🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب فِي فَضْلِ الْعِيَادَةِ عَلَى وُضُوءٍ
باب: باوضو عیادت کرنے کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3099
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَاهُ، لَمْ يَذْكُرِ الْخَرِيفَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ مَنْصُورٌ، عَنِ الْحَكَمِ أَبِي حَفْصٍ، كَمَا رَوَاهُ شُعْبَةُ.
علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی معنی کی حدیث روایت کرتے ہیں لیکن انہوں نے اس میں «خریف» کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے منصور نے حکم سے اسی طرح روایت کیا ہے جیسے شعبہ نے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3099]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی بیان کیا، لیکن اس میں «خَرِيف» یعنی باغ کا ذکر نہیں ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس حدیث کو منصور نے بھی حکم سے ایسے ہی روایت کیا ہے جیسے کہ شعبہ نے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3099]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الجنائز 2 (1442)، (تحفة الأشراف: 10211)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الجنائز 2 (969)، مسند احمد (1/81، 120) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح مرفوع
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (1442)
سليمان الأعمش و الحكم بن عتيبة لم يصرحا بالسماع وروي ابن حبان (الموارد: 710) عن علي رضي اللّٰه عنه قال: سمعت رسول اللّٰه ﷺ يقول : ((ما من امرئ مسلم يعود مسلمًا إلا ابتعث اللّٰه سبعين ألف ملك يصلون عليه في أي ساعات النھار حتي يمسي و في أي ساعات الليل حتي يصبح)) وسنده حسن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 115

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3100
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ، قَالَ: وَكَانَ نَافِعٌ غُلَامُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: جَاءَ أَبُو مُوسَى إِلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ يَعُودُهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد، وَسَاقَ مَعْنَى حَدِيثِ شُعْبَةَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: أُسْنِدَ هَذَا عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ صَحِيحٍ.
ابوجعفر عبداللہ بن نافع سے روایت ہے، راوی کہتے ہیں اور نافع حسن بن علی کے غلام تھے وہ کہتے ہیں: ابوموسیٰ حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی عیادت کے لیے آئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: راوی نے اس کے بعد شعبہ کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث بواسطہ علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ضعیف طریق سے مروی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3100]
ابوجعفر عبداللہ بن نافع سے روایت ہے اور نافع سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے غلام تھے، بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ، سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے تشریف لائے تھے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: اور پھر حدیث شعبہ کے ہم معنی بیان کیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس روایت کو بواسطہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی ایک صحیح سندوں سے روایت کیا گیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3100]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ماقبلہ، (تحفة الأشراف: 10211) (صحیح مرفوع)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح مرفوع
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الحكم عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 115

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. باب فِي الْعِيَادَةِ مِرَارًا
باب: بیمار کی کئی بار عیادت (بیمار پرسی) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3101
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا أُصِيبَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ يَوْمَ الْخَنْدَقِ، رَمَاهُ رَجُلٌ فِي الْأَكْحَلِ،" فَضَرَبَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْمَةً فِي الْمَسْجِدِ، فَيَعُودَهُ مِنْ قَرِيبٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں جب جنگ خندق کے دن سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ زخمی ہوئے ان کے بازو میں ایک شخص نے تیر مارا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے مسجد میں ایک خیمہ نصب کر دیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قریب سے ان کی عیادت کر سکیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3101]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ جنگ خندق میں زخمی ہو گئے۔ ایک آدمی نے ان کے بازو کی رگ (رگ ہفت اندام) پر نشانہ مارا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے مسجد میں خیمہ لگوا لیا تاکہ قریب سے ان کی عیادت کرتے رہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3101]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الصلاة 77 (463)، والمغازي 30 (4122)، صحیح مسلم/الجھاد 22 (1769)، سنن النسائی/المساجد 18 (711)، (تحفة الأشراف: 1678)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/56، 131، 280) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (463) صحيح مسلم (1769)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. باب فِي الْعِيَادَةِ مِنَ الرَّمَدِ
باب: آنکھ کی بیماری میں مبتلا شخص کی عیادت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3102
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ:" عَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ وَجَعٍ كَانَ بِعَيْنِي".
