سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
126. باب فِي الْهَوَى
باب: خواہش نفس کی برائی کا بیان۔
حدیث نمبر: 5130
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ خَالِدِ بْنِ مُحَمَّدٍ الثَّقَفِيِّ، عَنْ بِلَالِ بْنِ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" حُبُّكَ الشَّيْءَ: يُعْمِي وَيُصِمُّ".
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا کسی چیز سے محبت کرنا تمہیں اندھا بہرہ بنا دیتا ہے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5130]
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی شے کی محبت تمہیں اندھا اور بہرا بنا دیتی ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5130]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 10922)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/194، 6/450) (ضعیف)» (اس کے راوی ابوبکر بن ابی مریم ضعیف ہیں)
وضاحت: ۱؎: یعنی محب کو محبوب کے عیوب نظر نہیں آتے، اور نہ ہی اس کی ناگوار باتیں اسے ناگوار لگتی ہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو بكر بن أبي مريم : ضعيف
وروي البيھقي في شعب الإيمان (412) عن أبي الدرداء رضي اللّٰه عنه قال : ’’ حبك الشئ يعمي ويصم ‘‘ وسنده صحيح والحمد للّٰه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 178
إسناده ضعيف
أبو بكر بن أبي مريم : ضعيف
وروي البيھقي في شعب الإيمان (412) عن أبي الدرداء رضي اللّٰه عنه قال : ’’ حبك الشئ يعمي ويصم ‘‘ وسنده صحيح والحمد للّٰه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 178
127. باب فِي الشَّفَاعَةِ
باب: سفارش کا بیان۔
حدیث نمبر: 5131
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"اشْفَعُوا إِلَيَّ لِتُؤْجَرُوا وَلْيَقْضِ اللَّهُ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ مَا شَاءَ".
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ سے سفارش کرو تاکہ تم کو (سفارش کا) ثواب ملے، اور فیصلہ اللہ اپنے نبی کی زبان سے کرے گا جو اسے منظور ہو گا“۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5131]
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس (اپنے ساتھیوں کی) سفارشیں کیا کرو تاکہ ثواب پاؤ اور فیصلہ تو وہی ہو گا جو اللہ چاہے گا اور اپنے نبی کی زبان سے کرائے گا۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5131]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة 21 (1432)، الأدب 36 (6027)، 37 (6028)، التوحید 31 (7476)، صحیح مسلم/البر 44 (2627)، سنن الترمذی/العلم 14 (2672)، سنن النسائی/الزکاة 65 (2557)، (تحفة الأشراف: 9036)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/400، 409، 413) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6027) صحيح مسلم (2627)
حدیث نمبر: 5132
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ , وَأَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ , قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَخِيهِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ:" اشْفَعُوا تُؤْجَرُوا، فَإِنِّي لَأُرِيدُ الْأَمْرَ فَأُؤَخِّرُهُ كَيْمَا تَشْفَعُوا فَتُؤْجَرُوا، فَإِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: اشْفَعُوا تُؤْجَرُوا".
معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سفارش کرو، اجر پاؤ گے، میں کسی معاملے کا فیصلہ کرنا چاہتا ہوں، تو اسے مؤخر کر دیتا ہوں، تاکہ تم سفارش کر کے اجر کے مستحق بن جاؤ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”سفارش کرو تم اجر پاؤ گے“۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5132]
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے (انہوں نے اپنے احباب سے کہا) کہ ”سفارش کر دیا کرو، اجر پاؤ گے۔“ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”سفارش کیا کرو تمہیں اجر ملے گا۔“ بلاشبہ (بعض اوقات) میں ایک کام کر دینا چاہتا ہوں مگر اسے (کسی قدر) ٹالتا رہتا ہوں تاکہ تم سفارش کرو اور ثواب پاؤ۔ یقیناً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”سفارش کیا کرو اجر پاؤ گے۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5132]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الزکاة 65 (2558)، (تحفة الأشراف: 11447) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
رواه البخاري (1432) ومسلم (2627)
رواه البخاري (1432) ومسلم (2627)
حدیث نمبر: 5133
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ بُرَيْدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کرتے ہیں۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5133]
جناب ابوبردہ، سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورہ بالا حدیث کی مثل روایت کرتے ہیں۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5133]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر رقم: (5131)، (تحفة الأشراف: 9036)»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
سفيان صرح بالسماع عند الحميدي بتحقيقي (772 وسنده صحيح) رواه البخاري (1432) ومسلم (2627)
سفيان صرح بالسماع عند الحميدي بتحقيقي (772 وسنده صحيح) رواه البخاري (1432) ومسلم (2627)
128. باب فِي الرَّجُلِ يَبْدَأُ بِنَفْسِهِ فِي الْكِتَابِ
باب: خط اپنے نام سے شروع کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5134
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ أَحْمَدُ قَالَ مَرَّةً يَعْنِي هُشَيْمًا، عَنْ بَعْضِ وَلَدِ الْعَلَاءِ" أَنَّ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ كَانَ عَامِلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْبَحْرَيْنِ، فَكَانَ إِذَا كَتَبَ إِلَيْهِ بَدَأَ بِنَفْسِهِ".
علاء کے کسی بیٹے سے روایت ہے کہ علاء بن حضرمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بحرین (علاقہ احساء) کے گورنر تھے، وہ جب آپ کو کوئی تحریر لکھ کر بھیجتے تو اپنے نام سے شروع کرتے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5134]
سیدنا علاء حضرمی رضی اللہ عنہ کے متعلق آتا ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بحرین میں گورنر تھے۔ چنانچہ وہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف خط لکھتے تو اپنے نام سے شروع کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5134]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11009)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/339) (ضعیف الإسناد)» (اس کی سند میں ایک مبہم راوی ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
بعض ولد العلاء مجهول
انظر الحديث الآتي (5135)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 178
إسناده ضعيف
بعض ولد العلاء مجهول
انظر الحديث الآتي (5135)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 178
حدیث نمبر: 5135
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ ابْنِ الْعَلَاءِ، عَنْ الْعَلَاءِ يَعْنِي ابْنَ الْحَضْرَمِيِّ" أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَدَأَ بِاسْمِهِ".
علاء یعنی ابن حضرمی سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو لکھا تو پہلے اپنا نام لکھا۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5135]
جناب ابن سیرین رحمہ اللہ نے سیدنا علاء رضی اللہ عنہ کے بیٹے سے روایت کیا، انہوں نے (اپنے والد) سیدنا علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کے متعلق بتایا کہ ”انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خط لکھا، تو اپنے نام سے ابتدا کی۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5135]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11009) (ضعیف)» (اس کے راوی ابن العلاء مبہم ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن العلاء : مجهول (التحرير : 8484)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 178
إسناده ضعيف
ابن العلاء : مجهول (التحرير : 8484)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 178
129. باب كَيْفَ يُكْتَبُ إِلَى الذِّمِّيِّ
باب: ذمی (کافر معاہد) کو کس طرح خط لکھا جائے؟
حدیث نمبر: 5136
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ , وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى , قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ،عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى هِرَقْلَ: مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ: إِلَى هِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ: سَلَامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى" , قال ابْنُ يَحْيَى، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ أَخْبَرَهُ، قَالَ: فَدَخَلْنَا عَلَى هِرَقْلَ، فَأَجْلَسَنَا بَيْنَ يَدَيْهِ، ثُمَّ دَعَا بِكِتَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا فِيهِ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ: مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ: إِلَى هِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ: سَلَامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى: أَمَّا بَعْدُ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرقل کے نام خط لکھا: ”اللہ کے رسول محمد کی طرف سے روم کے بادشاہ ہرقل کے نام، سلام ہو اس شخص پر جو ہدایت کی پیروی کرے“۔ محمد بن یحییٰ کی روایت میں ہے، ابن عباس سے مروی ہے کہ ابوسفیان نے ان سے کہا کہ ہم ہرقل کے پاس گئے، اس نے ہمیں اپنے سامنے بٹھایا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط منگوایا تو اس میں لکھا تھا: «بسم الله الرحمن الرحيم، من محمد رسول الله إلى هرقل عظيم الروم سلام على من اتبع الهدى أما بعد» ۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5136]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرقل کو خط لکھا، تو یوں لکھا: ”محمد رسول اللہ کی طرف سے رومیوں کے رئیس ہرقل کی طرف۔ سلامتی ہو اس پر جو راہِ ہدایت پر چلے۔“ ابن یحییٰ نے بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے مجھے خبر دی کہ ہم ہرقل کے ہاں گئے تو اس نے ہمیں اپنے سامنے بٹھایا۔ پھر اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط منگوایا، تو اس میں تھا: «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» ”اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان، ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے“، اللہ کے رسول محمد کی طرف سے رومیوں کے سربراہ ہرقل کی طرف۔ سلامتی ہو اس پر جو راہِ ہدایت پر چلے، «أَمَّا بَعْدُ» ”حمد و ثنا کے بعد۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5136]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/بدء الوحي 1 (7)، الجھاد 102 (2978)، تفسیر سورة آل عمران 4 (4553)، صحیح مسلم/الجھاد 27 (1773)، سنن الترمذی/الاستئذان 24 (2717)، (تحفة الأشراف: 4850، 5853)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/262، 263) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (7) صحيح مسلم (1773)
130. باب فِي بِرِّ الْوَالِدَيْنِ
باب: ماں باپ کے ساتھ اچھے سلوک کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5137
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَجْزِي وَلَدٌ وَالِدَهُ إِلَّا أَنْ يَجِدَهُ مَمْلُوكًا فَيَشْتَرِيَهُ، فَيُعْتِقَهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیٹا اپنے والد کے احسانات کا بدلہ نہیں چکا سکتا سوائے اس کے کہ وہ اسے غلام پائے پھر اسے خرید کر آزاد کر دے“۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5137]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بیٹا اپنے باپ کے احسان کا بدلہ نہیں دے سکتا، سوائے اس کے کہ اسے (باپ کو) غلام پائے، تو اسے خریدے اور آزاد کر دے۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5137]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/العتق 6 (1510)، (تحفة الأشراف: 12660)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البر والصلة 8 (1907)، سنن ابن ماجہ/الأدب 1 (3659)، مسند احمد (2/230، 376، 445) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1510)
حدیث نمبر: 5138
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي خَالِي الْحَارِثُ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" كَانَتْ تَحْتِي امْرَأَةٌ، وَكُنْتُ أُحِبُّهَا، وَكَانَ عُمَرُ يَكْرَهُهَا، فَقَالَ لِي: طَلِّقْهَا، فَأَبَيْتُ، فَأَتَى عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: طَلِّقْهَا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرے نکاح میں ایک عورت تھی میں اس سے محبت کرتا تھا اور عمر رضی اللہ عنہ کو وہ ناپسند تھی، انہوں نے مجھ سے کہا کہ تم اسے طلاق دے دو، لیکن میں نے انکار کیا، تو عمر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے طلاق دے دو“۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5138]
جناب حمزہ اپنے والد سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: ”میری زوجیت میں ایک عورت تھی اور مجھے اس سے محبت تھی۔ مگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسے ناپسند کرتے تھے۔ تو انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ اسے طلاق دے دو۔ میں نے انکار کیا، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گئے اور اپنی بات ان سے کہی۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (مجھ سے) فرمایا: ”اس عورت کو طلاق دے دو۔““ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5138]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطلاق 13 (1189)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 36 (2088)، (تحفة الأشراف: 6701)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/20، 42، 53، 175) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (4940)
أخرجه ابن ماجه (2088 وسنده حسن) ورواه الترمذي (1189 وسنده حسن)
مشكوة المصابيح (4940)
أخرجه ابن ماجه (2088 وسنده حسن) ورواه الترمذي (1189 وسنده حسن)
حدیث نمبر: 5139
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قُلْتُ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أَبَرُّ؟ قَالَ: أُمَّكَ، ثُمَّ أُمَّكَ، ثُمَّ أُمَّكَ، ثُمَّ أَبَاكَ، ثُمَّ الْأَقْرَبَ فَالْأَقْرَبَ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَسْأَلُ رَجُلٌ مَوْلَاهُ مِنْ فَضْلٍ هُوَ عِنْدَهُ، فَيَمْنَعُهُ إِيَّاهُ إِلَّا دُعِيَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَضْلُهُ الَّذِي مَنَعَهُ شُجَاعًا أَقْرَعَ" , قَالَ أَبُو دَاوُدَ: الْأَقْرَعُ: الَّذِي ذَهَبَ شَعْرُ رَأْسِهِ مِنَ السُّمِّ.
معاویہ بن حیدہ قشیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں کس کے ساتھ حسن سلوک کروں؟ آپ نے فرمایا: ”اپنی ماں کے ساتھ، پھر اپنی ماں کے ساتھ، پھر اپنی ماں کے ساتھ، پھر اپنے باپ کے ساتھ، پھر جو قریبی رشتہ دار ہوں ان کے ساتھ، پھر جو اس کے بعد قریب ہوں“۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے غلام سے وہ مال مانگے، جو اس کی حاجت سے زیادہ ہو اور وہ اسے نہ دے تو قیامت کے دن اس کا وہ فاضل مال جس کے دینے سے اس نے انکار کیا ایک گنجے سانپ کی صورت میں اس کے سامنے لایا جائے گا“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «أقرع» سے وہ سانپ مراد ہے جس کے سر کے بال زہر کی تیزی کے سبب جھڑ گئے ہوں۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5139]
جناب بہز بن حکیم اپنے والد سے، وہ اپنے دادا (معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں کس کے ساتھ حسن سلوک کروں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی ماں کے ساتھ، پھر اپنی ماں کے ساتھ، پھر اپنی ماں کے ساتھ، پھر اپنے باپ کے ساتھ، پھر جو قریبی رشتہ دار ہوں ان کے ساتھ، پھر جو اس کے بعد قریب ہوں۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے غلام سے وہ مال مانگے، جو اس کی حاجت سے زیادہ ہو اور وہ اسے نہ دے تو قیامت کے دن اس کا وہ فاضل مال جس کے دینے سے اس نے انکار کیا ایک گنجے سانپ کی صورت میں اس کے سامنے لایا جائے گا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: «أَقْرَعُ» سے وہ سانپ مراد ہے جس کے سر کے بال زہر کی تیزی کے سبب جھڑ گئے ہوں (اور وہ گنجا ہو گیا ہو)۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5139]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/البر والصلة 1 (1897)، (تحفة الأشراف: 11383)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/3، 5) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (4929)
أخرجه الترمذي (1897 وسنده حسن)
مشكوة المصابيح (4929)
أخرجه الترمذي (1897 وسنده حسن)