سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
122. باب فِي الْعَصَبِيَّةِ
باب: عصبیت (تعصب) کا بیان۔
حدیث نمبر: 5120
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ يُحَدِّثُ، عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ الْمُدْلِجِيِّ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" خَيْرُكُمُ الْمُدَافِعُ عَنْ عَشِيرَتِهِ مَا لَمْ يَأْثَمْ" , قَالَ أَبُو دَاوُدَ: أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ ضَعِيفٌ.
سراقہ بن مالک بن جعشم مدلجی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطاب فرمایا تو کہا: ”تم میں بہتر وہ شخص ہے، جو اپنے خاندان کا دفاع کرے، جب تک کہ وہ (اس دفاع سے) کسی گناہ کا ارتکاب نہ کر رہا ہو“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ایوب بن سوید ضعیف ہیں۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5120]
سیدنا سراقہ بن مالک بن جعشم مدلجی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: ”تم میں بہتر وہ شخص ہے جو اپنے قبیلے کا دفاع کرے بشرطیکہ گناہ کی بات نہ ہو۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: ”ایوب بن سوید ضعیف ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5120]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3817) (ضعیف)» (مؤلف نے سبب بیان کر دیا کہ ایوب بن سوید ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
أيوب بن سويد ضعيف علي الراجح انظر التحرير (615) وقال الھيثمي : ولكن ضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 5/ 130)
وسعيد لم يسمع من سراقة رضي اللّٰه عنه (انظر عون المعبود 494/4)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 177
إسناده ضعيف جدًا
أيوب بن سويد ضعيف علي الراجح انظر التحرير (615) وقال الھيثمي : ولكن ضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 5/ 130)
وسعيد لم يسمع من سراقة رضي اللّٰه عنه (انظر عون المعبود 494/4)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 177
حدیث نمبر: 5121
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَكِّيِّ يَعْنِي ابْنَ أَبِي لَبِيبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَيْسَ مِنَّا مَنْ دَعَا إِلَى عَصَبِيَّةٍ، وَلَيْسَ مِنَّا مَنْ قَاتَلَ عَلَى عَصَبِيَّةٍ، وَلَيْسَ مِنَّا مَنْ مَاتَ عَلَى عَصَبِيَّةٍ".
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص ہم میں سے نہیں جو کسی عصبیت کی طرف بلائے، وہ شخص بھی ہم میں سے نہیں جو عصبیت کی بنیاد پر لڑائی لڑے، اور وہ شخص بھی ہم میں سے نہیں جو تعصب کا تصور لیے ہوئے مرے“۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5121]
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے عصبیت کی دعوت دی، وہ ہم میں سے نہیں۔ جس نے عصبیت پر لڑائی کی، وہ ہم میں سے نہیں اور جو عصبیت پر مرا، وہ ہم میں سے نہیں۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5121]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3188) (ضعیف)» (عبداللہ بن ابی سلیمان کا سماع جبیر بن مطعم سے نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
محمد بن عبد الرحمٰن بن أبي لبيبة المكي ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 177
َدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ
إسناده ضعيف
محمد بن عبد الرحمٰن بن أبي لبيبة المكي ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 177
َدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ
حدیث نمبر: 5122
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ مِخْرَاقٍ، عَنْ أَبِي كِنَانَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ".
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قوم کی بہن کا لڑکا یعنی بھانجا اسی قوم کا ایک فرد ہے“۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5122]
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قوم کی بہن کا بیٹا (بھانجا) قوم کا فرد ہوتا ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5122]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 9151)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/396) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
وله شواھد عند البخاري (3828) ومسلم (1059) وغيرھما
وله شواھد عند البخاري (3828) ومسلم (1059) وغيرھما
حدیث نمبر: 5123
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ دَاوُدَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عُقْبَةَ، عَنْ أَبِي عُقْبَةَ وَكَانَ مَوْلًى مِنْ أَهْلِ فَارِسَ , قَالَ:" شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُحُدًا، فَضَرَبْتُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَقُلْتُ: خُذْهَا مِنِّي وَأَنَا الْغُلَامُ الْفَارِسِيُّ، فَالْتَفَتَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: فَهَلَّا قُلْتَ خُذْهَا مِنِّي وَأَنَا الْغُلَامُ الْأَنْصَارِيُّ".
ابوعقبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فارس کے رہنے والے اور عرب کے غلام تھے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ احد میں شریک تھا میں نے ایک مشرک شخص کو مارا اور بول اٹھا: یہ لے میرا وار، میں ایک فارسی جوان ہوں ۱؎ (میری آواز سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے، آپ نے فرمایا: ”ایسا کیوں نہ کہا؟ یہ لے میرا وار، میں انصاری جوان ہوں ۲؎“۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5123]
سیدنا ابوعقبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اور یہ اہل فارس کے غلام تھے، بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ احد میں شریک تھا۔ میں نے مشرکین کے ایک آدمی کو مارا اور کہا: ”یہ لو اور میں ہوں ایک فارسی جوان!“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”تم نے ایسے کیوں نہ کہا: یہ لو اور میں ہوں ایک انصاری غلام!“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5123]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الجھاد 13 (2784)، (تحفة الأشراف: 12070)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/295) (ضعیف)» اس کے راوی عبدالرحمن لین الحدیث ہیں)
وضاحت: ۱؎: یہ جملہ انہوں نے اظہار شجاعت کے لئے کہا۔
۲؎: کیونکہ قوم کا مولیٰ (آزاد کردہ غلام) اسی قوم ہی میں شمار کیا جاتا ہے۔
۲؎: کیونکہ قوم کا مولیٰ (آزاد کردہ غلام) اسی قوم ہی میں شمار کیا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (2784)
ابن إسحاق عنعن
وعبد الرحمٰن بن أبي عقبة:مجهول (التحرير : 3957)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 178
إسناده ضعيف
ابن ماجه (2784)
ابن إسحاق عنعن
وعبد الرحمٰن بن أبي عقبة:مجهول (التحرير : 3957)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 178
123. باب إِخْبَارِ الرَّجُلِ الرَّجُلَ بِمَحَبَّتِهِ إِيَّاهُ
باب: آدمی جس سے محبت کرے اس سے کہہ دے کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں۔
حدیث نمبر: 5124
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ثَوْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَبِيبُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ وَقَدْ كَانَ أَدْرَكَهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا أَحَبَّ الرَّجُلُ أَخَاهُ، فَلْيُخْبِرْهُ أَنَّهُ يُحِبُّهُ".
مقدام بن معد یکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی اپنے بھائی سے محبت رکھے تو اسے چاہیئے کہ وہ اسے بتا دے کہ وہ اس سے محبت رکھتا ہے“۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5124]
جناب حبیب بن عبید، سیدنا مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں اور جناب حبیب کو سیدنا مقدام سے ملاقات حاصل تھی، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی کو اپنے کسی بھائی سے محبت ہو، تو چاہیے کہ اسے بتا دے کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5124]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/ الزہد 53 (2392)، (تحفة الأشراف: 11552)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/130) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (5016)
أخرجه الترمذي (2392 وسنده حسن)
مشكوة المصابيح (5016)
أخرجه الترمذي (2392 وسنده حسن)
حدیث نمبر: 5125
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ،" أَنَّ رَجُلًا كَانَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَأُحِبُّ هَذَا , فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَعْلَمْتَهُ؟ قَالَ: لَا , قَالَ: أَعْلِمْهُ , قال: فَلَحِقَهُ، فَقَالَ: إِنِّي أُحِبُّكَ فِي اللَّهِ , فَقَالَ: أَحَبَّكَ الَّذِي أَحْبَبْتَنِي لَهُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا، اتنے میں ایک شخص اس کے سامنے سے گزرا تو اس شخص نے کہا: اللہ کے رسول! میں اس سے محبت رکھتا ہوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”تم نے اسے یہ بات بتا دی ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”اسے بتا دو“ یہ سن کر وہ شخص اٹھا اور اس شخص سے جا کر ملا اور اسے بتایا کہ میں تم سے اللہ واسطے کی محبت رکھتا ہوں، اس نے کہا: تم سے وہ ذات محبت کرے، جس کی خاطر تم نے مجھ سے محبت کی ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5125]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص اس کے پاس سے گزرا، تو اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! بیشک مجھے اس سے محبت ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”کیا تو نے اس کو بتایا ہے؟“ اس نے کہا: ”نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو بتا دے۔“ چنانچہ وہ اس سے جا کر ملا اور اس سے بولا: ”مجھے تم سے اللہ کے لیے محبت ہے۔“ تو اس نے جواب دیا: ”اللہ بھی تم سے محبت کرے جس کی خاطر تم مجھ سے محبت کرتے ہو۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5125]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 464)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/141) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (5017)
مشكوة المصابيح (5017)
حدیث نمبر: 5126
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" الرَّجُلُ يُحِبُّ الْقَوْمَ وَلَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَعْمَلَ كَعَمَلِهِمْ , قال: أَنْتَ يَا أَبَا ذَرٍّ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ , قال: فَإِنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ , قال: فَإِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ , قال: فَأَعَادَهَا أَبُو ذَرٍّ، فَأَعَادَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! ایک شخص ایک قوم سے محبت کرتا ہے لیکن ان جیسا عمل نہیں کر پاتا؟ آپ نے فرمایا: ”اے ابوذر! تو اسی کے ساتھ ہو گے جس سے تم محبت کرتے ہو“ تو انہوں نے کہا: میں تو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں، تو آپ نے فرمایا: ”تم اسی کے ساتھ ہو گے، جس سے تم محبت رکھتے ہو“ ابوذر نے پھر یہی کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر وہی دہرایا۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5126]
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! انسان کچھ لوگوں سے محبت کرتا ہے مگر ان جیسے عمل نہیں کر پاتا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوذر! تم ان لوگوں کے ساتھ ہو گے جن سے تم محبت کرتے ہو گے۔“ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”بلاشبہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ تم ان کے ساتھ ہو گے جن سے تم محبت کرتے ہو۔“ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے اپنی یہ بات پھر دہرائی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح اپنا جواب دہرایا۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5126]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 11943)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/156، 166، 174، 175)، دی/ الرقاق 71 (2829) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 5127
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" رَأَيْتُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرِحُوا بِشَيْءٍ لَمْ أَرَهُمْ فَرِحُوا بِشَيْءٍ أَشَدَّ مِنْهُ، قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الرَّجُلُ يُحِبُّ الرَّجُلَ عَلَى الْعَمَلِ مِنَ الْخَيْرِ يَعْمَلُ بِهِ وَلَا يَعْمَلُ بِمِثْلِهِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو کسی چیز سے اتنا خوش ہوتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا جتنا وہ اس بات سے خوش ہوئے کہ ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! آدمی ایک آدمی سے اس کے بھلے اعمال کی وجہ سے محبت کرتا ہے اور وہ خود اس جیسا عمل نہیں کر پاتا، تو آپ نے فرمایا: ”آدمی اسی کے ساتھ ہو گا، جس سے اس نے محبت کی ہے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5127]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے دیکھا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم (نے جبکہ مذکورہ بالا فرمان سنا: ”تم اسی کے ساتھ ہو گے جس کے ساتھ تمہیں محبت ہو گی۔“ تو وہ) اس قدر خوش ہوئے کہ انہیں کسی اور چیز سے اس سے بڑھ کر خوشی نہ ہوئی تھی۔ ایک شخص نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! انسان ایک شخص کے ساتھ اس کے اچھے اعمال کی وجہ سے محبت کرتا ہے، مگر خود اس جیسے عمل نہیں کر سکتا۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان اس کے ساتھ ہو گا جس کے ساتھ اسے محبت ہو گی۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5127]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 495)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/فضائل الصحابة 6 (3688)، الأدب 95 (6167)، 96 (6171)، صحیح مسلم/البر والصلة 50 (2639)، سنن الترمذی/الزھد 50 (3286)، مسند احمد (3 /104، 110، 165، 168، 172، 173، 178، 200، 221، 228، 268) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی: جنت میں اس نیک آدمی کے ساتھ ہو گا، اس لئے نیک لوگوں سے محبت رکھنی چاہئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
رواه البخاري (3688) ومسلم (2639)
رواه البخاري (3688) ومسلم (2639)
124. باب فِي الْمَشُورَةِ
باب: مشورے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5128
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَنٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس سے مشورہ طلب کیا جائے اسے امانت دار ہونا چاہیئے“۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5128]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مشورہ دینے والا امین ہوتا ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5128]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الأدب 57 (2822)، سنن ابن ماجہ/الأدب 37 (3745)، (تحفة الأشراف: 14977)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/289) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
وله شاھد عند أبي إسحاق الحربي في اكرام الضيف (99 وسنده حسن)
وله شاھد عند أبي إسحاق الحربي في اكرام الضيف (99 وسنده حسن)
125. باب فِي الدَّالِّ عَلَى الْخَيْرِ
باب: بھلائی کی طرف رہنمائی کے ثواب کا بیان۔
حدیث نمبر: 5129
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ:" جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُبْدِعَ بِي فَاحْمِلْنِي , قال: لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُكَ عَلَيْهِ، وَلَكِنْ ائْتِ فُلَانًا فَلَعَلَّهُ أَنْ يَحْمِلَكَ , فَأَتَاهُ فَحَمَلَهُ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ دَلَّ عَلَى خَيْرٍ فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِهِ".
ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری سواری تھک گئی ہے مجھے کوئی سواری دے دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے جس پر تجھے سوار کرا سکوں لیکن تم فلاں شخص کے پاس جاؤ شاید وہ تمہیں سواری دیدے“ تو وہ شخص اس شخص کے پاس گیا، اس نے اسے سواری دے دی، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو بتایا تو آپ نے فرمایا: ”جس نے کسی بھلائی کی طرف کسی کی رہنمائی کی تو اس کو اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا اس کام کے کرنے والے کو ملے گا“۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5129]
سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! میری سواری نہیں رہی، مجھے سواری عنایت فرمائیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس تو کوئی ایسی سواری نہیں جو میں تمہیں دے سکوں۔ لیکن فلاں شخص کے پاس چلے جاؤ، شاید وہ تمہیں کوئی سواری دے دے۔“ چنانچہ وہ اس کے پاس چلا گیا اور اس نے اسے سواری دے دی۔ پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا (کہ اس نے سواری دے دی ہے) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی خیر کی رہنمائی کرے، اسے بھی بھلائی کرنے والے کی مانند ثواب ملتا ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5129]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإمارة 38 (1893)، سنن الترمذی/العلم 14 (2671)، (تحفة الأشراف: 9986)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/120، 5/272، 273، 274) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1893)