🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
110. باب مَا يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ
باب: صبح کے وقت کیا پڑھے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5080
حَدَّثَنَا , وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ , وَعَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ , وَمُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ , عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ , قَالُوا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ،حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَسَّانَ الْكِنَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ مُسْلِمٍ التَّمِيمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ نَحْوَهُ: إِلَى قَوْلِهِ: جِوَارٌ مِنْهَا إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِيهِمَا قَبْلَ أَنْ يُكَلِّمَ أَحَدًا، قَالَ عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ فِيهِ: إِنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، وَقَالَ عَلِيٌّ وَابْنُ الْمُصَفَّى: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ، فَلَمَّا بَلَغْنَا الْمُغَارَ اسْتَحْثَثْتُ فَرَسِي فَسَبَقْتُ أَصْحَابِي , وَتَلَقَّانِي الْحَيُّ بِالرَّنِينِ، فَقُلْتُ لَهُمْ: قُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ تُحْرَزُوا، فَقَالُوهَا، فَلَامَنِي أَصْحَابِي، وَقَالُوا: حَرَمْتَنَا الْغَنِيمَةَ، فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرُوهُ بِالَّذِي صَنَعْتُ، فَدَعَانِي فَحَسَّنَ لِي مَا صَنَعْتُ، وَقَالَ: أَمَا إِنَّ اللَّهَ قَدْ كَتَبَ لَكَ مِنْ كُلِّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ كَذَا وَكَذَا" , قال عَبْدُ الرَّحْمَنِ: فَأَنَا نَسِيتُ الثَّوَابَ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَا إِنِّي سَأَكْتُبُ لَكَ بِالْوَصَاةِ بَعْدِي , قال: فَفَعَلَ، وَخَتَمَ عَلَيْهِ، فَدَفَعَهُ إِلَيَّ وَقَالَ لِي، ثُمَّ ذَكَرَ مَعْنَاهُمْ، وقَالَ ابْنُ الْمُصَفَّى قَالَ: سَمِعْتُ الْحَارِثَ بْنَ مُسْلِمِ بْنِ الْحَارِثِ التَّمِيمِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ.
حارث بن مسلم تمیمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح فرمایا جیسے اوپر گزرا «كتب لك جوار منها» تک مگر اس میں دونوں میں اتنا اضافہ ہے کہ: یہ دعا کسی سے بات کرنے سے پہلے پڑھے۔ اور علی اور ابن مصفٰی کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک سریہ میں بھیجا پھر جب ہم اس جگہ کے قریب پہنچے جہاں ہمیں چھاپہ مارنا اور حملہ کرنا تھا، تو میں نے اپنے گھوڑے کو تیزی سے آگے بڑھایا اور اپنے ساتھیوں سے آگے نکل گیا، بستی والے (ہمیں دیکھ کر) چیخنے چلانے لگے، میں نے ان سے کہا: «لا إله إلا الله» کہہ دو (ایمان لے آؤ) تو بچ جاؤ گے، تو انہوں نے «لا إله إلا الله» کہہ دیا، میرے ساتھی مجھے ملامت کرنے لگے اور کہنے لگے: تو نے ہمیں غنیمت سے محروم کر دیا، جب وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، تو ان لوگوں نے میں نے جو کیا تھا اس سے آپ کو باخبر کیا، تو آپ نے مجھے بلایا اور میرے کام کی تعریف کی اور فرمایا: سن! اللہ نے تمہیں اس بستی کے ہر ہر فرد کے بدلے اتنا اتنا ثواب دیا ہے (عبدالرحمٰن کہتے ہیں: میں ثواب بھول گیا)، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تیرے لیے ایک وصیت نامہ لکھ دیتا ہوں (وہ میرے بعد تیرے کام آئے گا)، پھر آپ نے لکھا، اس پر اپنی مہر ثبت کی اور مجھے دے دیا اور فرمایا، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5080]
عبدالرحمٰن بن حسان کنانی نے روایت کیا کہ مجھے مسلم بن حارث بن مسلم تمیمی نے اپنے والد سے روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اور مذکورہ بالا حدیث کی مانند بیان کیا۔ اور «جِوَارٍ مِنْهَا» اس سے پناہ تک روایت کی۔ مگر اس میں ہے کہ یہ کلمہ «اللّٰهُمَّ أَجِرْنِي مِنَ النَّارِ» اے اللہ! مجھے آگ سے پناہ عطا فرما۔ (سلام کے بعد) کسی سے بات کرنے سے پہلے کہے۔ علی بن سہل نے کہا کہ مسلم بن حارث کے والد نے اپنے بیٹے کو یہ حدیث بیان کی، جبکہ علی بن سہل اور محمد بن مصفٰی نے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک مہم میں روانہ کیا۔ جب ہم لڑائی کے مقام پر پہنچ گئے تو میں نے اپنے گھوڑے کو تیز دوڑایا اور اپنے ساتھیوں سے آگے نکل گیا تو مجھے دشمن قبیلے کی آوازیں سنائی دیں۔ میں نے ان سے کہا: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ کہہ لو بچ جاؤ گے۔ چنانچہ ان لوگوں نے یہ کلمہ کہہ دیا۔ تو میرے ساتھیوں نے مجھے ملامت کی اور کہنے لگے کہ تم نے ہمیں غنیمت سے محروم کر دیا۔ پھر جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے اور ساتھیوں نے وہ واقعہ بیان کیا کہ جو کچھ میں نے کیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلوایا اور میرے عمل کی تحسین فرمائی اور فرمایا: اللہ نے تیرے لیے ان میں سے ہر ہر بندے کی وجہ سے اتنا اتنا ثواب لکھا ہے۔ عبدالرحمٰن (عبدالرحمٰن بن حسان) نے کہا کہ مجھے اس ثواب کی تفصیل بھول گئی ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آگاہ رہو! بیشک میں اپنے بعد تمہارے لیے وصیت لکھ دیتا ہوں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ہی کیا اور اس تحریر میں مہر لگا کر میرے حوالے کر دی اور مجھ سے فرمایا۔ پھر مذکورہ بالا روایت کے ہم معنی ذکر کیا۔ ابن مصفٰی نے کہا: میں نے حارث بن مسلم بن حارث تمیمی سے سنا، وہ اپنے والد سے حدیث بیان کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5080]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3281) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (صحابی کے بیٹے مسلم مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (انظر الحديث السابق (5079))

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5081
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ مُسْلِمٍ الدِّمَشْقِيُّ وَكَانَ مِنْ ثِقَاتِ الْمُسْلِمِينَ مِنَ الْمُتَعَبِّدِينَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُدْرِكُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ يَزِيدُ: شَيْخٌ ثِقَةٌ، عَنْ يُونُسَ بْنِ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" مَنْ قَالَ إِذَا أَصْبَحَ وَإِذَا أَمْسَى: حَسْبِيَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ، وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ سَبْعَ مَرَّاتٍ، كَفَاهُ اللَّهُ مَا أَهَمَّهُ صَادِقًا كَانَ بِهَا أَوْ كَاذِبًا".
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جو شخص صبح کے وقت اور شام کے وقت سات مرتبہ  «حسبي الله لا إله إلا هو عليه توكلت وهو رب العرش العظيم» کافی ہے مجھے اللہ، صرف وہی معبود برحق ہے، اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے، وہی عرش عظیم کا رب ہے کہے تو اللہ اس کی پریشانیوں سے اسے کافی ہو گا چاہے ان کے کہنے میں وہ سچا ہو یا جھوٹا۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5081]
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جس نے صبح اور شام کے وقت سات بار یہ کہہ لیا: ﴿حَسْبِيَ اللّٰهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ، عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ، وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ﴾ [سورة التوبة: 129] اللہ تعالیٰ اس کی پریشانیوں میں اس کی کفایت فرمائے گا خواہ اس نے سچے دل سے یہ کلمہ کہا ہو یا جھوٹے دل سے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5081]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11004) (موضوع)» ‏‏‏‏ (مذکورہ سند پر یہ حدیث گھڑ لی گئی ہے)
قال الشيخ الألباني: موضوع
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5082
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ أَبِي أَسِيدٍ الْبَرَّادِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ:" خَرَجْنَا فِي لَيْلَةِ مَطَرٍ وَظُلْمَةٍ شَدِيدَةٍ نَطْلُبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّيَ لَنَا فَأَدْرَكْنَاهُ، فَقَالَ: أَصَلَّيْتُمْ؟ فَلَمْ أَقُلْ شَيْئًا , فَقَالَ: قُلْ فَلَمْ أَقُلْ شَيْئًا، ثُمَّ قَالَ: قُلْ , فَلَمْ أَقُلْ شَيْئًا، ثُمَّ قَالَ: قُلْ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَقُولُ؟ قَالَ: قُلْ: قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، حِينَ تُمْسِي وَحِينَ تُصْبِحُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ تَكْفِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ".