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آنکھ کے درد میں میری عیادت کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3102]
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے جبکہ میری آنکھ میں درد تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3102]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16978)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/375) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (1551)
أبو إسحاق السبيعي صرح بالسماع عند البخاري في الأدب المفرد (532 وسنده صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. باب الْخُرُوجِ مِنَ الطَّاعُونِ
باب: طاعون سے نکل بھاگنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3103
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا تُقْدِمُوا عَلَيْهِ، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ" يَعْنِي الطَّاعُونَ.
عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم کسی زمین کے بارے میں سنو کہ وہاں طاعون ۱؎ پھیلا ہوا ہے تو تم وہاں نہ جاؤ ۲؎، اور جس سر زمین میں وہ پھیل جائے اور تم وہاں ہو تو طاعون سے بچنے کے خیال سے وہاں سے بھاگ کر (کہیں اور) نہ جاؤ ۳؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3103]
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جب تم سنو کہ فلاں علاقے میں طاعون پھیل گیا ہے تو پھر وہاں مت جاؤ، اور جب کہیں پھیل جائے اور تم وہاں ہو تو اس (طاعون) سے فرار اختیار کرتے ہوئے وہاں سے مت نکلو۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3103]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الطب 30 (5729)، والحیل 13 (6973)، صحیح مسلم/السلام 32 (2219)، (تحفة الأشراف: 9721)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجامع 7 (22)، مسند احمد (1/192، 193، 194) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: طاعون ایک وبائی بیماری ہے (جلد میں پھوڑے کی طرح خطرناک ورم ہو کر انسان مر جاتا ہے)، اکثر بغل میں یا پیٹھ میں نکلتا ہے۔
۲؎: کیونکہ طاعون زدہ علاقہ یا بستی میں جانا اپنے آپ کو موت کے سپرد کرنا اور ہلاکت میں ڈالنا ہے، جبکہ اللہ رب العزت کا فرمان ہے:  «ولا تلقوا بأيديكم إلى التهلكة» (سورۃ البقرۃ: ۱۹۵) اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ دشمن سے مدبھیڑ کی تمنا نہ کرو اور اس میں طاعون بھی داخل ہے۔
۳؎: طاعون زدہ زمین سے نہ نکلنے کا مقصد یہ ہے کہ پورا پورا توکل اللہ رب العزت پر ثابت ہو جائے، اور اللہ تعالی کے قضاء و قدر کو پورے طور سے تسلیم کر لیا جائے، کیونکہ وہاں سے بھاگنا اللہ کی تقدیر سے بھاگنا ہے، یا یہ کہ اگر وہ اس سر زمین سے نکل جائے اور جہاں وہ پناہ لے وہاں کے لوگوں کو طاعون آ پکڑے، پھر یہ لوگوں کی نظر میں طعن و تشنیع کا نشانہ بنے، حالانکہ اللہ رب العزت نے ان لوگوں کے حق میں بھی اس بیماری کا فیصلہ کر چکا ہوتا ہے، اس بناء پر اس شہر سے یا جگہ سے نکلنے سے منع کیا گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5729) صحيح مسلم (2219)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. باب الدُّعَاءِ لِلْمَرِيضِ بِالشِّفَاءِ عِنْدَ الْعِيَادَةِ
باب: عیادت کے موقع پر مریض کے لیے شفاء کی دعا کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3104
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْجُعَيْدُ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ سَعْدٍ، أَنَّ أَبَاهَا، قَالَ: اشْتَكَيْتُ بِمَكَّةَ، فَجَاءَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي، وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى جَبْهَتِي، ثُمَّ مَسَحَ صَدْرِي وَبَطْنِي، ثُمَّ قَالَ:" اللَّهُمَّ اشْفِ سَعْدًا، وَأَتْمِمْ لَهُ هِجْرَتَهُ".
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے کہا میں مکے میں بیمار ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے اور اپنا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری پیشانی پر رکھا پھر میرے سینے اور پیٹ پر ہاتھ پھیرا پھر دعا کی: «اللهم اشف سعدا وأتمم له هجرته» اے اللہ! سعد کو شفاء دے اور ان کی ہجرت کو مکمل فرما ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3104]
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا دختر سعد ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے والد نے بیان کیا کہ میں مکہ میں بیمار ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار پرسی کے لیے میرے ہاں تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ مبارک میری پیشانی پر رکھا، پھر میرے سینے اور پیٹ پر پھیرا اور فرمایا: «اللَّهُمَّ اشْفِ سَعْدًا، وَأَتْمِمْ لَهُ هِجْرَتَهُ» اے اللہ! سعد کو شفاء عنایت فرما اور اس کی ہجرت مکمل فرما دے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3104]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/ المرضی 13 (5659)، سنن النسائی/ الوصایا 3 (3656)، (تحفة الأشراف: 3953)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/171) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: مکہ سے مدینہ پہنچا دے ایسا نہ ہو کہ مکہ ہی میں انتقال ہوجائے اور ہجرت ناقص رہ جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5659)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3105
حَدَّثَنَا ابْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَطْعِمُوا الْجَائِعَ، وَعُودُوا الْمَرِيضَ، وَفُكُّوا الْعَانِيَ". قَالَ سُفْيَانُ: وَالْعَانِي: الْأَسِيرُ.
ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بھوکے کو کھانا کھلاؤ، مریض کی عیادت کرو اور (مسلمان) قیدی کو (کافروں کی) قید سے آزاد کراؤ۔ سفیان کہتے ہیں: «العاني» سے مرا «داسیر» (قیدی) ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3105]
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بھوکے کو کھانا کھلاؤ، مریض کی بیمار پرسی کرو اور قیدی کو چھڑاؤ۔ سفیان نے وضاحت کی کہ «الْعَانِي» سے مراد قیدی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3105]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الجھاد 171 (3046)، النکاح 71 (5174)، الأطعمة 1 (5373)، الطب 4 (5649)، الأحکام 23 (7173)، (تحفة الأشراف: 9001)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/394)، سنن الدارمی/السیر 27 (2508) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5373)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. باب الدُّعَاءِ لِلْمَرِيضِ عِنْدَ الْعِيَادَةِ
باب: عیادت کے موقع پر بیمار کے لیے دعا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3106
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَبُو خَالِدٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ عَادَ مَرِيضًا، لَمْ يَحْضُرْ أَجَلُهُ فَقَالَ عِنْدَهُ سَبْعَ مِرَارٍ: أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ، رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، أَنْ يَشْفِيَكَ، إِلَّا عَافَاهُ اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ الْمَرَضِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص کسی ایسے شخص کی عیادت کرے جس کی موت کا وقت ابھی قریب نہ آیا ہو اور اس کے پاس سات مرتبہ یہ دعا پڑھے:   «أسأل الله العظيم رب العرش العظيم» میں عظمت والے اللہ جو عرش عظیم کا مالک ہے سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تم کو شفاء دے تو اللہ اسے اس مرض سے شفاء دے گا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3106]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی ایسے مریض کی عیادت کی جس کی ابھی اجل نہ آئی ہو تو سات بار اس کے پاس یہ دعا «أَسْأَلُ اللّٰهَ الْعَظِيْمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ اَنْ يَشْفِيَكَ» میں اللہ سے سوال کرتا ہوں جو عظمت اور بڑائی والا اور عرش عظیم کا رب ہے کہ تجھے شفا عنایت فرمائے۔ پڑھے تو اللہ تعالیٰ اسے اس بیماری سے عافیت دے دے گا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3106]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الطب 32 (2083)، (تحفة الأشراف: 5628)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/239، 243) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1553)
أخرجه الترمذي (2083 وسنده حسن) أبو خالد الدالاني وثقه الجمھور وھو صرح بالسماع عند الترمذي وتابعه عبد ربه بن سعيد عند النسائي في الكبريٰ (10815) وغيره

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3107
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ حُيَيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنِ ابْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا جَاءَ الرَّجُلُ يَعُودُ مَرِيضًا، فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ اشْفِ عَبْدَكَ، يَنْكَأُ لَكَ عَدُوًّا، أَوْ يَمْشِي لَكَ إِلَى جَنَازَةٍ". قَالَ أَبُو دَاوُد: وَقَالَ ابْنُ السَّرْحِ: إِلَى صَلَاةٍ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی بیمار کے پاس عیادت کے لیے جائے تو اسے چاہیئے کہ وہ کہے: «اللهم اشف عبدك ينكأ لك عدوا أو يمشي لك إلى جنازة» اے اللہ! اپنے بندے کو شفاء دے تاکہ تیری راہ میں دشمن سے قتال و خوں ریزی کرے یا تیری خوشی کی خاطر جنازے کے ساتھ جائے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن سرح نے اپنی روایت میں «إلى جنازة» کے بجائے «إلى صلاة» کہا ہے یعنی نماز جنازہ پڑھنے جائے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3107]
سیدنا (عبداللہ) بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص کسی مریض کی عیادت کے لیے جائے، تو چاہیے کہ یوں کہے: «اللَّهُمَّ اشْفِ عَبْدَكَ يَنْكَأُ لَكَ عَدُوًّا أَوْ يَمْشِي لَكَ إِلَى جَنَازَةٍ» اے اللہ! اپنے بندے کو شفا عنایت فرما، یہ تیری راہ میں کسی دشمن کو زخمی کرے گا یا تیری رضا کے لیے کسی جنازہ میں شریک ہو گا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: ابن السرح (احمد بن عمرو بن عبداللہ) نے «إِلَى جَنَازَةٍ» کے بجائے «إِلَى صَلَاةٍ» روایت کیا ہے، یعنی یہ بندہ نماز کے لیے جائے گا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3107]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 8860)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/172) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1556)
عبد الله بن وهب المصري صرح بالسماع عند ابن حبان (715)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. باب فِي كَرَاهِيَةِ تَمَنِّي الْمَوْتِ
باب: موت کی تمنا کرنا مکروہ ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3108
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَدْعُوَنَّ أَحَدُكُمْ بِالْمَوْتِ لِضُرٍّ نَزَلَ بِهِ، وَلَكِنْ لِيَقُلْ: اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی کسی پریشانی سے دوچار ہو جانے کی وجہ سے (گھبرا کر) موت کی دعا ہرگز نہ کرے لیکن اگر کہے تو یہ کہے: «اللهم أحيني ما كانت الحياة خيرا لي وتوفني إذا كانت الوفاة خيرا لي» اے اللہ! تو مجھ کو زندہ رکھ جب تک کہ زندگی میرے لیے بہتر ہو، اور مجھے موت دیدے جب مر جانا ہی میرے حق میں بہتر ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3108]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی دکھ کے آنے پر کوئی شخص ہرگز موت کی دعا نہ کرے، بلکہ چاہیے کہ یوں کہے: «اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي» اے اللہ! مجھے زندہ رکھ جب تک کہ زندگی میرے لیے خیر کا باعث ہو اور جب موت میرے لیے بہتر ہو تو مجھے وفات دے دے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3108]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الجنائز 2 (1822)، سنن ابن ماجہ/الزھد 31 (4265)، (تحفة الأشراف: 1037)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المرضی 19 (5672)، والدعوات 30 (6351)، صحیح مسلم/الذکر 4 (2680)، سنن الترمذی/الجنائز 3 (971)، مسند احمد (3/101، 104، 163، 171، 195، 208، 247، 281) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح، صحيح بخاري (6351) صحيح مسلم (2680)
أخرجه ابن ماجه (4265 وسنده صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں