سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
130. باب فِي بِرِّ الْوَالِدَيْنِ
باب: ماں باپ کے ساتھ اچھے سلوک کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5140
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ مُرَّةَ، حَدَّثَنَا كُلَيْبُ بْنُ مَنْفَعَةَ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أَبَرُّ؟ قَالَ: أُمَّكَ، وَأَبَاكَ، وَأُخْتَكَ، وَأَخَاكَ، وَمَوْلَاكَ الَّذِي يَلِي، ذَاكَ حَقٌّ وَاجِبٌ، وَرَحِمٌ مَوْصُولَةٌ".
بکر بن حارث (کلیب کے دادا) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں کس کے ساتھ حسن سلوک کروں؟ آپ نے فرمایا: ”اپنی ماں، اور اپنے باپ، اور اپنی بہن اور اپنے بھائی کے ساتھ، اور ان کے بعد اپنے غلام کے ساتھ، یہ ایک واجب حق ہے، اور ایک جوڑنے والی (رحم) قرابت داری ہے“۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5140]
جناب کلیب بن منفعہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میں کس کے ساتھ حسن سلوک کروں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی ماں، باپ، بہن، بھائی اور آزاد کرنے والے کے ساتھ، ان کا حق واجب ہے اور ان کے ساتھ رشتہ جوڑنا لازم ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5140]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15665) (ضعیف)» (اس کی سند میں کلیب کی توثیق صرف ابن حبان نے کی ہے، اور ابن حجر نے مقبول لکھا ہے، اصل حدیث شواہد کی بناء پر صحیح ہے، چاہے اس حدیث کی سند پر ضعف کا حکم ہی لگا دیا جائے، جیسا کہ شیخ ناصر نے کیا ہے) ملاحظہ ہو: ضعیف ابی داود، الارواء (837)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
كليب بن منفعة وثقه ابن حبان وحده فھو مجهول الحال كما في التحرير (5662)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 178
إسناده ضعيف
كليب بن منفعة وثقه ابن حبان وحده فھو مجهول الحال كما في التحرير (5662)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 178
حدیث نمبر: 5141
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا. ح وحَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنْ أَكْبَرِ الْكَبَائِرِ: أَنْ يَلْعَنَ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ , قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ يَلْعَنُ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ؟ قَالَ: يَلْعَنُ أَبَا الرَّجُلِ، فَيَلْعَنُ أَبَاهُ، وَيَلْعَنُ أُمَّهُ، فَيَلْعَنُ أُمَّهُ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(بڑے گناہوں) میں سے ایک بڑا گناہ یہ ہے کہ آدمی اپنے والدین پر لعنت بھیجے“ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! آدمی اپنے والدین پر کیسے لعنت بھیج سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ایک شخص کسی شخص کے باپ پر لعنت بھیجتا ہے، تو وہ شخص (جواب میں) اس کے باپ پر لعنت بھیجتا ہے، یا ایک شخص کسی شخص کی ماں پر لعنت بھیجتا ہے تو وہ اس کے جواب میں اس کی ماں پر لعنت بھیجتا ہے“ (اس طرح وہ گویا خود ہی اپنے ماں باپ پر لعنت بھیجتا ہے)۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5141]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ بات بہت بڑا کبیرہ گناہ ہے کہ کوئی اپنے ماں باپ کو لعنت کرے۔“ کہا گیا: ”اے اللہ کے رسول! کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی اپنے ماں باپ کو لعنت کرے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص جب دوسرے کے باپ کو لعنت کرے گا، تو وہ اس کے باپ کو لعنت کرے گا، اگر دوسرے کی ماں کو لعنت کرے گا، تو وہ اس کی ماں کو لعنت کرے گا۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5141]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأدب 4 (5973)، صحیح مسلم/الإیمان 38 (90)، سنن الترمذی/البر والصلة 4 (1902)، (تحفة الأشراف: 8618)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/164، 195، 214، 216) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5973) صحيح مسلم (90)
حدیث نمبر: 5142
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ , وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ الْمَعْنَى، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَسِيدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عُبَيْدٍ مَوْلَى بَنِي سَاعِدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ مَالِكِ بْنِ رَبِيعَةَ السَّاعِدِيِّ، قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ، فَقَالَ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ بَقِيَ مِنْ بِرِّ أَبَوَيَّ شَيْءٌ أَبَرُّهُمَا بِهِ بَعْدَ مَوْتِهِمَا؟ قَالَ: نَعَمْ، الصَّلَاةُ عَلَيْهِمَا، وَالِاسْتِغْفَارُ لَهُمَا، وَإِنْفَاذُ عَهْدِهِمَا مِنْ بَعْدِهِمَا، وَصِلَةُ الرَّحِمِ الَّتِي لَا تُوصَلُ إِلَّا بِهِمَا، وَإِكْرَامُ صَدِيقِهِمَا".
ابواسید مالک بن ربیعہ ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران بنو سلمہ کا ایک شخص آپ کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ کے مر جانے کے بعد بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کی کوئی صورت ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں ہے، ان کے لیے دعا اور استغفار کرنا، ان کے بعد ان کی وصیت و اقرار کو نافذ کرنا، جو رشتے انہیں کی وجہ سے جڑتے ہیں، انہیں جوڑے رکھنا، ان کے دوستوں کی خاطر مدارات کرنا (ان حسن سلوک کی یہ مختلف صورتیں ہیں)۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5142]
جناب ابواسید مالک بن ربیعہ ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک بار اتفاق سے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں بیٹھے ہوئے تھے کہ قبیلہ بنو سلمہ کا ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، ان کے لیے دعا کرنا، ان کے لیے بخشش مانگنا، ان کے بعد ان کے عہد کو پورا کرنا، ایسے رشتہ داروں سے میل ملاپ رکھنا کہ ان (ماں باپ) کے بغیر ان سے ملاپ نہ ہو سکتا تھا اور ان کے دوست کی عزت کرنا۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5142]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الأدب 2 (3664)، (تحفة الأشراف: 11197)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/497) (ضعیف)» (اس کے راوی علی بن عبید لین الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (4936)
أخرجه ابن ماجه (3664 وسنده حسن)
مشكوة المصابيح (4936)
أخرجه ابن ماجه (3664 وسنده حسن)
حدیث نمبر: 5143
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَبَرَّ الْبِرِّ صِلَةُ الْمَرْءِ أَهْلَ وُدِّ أَبِيهِ بَعْدَ أَنْ يُوَلِّيَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ آدمی اپنے والد کے انتقال کے بعد ان کے دوستوں کے ساتھ صلہ رحمی کرے“۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5143]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے بڑا حسن سلوک یہ ہے کہ باپ کے فوت ہو جانے کے بعد انسان اس کے محبت کرنے والوں سے ملاپ رکھے۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5143]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/البر والصلة 4 (2552)، (تحفة الأشراف: 7262)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البر والصلة 5 (1903) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2552)
حدیث نمبر: 5144
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ بْنِ ثَوْبَانَ، أَخْبَرَنَا عُمَارَةُ بْنُ ثَوْبَانَ، أَنَّ أَبَا الطُّفَيْلِ أَخْبَرَهُ، قَالَ:" رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ لَحْمًا بِالْجِعِرَّانَةِ، قَالَ أَبُو الطُّفَيْلِ: وَأَنَا يَوْمَئِذٍ غُلَامٌ أَحْمِلُ عَظْمَ الْجَزُورِ، إِذْ أَقْبَلَتِ امْرَأَةٌ حَتَّى دَنَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَسَطَ لَهَا رِدَاءَهُ فَجَلَسَتْ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ: مَنْ هِيَ؟ فَقَالُوا: هَذِهِ أُمُّهُ الَّتِي أَرْضَعَتْهُ".
ابوالطفیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جعرانہ میں گوشت تقسیم کرتے دیکھا، ان دنوں میں لڑکا تھا، اور اونٹ کی ہڈیاں ڈھو رہا تھا، کہ اتنے میں ایک عورت آئی، یہاں تک کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب ہو گئی، آپ نے اس کے لیے اپنی چادر بچھا دی، جس پر وہ بیٹھ گئی، ابوطفیل کہتے ہیں: میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ تو لوگوں نے کہا: یہ آپ کی رضاعی ماں ہیں، جنہوں نے آپ کو دودھ پلایا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5144]
سیدنا ابوطفیل (عامر بن واثلہ لیثی) رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت آئی حتیٰ کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آ گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے اپنی چادر بچھا دی اور وہ اس پر بیٹھ گئی۔ میں نے پوچھا: ”یہ کون تھی؟“ تو صحابہ نے بتایا: ”یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ماں تھی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ پلایا تھا۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5144]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5053) (ضعیف الإسناد)» (اس میں راوی جعفر لین الحدیث، اور عمارہ مجہول الحال ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
جعفر و عمارة مجهولان
انظر الحديث السابق (2020)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 178
إسناده ضعيف
جعفر و عمارة مجهولان
انظر الحديث السابق (2020)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 178
حدیث نمبر: 5145
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ السَّائِبِ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ جَالِسًا، فَأَقْبَلَ أَبُوهُ مِنَ الرَّضَاعَةِ فَوَضَعَ لَهُ بَعْضَ ثَوْبِهِ فَقَعَدَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَقْبَلَتْ أُمُّهُ مِنَ الرَّضَاعَةِ، فَوَضَعَ لَهَا شِقَّ ثَوْبِهِ مِنْ جَانِبِهِ الْآخَرِ فَجَلَسَتْ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ أَخُوهُ مِنَ الرَّضَاعَةِ، فَقَامَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَجْلَسَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ".
عمر بن سائب کا بیان ہے کہ انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ (ایک دن) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے کہ اتنے میں آپ کے رضاعی باپ آئے، آپ نے ان کے لیے اپنے کپڑے کا ایک کونہ بچھا دیا، وہ اس پر بیٹھ گئے، پھر آپ کی رضاعی ماں آئیں آپ نے ان کے لیے اپنے کپڑے کا دوسرا کنارہ بچھا دیا، وہ اس پر بیٹھ گئیں، پھر آپ کے رضاعی بھائی آئے تو آپ کھڑے ہو گئے اور انہیں اپنے سامنے بٹھایا۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5145]
عمر بن سائب رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ ”ایک حصہ ان کے لیے بچھا دیا تو وہ اس پر بیٹھ گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضاعی والدہ آئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چادر کی دوسری جانب بچھا دی اور وہ اس پر بیٹھ گئیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رضاعی بھائی آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے اور ان کو اپنے سامنے بٹھا لیا۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5145]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19141) (ضعیف الإسناد)» (اس کی سند میں اخیر سے کم سے کم دو راوی ساقط ہیں، عمر بن سائب تبع تابعی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
السند مرسل
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 178
إسناده ضعيف
السند مرسل
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 178
131. باب فِي فَضْلِ مَنْ عَالَ يَتَامَى
باب: یتیم کی کفالت کرنے والے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 5146
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ , وَأَبُو بَكْرٍ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ ابْنِ حُدَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَانَتْ لَهُ أُنْثَى فَلَمْ يَئِدْهَا وَلَمْ يُهِنْهَا وَلَمْ يُؤْثِرْ وَلَدَهُ عَلَيْهَا، قَالَ يَعْنِي الذُّكُورَ أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ" , وَلَمْ يَذْكُرْ عُثْمَانُ يَعْنِي الذُّكُورَ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس کوئی لڑکی ہو اور وہ اسے زندہ درگور نہ کرے، نہ اسے کمتر جانے، نہ لڑکے کو اس پر فوقیت دے تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا“۔ ابن عباس کہتے ہیں: «ولده» سے مراد جنس «ذکور» ہے، لیکن عثمان (راوی) نے «ذکور» کا ذکر نہیں کیا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5146]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس کوئی لڑکی ہو اور وہ اسے زندہ دفن نہ کر دے (جیسے کہ کفار کرتے تھے) اور نہ اس کی اہانت کرے اور نہ لڑکے کو اس پر فضیلت دے، تو اللہ تعالیٰ اس آدمی کو جنت میں داخل فرمائے گا۔“ اور راوی حدیث عثمان نے لفظ «الذُّكُورِ» ذکر نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5146]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 6573)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/223) (ضعیف)» (اس کے راوی ابن حدیر مجہول الحال ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو معاوية عنعن
وابن حدير ’ ’غير مشهور‘‘ كما قال المنذري (عون المعبود502/4)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 178
إسناده ضعيف
أبو معاوية عنعن
وابن حدير ’ ’غير مشهور‘‘ كما قال المنذري (عون المعبود502/4)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 178
حدیث نمبر: 5147
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْأَعْشَى، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَهُوَ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُكْمِلٍ الزُّهْرِيُّ , عَنْ أَيُّوبَ بْنِ بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ عَالَ ثَلَاثَ بَنَاتٍ فَأَدَّبَهُنَّ وَزَوَّجَهُنَّ وَأَحْسَنَ إِلَيْهِنَّ، فَلَهُ الْجَنَّةُ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے تین بچیوں کی کفالت کی، انہیں ادب، تمیز و تہذیب سکھائی (حسن معاشرت کی تعلیم دی) ان کی شادیاں کر دیں، اور ان کے ساتھ حسن سلوک کیا، تو اس کے لیے جنت ہے“۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5147]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے تین بیٹیوں کی پرورش کی، انہیں (حسن معاشرت کا) ادب سکھایا، ان کی شادی کی اور ان کے ساتھ احسان کا معاملہ کرتا رہا، تو اس کے لیے جنت ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5147]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/البر والصلة 13 (1916)، (تحفة الأشراف: 3969)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/42، 97) (ضعیف)» (اس کے راوی سعید الأعشی لین الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أيوب بن بشير حسن الحديث وثقه ابن حبان وابن سعد وغيرھما
أيوب بن بشير حسن الحديث وثقه ابن حبان وابن سعد وغيرھما
حدیث نمبر: 5148
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ: ثَلَاثُ أَخَوَاتٍ أَوْ ثَلَاثُ بَنَاتٍ، أَوْ بِنْتَانِ، أَوْ أُخْتَانِ.
سہل سے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ تین بہنیں ہوں، یا تین بیٹیاں، یا دو بہنیں ہوں یا دو بیٹیاں۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5148]
سہیل رحمہ اللہ نے اسی سند سے مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی بیان کرتے ہوئے کہا کہ: ”جس نے تین بہنوں یا تین بیٹیوں یا دو بیٹیوں یا دو بہنوں کی پرورش کی۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5148]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 3969) (ضعیف)» (سعید الأعشی کے سبب یہ روایت بھی ضعیف ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث السابق (5147)
انظر الحديث السابق (5147)
حدیث نمبر: 5149
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا النَّهَّاسُ بْنُ قَهْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَدَّادٌ أَبُو عَمَّارٍ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَا وَامْرَأَةٌ سَفْعَاءُ الْخَدَّيْنِ كَهَاتَيْنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَأَوْمَأَ يَزِيدُ بِالْوُسْطَى وَالسَّبابةِ، امْرَأَةٌ آمَتْ مِنْ زَوْجِهَا ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ حَبَسَتْ نَفْسَهَا عَلَى يَتَامَاهَا حَتَّى بَانُوا أَوْ مَاتُوا".
عوف بن مالک اشجعی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اور بیوہ عورت جس کے چہرے کی رنگت زیب و زینت سے محرومی کے باعث بدل گئی ہو دونوں قیامت کے دن اس طرح ہوں گے“ (یزید نے کلمے کی اور بیچ کی انگلی کی طرف اشارہ کیا) ”عورت جو اپنے شوہر سے محروم ہو گئی ہو، منصب اور جمال والی ہو اور اپنے بچوں کی حفاظت و پرورش کی خاطر دوسری شادی نہ کرے یہاں تک کہ وہ بڑے ہو جائیں یا وفات پا جائیں“۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5149]
سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی درمیان والی اور شہادت والی انگلی ملاتے ہوئے اشارہ کر کے دکھایا: ”(یعنی) وہ معزز اور حسین و جمیل عورت جو بیوہ ہو گئی اور (عزت و خوبصورتی کے باوجود) اس نے (نکاح نہ کیا بلکہ) اپنے یتیم بچوں کی خاطر (نکاح کرنے سے) رکی رہی حتیٰ کہ وہ بڑے ہو گئے یا وفات پا گئے۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5149]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 10911)، وقد أخرجہ: حم(6/26،29) (ضعیف)» (اس کے راوی نھاس ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
النھاس بن قھم : ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 179
إسناده ضعيف
النھاس بن قھم : ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 179