عبداللہ بن خبیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بارش کی ایک سخت اندھیری رات میں نماز پڑھانے کے لیے تلاش کرنے نکلے، تو ہم نے آپ کو پا لیا، آپ نے فرمایا: کیا تم لوگوں نے نماز پڑھ لی؟ ہم نے کوئی جواب نہیں دیا، آپ نے فرمایا: کچھ کہو اس پر بھی ہم نے کچھ نہیں کہا، آپ نے پھر فرمایا: کچھ کہو (پھر بھی) ہم نے کچھ نہیں کہا، پھر آپ نے فرمایا: کچھ تو کہو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا کہوں؟ آپ نے فرمایا: «قل هو الله أحد» اور معوذتین تین مرتبہ صبح کے وقت، اور تین مرتبہ شام کے وقت کہہ لیا کرو تو یہ تمہیں (ہر طرح کی پریشانیوں سے بچاؤ کے لیے) کافی ہوں گی۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5082]
معاذ بن عبداللہ بن خبیب اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ ہم ایک بارش والی اور سخت اندھیری رات میں نکلے، جبکہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈھونڈ رہے تھے تاکہ وہ ہمیں نماز پڑھائیں۔ چنانچہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پا لیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو۔ تو میں کچھ نہ بولا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: کہو۔ تو بھی میں کچھ نہ بولا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: کہو۔ تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں کیا کہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو: ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1] اور معوذتین یعنی ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ [سورة الفلق: 1] اور ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ [سورة الناس: 1] صبح اور شام تین تین بار یہ کہہ لو، تو ہر چیز سے تمہاری کفایت ہو جائے گی۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5082]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الدعوات 117 (3575)، سنن النسائی/الاستعاذة (5430)، (تحفة الأشراف: 5250) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (2163)
أخرجه الترمذي (3575 وسنده حسن) ورواه النسائي (5430 وسنده حسن) أبو أسيد ھو أسيد بن أبي أسيد

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5083
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي , قَالَ ابْنُ عَوْفٍ وَرَأَيْتُهُ فِي أَصْلِ إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنِي ضَمْضَمٌ،عَنْ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ، قَالَ: قَالُوا:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَدِّثْنَا بِكَلِمَةٍ نَقُولُهَا إِذَا أَصْبَحْنَا وَأَمْسَيْنَا وَاضْطَجَعْنَا فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَقُولُوا: اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، أَنْتَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ، وَالْمَلَائِكَةُ يَشْهَدُونَ أَنَّكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، فَإِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ أَنْفُسِنَا، وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ وَشِرْكِهِ، وَأَنْ نَقْتَرِفَ سُوءًا عَلَى أَنْفُسِنَا أَوْ نَجُرَّهُ إِلَى مُسْلِمٍ".
ابو مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمیں کوئی ایسی (جامع) بات بتائیے، جسے ہم صبح و شام اور لیٹتے وقت کہا کریں، تو آپ نے انہیں حکم دیا کہ وہ یہ کہا کریں: «اللهم فاطر السموات والأرض عالم الغيب والشهادة أنت رب كل شىء والملائكة يشهدون أنك لا إله إلا أنت فإنا نعوذ بك من شر أنفسنا ومن شر الشيطان الرجيم وشركه وأن نقترف سوءا على أنفسنا أو نجره إلى مسلم» اے اللہ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، غائب اور حاضر کے جاننے والے، تو ہر چیز کا رب ہے، فرشتے گواہی دیتے ہیں کہ تیرے سوا اور کوئی معبود برحق نہیں ہے، ہم تیری پناہ مانگتے ہیں، اپنے نفسوں کے شر سے، اور دھتکارے ہوئے شیطان کے شر، اور اس کے شرک سے، اور گناہ کی بات خود کرنے سے، یا کسی مسلمان سے گناہ کی بات کرانے سے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5083]
سیدنا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمیں کوئی کلمہ ارشاد فرمائیں جو ہم صبح، شام اور سوتے وقت پڑھا کریں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہا کرو: «اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، أَنْتَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ، وَالْمَلَائِكَةُ يَشْهَدُونَ أَنَّكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، فَإِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ أَنْفُسِنَا، وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ وَشِرْكِهِ، وَأَنْ نَقْتَرِفَ سُوءًا عَلَى أَنْفُسِنَا أَوْ نَجُرَّهُ إِلَى مُسْلِمٍ» اے اللہ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، غیب اور حاضر کے جاننے والے! تو ہی ہر چیز کا مالک ہے۔ اور فرشتے گواہ ہیں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ ہم اپنے نفسوں کی شرارتوں سے اور شیطان مردود کے شر اور شرک سے تیری پناہ چاہتے ہیں اور اس بات سے بھی کہ ہم اپنی جانوں پر کسی برائی کا ارتکاب کریں یا کسی مسلمان کے لیے کوئی برائی کریں۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5083]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12156) (ضعیف) (اس کے راوی '' محمد بن اسماعیل'' ضعیف ہیں)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
شريح عن أبي مالك مرسل
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 175

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5084
قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا أَصْبَحَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَقُلْ: أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذَا الْيَوْمِ فَتْحَهُ وَنَصْرَهُ وَنُورَهُ وَبَرَكَتَهُ وَهُدَاهُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِيهِ وَشَرِّ مَا بَعْدَهُ، ثُمَّ إِذَا أَمْسَى فَلْيَقُلْ مِثْلَ ذَلِكَ".
ابوداؤد کہتے ہیں کہ اسی اسناد سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی صبح کرے تو یہ کہے  «أصبحنا وأصبح الملك لله رب العالمين اللهم إني أسألك خير هذا اليوم فتحه ونصره ونوره وبركته وهداه وأعوذ بك من شر ما فيه وشر ما بعده» ہم نے صبح کی اور ملک (پوری کائنات) نے صبح کی جو اللہ رب العالمین کا ہے، اے اللہ! میں تجھ سے اس دن کی بھلائی، اس دن کی فتح و نصرت، نور و برکت اور ہدایت کا طالب ہوں، اور تیری پناہ مانگتا ہوں اس دن کی اور اس کے بعد کے دنوں کی برائی سے اور جب شام کرے تو بھی اسی طرح کہے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5084]
امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے اسی اسناد سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی صبح کرے تو چاہیے کہ کہا کرے: «أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُكَ خَيْرَ هٰذَا الْيَوْمِ فَتْحَهُ، وَنَصْرَهُ، وَنُورَهُ، وَبَرَكَتَهُ، وَهُدَاهُ، وَأَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِيْهِ وَشَرِّ مَا بَعْدَهُ» ہم نے صبح کی اور اللہ رب العالمین کے ملک نے بھی صبح کی۔ اے اللہ! میں تجھ سے اس دن کی خیر، کامیابی، مدد، نور، برکت اور ہدایت کا سوال کرتا ہوں اور اس شر سے جو اس میں ہے اور اس کے بعد ہے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ اور جب شام ہو تو اسی طرح کہہ لیا کرے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5084]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12157) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کی سند میں بھی محمد بن اسماعیل ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (5083)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 176

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5085
حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ جُعْثُمٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْأَزْهَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَرَازِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَرِيقٌ الْهَوْزَنِيُّ، قَالَ:" دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَسَأَلْتُهَا بِمَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ إِذَا هَبَّ مِنَ اللَّيْلِ؟ , فَقَالَتْ: لَقَدْ سَأَلْتَنِي عَنْ شَيْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ قَبْلَكَ , كَانَ إِذَا هَبَّ مِنَ اللَّيْلِ كَبَّرَ عَشْرًا وَحَمَّدَ عَشْرًا، وَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ عَشْرًا، وَقَالَ: سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ عَشْرًا، وَاسْتَغْفَرَ عَشْرًا، وَهَلَّلَ عَشْرًا، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ ضِيقِ الدُّنْيَا، وَضِيقِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ عَشْرًا، ثُمَّ يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ".
شریق ہوزنی کہتے ہیں: میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، اور ان سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں نیند سے جاگتے تو پہلے کیا کرتے؟ تو انہوں نے کہا: تم نے مجھ سے ایسی بات پوچھی، جو تم سے پہلے کسی نے نہیں پوچھی ہے، آپ جب رات میں نیند سے جاگتے تو دس بار، «الله اكبر» کہتے، دس بار «الحمد الله» کہتے، دس بار «سبحان الله وبحمده» کہتے، دس بار «سبحان الملك القدوس» کہتے، اور دس بار «استغفر الله» کہتے، اور دس بار «لا إله إلا الله» کہتے، پھر دس بار «اللهم إني أعوذ بك من ضيق الدنيا وضيق يوم القيامة» اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں دنیا کی تنگی سے اور قیامت کے دن کی تنگی سے کہتے، پھر نماز شروع کرتے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5085]
جناب شریق ہوزنی کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گیا اور ان سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو اٹھتے تو کس چیز سے ابتداء کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: تحقیق تو نے مجھ سے ایسا سوال کیا ہے جس کے متعلق تجھ سے پہلے مجھ سے کسی نے نہیں پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو اٹھتے تھے تو دس بار «اللهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے، دس بار «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، دس بار «سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ» اللہ اپنی حمد کے ساتھ پاک ہے، دس بار «سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ» پاک ہے وہ بادشاہ جو نہایت مقدس ہے، دس بار «أَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ» میں اللہ سے بخشش مانگتا ہوں اور دس بار «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں کہتے تھے۔ پھر دس بار کہتے: «اللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ ضِيقِ الدُّنْيَا، وَضِيقِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ» اے اللہ! میں دنیا اور روزِ قیامت کی تنگی سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ پھر نماز شروع فرماتے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5085]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، انظر ما تقدم عند المؤلف برقم: 766، (تحفة الأشراف: 16153)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الاقامة 180 (1356)، سنن النسائی/قیام اللیل 9 (1616)، عمل الیوم واللیلة 254 (5550)، مسند احمد (6/143) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏ (متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں بقیہ اور عمر بن جعثم ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (1216)
وله شاھد عند النسائي (1618 وسنده حسن) وانظر الحديث السابق (766)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5086
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ فِي سَفَرٍ فَأَسْحَرَ، يَقُولُ: سَمِعَ سَامِعٌ بِحَمْدِ اللَّهِ وَنِعْمَتِهِ وَحُسْنِ بَلَائِهِ عَلَيْنَا، اللَّهُمَّ صَاحِبْنَا فَأَفْضِلْ عَلَيْنَا، عَائِذًا بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر میں ہوتے اور سحر میں اٹھتے تو کہتے «سمع سامع بحمد الله ونعمته وحسن بلائه علينا اللهم صاحبنا فأفضل علينا عائذا بالله من النار» سننے والے نے اللہ کی حمد، اس کی نعمتوں کی شکر گزاری اور اپنے امتحان میں ہماری حسن کارکردگی کو (دیکھ اور) سن لیا، اے اللہ! تو ہمارے ساتھ رہ، اور ہمیں اپنے فضل سے نواز، اور میں جہنم سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5086]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر میں ہوتے اور سحر ہوتی تو فرمایا کرتے: «سَمِعَ سَامِعٌ بِحَمْدِ اللّٰهِ وَنِعْمَتِهِ، وَحُسْنِ بَلَائِهِ عَلَيْنَا، اَللّٰهُمَّ صَاحِبْنَا فَأَفْضِلْ عَلَيْنَا، عَائِذًا بِاللّٰهِ مِنَ النَّارِ» سنتا ہے سننے والا، حمد ہے اللہ کی اور کیا خوب نعمتیں اور احسان ہیں اس کے ہم پر۔ اے اللہ! ہمارا ساتھی بن اور ہم پر اپنا فضل فرما، اس حال میں کہ ہم جہنم کی آگ سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5086]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الذکر والدعاء 18 (2718)، (تحفة الأشراف: 12669) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2718)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5087
حَدَّثَنَا ابْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي , حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ، قَالَ: كَانَ أَبُو ذَرٍّ، يَقُولُ:" مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ: اللَّهُمَّ مَا حَلَفْتُ مِنْ حَلِفٍ، أَوْ قُلْتُ مِنْ قَوْلٍ، أَوْ نَذَرْتُ مِنْ نَذْرٍ، فَمَشِيئَتُكَ بَيْنَ يَدَيْ ذَلِكَ كُلِّهِ، مَا شِئْتَ كَانَ وَمَا لَمْ تَشَأْ لَمْ يَكُنْ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَتَجَاوَزْ لِي عَنْهُ، اللَّهُمَّ فَمَنْ صَلَّيْتَ عَلَيْهِ فَعَلَيْهِ صَلَاتِي، وَمَنْ لَعَنْتَ فَعَلَيْهِ لَعْنَتِي، كَانَ فِي اسْتِثْنَاءٍ يَوْمَهُ ذَلِكَ، أَوْ قَالَ: ذَلِكَ الْيَوْمَ".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے تھے جو شخص صبح کرتے وقت کہے «اللهم ما حلفت من حلف أو قلت من قول أو نذرت من نذر فمشيئتك بين يدى ذلك كله ما شئت كان وما لم تشأ لم يكن اللهم اغفر لي وتجاوز لي عنه اللهم فمن صليت عليه فعليه صلاتي ومن لعنت فعليه لعنتي» اے اللہ! میں جو بھی قسم کھاؤں یا جو بھی بات کہوں یا جو بھی نذر مانوں ان تمام میں تیری مشیت ہی میری نظروں میں مقدم ہے، جو تو، چاہے گا ہو گا، جو تو نہیں چاہے گا نہیں ہو گا، اے اللہ! تو مجھے بخش دے، اور مجھ سے درگزر فرما، اے اللہ! جس پر تیری رحمت ہو تو اسے میری دعا بھی شامل حال رہے اور جس پر تو لعنت فرمائے اس پر میری طرف سے بھی لعنت ہو۔ تو وہ اس دن کے (فتنوں) سے محفوظ و مستثنٰی رہے گا، راوی کو شک ہے «يومه ذلك» کہا یا «ذلك اليوم» کہا۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5087]
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ: جس نے صبح کے وقت یہ دعا پڑھی: «اللَّهُمَّ مَا حَلَفْتُ مِنْ حَلِفٍ، أَوْ قُلْتُ مِنْ قَوْلٍ، أَوْ نَذَرْتُ مِنْ نَذْرٍ، فَمَشِيئَتُكَ بَيْنَ يَدَيْ ذَلِكَ كُلِّهِ، مَا شِئْتَ كَانَ، وَمَا لَمْ تَشَأْ لَمْ يَكُنِ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَتَجَاوَزْ لِي عَنْهُ، اللَّهُمَّ فَمَنْ صَلَّيْتَ عَلَيْهِ فَعَلَيْهِ صَلَاتِي، وَمَنْ لَعَنْتَ فَعَلَيْهِ لَعْنَتِي» اے اللہ! میں نے جو کوئی قسم اٹھائی ہو یا کوئی بات کہی ہو یا کوئی نذر مانی ہو تو تیری مشیت اور ارادہ اس سب کچھ کے آگے ہے۔ جو تو چاہتا ہے ہو جاتا ہے اور جو تو نہیں چاہتا نہیں ہوتا۔ اے اللہ! مجھے بخش دے اور مجھ سے ان امور میں درگزر فرما۔ اے اللہ! جس پر تو نے اپنی صلاۃ (رحمت) نازل کی ہے تو میری طرف سے بھی اس کے لیے صلاۃ (رحمت) ہو۔ اور جس پر تو نے لعنت کی ہے میری طرف سے بھی اس کو پھٹکار ہو۔ یہ کلمات پڑھنے والا اس دن کی غلطیوں سے مستثنیٰ ہوگا (محفوظ رہے گا)۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5087]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود (ضعیف الإسناد)» ‏‏‏‏ (قاسم بن عبدالرحمن المسعودی کی ابوذر سے روایت میں انقطاع ہے، کیونکہ دونوں میں لقاء و سماع نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد موقوف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 176

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5088
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مَوْدُودٍ، عَمَّنْ سَمِعَ أَبَانَ بْنَ عُثْمَانَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ يَعْنِي ابْنَ عَفَّانَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، لَمْ تُصِبْهُ فَجْأَةُ بَلَاءٍ حَتَّى يُصْبِحَ، وَمَنْ قَالَهَا حِينَ يُصْبِحُ ثَلَاثُ مَرَّاتٍ، لَمْ تُصِبْهُ فَجْأَةُ بَلَاءٍ حَتَّى يُمْسِيَ" وقَالَ: فَأَصَابَ أَبَانَ بْنَ عُثْمَانَ الْفَالِجُ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ الَّذِي سَمِعَ مِنْهُ الْحَدِيثَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ: مَا لَكَ تَنْظُرُ إِلَيَّ؟ فَوَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ عَلَى عُثْمَانَ، وَلَا كَذَبَ عُثْمَانُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَكِنَّ الْيَوْمَ الَّذِي أَصَابَنِي فِيهِ مَا أَصَابَنِي غَضِبْتُ فَنَسِيتُ أَنْ أَقُولَهَا.
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص تین بار «بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شىء في الأرض ولا في السماء وهو السميع العليم» اللہ کے نام سے کے ساتھ جس کے نام کے ساتھ زمین و آسمان میں کوئی چیز نقصان نہیں پہنچاتی اور وہی سننے والا اور جاننے والا ہے کہے تو اسے صبح تک اچانک کوئی مصیبت نہ پہنچے گی، اور جو شخص تین مرتبہ صبح کے وقت اسے کہے تو اسے شام تک اچانک کوئی مصیبت نہ پہنچے گی، راوی حدیث ابومودود کہتے ہیں: پھر راوی حدیث ابان بن عثمان پر فالج کا حملہ ہوا تو وہ شخص جس نے ان سے یہ حدیث سنی تھی انہیں دیکھنے لگا، تو ابان نے اس سے کہا: مجھے کیا دیکھتے ہو، قسم اللہ کی! نہ میں نے عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف جھوٹی بات منسوب کی ہے اور نہ ہی عثمان نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف، لیکن (بات یہ ہے کہ) جس دن مجھے یہ بیماری لاحق ہوئی اس دن مجھ پر غصہ سوار تھا (اور غصے میں) اس دعا کو پڑھنا بھول گیا تھا۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5088]
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: جس نے (شام کو) تین بار یہ دعا پڑھ لی، اسے صبح تک کوئی اچانک مصیبت نہیں آئے گی: «بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ» اللہ کے نام سے، وہ ذات کہ اس کے نام سے کوئی چیز زمین میں ہو یا آسمان میں، نقصان نہیں دے سکتی اور وہ خوب سنتا ہے اور خوب جانتا ہے۔ اور جس نے صبح کے وقت تین بار یہ دعا پڑھ لی اسے شام تک کوئی اچانک مصیبت نہیں آئے گی۔ راوی نے بیان کیا کہ اس حدیث کے روایت کرنے والے ابان بن عثمان رحمہ اللہ کو فالج ہو گیا تھا تو ان سے حدیث سننے والا، ان کو تعجب سے دیکھنے لگا (کہ پھر یہ فالج کیونکر ہو گیا؟) تو انہوں نے کہا: کیا ہوا، مجھے دیکھتے کیا ہو؟ اللہ کی قسم! میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر جھوٹ نہیں بولا ہے اور نہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ بولا ہے۔ لیکن جس دن مجھے یہ فالج ہوا میں اس دن غصے میں تھا اور یہ کلمات پڑھنا بھول گیا تھا۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5088]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الدعوات 13 (3388)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 14 (3869)، (تحفة الأشراف: 9778)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/62، 72) (صحیح) مسند ابی داؤد الطیالسی: 79، شرح مشکل الآثار: 3076، الدعوات الکبیر: 34، المختارۃ: 310، صحیح ابن حبان: 852، 862, قال البانی رحمہ اللّٰہ وشعیب الارنووط رحمہ اللّٰہ: صحیح»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (2391)
أخرجه الترمذي (3388 وسنده حسن) وانظر الحديث الآتي (5059)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5089
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ الْأَنْطَاكِيُّ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو مَوْدُودٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ عُثْمَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ لَمْ يَذْكُرْ قِصَّةَ الْفَالِجِ.
عثمان رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے لیکن اس میں فالج کا قصہ مذکور نہیں۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5089]
محمد بن کعب نے ابان بن عثمان سے، انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورہ بالا حدیث کی مانند روایت کیا، مگر فالج والا قصہ ذکر نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5089]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 9778) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
انظر الحديث السابق (5088)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں