السنن المأثورة - الإمام الشافعي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
399. (بَابُ حُكْمِ دِيَةِ إِسْقَاطِ الْحَمْلِ)
(اسقاط حمل کی دیت کا حکم)
حدیث نمبر: 593
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ امْرَأَتَيْنِ مِنْ هُذَيْلٍ رَمَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى فَطَرَحَتْ جَنِينَهَا،" فَقَضَى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ وَلِيدَةٍ".
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ہذیل قبیلے کی دو عورتیں آپس میں لڑیں ایک نے دوسری کے (پیٹ پر) مارا تو اس کا حمل گر گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کیس میں ایک غلام یا لونڈی دیت میں دیئے جانے کا فیصلہ فرمایا۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب عقل الجنين/حدیث: 593]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، الطب، باب الکھانة رقم: 5760، 5759، صحیح مسلم، القسامة، باب دیة الجنین، رقم: 1681.»
400. (بَابُ حُكْمِ دِيَةِ الْجَنِينِ)
(جنین کی دیت کا شرعی حکم)
حدیث نمبر: 594
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَضَى فِي الْجَنِينِ يُقْتَلُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ وَلِيدَةٍ"، فَقَالَ الَّذِي قُضِيَ عَلَيْهِ: وَكَيْفَ أَغْرَمُ مَنْ لا شَرِبَ وَلا أَكَلَ وَلا نَطَقَ وَلا اسْتَهَلَّ وَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا هَذَا مِنْ إِخْوَانِ الْكُهَّانِ".
سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنین جسے ماں کے پیٹ میں قتل کیا گیا ہو اس کی دیت کے طور پر ایک غلام یا لونڈی دیئے جانے کا فیصلہ صادر فرمایا۔ جسے دیت پڑی کہنے لگا: ”ایسے بچے کی کیسے چٹی بھروں جس نے نہ پیا نہ کھایا نہ بولا نہ آواز نکالی ایسے کی دیت کیسے پڑگئی؟“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک یہ کاہنوں کا بھائی ہے۔“ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب عقل الجنين/حدیث: 594]
تخریج الحدیث: «انظر ما قبلہ برقم: 593.»
حدیث نمبر: 595
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أُذَكِّرُ اللَّهَ امْرَأً سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَضَى فِي الْجَنِينِ بِشَيْءٍ"، فَقَامَ حَمَلُ بْنُ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ كُنْتُ بَيْنَ جَارِيَتَيْنِ لِي يَعْنِي ضَرَّتَيْنِ، فَقَامَتْ إِحْدَاهُمَا إِلَى الأُخْرَى بِمِسْطَحِ عَمُودِ بَيْتِهَا فَضَرَبَتْهَا بِهِ فَقَتَلَتْهَا وَقَتَلَتْ مَا فِي بَطْنِهَا،" فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنِينِهَا بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوِ أَمَةٍ". فَقَالَ عُمَرُ: اللَّهُ أَكْبَرُ لَوْ لَمْ نَسْمَعْ هَذَا لَقَضَيْنَا بِغَيْرِهِ.
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ کی یاد دلا کر لوگوں سے پوچھا: ”کیا کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنین کے بارے میں کوئی فیصلہ سنا ہے؟“ حمل بن مالک بن نابغہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے کہنے لگے ”میری دو بیویاں سوکنیں آپس میں لڑ پڑیں ایک نے دوسری کو خیمے کے ستون سے مارا تو اسے قتل کر دیا اس کے پیٹ کے بچے کو بھی قتل کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بچے کے بارے میں فیصلہ دیا)۔“ اس کے عوض غلام یا لونڈی دی جائے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ اکبر اگر ہم یہ نہ سنتے تو اس کے برعکس فیصلہ کر جاتے۔“ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب عقل الجنين/حدیث: 595]
تخریج الحدیث: «سنن ابی داؤد، الدیات، باب دیة الجنین رقم: 4573، سنن نسائی، القسامة، باب دیة جنین المرأة، رقم: 4739 وقال الالبانی: صحیح الاسناد.»
401. (بَابُ التَّنْكِيلِ بِالْمُرْتَدِّينَ وَقُطَّاعِ الطَّرِيقِ)
(مرتدین اور ڈاکوؤں کی عبرتناک سزا)
حدیث نمبر: 596
أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ نَاسًا مِنَ عُرَيْنَةَ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاجْتَوَوَا الْمَدِينَةَ، فَقَالَ:" لَوْ خَرَجْتُمْ إِلَى ذَوْدٍ لَنَا فَشَرِبْتُمْ مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا"، فَفَعَلُوا ذَلِكَ وَارْتَدُّوا عَنِ الإِسْلامِ، وَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَاقُوا ذَوْدَهُ،" فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَلَبِهِمْ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ وَتَرَكَهُمْ فِي الْحَرَّةِ حَتَّى مَاتُوا".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کچھ لوگ مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو ان کو آب و ہوا موافق نہ آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو ہمارے اونٹوں میں چلے جاؤ ان کا دودھ اور پیشاب پیو۔“ انہوں نے ایسا کیا (صحت مند ہو گئے) اور اسلام سے مرتد ہو گئے پھر (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے) چرواہے کو قتل کر کے اونٹ بھگا لے گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاش میں مجاہدین ارسال کیے (جو انہیں گرفتار کر لائے) تو ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹے گئے اور آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیری گئیں پھر دھوپ میں پھینک دیا حتی کہ مر گئے۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب عقل الجنين/حدیث: 596]
تخریج الحدیث: «سنن ابن ماجہ، الحدود، باب من حارب وسعی فی الارض فسادًا، رقم: 2578 وقال الالبانی: صحیح، سنن ابی داؤد، الحدود، باب ماجاء فی المحاربة، رقم: 4367.»
402. (بَابُ النَّهْيِ عَنِ الْمُثْلَةِ وَتَقْطِيعِ الْأَعْضَاءِ)
(مثلہ اور اعضاء کاٹنے کی ممانعت)
حدیث نمبر: 597
عَنِ الثَّقَةِ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ مِثْلَ مَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَزَادَ فِيهِ أَنَسٌ: فَمَا خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ هَذَا خُطْبَةً إِلا نَهَى فِيهَا عَنِ الْمُثْلَةِ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی ایک دوسری حدیث میں اس حدیث کے بعد اتنا اضافہ ہے کہ اس کے بعد جو بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اس میں مثلہ سے منع فرمایا۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب عقل الجنين/حدیث: 597]
تخریج الحدیث: «سنن نسائی، التحریم باب النہی عن المثلة، رقم: 4047 وقال الالبانی: صحیح، سنن ابی داؤد، الحدود، باب ماجاء فی المحاربة، رقم: 4368.»
403. (بَابُ كَيْفِيَّةِ الْعُقُوبَاتِ الشَّرْعِيَّةِ لِلْمُجْرِمِينَ)
(مجرموں کی شرعی سزا کی نوعیت)
حدیث نمبر: 598
عَنِ ابْنِ أَبِي يَحْيَى، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ:" مَا سَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَيْنًا وَمَا زَادَ أَهْلَ اللِّقَاحِ عَلَى أَنْ قَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ".
جعفر بن محمد رحمہ اللہ اپنے باپ سے وہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آنکھوں میں سلائیاں نہ پھروائی تھیں صرف ان کے ہاتھ پاؤں کاٹے تھے۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب عقل الجنين/حدیث: 598]
404. (بَابُ الصَّبْرِ وَالِانْتِظَارِ فِي الْقِصَاصِ)
(قصاص لینے میں صبر و انتظار)
حدیث نمبر: 599
عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ: طُعِنَ رَجُلٌ بِقَرْنٍ فِي رِجْلَهِ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَقِدْنِي، فَقَالَ:" انْتَظِرْ"، فَعَادَ إِلَيْهِ، فَقَالَ:" انْتَظِرْ"، فَعَادَ إِلَيْهِ، فَقَالَ:" انْتَظِرْ"، فَعَادَ إِلَيْهِ، فَأَقَادَهُ فَبَرِئَتْ رِجْلُ الْمُسْتَقَادُ مِنْهُ وَشَلَّتْ رِجْلُ الآخَرِ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ بَرِئَتْ رِجْلُهُ وَشَلَّتْ رِجْلِي، قَالَ:" قَدْ قُلْتُ لَكَ: انْتَظِرْ" وَلَمْ يَرَ لَهُ شَيْئًا.
محمد بن طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی کو سینگ کے ساتھ ٹانگ پر زخمی کیا گیا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا مجھے قصاص چاہیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تھوڑا انتظار کر لے“ پھر دوبارہ آ گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”تھوڑا صبر کر جا“ پھر آ گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تھوڑا انتظار کر“ پھر آ کر یہی مطالبہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قصاص دلایا تو جس سے قصاص لیا گیا تھا اس کی ٹانگ درست ہو گئی؟ پہلے کی ٹانگ شل ہو گئی تو کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! اُس کی ٹانگ تو ٹھیک ہوگئی ہے جبکہ میری مفلوج ہو گئی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تجھے کہا تھا تھوڑا انتظار کر اب تیرے لیے کچھ نہیں (تو قصاص لے چکا ہے صبر کرتا تو نصف دیت ملتی)“ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب عقل الجنين/حدیث: 599]
تخریج الحدیث: «السنن الکبری للبیہقی: 66/8، مصنف عبدالرزاق: 453,452/9، رقم: 17987,17986، سنن دار قطنی: 90,89/3، رجاله ثقات لكنه مرسل.»
405. (بَابُ فَهْمِ الْقُرْآنِ وَأَحْكَامِ صَحِيفَةِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ)
(فہم قرآن اور صحیفہ علی کے احکام)
حدیث نمبر: 600
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ طَرِيفٍ الْكُوفِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَلْ عِنْدَكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِلْمٌ سِوَى الْقُرْآنِ؟ فَقَالَ:" لا وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ، مَا عِنْدَنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ سِوَى الْقُرْآنِ إِلا أَنْ يُؤْتِيَ اللَّهُ عَبْدًا فَهْمًا فِي الْقُرْآنِ وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ"، قَالَ: قُلْتُ: وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ؟ قَالَ:" الْعَقْلُ وَفِكَاكُ الأَسِيرِ وَأَنْ لا يُقْتَلَ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ".
ابو جحیفہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا: کیا آپ کے پاس قرآن کے سوا اور بھی کوئی علم نبوی ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ”نہیں اس ذات کی قسم جس نے دانے کو پھاڑ کر انگوری نکالی اور روح کو پیدا کیا مگر یہ کہ اللہ کسی آدمی کو اپنی کتاب کی سمجھ عطا کر دے یا پھر یہ صحیفہ ہے“ میں نے عرض کی اس صحیفہ میں کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”اس میں دیت کے مسائل ہیں اور قیدی کو چھڑانے کا بیان، اور یہ کہ کوئی مسلمان کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے گا۔“ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب عقل الجنين/حدیث: 600]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، العلم، باب كتابة العلم، رقم: 111.»
406. (بَابُ قِصَاصِ الْمُؤْمِنِ بِالْكَافِرِ)
(کافر کے بدلے مومن کا قصاص)
حدیث نمبر: 601
أَنْبَأَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ عَطَاءٍ، وَطَاوُسٍ، وَمُجَاهِدٍ، وَالْحَسَنِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فِي خُطْبَتِهِ عَامَ الْفَتْحِ:" لا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ".
عطاء طاؤس، مجاہد اور حسن رحمہ اللہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے موقع پر خطبہ دیا اور فرمایا: ”مومن کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے گا۔“ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/باب عقل الجنين/حدیث: 601]
تخریج الحدیث: «السنن الصغير للبيهقي: 209/3، مصنف ابن ابی شيبة: 295,293/9، نيل الأوطار للشوكاني: 151/7 مرسل.»