سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
115. باب مَا جَاءَ فِي الْمَطَرِ
باب: بارش کا بیان۔
حدیث نمبر: 5100
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , وَمُسَدَّدٌ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" أَصَابَنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَطَرٌ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَسَرَ ثَوْبَهُ عَنْهُ حَتَّى أَصَابَهُ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِمَ صَنَعْتَ هَذَا؟ قَالَ: لِأَنَّهُ حَدِيثُ عَهْدٍ بِرَبِّهِ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ بارش ہونے لگی، آپ باہر نکلے اور اپنے کپڑے اتار لیے یہاں تک کہ بارش کے قطرات آپ کے بدن پر پڑنے لگے، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے ایسا کیوں کیا؟ آپ نے فرمایا: ”اس لیے کہ یہ ابھی ابھی اپنے رب کے پاس سے آ رہی ہے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5100]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ بارش ہونے لگی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور اپنے جسم سے کپڑا ہٹا لیا حتیٰ کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم پر پڑنے لگی، ہم نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! آپ نے ایسے کیوں کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیونکہ یہ ابھی ابھی اپنے رب کے پاس سے آئی ہے۔““ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5100]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/صلاة الأستسقاء 2 (898)، سنن النسائی/الکبري (1837)، (تحفة الأشراف: 263)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/133، 267) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے رب عزوجل کا بلندی پر ہونا ثابت ہے جب کہ قرآن و احادیث اور عقائد سلف صالحین سے قطعیت کے ساتھ معلوم ہے، اور یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ بدن پر بارش کا گرنا برکت کا باعث ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (898)
116. باب مَا جَاءَ فِي الدِّيكِ وَالْبَهَائِمِ
باب: مرغ اور چوپایوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 5101
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَسُبُّوا الدِّيكَ، فَإِنَّهُ يُوقِظُ لِلصَّلَاةِ".
زید بن خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مرغ کو برا بھلا نہ کہو، کیونکہ وہ نماز فجر کے لیے جگاتا ہے“۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5101]
سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مرغ کو گالی مت دیا کرو، اس لیے کہ یہ نماز کے لیے جگاتا ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5101]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 3758)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4 /115، 5/193) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (4136)
مشكوة المصابيح (4136)
حدیث نمبر: 5102
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا سَمِعْتُمْ صِيَاحَ الدِّيَكَةِ، فَسَلُوا اللَّهَ تَعَالَى مِنْ فَضْلِهِ، فَإِنَّهَا رَأَتْ مَلَكًا، وَإِذَا سَمِعْتُمْ نَهِيقَ الْحِمَارِ، فَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَإِنَّهَا رَأَتْ شَيْطَانًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم مرغ کی بانگ سنو تو اللہ سے اس کا فضل مانگو، کیونکہ وہ فرشتہ دیکھ کر آواز لگاتا ہے اور جب تم گدھے کو ڈھینچوں ڈھینچوں کرتے سنو تو شیطان سے اللہ کی پناہ مانگو، کیونکہ وہ شیطان کو دیکھ کر آواز نکالتا ہے“۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5102]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم مرغ کی آواز سنو، تو اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کرو، بیشک اس نے فرشتے کو دیکھا ہوتا ہے اور جب تم گدھے کی آواز سنو، تو شیطان سے اللہ کی پناہ طلب کرو، بیشک اس نے شیطان کو دیکھا ہوتا ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5102]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/بدء الخلق 15 (3303)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء 20 (2729)، سنن الترمذی/الدعوات 57 (3459)، (تحفة الأشراف: 13629)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/306، 321، 364) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (3303) صحيح مسلم (2729)
116.1. باب نهيق الحمير ونباح الكلاب
باب: گدھوں کا رینکنا اور کتوں کا بھونکنا۔
حدیث نمبر: 5103
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا سَمِعْتُمْ نُبَاحَ الْكِلَابِ وَنَهِيقَ الْحُمُرِ بِاللَّيْلِ، فَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ، فَإِنَّهُنَّ يَرَيْنَ مَا لَا تَرَوْنَ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم رات میں کتوں کا بھونکنا اور گدھوں کا رینکنا سنو تو اللہ کی پناہ مانگو کیونکہ وہ ایسی چیزیں دیکھتے ہیں جنہیں تم نہیں دیکھتے“۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5103]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم رات کو کتوں کا بھونکنا اور گدھوں کی آوازیں سنو، تو اللہ کی پناہ طلب کرو، بلاشبہ یہ وہ کچھ دیکھتے ہیں جو تم نہیں دیکھتے ہو۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5103]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 2496)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/306) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (4302)
ابن إسحاق صرح بالسماع عند أبي يعلي (4/ 211 ح 2327)
مشكوة المصابيح (4302)
ابن إسحاق صرح بالسماع عند أبي يعلي (4/ 211 ح 2327)
حدیث نمبر: 5104
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ. ح وحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْوَانَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عُمَرَ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ وَغَيْرِهِ، قَالَا: قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَقِلُّوا الْخُرُوجَ بَعْدَ هَدْأَةِ الرِّجْلِ، فَإِنَّ لِلَّهِ تَعَالَى دَوَابَّ يَبُثُّهُنَّ فِي الْأَرْضِ" , قال ابْنُ مَرْوَانَ: فِي تِلْكَ السَّاعَةِ، وَقَالَ: فَإِنَّ لِلَّهِ خَلْقًا، ثُمَّ ذَكَرَ نُبَاحَ الْكَلْبِ وَالْحَمِيرَ نَحْوَهُ، وَزَادَ فِي حَدِيثِهِ، قَالَ ابْنُ الْهَادِ: وَحَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ الْحَاجِبُ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
علی بن عمر بن حسین بن علی اور ان کے علاوہ ایک اور شخص سے روایت ہے، وہ دونوں (مرسلاً) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(رات میں) آمدورفت بند ہو جانے (اور سناٹا چھا جانے) کے بعد گھر سے کم نکلا کرو، کیونکہ اللہ کے کچھ چوپائے ہیں جنہیں اللہ چھوڑ دیتا ہے، (وہ رات میں آزاد پھرتے ہیں اور نقصان پہنچا سکتے ہیں) (ابن مروان کی روایت میں «في تلك الساعة» کے الفاظ ہیں اور اس میں «فإن لله تعالى دواب» کے بجائے «فإن لله خلقا» ہے)، پھر راوی نے کتے کے بھونکنے اور گدھے کے رینکنے کا اسی طرح ذکر کیا ہے، اور اپنی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ ابن الہاد کہتے ہیں: مجھ سے شرحبیل بن حاجب نے بیان کیا ہے انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے اور جابر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5104]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ اور جناب علی بن عمر بن حسین بن علی رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب قدموں کی آوازیں آنا بند ہو جائیں تو بہت کم باہر نکلا کرو۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں کچھ جانور ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ پھیلا دیتا ہے۔“ ابراہیم بن مروان نے کہا: ”اس وقت میں مت نکلا کرو۔“ اور «فَإِنَّ لِلَّهِ تَعَالَىٰ دَوَابَّ» (کی بجائے) یہ الفاظ کہے «فَإِنَّ لِلَّهِ خَلْقًا» پھر کتوں کے بھونکنے اور گدھوں کی آوازوں کا ذکر کیا، جیسے مذکورہ بالا روایت میں ہوا ہے۔ یزید بن عبداللہ بن ہاد نے کہا کہ مجھے شرجیل حاجب نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کے مثل روایت کیا۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5104]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19138، 2255، 2278)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/355) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سعيد بن زياد الأنصاري المدني مجهول (تق : 2309) وشرحبيل ضعيف (تقدم : 2866)
وللحديث شواھد ضعيفة والحديث السابق (الأصل : 5103) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 176
إسناده ضعيف
سعيد بن زياد الأنصاري المدني مجهول (تق : 2309) وشرحبيل ضعيف (تقدم : 2866)
وللحديث شواھد ضعيفة والحديث السابق (الأصل : 5103) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 176
117. باب فِي الصَّبِيِّ يُولَدُ فَيُؤَذَّنُ فِي أُذُنِهِ
باب: بچہ پیدا ہو تو اس کے کان میں اذان دینا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 5105
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذَّنَ فِي أُذُنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ حِينَ وَلَدَتْهُ فَاطِمَةُ بِالصَّلَاةِ".
ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حسن بن علی کے کان میں جس وقت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے انہیں جنا اذان کہتے دیکھا جیسے نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5105]
جناب عبیداللہ بن ابورافع نے اپنے والد سے روایت کیا، وہ کہتے ہیں کہ ”جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو جنم دیا تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے کان میں نماز والی اذان کہی تھی۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5105]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الأضاحی 17 (1514)، (تحفة الأشراف: 12020)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/9، 391، 392) (ضعیف)» (اس کے راوی عاصم ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1514)
عاصم بن عبيداللّٰه : ضعيف
وللحديث شاهدان عند البيهقي في شعب الإيمان (8619 عن الحسين بن علي) و (8620 عن ابن عباس) في الأول يحيي بن العلاء وھو كذاب
وفي الثاني محمد بن يونس الكديمي : كذاب وشيخه وشيخ شيخه ضعيفان
وأما الأذان في أذن المولود فصحيح بالإتفاق
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 177
إسناده ضعيف
ترمذي (1514)
عاصم بن عبيداللّٰه : ضعيف
وللحديث شاهدان عند البيهقي في شعب الإيمان (8619 عن الحسين بن علي) و (8620 عن ابن عباس) في الأول يحيي بن العلاء وھو كذاب
وفي الثاني محمد بن يونس الكديمي : كذاب وشيخه وشيخ شيخه ضعيفان
وأما الأذان في أذن المولود فصحيح بالإتفاق
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 177
حدیث نمبر: 5106
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ. ح وحَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ،عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُؤْتَى بِالصِّبْيَانِ، فَيَدْعُو لَهُمْ بِالْبَرَكَةِ"، زَادَ يُوسُفُ: وَيُحَنِّكُهُمْ، وَلَمْ يَذْكُرْ بِالْبَرَكَةِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بچے لائے جاتے تھے تو آپ ان کے لیے برکت کی دعا فرماتے تھے، (یوسف کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ) آپ ان کی تحنیک فرماتے یعنی کھجور چبا کر ان کے منہ میں دیتے تھے، البتہ انہوں نے برکت کی دعا فرمانے کا ذکر نہیں کیا ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5106]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چھوٹے بچوں کو لایا جاتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے برکت کی دعا فرمایا کرتے تھے۔“ یوسف بن موسیٰ نے مزید کہا کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں گھٹی بھی دیا کرتے تھے، اور برکت کا ذکر نہیں کیا۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5106]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 16854، 17241)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/46) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: تبرک کے لئے ضروری ہے کہ شخصیت متبرک ہو، رسول معصوم سے تحنیک کا فائدہ برکت کے یقینی طور پر حصول کی توقع تھی، بعد میں دوسری شخصیات سے تبرک اور تبریک کی بات خوش خیالی ہے، تحنیک کے اس واقعہ سے استدلال صحیح نہیں ہے، لیکن اگر تحنیک کا عمل حصول تبرک کے علاوہ دوسرے فوائد کے لئے کیا جائے تو اور بات ہے ایک تو یہی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی اتباع کے جذبہ سے، دوسرے طب و صحت کے قواعد و ضوابط کے نقطہ نظر سے وغیرہ وغیرہ۔ واللہ اعلم۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح، صحيح بخاري (6355) صحيح مسلم (286)
حدیث نمبر: 5107
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ حُمَيْدٍ،عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قال لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ رُئِيَ، أَوْ كَلِمَةً غَيْرَهَا فِيكُمُ الْمُغَرِّبُونَ؟ قُلْتُ: وَمَا الْمُغَرِّبُونَ؟ قَالَ: الَّذِينَ يَشْتَرِكُ فِيهِمُ الْجِنُّ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”کیا تم میں «مغربون» دیکھے گئے ہیں“ آپ نے ”دیکھے گئے ہیں“ کہا یا اسی طرح کا کوئی اور لفظ کہا، میں نے پوچھا: «مغربون» کون ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”وہ لوگ جن میں جنوں کی شرکت ہو ۱؎“۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5107]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”کیا تم میں کوئی «مُغَرَّب» بھی پائے گئے ہیں؟“ میں نے عرض کیا: ” «مُغَرَّب» سے کیا مراد ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ بچے جن میں جن شریک ہوں۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5107]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17978) (ضعیف الإسناد)» (اس کی راویہ ام حمید مجہول ہیں)
وضاحت: ۱؎: یہ شرکت چاہے اللہ کی یاد سے غفلت اور شیطان کی اتباع کی وجہ سے ہو یا زنا کی اولاد ہونے کی وجہ سے ہو، یا شیاطین کی صحبت سے پیدا ہوئے ہوں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن جريج عنعن وأبوه : لين وأم حميد لا يعرف حالھا (تق: 4087،8726)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 177
إسناده ضعيف
ابن جريج عنعن وأبوه : لين وأم حميد لا يعرف حالھا (تق: 4087،8726)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 177
118. باب فِي الرَّجُلِ يَسْتَعِيذُ مِنَ الرَّجُلِ
باب: آدمی آدمی سے اللہ کا نام لے کر پناہ مانگے تو کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 5108
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ , وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْجُشَمِيُّ , قَالَا: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ نَصْرٌ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ , عَنْ قَتَادَةَ،عَنْ أَبِي نَهِيكٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنِ اسْتَعَاذَ بِاللَّهِ فَأَعِيذُوهُ، وَمَنْ سَأَلَكُمْ بِوَجْهِ اللَّهِ فَأَعْطُوهُ" , قال عُبَيْدُ اللَّهِ: مَنْ سَأَلَكُمْ بِاللَّهِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ کے واسطے سے پناہ مانگے اسے پناہ دو، اور جو شخص لوجہ اللہ (اللہ کی رضا و خوشنودی کا حوالہ دے کر) سوال کرے تو اس کو دو“۔ عبیداللہ کی روایت میں «من سألكم لوجه الله» کے بجائے «من سألكم بالله» ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5108]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو تم سے اللہ کے نام پر پناہ طلب کرے اسے پناہ دو اور جو تم سے اللہ کے چہرے کے واسطے سے سوال کرے اس کو دو۔“ عبیداللہ کے الفاظ ہیں: «مَنْ سَأَلَكُمْ بِاللّٰهِ» ”جو تم سے اللہ کے واسطے سے سوال کرے۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5108]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 6572)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/249، 250) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قتادة مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 177
إسناده ضعيف
قتادة مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 177
حدیث نمبر: 5109
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ , وَسَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ. ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ الْمَعْنَى، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنِ اسْتَعَاذَكُمْ بِاللَّهِ فَأَعِيذُوهُ، وَمَنْ سَأَلَكُمْ بِاللَّهِ فَأَعْطُوهُ" , وَقَالَ سَهْلٌ وَعُثْمَانُ: وَمَنْ دَعَاكُمْ فَأَجِيبُوهُ , ثُمَّ اتَّفَقُوا: وَمَنْ آتَى إِلَيْكُمْ مَعْرُوفًا فَكَافِئُوهُ , قال مُسَدَّدٌ وَعُثْمَانُ: فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا، فَادْعُوا اللَّهَ لَهُ حَتَّى تَعْلَمُوا أَنْ قَدْ كَافَأْتُمُوهُ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص تم سے اللہ کے واسطے سے پناہ طلب کرے تو اسے پناہ دو، اور جو شخص تم سے اللہ کے نام پر سوال کرے تو اسے دو، جو تمہیں مدعو کرے تو اس کی دعوت قبول کرو، جو شخص تم پر احسان کرے تو تم اس کے احسان کا بدلہ چکاؤ، اور اگر بدلہ چکانے کی کوئی چیز نہ پا سکو تو اس کے لیے اتنی دعا کرو جس سے تم یہ سمجھو کہ تم نے اس کا بدلہ چکا دیا“۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5109]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو تم سے اللہ کے واسطے سے امان مانگے، اسے امان دو۔ اور جو تم سے اللہ کے واسطے سے سوال کرے، اس کو دو۔“ سہل اور عثمان نے کہا: ”اور جو تمہاری دعوت کرے، اسے قبول کرو۔“ اور پھر یہ سب راوی متفق ہیں: ”اور جو تمہارے ساتھ نیکی کرے، اس کو اس کا بدلہ دو۔“ مسدد اور عثمان نے کہا: ”اگر بدلہ نہ پاؤ تو اس کے لیے اللہ سے دعا کرو حتیٰ کہ تمہیں یقین ہو جائے کہ تم نے اس کا بدلہ دے دیا ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5109]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (1672)، (تحفة الأشراف: 7391) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
انظر الحديث السابق (1672)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 177
ضعيف
انظر الحديث السابق (1672)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 177