِيفًا". قُلْتُ: يَا أَبَا حَمْزَةَ، وَمَا الْخَرِيفُ؟ قَالَ: الْعَامُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَالَّذِي تَفَرَّدَ بِهِ الْبَصْرِيُّونَ مِنْهُ الْعِيَادَةُ، وَهُوَ مُتَوَضِّئٌ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اچھی طرح سے وضو کرے اور ثواب کی نیت سے اپنے مسلم بھائی کی عیادت کرے تو وہ دوزخ سے ستر «خریف» کی مسافت کی مقدار دور کر دیا جاتا ہے، میں نے کہا! اے ابوحمزہ! «خریف» کیا ہے؟ انہوں نے کہا: سال۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اہل بصرہ جن چیزوں میں منفرد ہیں ان میں بحالت وضو عیادت کا مسئلہ بھی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3097]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے وضو کیا اور اچھا وضو کیا اور ثواب کی نیت سے اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کے لیے گیا تو اسے جہنم سے ستر سال کی مسافت پر دور کر دیا جائے گا۔ ثابت بنانی رحمہ اللہ کہتے ہیں، میں نے پوچھا: اے ابوحمزہ! «خَرِيفٍ» سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا: سال۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اہل بصرہ جن احادیث کے بیان کرنے میں منفرد ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انسان باوضو ہو کر عیادت کے لیے جائے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3097]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 461) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی فضل بن دلہم لین الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الفضل بن دلھم لين ورمي بالإعتزال (تق : 5402) ضعفه الجمهور… واختلف قول أحمد وابن معين فيه و ضعفه راجح
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 114

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3098
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ:" مَا مِنْ رَجُلٍ يَعُودُ مَرِيضًا مُمْسِيًا، إِلَّا خَرَجَ مَعَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ يَسْتَغْفِرُونَ لَهُ حَتَّى يُصْبِحَ، وَكَانَ لَهُ خَرِيفٌ فِي الْجَنَّةِ، وَمَنْ أَتَاهُ مُصْبِحًا، خَرَجَ مَعَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ يَسْتَغْفِرُونَ لَهُ حَتَّى يُمْسِيَ، وَكَانَ لَهُ خَرِيفٌ فِي الْجَنَّةِ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جو شخص کسی بیمار کی دن کے اخیر حصے میں عیادت کرتا ہے اس کے ساتھ ستر ہزار فرشتے نکلتے ہیں اور فجر تک اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں، اور اس کے لیے جنت میں ایک باغ ہوتا ہے، اور جو شخص دن کے ابتدائی حصے میں عیادت کے لیے نکلتا ہے اس کے ساتھ ستر ہزار فرشتے نکلتے ہیں اور شام تک اس کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں، اور اس کے لیے جنت میں ایک باغ ہوتا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3098]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جو شخص شام کے وقت کسی مریض کی عیادت کے لیے نکلتا ہے تو اس کے ساتھ ستر ہزار فرشتے بھی نکلتے ہیں جو اس کے لیے صبح تک بخشش طلب کرتے رہتے ہیں اور جنت میں اسے ایک باغ بھی حاصل ہو گا، اور جو کوئی صبح کے وقت عیادت کے لیے نکلے تو اس کے ساتھ ستر ہزار فرشتے نکلتے ہیں جو اس کے لیے شام تک بخشش مانگتے رہتے ہیں اور جنت میں اسے ایک باغ بھی حاصل ہو گا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3098]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، وانظر الحدیث الآتي، (تحفة الأشراف: 10211) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح موقوف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الحكم بن عتيبة عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 115

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں