سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
103. باب فِي الرَّجُلِ يَنْبَطِحُ عَلَى بَطْنِهِ
باب: آدمی پیٹ کے بل لیٹے تو کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 5040
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَعِيشَ بْنِ طَخْفَةَ بْنِ قَيْسٍ الْغِفَارِيِّ، قَالَ: كَانَ أَبِي مِنْ أَصْحَابِ الصُّفَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى بَيْتِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , فَانْطَلَقْنَا، فَقَالَ: يَا عَائِشَةُ، أَطْعِمِينَا فَجَاءَتْ بِحَشِيشَةٍ فَأَكَلْنَا، ثُمَّ قَالَ: يَا عَائِشَةُ، أَطْعِمِينَا , فَجَاءَتْ بِحَيْسَةٍ مِثْلِ الْقَطَاةِ فَأَكَلْنَا، ثُمَّ قَالَ: يَا عَائِشَةُ، اسْقِينَا , فَجَاءَتْ بِعُسٍّ مِنْ لَبَنٍ فَشَرِبْنَا، ثُمَّ قَالَ: يَا عَائِشَةُ، اسْقِينَا , فَجَاءَتْ بِقَدَحٍ صَغِيرٍ فَشَرِبْنَا، ثُمَّ قَالَ: إِنْ شِئْتُمْ بِتُّمْ، وَإِنْ شِئْتُمُ انْطَلَقْتُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ , قال: فَبَيْنَمَا أَنَا مُضْطَجِعٌ فِي الْمَسْجِدِ مِنَ السَّحَرِ عَلَى بَطْنِي، إِذَا رَجُلٌ يُحَرِّكُنِي بِرِجْلِهِ، فَقَالَ: إِنَّ هَذِهِ ضِجْعَةٌ يُبْغِضُهَا اللَّهُ، قَالَ: فَنَظَرْتُ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
یعیش بن طخفہ بن قیس غفاری کہتے ہیں کہ میرے والد اصحاب صفہ میں سے تھے تو (ایک بار) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارے ساتھ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر چلو“ تو ہم گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! ہمیں کھانا کھلاؤ“ وہ دلیا لے کر آئیں تو ہم نے کھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! ہمیں کھانا کھلاؤ“ تو وہ تھوڑا سا حیس ۱؎ لے کر آئیں، قطاۃ پرند کے برابر، تو (اسے بھی) ہم نے کھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! ہم کو پلاؤ“ تو وہ دودھ کا ایک بڑا پیالہ لے کر آئیں، تو ہم نے پیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ہم لوگوں سے) فرمایا: ”تم لوگ چاہو (ادھر ہی) سو جاؤ، اور چاہو تو مسجد چلے جاؤ“ وہ کہتے ہیں: تو میں (مسجد میں) صبح کے قریب اوندھا (پیٹ کے بل) لیٹا ہوا تھا کہ یکایک کوئی مجھے اپنے پیر سے ہلا کر جگانے لگا، اس نے کہا: اس طرح لیٹنے کو اللہ ناپسند کرتا ہے، میں نے (آنکھ کھول کر) دیکھا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5040]
سیدنا یعیش بن طخفہ بن قیس غفاری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میرے والد (طخفہ رضی اللہ عنہ) اصحابِ صفہ میں سے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”ہمارے ساتھ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر چلو۔“ تو ہم چل دیے۔ (وہاں پہنچ کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! ہمیں (کچھ) کھلاؤ۔“ تو وہ جشیشہ لے آئیں جو ہم نے کھایا۔ (جشیشہ اس انداز کا کھانا ہے کہ گندم کو پیس کر آٹا ہنڈیا میں چڑھائیں پھر اس میں گوشت یا کھجور ڈال کر پکائیں، اسے ایک طرح کا حلیم بھی کہا جا سکتا ہے۔) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! ہمیں کچھ اور بھی کھلاؤ۔“ تو وہ حیس (کھجور، گھی اور پنیر وغیرہ کا مرکب کھانا) لے آئیں جو تھوڑا سا تھا، جیسے کہ چڑیا ہو (یا ممکن ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مراد ہوں کہ وہ صدق و وفا شعاری میں قطاۃ چڑیا کی مانند تھیں) ہم نے وہ حیس کھایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! ہمیں کچھ پلاؤ۔“ تو وہ دودھ کا ایک بڑا پیالہ لے آئیں، ہم نے وہ پی لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”عائشہ! ہمیں اور بھی پلاؤ۔“ تو وہ ایک چھوٹا پیالہ لے آئیں، تو ہم نے وہ بھی پیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر چاہو تو سو جاؤ اور اگر چاہو تو مسجد میں چلے جاؤ۔“ طخفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں مسجد میں اوندھے منہ اپنے پیٹ کے بل لیٹا ہوا تھا کہ میرے پھیپھڑے میں تکلیف تھی۔ تو اچانک میں نے پایا کہ کسی نے مجھے اپنے پاؤں سے حرکت دی ہے اور کہہ رہا ہے: ”اس طرح سے سونا اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے۔“ کہتے ہیں: میں نے دیکھا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5040]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/ المساجد 6 (752)، الأدب 27 (3723)، (تحفة الأشراف: 4991)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/429) (ضعیف)» (سند میں سخت اضطراب ہے، طخفة بن قیس (ف) سے یا طھفہ (ہ) سے، اس کو قیس بن طخفة نیز یعیش بن طخفة ابو تغفة کہتے ہیں، حتی کہ یہ بھی کہا گیا کہ وہ نہیں بلکہ ان کے والد صحابی تھے، لیکن پیٹ کے بل لیٹنے کی ممانعت ثابت ہے)
وضاحت: ۱؎: حیس ایک عربی کھانا ہے جو کھجور، ستو، پنیر اور گھی سے بنتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (4719)
وله شاھد عند ابن حبان (1959) وصححه الحاكم (4/271) ووافقه الذهبي
مشكوة المصابيح (4719)
وله شاھد عند ابن حبان (1959) وصححه الحاكم (4/271) ووافقه الذهبي
104. باب فِي النَّوْمِ عَلَى سَطْحٍ غَيْرِ مُحَجَّرٍ
باب: بغیر چہار دیواری کی چھت پر سوئے تو کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 5041
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا سَالِمٌ يَعْنِي ابْنَ نُوحٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ جَابِرٍ الْحَنَفِيِّ، عَنْ وَعْلَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَثَّابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَلِيٍّ يَعْنِي ابْنَ شَيْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ بَاتَ عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ لَيْسَ لَهُ حِجَارٌ، فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ".
علی بن شیبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص گھر کی ایسی چھت پر سوئے جس پر پتھر (کی مڈیر) نہ ہو (یعنی کوئی چہار دیواری نہ ہو) تو اس سے (حفاظت کا) ذمہ اٹھ گیا (گرے یا بچے وہ جانے)۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5041]
جناب عبدالرحمٰن اپنے والد علی بن شیبان رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی ایسی چھت پر سوئے جس کے گرد کوئی منڈیر (پردہ وغیرہ) نہ ہو تو اس سے ذمہ اٹھ گیا۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5041]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10020) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (4720)
وله شاھد عند أحمد (5/79، 271 وسنده حسن، زھير بن عبد الله حسن الحديث)
مشكوة المصابيح (4720)
وله شاھد عند أحمد (5/79، 271 وسنده حسن، زھير بن عبد الله حسن الحديث)
105. باب فِي النَّوْمِ عَلَى طَهَارَةٍ
باب: باوضو سونے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 5042
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي ظَبْيَةَ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَبِيتُ عَلَى ذِكْرٍ طَاهِرًا، فَيَتَعَارُّ مِنَ اللَّيْلِ، فَيَسْأَلُ اللَّهَ خَيْرًا مِنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ" , قال ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ: قَدِمَ عَلَيْنَا أَبُو ظَبْيَةَ فَحَدَّثَنَا بِهَذَا الْحَدِيثِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ ثَابِتٌ: قَالَ فُلَانٌ: لَقَدْ جَهِدْتُ أَنْ أَقُولَهَا حِينَ أَنْبَعِثُ، فَمَا قَدَرْتُ عَلَيْهَا.
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بھی مسلمان اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہوا باوضو سوتا ہے پھر رات میں (کسی بھی وقت) چونک کر اٹھتا ہے اور اللہ سے دنیا اور آخرت کی بھلائی کا سوال کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور دیتا ہے“۔ ثابت بنانی کہتے ہیں: ہمارے پاس ابوظبیہ آئے تو انہوں نے ہم سے معاذ بن جبل کی یہ حدیث بیان کی، جسے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ ثابت بنانی کہتے ہیں: فلاں شخص نے کہا ۱؎ کہ میں نے اپنی نیند سے بیدار ہوتے وقت کئی بار اس کلمہ کے ۲؎ ادا کرنے کی کوشش کی مگر کہہ نہ سکا ۳؎۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5042]
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص باوضو ہو کر اللہ کا ذکر کرتے ہوئے سو جائے اور پھر رات کو کسی وقت اس کی آنکھ کھلے (اور بستر پر اپنا پہلو وغیرہ بدلے) اور اللہ سے دنیا و آخرت کی کوئی خیر مانگ لے، تو وہ اسے عنایت فرما دے گا۔“ ثابت بنانی رحمہ اللہ کہتے ہیں راویِ حدیث ابوظبیہ ہمارے ہاں آئے اور انہوں نے ہمیں یہ حدیث بواسطہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی۔ ثابت رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ ایک صاحب نے کہا: ”میں نے بڑی کوشش کی ہے کہ رات کو اٹھوں اور ایسی کوئی دعا کر لوں مگر میں اس میں کامیاب نہیں ہو سکا۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5042]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الدعاء 16(3881)، (تحفة الأشراف: 11371)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/235، 244) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ثابت بنانی نے کسی وجہ سے کہنے والے کا نام ظاہر نہیں کیا۔
۲؎: اس سے مراد دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ سے خیر کا سوال ہے۔
۳؎: شاید ایسا نسیان یا دنیاوی امور میں مشغولیت کے سبب ہوا ہو۔ واللہ اعلم
۲؎: اس سے مراد دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ سے خیر کا سوال ہے۔
۳؎: شاید ایسا نسیان یا دنیاوی امور میں مشغولیت کے سبب ہوا ہو۔ واللہ اعلم
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (1215)
أخرجه ابن ماجه (3881 وسنده حسن)
مشكوة المصابيح (1215)
أخرجه ابن ماجه (3881 وسنده حسن)
حدیث نمبر: 5043
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَامَ مِنَ اللَّيْلِ، فَقَضَى حَاجَتَهُ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ نَامَ" , قال أبو داود: يَعْنِي بَالَ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں بیدار ہوئے پھر اپنی ضرورت سے فارغ ہوئے، پھر اپنا ہاتھ منہ دھویا، پھر سو گئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اپنی ضرورت سے فارغ ہونے کا مطلب ہے پیشاب کیا۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5043]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اٹھے، قضائے حاجت کے لیے گئے۔ پھر اپنا چہرہ اور ہاتھ دھوئے، پھر سو گئے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ «قَضَى حَاجَتَهُ» سے مراد ہے ”پیشاب کیا۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5043]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الدعوات 10 (6316)، صحیح مسلم/الحیض 5 (763)، سنن النسائی/التطبیق 63 (1122)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 71 (508)، (تحفة الأشراف: 6352)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/234، 283، 284، 343) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6316) صحيح مسلم (763)
106. باب كَيْفَ يَتَوَجَّهُ
باب: آدمی سوتے وقت کدھر منہ کر کے سوئے؟
حدیث نمبر: 5044
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ بَعْضِ آلِ أُمِّ سَلَمَةَ" كَانَ فِرَاشُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوًا مِمَّا يُوضَعُ الْإِنْسَانُ فِي قَبْرِهِ، وَكَانَ الْمَسْجِدُ عِنْدَ رَأْسِهِ".
ام سلمہ کی اولاد میں سے ایک شخص سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر اس طرح بچھایا جاتا جس طرح انسان اپنی قبر میں لٹایا جاتا ہے، اور مسجد (نماز پڑھنے کی جگہ یا مسجد نبوی) آپ کے سرہانے ہوتی۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5044]
جناب ابوقلابہ نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے خاندان میں سے کسی فرد سے روایت کیا کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر ایسے بچھایا جاتا تھا جیسے انسان قبر میں رکھا جاتا ہے اور مسجد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کی طرف ہوتی تھی۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5044]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود (ضعیف)» (اس کی سند میں ایک مبہم راوی ہے، معلوم نہیں صحابی ہے یا تابعی)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
بعض آل أم سلمة : مجهول (انظر عون المعبود 471/4)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 175
إسناده ضعيف
بعض آل أم سلمة : مجهول (انظر عون المعبود 471/4)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 175
107. باب مَا يُقَالُ عِنْدَ النَّوْمِ
باب: سوتے وقت کیا دعا پڑھے؟
حدیث نمبر: 5045
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ سَوَاءٍ، عَنْ حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْقُدَ، وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى تَحْتَ خَدِّهِ، ثُمَّ يَقُولُ: اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ ثَلَاثَ مِرَارٍ".
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے کا ارادہ فرماتے تو اپنا داہنا ہاتھ اپنے گال کے نیچے رکھتے، پھر تین مرتبہ «اللهم قني عذابك يوم تبعث عبادك» ”اے اللہ جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے اس دن مجھے اپنے عذاب سے بچا لے“ کہتے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5045]
ام المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سونا چاہتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنے رخسار کے نیچے رکھ لیتے، پھر یہ دعا پڑھتے: «اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ» ”اے اللہ! جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے مجھے اپنے عذاب سے محفوظ رکھنا۔“ یہ کلمات تین بار دہراتے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5045]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 15797)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/287) (صحیح)» (لیکن تین بار لفظ صحیح نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله ثلاث مرار
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (2402)
مشكوة المصابيح (2402)
حدیث نمبر: 5046
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِر، قَالَ: سَمِعْتُ مَنْصُورًا يُحَدِّثُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ، قَالَ: قال لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَتَيْتَ مَضْجَعَكَ، فَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ اضْطَجِعْ عَلَى شِقِّكَ الْأَيْمَنِ، وَقُلْ: اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ، رَهْبَةً وَرَغْبَةً إِلَيْكَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَى مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ، قَالَ: فَإِنْ مِتَّ مِتَّ عَلَى الْفِطْرَةِ، وَاجْعَلْهُنَّ آخِرَ مَا تَقُولُ , قَالَ الْبَرَاءُ: فَقُلْتُ: أَسْتَذْكِرُهُنَّ، فَقُلْتُ: وَبِرَسُولِكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ , قال: لَا، وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”جب تم اپنی خواب گاہ میں آؤ (یعنی سونے چلو) تو وضو کرو جیسے اپنے نماز کے لیے وضو کرتے ہو، پھر اپنی داہنی کروٹ پر لیٹو، اور کہو «اللهم أسلمت وجهي إليك وفوضت أمري إليك وألجأت ظهري إليك رهبة ورغبة إليك لا ملجأ ولا منجى منك إلا إليك آمنت بكتابك الذي أنزلت وبنبيك الذي أرسلت» ”اے اللہ میں نے اپنی ذات کو تیری تابعداری میں دے دیا، میں نے اپنا معاملہ تیرے سپرد کر دیا، میں نے امید وبیم کے ساتھ تیری ذات پر بھروسہ کیا، تجھ سے بھاگ کر تیرے سوا کہیں اور جائے پناہ نہیں، میں ایمان لایا اس کتاب پر جو تو نے نازل فرمائی ہے، اور میں ایمان لایا تیرے اس نبی پر جسے تو نے بھیجا ہے“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم (یہ دعا پڑھ کر) انتقال کر گئے تو فطرت (یعنی دین اسلام) پر انتقال ہوا اور اس دعا کو اپنی دیگر دعاؤں کے آخر میں پڑھو“ براء کہتے ہیں: اس پر میں نے کہا کہ میں انہیں یاد کر لوں گا، تو میں نے (یاد کرتے ہوئے) کہا «وبرسولك الذي أرسلت» تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا نہیں بلکہ «وبنبيك الذي أرسلت» (جیسا دعا میں ہے ویسے ہی کہو)“۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5046]
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”جب اپنے بستر پر جانے لگو تو وضو کر لیا کرو جیسے نماز کے لیے کرتے ہو، پھر اپنی دائیں کروٹ پر لیٹ جاؤ اور کہو: «اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ، رَهْبَةً وَرَغْبَةً إِلَيْكَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَى مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ، وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ» ”اے اللہ! میں نے اپنا چہرہ تیرے تابع کر دیا اور اپنا معاملہ تیرے سپرد کر دیا، اپنی کمر تیری طرف لگا لی (تجھے ہی اپنا سہارا بنا لیا) مجھے تیرا ہی ڈر ہے اور شوق بھی تیری طرف ہے۔ تجھ سے بھاگ کر میرے لیے تیرے سوا کہیں کوئی جائے پناہ اور جائے نجات نہیں۔ میں تیری اس کتاب پر ایمان لایا جو تو نے نازل کی ہے اور اس نبی کو تسلیم کیا جسے تو نے رسول بنا کر بھیجا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو (اس رات میں) مر گیا تو فطرت (دین اسلام) پر مرے گا اور چاہیے کہ یہ تیری آخری بات ہو (اس کے بعد کوئی اور گفتگو نہ ہو)۔“ سیدنا براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، میں نے اس دعا کو یاد کرتے ہوئے دہرایا تو لفظ کہہ دیے «وَبِرَسُولِكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ» ”میں تیرے اس رسول پر ایمان لایا جسے تو نے بھیجا ہے“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں (بلکہ جو الفاظ میں نے تمہیں پڑھائے ہیں وہی یاد کرو، اور وہ الفاظ ہیں) «وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ» ”میں تیرے اس نبی پر ایمان لایا جسے تو نے رسول بنا کر بھیجا ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5046]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 75 (247)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء 17 (2710)، سنن الترمذی/الدعوات 117 (3574)، (تحفة الأشراف: 1763)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الدعاء 15 (3876)، مسند احمد (4/290، 292، 293، 296، 300)، سنن الدارمی/الاستئذان 51 (2725) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6311) صحيح مسلم (2710)
حدیث نمبر: 5047
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ فِطْرِ بْنِ خَلِيفَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ عُبَيْدَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ، قَالَ: قال لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ وَأَنْتَ طَاهِرٌ، فَتَوَسَّدْ يَمِينَكَ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ.
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”جب تم پاک و صاف (باوضو) ہو کر اپنے بستر پر (سونے کے لیے) آؤ تو اپنے داہنے ہاتھ کا تکیہ بناؤ“ پھر انہوں نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5047]
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”جب تم اپنے بستر پر آنے لگو اور باوضو ہو تو اپنی داہنی جانب پر لیٹو۔“ پھر مذکورہ بالا حدیث کی مانند ذکر کیا۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5047]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 1763) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (5046)
انظر الحديث السابق (5046)
حدیث نمبر: 5048
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْغَزَّالُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ , وَمَنْصُورٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ الْبَرَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا، قَالَ سُفْيَانُ: قَالَ أَحَدُهُمَا: إِذَا أَتَيْتَ فِرَاشَكَ طَاهِرًا، وَقَالَ الْآخَرُ: تَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ، وَسَاقَ مَعْنَى مُعْتَمِرٍ.
اس سند سے بھی براء رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً مروی ہے، سفیان ثوری کہتے ہیں: ایک راوی نے «إذا أتيت فراشك طاهرا» ”جب تم باوضو اپنے بستر پر آؤ“ کہا اور دوسرے نے «توضأ وضوءك للصلاة» ”تم جب نماز جیسا وضو کر لو“ کہا اور آگے راوی نے معتمر جیسی روایت بیان کی۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5048]
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی۔ سفیان نے (اپنے اساتذہ اعمش اور منصور کے متعلق) کہا کہ ان میں سے ایک کے الفاظ یہ تھے: ”جب تم باوضو ہو کر اپنے بستر پر آؤ۔“ اور دوسرے نے کہا: ”جب تم اپنے بستر پر آنے کا ارادہ کرو تو وضو کر لو جیسے نماز کے لیے کرتے ہو۔“ اور معتمر (کی گزشتہ روایت 5046) کے ہم معنی بیان کی۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5048]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (5046)، (تحفة الأشراف: 1763) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (5046)
انظر الحديث السابق (5046)
حدیث نمبر: 5049
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَامَ، قَالَ: اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ أَحْيَا وَأَمُوتُ، وَإِذَا اسْتَيْقَظَ، قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا، وَإِلَيْهِ النُّشُورُ".
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سونے کے وقت فرماتے: «اللهم باسمك أحيا وأموت» ”اے اللہ میں تیرے ہی نام پر جیتا اور مرتا ہوں“ اور جب بیدار ہوتے تو فرماتے «الحمد لله الذي أحيانا بعد ما أماتنا وإليه النشور» ”شکر ہے اللہ کا جس نے ہمیں زندگی بخشی (ایک طرح سے) موت طاری کر دینے کے بعد اور اسی کی طرف اٹھ کر جانا ہے“۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5049]
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے لگتے تو یہ دعا پڑھتے تھے: «اَللّٰهُمَّ بِاسْمِكَ أَحْيَا وَأَمُوتُ» ”اے اللہ! تیرے ہی نام سے میں زندہ ہوتا اور مرتا ہوں۔ یعنی سوتا اور جاگتا ہوں۔“ اور جب جاگتے تو یہ پڑھتے: «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ» ”تمام تعریفیں اس اللہ کی ہیں جس نے ہمیں مارنے کے بعد زندہ کیا (نیند کے بعد جگایا) اور اسی کی طرف اٹھنا ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5049]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الدعوات 7 (6312)، التوحید 13 (7394)، سنن الترمذی/الدعوات 28 (3417)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 16 (3880)، (تحفة الأشراف: 3308)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/385، 387، 397، 399، 407)، سنن الدارمی/الاستئذان 53 (2728) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6312)