🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
108. باب مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا تَعَارَّ مِنَ اللَّيْلِ
باب: رات میں نیند سے بیدار ہونے پر آدمی کیا پڑھے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5060
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ: قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ , حَدَّثَنِي عُمَيْرُ بْنُ هَانِئٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي جُنَادَةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ،عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَعَارَّ مِنَ اللَّيْلِ، فَقَالَ حِينَ يَسْتَيْقِظُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ، لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، ثُمَّ دَعَا: رَبِّ اغْفِرْ لِي، قَالَ الْوَلِيدُ أَوْ قَالَ: دَعَا اسْتُجِيبَ لَهُ، فَإِنْ قَامَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّى قُبِلَتْ صَلَاتُهُ".
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص نیند سے بیدار ہوا اور بیدار ہوتے ہی اس نے «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر ولا حول ولا قوة إلا بالله» کہا پھر دعا کی «رب اغفر لي» کہ اے ہمارے رب! ہمیں بخش دے (ولید کی روایت میں ہے، اور دعا کی) تو اس کی دعا قبول کی جائے گی، اور اگر وہ اٹھا اور وضو کیا، پھر نماز پڑھی تو اس کی نماز مقبول ہو گی۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5060]
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات کے وقت جس کی آنکھ کھل جائے اور وہ جاگنے پر یہ کلمات کہے «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» پھر دعا کرے: «رَبِّ اغْفِرْ لِي» ۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ولید کے الفاظ ہیں: پھر (کوئی سی) دعا کر لے، تو قبول ہو گی اور اگر اٹھ کھڑا ہو، وضو کرے اور نماز پڑھے تو اس کی نماز مقبول ہو گی۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5060]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/التہجد 21 (1154)، سنن الترمذی/الدعوات 26 (3414)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 16 (3878)، (تحفة الأشراف: 5074)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/313)، سنن الدارمی/الاستئذان 53 (2729) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1154)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5061
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" إِذَا اسْتَيْقَظَ مِنَ اللَّيْلِ، قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ أَسْتَغْفِرُكَ لِذَنْبِي وَأَسْأَلُكَ رَحْمَتَكَ، اللَّهُمَّ زِدْنِي عِلْمًا، وَلَا تُزِغْ قَلْبِي بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنِي، وَهَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً، إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کی نیند سے جب بیدار ہوتے یہ دعا پڑھتے: «لا إله إلا أنت سبحانك اللهم أستغفرك لذنبي وأسألك رحمتك اللهم زدني علما ولا تزغ قلبي بعد إذ هديتني وهب لي من لدنك رحمة إنك أنت الوهاب» تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے، پاک و برتر ہے تیری ذات، اے پروردگار! میں تجھ سے اپنے گناہ کی معافی چاہتا ہوں، تیری رحمت کا خواستگار ہوں، اے اللہ! میرے علم میں اضافہ فرما، اور ہدایت مل جانے کے بعد میرے دل کو کجی سے محفوظ رکھ، مجھے اپنی رحمت سے نواز، بیشک تو بڑا نواز نے والا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5061]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو جاگتے تو یہ دعا پڑھا کرتے تھے: «لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ، اللَّهُمَّ أَسْتَغْفِرُكَ لِذَنْبِي، وَأَسْأَلُكَ رَحْمَتَكَ، اللَّهُمَّ زِدْنِي عِلْمًا، وَلَا تُزِغْ قَلْبِي بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنِي، وَهَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ» تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے۔ اے اللہ! میں تجھی سے اپنے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں، اور تیری رحمت کا سوالی ہوں۔ اے اللہ! میرے علم میں اضافہ فرما، اور ہدایت دے دینے کے بعد میرے دل کو گمراہ نہ کر دینا، (اے میرے رب!) مجھے اپنے پاس سے رحمت عنایت فرما، بے شک تو ہی عنایت کرنے والا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5061]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16118) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی عبداللہ بن ولید مصری لین الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1214)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
109. باب فِي التَّسْبِيحِ عِنْدَ النَّوْمِ
باب: سوتے وقت تسبیح پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5062
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ. ح حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ الْمَعْنَى، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ مُسَدَّدٌ: قَالَ:حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، قَالَ:" شَكَتْ فَاطِمَةُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تَلْقَى فِي يَدِهَا مِنَ الرَّحَى، فَأُتِيَ بِسَبْيٍ فَأَتَتْهُ تَسْأَلُهُ، فَلَمْ تَرَهُ فَأَخْبَرَتْ بِذَلِكَ عَائِشَةَ، فَلَمَّا جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ، فَأَتَانَا وَقَدْ أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا فَذَهَبْنَا لِنَقُومَ، فَقَالَ: عَلَى مَكَانِكُمَا , فَجَاءَ فَقَعَدَ بَيْنَنَا، حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمَيْهِ عَلَى صَدْرِي، فَقَالَ: أَلَا أَدُلُّكُمَا عَلَى خَيْرٍ مِمَّا سَأَلْتُمَا إِذَا أَخَذْتُمَا مَضَاجِعَكُمَا، فَسَبِّحَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَاحْمَدَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَكَبِّرَا أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ، فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ خَادِمٍ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چکی پیسنے سے اپنے ہاتھ میں پہنچنے والی تکلیف کی شکایت لے کر گئیں، اسی دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی لائے گئے تو وہ آپ کے پاس لونڈی مانگنے آئیں، لیکن آپ نہ ملے تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتا کر چلی آئیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو بتایا (کہ فاطمہ آئی تھیں ایک خادمہ مانگ رہی تھیں) یہ سن کر آپ ہمارے پاس تشریف لائے، ہم سونے کے لیے اپنی خواب گاہ میں لیٹ چکے تھے، ہم اٹھنے لگے تو آپ نے فرمایا: اپنی اپنی جگہ پر رہو (اٹھنا ضروری نہیں) چنانچہ آپ آ کر ہمارے بیچ میں بیٹھ گئے، یہاں تک کہ میں نے آپ کے قدموں کی ٹھنڈک اپنے سینے میں محسوس کی، آپ نے فرمایا: کیا میں تم دونوں کو اس سے بہتر چیز نہ بتاؤں جو تم نے مانگی ہے، جب تم سونے چلو تو (۳۳) بار سبحان اللہ کہو، (۳۳) بار الحمدللہ کہو، اور (۳۴) بار اللہ اکبر کہو، یہ تم دونوں کے لیے خادم سے بہتر ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5062]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے چکی پیسنے کے باعث ہاتھوں میں تکلیف کا اظہار کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ غلام آئے تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں کہ آپ سے کوئی خادم طلب کریں، مگر آپ نہ ملے، تو انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتایا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا (کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آئی تھیں) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے جبکہ ہم اپنے بستروں میں جا چکے تھے۔ آپ تشریف لائے تو ہم اٹھنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی اپنی جگہ پر رہو۔ آپ آئے اور ہمارے درمیان بیٹھ گئے، حتیٰ کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں کی ٹھنڈک اپنے سینے میں محسوس کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسی بات نہ بتاؤں جو تمہارے لیے اس چیز سے بہت بہتر ہو جس کا تم نے مطالبہ کیا ہے؟ جب تم بستر پر لیٹنے لگو تو تینتیس بار «سُبْحَانَ اللّٰهِ» اللہ پاک ہے، تینتیس بار «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور چونتیس بار «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے پڑھ لیا کرو۔ یہ تمہارے لیے خادم سے کہیں بہتر ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5062]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/فرض الخمس 6 (3113)، المناقب 9 (3705)، النفقات 6 (5361)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء 19 (2727)، (تحفة الأشراف: 10210)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الدعوات 24 (3408)، مسند احمد (1/146)، سنن الدارمی/الاستئذان 52 (2727) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5361) صحيح مسلم (2727)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5063
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ الْيَشْكُرِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْوَرْدِ بْنِ ثُمَامَةَ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ لِابْنِ أَعْبُدَ: أَلَا أُحَدِّثُكَ عَنِّي وَعَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَتْ أَحَبَّ أَهْلِهِ إِلَيْهِ، وَكَانَتْ عِنْدِي فَجَرَّتْ بِالرَّحَى حَتَّى أَثَّرَتْ بِيَدِهَا، وَاسْتَقَتْ بِالْقِرْبَةِ حَتَّى أَثَّرَتْ فِي نَحْرِهَا، وَقَمَّتِ الْبَيْتَ حَتَّى اغْبَرَّتْ ثِيَابُهَا، وَأَوْقَدَتِ الْقِدْرَ حَتَّى دَكِنَتْ ثِيَابُهَا وَأَصَابَهَا مِنْ ذَلِكَ ضُرٌّ، فَسَمِعْنَا أَنَّ رَقِيقًا أُتِيَ بِهِمْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: لَوْ أَتَيْتِ أَبَاكِ فَسَأَلْتِيهِ خَادِمًا يَكْفِيكِ , فَأَتَتْهُ فَوَجَدَتْ عِنْدَهُ حُدَّاثًا فَاسْتَحْيَتْ فَرَجَعَتْ، فَغَدَا عَلَيْنَا وَنَحْنُ فِي لِفَاعِنَا، فَجَلَسَ عِنْدَ رَأْسِهَا فَأَدْخَلَتْ رَأْسَهَا فِي اللِّفَاعِ حَيَاءً مِنْ أَبِيهَا، فَقَالَ: مَا كَانَ حَاجَتُكِ أَمْسِ إِلَى آلِ مُحَمَّدٍ؟ , فَسَكَتَتْ مَرَّتَيْنِ، فَقُلْتُ: أَنَا وَاللَّهِ أُحَدِّثُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذِهِ جَرَّتْ عِنْدِي بِالرَّحَى حَتَّى أَثَّرَتْ فِي يَدِهَا، وَاسْتَقَتْ بِالْقِرْبَةِ حَتَّى أَثَّرَتْ فِي نَحْرِهَا، وَكَسَحَتِ الْبَيْتَ حَتَّى اغْبَرَّتْ ثِيَابُهَا، وَأَوْقَدَتِ الْقِدْرَ حَتَّى دَكِنَتْ ثِيَابُهَا، وَبَلَغَنَا أَنَّهُ قَدْ أَتَاكَ رَقِيقٌ أَوْ خَدَمٌ، فَقُلْتُ لَهَا: سَلِيهِ خَادِمًا؟ , فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ الْحَكَمِ وَأَتَمَّ.
ابوسلورد بن ثمامہ کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے ابن اعبد سے کہا: کیا میں تم سے اپنے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے متعلق واقعہ نہ بیان کروں، فاطمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھر والوں میں سب سے زیادہ پیاری تھیں اور میری زوجیت میں تھیں، چکی پیستے پیستے ان کے ہاتھ میں نشان پڑ گئے، مشکیں بھرتے بھرتے ان کے سینے میں نشان پڑ گئے، گھر کی صفائی کرتے کرتے ان کے کپڑے گرد آلود ہو گئے، کھانا پکاتے پکاتے کپڑے کالے ہو گئے، اس سے انہیں نقصان پہنچا (صحت متاثر ہوئی) پھر ہم نے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غلام اور لونڈیاں لائی گئی ہیں، تو میں نے فاطمہ سے کہا: اگر تم اپنے والد کے پاس جاتیں اور ان سے خادم مانگتیں تو تمہاری ضرورت پوری ہو جاتی، تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، لیکن وہاں لوگوں کو آپ کے پاس بیٹھے باتیں کرتے ہوئے پایا تو شرم سے بات نہ کہہ سکیں اور لوٹ آئیں، دوسرے دن صبح آپ خود ہمارے پاس تشریف لے آئے (اس وقت) ہم اپنے لحافوں میں تھے، آپ فاطمہ کے سر کے پاس بیٹھ گئے، فاطمہ نے والد سے شرم کھا کر اپنا سر لحاف میں چھپا لیا، آپ نے پوچھا: کل تم محمد کے اہل و عیال کے پاس کس ضرورت سے آئی تھیں؟ فاطمہ دو بار سن کر چپ رہیں تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں آپ کو بتاتا ہوں: انہوں نے میرے یہاں رہ کر اتنا چکی پیسی کہ ان کے ہاتھ میں گھٹا پڑ گیا، مشک ڈھو ڈھو کر لاتی رہیں یہاں تک کہ سینے پر اس کے نشان پڑ گئے، انہوں نے گھر کے جھاڑو دیئے یہاں تک کہ ان کے کپڑے گرد آلود ہو گئے، ہانڈیاں پکائیں، یہاں تک کہ کپڑے کالے ہو گئے، اور مجھے معلوم ہوا کہ آپ کے پاس غلام اور لونڈیاں آئیں ہیں تو میں نے ان سے کہا کہ وہ آپ کے پاس جا کر اپنے لیے ایک خادمہ مانگ لیں، پھر راوی نے حکم والی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی اور پوری ذکر کی۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5063]
امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ابن اعبد سے کہا: میں تمہیں اپنی اور فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات نہ بتاؤں؟ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اہل میں سب سے بڑھ کر محبوب تھیں اور وہ میری زوجیت میں تھیں۔ وہ چکی چلاتی تھیں حتیٰ کہ ان کے ہاتھوں میں گٹے پڑ گئے۔ مشکیزے میں پانی بھر کر لاتی تھیں، اس سے سینے پر نشان پڑ گئے۔ گھر میں جھاڑو دیتی تھیں اس سے کپڑے خراب ہو جاتے تھے۔ ہنڈیا کے نیچے آگ جلاتی تھیں تو اس سے کپڑے گندے ہو جاتے تھے اور اس سے انہیں اذیت بھی ہوتی تھی۔ پھر ہم نے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ غلام لائے گئے ہیں، تو میں نے کہا: اگر تم اپنے ابا کے پاس جاؤ اور ان سے کسی خادم کا کہو جو تمہارے کام کر دیا کرے (تو بہتر رہے)۔ چنانچہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئیں مگر پایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ باتیں کرنے والے بیٹھے ہیں تو انہیں بات کرنے میں حیا آئی، لہٰذا وہ واپس لوٹ آئیں۔ اگلی صبح آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے جبکہ ہم لحاف اوڑھے ہوئے تھے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے سر کے پاس بیٹھ گئے تو انہوں نے اپنے والد سے حیا کے باعث اپنا سر لحاف میں دے لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: کل تمہیں آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں کیا کام تھا؟ تو وہ خاموش رہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو بار پوچھا۔ تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں عرض کیے دیتا ہوں۔ بلاشبہ یہ میرے ہاں چکی پیستی ہیں حتیٰ کہ ہاتھوں میں گٹے پڑ گئے ہیں، مشک اٹھا کر پانی بھر کر لاتی ہیں حتیٰ کہ سینے پر نشان پڑ گئے ہیں، گھر میں جھاڑو دیتی ہیں اور کپڑے غبار آلود ہو جاتے ہیں، ہنڈیا کے نیچے آگ جلاتی ہیں حتیٰ کہ کپڑے سیاہ ہو جاتے ہیں، اور ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غلام یا خادم آئے ہیں، تو میں نے ان سے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی خادم کا کہیں، اور (مذکورہ بالا) روایت حکم کے ہم معنی ذکر کیا اور وہ زیادہ کامل ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5063]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم: (2988)، (تحفة الأشراف: 10245) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی ابوالورد لین الحدیث ہیں، لیکن اصل واقعہ صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
وانظر الحديث السابق (2988)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 175

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5064
حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، عَنْ شَبَثِ بْنِ رِبْعِيٍّ، عَنْ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَام، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْخَبَرِ، قَالَ فِيهِ: قَالَ عَلِيٌّ: فَمَا تَرَكْتُهُنَّ مُنْذُ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَّا لَيْلَةَ صِفِّينَ فَإِنِّي ذَكَرْتُهَا مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَقُلْتُهَا.
اس سند سے بھی علی رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے میں نے یہ تسبیح جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی پڑھنے میں کبھی ناغہ نہیں کیا سوائے جنگ صفین والی رات کے، مجھے اخیر رات میں یاد آئی تو میں نے اسے اسی وقت پڑھ لیا۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5064]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ خبر بیان کی، اس میں ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (یہ تسبیحات والا عمل) سنا ہے، انہیں کبھی نہیں چھوڑا۔ صرف صفین کی رات کو یہ مجھے رات کے آخری پہر یاد آئیں، تو میں نے انہیں اس وقت پڑھا۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5064]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم: (2988)، (تحفة الأشراف: 10122) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (شبث کی وجہ سے یہ روایت سنداً ضعیف ہے ورنہ اصل واقعہ صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قال البخاري : ’’ لا يعلم لمحمد بن كعب سماع من شبث ‘‘(التاريخ الكبير 266/4)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 175

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5065
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" خَصْلَتَانِ أَوْ خَلَّتَانِ لَا يُحَافِظُ عَلَيْهِمَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ هُمَا يَسِيرٌ وَمَنْ يَعْمَلُ بِهِمَا قَلِيلٌ: يُسَبِّحُ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ عَشْرًا، وَيَحْمَدُ عَشْرًا، وَيُكَبِّرُ عَشْرًا فَذَلِكَ خَمْسُونَ وَمِائَةٌ بِاللِّسَانِ وَأَلْفٌ وَخَمْسُ مِائَةٍ فِي الْمِيزَانِ، وَيُكَبِّرُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ، وَيَحْمَدُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَيُسَبِّحُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ فَذَلِكَ مِائَةٌ بِاللِّسَانِ وَأَلْفٌ فِي الْمِيزَانِ، فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْقِدُهَا بِيَدِهِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ هُمَا يَسِيرٌ وَمَنْ يَعْمَلُ بِهِمَا قَلِيلٌ؟ , قَالَ: يَأْتِي أَحَدَكُمْ يَعْنِي الشَّيْطَانَ فِي مَنَامِهِ فَيُنَوِّمُهُ قَبْلَ أَنْ يَقُولَهُ، وَيَأْتِيهِ فِي صَلَاتِهِ فَيُذَكِّرُهُ حَاجَةً قَبْلَ أَنْ يَقُولَهَا".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو خصلتیں یا دو عادتیں ایسی ہیں جو کوئی مسلم بندہ پابندی سے انہیں (برابر) کرتا رہے گا تو وہ ضرور جنت میں داخل ہو گا، یہ دونوں آسان ہیں اور ان پر عمل کرنے والے لوگ تھوڑے ہیں (۱) ہر نماز کے بعد دس بار «سبحان الله» اور دس بار «الحمد الله» اور دس بار «الله اكبر» کہنا، اس طرح یہ زبان سے دن اور رات میں ایک سو پچاس بار ہوئے، اور قیامت میں میزان میں ایک ہزار پانچ سو بار ہوں گے، (کیونکہ ہر نیکی کا ثواب دس گنا ہوتا ہے) اور سونے کے وقت چونتیس بار «الله اكبر»، تینتیس بار «الحمد الله»، تینتیس بار «سبحان الله» کہنا، اس طرح یہ زبان سے کہنے میں سو بار ہوئے اور میزان میں یہ ہزار بار ہوں گے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہاتھ (کی انگلیوں) میں اسے شمار کرتے ہوئے دیکھا ہے، لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! یہ دونوں کام تو آسان ہیں، پھر ان پر عمل کرنے والے تھوڑے کیسے ہوں گے؟ تو آپ نے فرمایا: (اس طرح کہ) تم میں ہر ایک کے پاس شیطان اس کی نیند میں آئے گا، اور ان کلمات کے کہنے سے پہلے ہی اسے سلا دے گا، ایسے ہی شیطان تمہارے نماز پڑھنے والے کے پاس نماز کی حالت میں آئے گا، اور ان کلمات کے ادا کرنے سے پہلے اسے اس کا کوئی (ضروری) کام یاد دلا دے گا، (اور وہ ان تسبیحات کو ادا کئے بغیر اٹھ کر چل دے گا)۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5065]
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو عمل ایسے ہیں اگر کوئی مسلمان بندہ ان کی پابندی کر لے، تو جنت میں داخل ہو گا اور وہ بہت آسان ہیں مگر ان پر عمل کرنے والے بہت کم ہیں۔ (ایک یہ ہے کہ) ہر نماز کے بعد دس بار «سُبْحَانَ اللّٰهِ» اللہ پاک ہے، دس بار «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے اور دس بار «اللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے کہے تو زبان کی ادائیگی کے اعتبار سے ایک سو پچاس بار ہے (مجموعی طور پر پانچوں نمازوں کے بعد) اور ترازو میں ایک ہزار پانچ سو ہوں گے اور جب سونے لگے تو چونتیس بار «اللّٰهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے، تینتیس بار «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے اور تینتیس بار «سُبْحَانَ اللّٰهِ» اللہ پاک ہے کہے۔ زبانی طور پر تو یہ ایک سو بار ہے مگر میزان میں یہ تسبیحات ایک ہزار ہوں گی۔ یقیناً میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنے ہاتھ سے شمار کرتے تھے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! یہ کیسے ہے کہ یہ عمل آسان ہے، مگر کرنے والے تھوڑے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سوتے وقت میں کسی کے پاس شیطان آ جاتا ہے اور پہلے اس سے کہ وہ یہ تسبیحات پوری کر لے، وہ اسے سلا دیتا ہے اور (اسی طرح) نماز میں شیطان آ جاتا ہے اور اسے کوئی کام یاد دلا دیتا ہے تو وہ انہیں پڑھے بغیر ہی اٹھ جاتا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5065]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الدعوات 25 (3410)، سنن النسائی/السہو 91 (1349)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 32 (926)، (تحفة الأشراف: 8638)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/160، 205) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (2406)
أخرجه ابن ماجه (926 وسنده حسن) والنسائي (1349 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5066
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَيَّاشُ بْنُ عُقْبَةَ الْحَضْرَمِيُّ، عَنْ الْفَضْلِ بْنِ حَسَنٍ الضَّمْرِيِّ، أَنَّ ابْنَ أُمِّ الْحَكَمِ أَوْ ضُبَاعَةَ ابْنَتَيِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ، عَنْ إِحْدَاهُمَا، أَنَّهَا قَالَتْ: أَصَابَ رَسُولُ اللَّهِ سَبْيًا، فَذَهَبْتُ أَنَا وَأُخْتِي فَاطِمَةُ بِنْتُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَشَكَوْنَا إِلَيْهِ مَا نَحْنُ فِيهِ، وَسَأَلْنَاهُ أَنْ يَأْمُرَ لَنَا بِشَيْءٍ مِنَ السَّبْيِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَبَقَكُنَّ يَتَامَى بَدْرٍ"، ثُمَّ ذَكَرَ قِصَّةَ التَّسْبِيحِ، قَالَ: عَلَى أَثَرِ كُلِّ صَلَاةٍ لَمْ يَذْكُرِ النَّوْمَ.
زبیر کی بیٹیوں ام الحکم یا ضباعہ میں سے کسی ایک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی آئے تو میں، میری بہن اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی فاطمہ تینوں آپ کے پاس گئیں، اور ہم جس محنت و مشقت سے دو چار تھے اسے ہم نے بطور شکایت آپ کے سامنے پیش کیا، ہم نے آپ سے درخواست کی کہ ہمیں قیدی دیئے جانے کا آپ حکم فرمائیں، تو آپ نے فرمایا: بدر کی یتیم لڑکیاں تم سے سبقت لے گئیں، (وہ پہلے آئیں اور پا گئیں اب قیدی نہیں بچے) پھر آپ نے تسبیح کے واقعہ کا ذکر کیا اس میں «في كل دبر صلاة» کے بجائے «على أثر كل صلاة» کہا اور سونے کا ذکر نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5066]
ام الحکم کے صاحبزادے یا ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے (ام الحکم اور ضباعہ دونوں زبیر بن عبدالمطلب کی بیٹیاں ہیں)، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی آئے تو میں، میری بہن اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ ہم نے انہیں اپنی وہ مشکلات پیش کیں جن سے ہم دوچار ہوتی تھیں اور ہم نے عرض کیا: ان قیدیوں میں سے کوئی خادم ہمیں بھی دیے جانے کا حکم ارشاد فرمائیں۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بدر کے یتیم تم سے پہلے لے چکے ہیں۔ پھر تسبیح والا قصہ ذکر کیا اور اس روایت میں ہر نماز کے بعد کا بیان ہے، سوتے وقت کا ذکر نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5066]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (2987)، (تحفة الأشراف: 15912، 18314) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث السابق (2987)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
110. باب مَا يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ
باب: صبح کے وقت کیا پڑھے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5067
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، مُرْنِي بِكَلِمَاتٍ أَقُولُهُنَّ إِذَا أَصْبَحْتُ وَإِذَا أَمْسَيْتُ , قال: قُلْ: اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي، وَشَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ، قَالَ: قُلْهَا: إِذَا أَصْبَحْتَ، وَإِذَا أَمْسَيْتَ، وَإِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کچھ ایسے کلمات بتائیے جنہیں میں جب صبح کروں اور جب شام کروں تو کہہ لیا کروں، آپ نے فرمایا: کہو «اللهم فاطر السموات والأرض عالم الغيب والشهادة رب كل شىء ومليكه أشهد أن لا إله إلا أنت أعوذ بك من شر نفسي وشر الشيطان وشركه» اے اللہ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، پوشیدہ اور موجود ہر چیز کے جاننے والے، ہر چیز کے پالنہار اور مالک! میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، میں تیری ذات کے ذریعہ اپنے نفس کے شر سے، شیطان کے شر سے، اور اس کے شرک سے پناہ مانگتا ہوں آپ نے فرمایا: جب صبح کرو اور جب شام کرو اور جب سونے چلو تب اس دعا کو پڑھ لیا کرو۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5067]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی کلمات ارشاد فرمائیں جو میں صبح اور شام کے وقت پڑھا کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ پڑھا کرو: «اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي، وَشَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ» اے اللہ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے! پوشیدہ اور ظاہر کے جاننے والے! ہر شے کے پالنے والے اور اس کے مالک! میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ میں اپنے نفس کی شرارت، شیطان کے شر اور اس کے شرک سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ یہ دعا صبح، شام اور سوتے وقت پڑھا کرو۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5067]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الدعوات 14 (3392)، (تحفة الأشراف: 14274)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/9، 10، 297)، سنن الدارمی/الاستئذان 54 (2731) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (2390)
أخرجه الترمذي (3392 وسنده صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5068
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ: اللَّهُمَّ بِكَ أَصْبَحْنَا وَبِكَ أَمْسَيْنَا، وَبِكَ نَحْيَا وَبِكَ نَمُوتُ، وَإِلَيْكَ النُّشُورُ، وَإِذَا أَمْسَى قَالَ: اللَّهُمَّ بِكَ أَمْسَيْنَا، وَبِكَ نَحْيَا وَبِكَ نَمُوتُ، وَإِلَيْكَ النُّشُورُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کرتے تو فرماتے: «اللهم بك أصبحنا وبك أمسينا وبك نحيا وبك نموت وإليك النشور» اے اللہ ہم نے صبح کی تیرے نام پر اور شام کی تیرے نام پر، جیتے ہیں تیرے نام پر، مرتے ہیں تیرے نام پر، اور مر کر تیرے ہی پاس ہمیں پلٹ کر جانا ہے اور جب شام کرتے تو فرماتے: «اللهم بك أمسينا وبك نحيا وبك نموت وإليك النشور» اے اللہ! ہم نے تیرے ہی نام پر شام کی، اور تیرے ہی نام پر ہم جیتے ہیں، تیرے ہی نام پر مرتے ہیں اور تیری ہی طرف ہمیں پلٹ کر جانا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5068]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح ہوتی تو یہ دعا پڑھتے تھے: «اللَّهُمَّ بِكَ أَصْبَحْنَا، وَبِكَ أَمْسَيْنَا، وَبِكَ نَحْيَا، وَبِكَ نَمُوتُ، وَإِلَيْكَ النُّشُورُ» اے اللہ! ہم نے تیرے (فضل کے) ساتھ صبح کی اور تیرے (فضل کے) ساتھ شام کرتے ہیں۔ تیرے ہی فضل سے زندہ اور تیرے ہی نام پر مرتے ہیں اور تیری ہی طرف اٹھ کر جانا ہے۔ اور شام کے وقت یہ کلمات یوں کہتے: «اللَّهُمَّ بِكَ أَمْسَيْنَا، وَبِكَ نَحْيَا، وَبِكَ نَمُوتُ، وَإِلَيْكَ النُّشُورُ» اے اللہ! ہم نے تیرے ہی (فضل کے) ساتھ شام کی اور تیرے ہی فضل سے زندہ اور تیرے ہی نام پر مرتے ہیں اور تیری ہی طرف اٹھنا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5068]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12756)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الدعوات 13 (3391)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 14 (3868)، مسند احمد (2/354، 522) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (2389)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5069
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ الْغَازِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ مَكْحُولٍ الدِّمَشْقِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ أَوْ يُمْسِي: اللَّهُمَّ إِنِّي أَصْبَحْتُ أُشْهِدُكَ، وَأُشْهِدُ حَمَلَةَ عَرْشِكَ وَمَلَائِكَتَكَ وَجَمِيعَ خَلْقِكَ أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ، أَعْتَقَ اللَّهُ رُبُعَهُ مِنَ النَّارِ، فَمَنْ قَالَهَا مَرَّتَيْنِ: أَعْتَقَ اللَّهُ نِصْفَهُ، وَمَنْ قَالَهَا ثَلَاثًا: أَعْتَقَ اللَّهُ ثَلَاثَةَ أَرْبَاعِهِ، فَإِنْ قَالَهَا أَرْبَعًا: أَعْتَقَهُ اللَّهُ مِنَ النَّارِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص صبح کے وقت اور شام کے وقت یہ دعا پڑھے  «اللهم إني أصبحت أشهدك وأشهد حملة عرشك وملائكتك وجميع خلقك أنك أنت الله لا إله إلا أنت وأن محمدا عبدك ورسولك» اے اللہ! میں نے صبح کی، میں تجھے اور تیرے عرش کے اٹھانے والوں کو تیرے فرشتوں کو اور تیری ساری مخلوقات کو گواہ بناتا ہوں کہ: تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور رسول ہیں تو اللہ تعالیٰ اس کا ایک چوتھائی حصہ جہنم سے آزاد کر دے گا، پھر جو دو مرتبہ کہے گا اللہ اس کا نصف حصہ آزاد کر دے گا، اور جو تین بار کہے گا تو اللہ اس کے تین چوتھائی حصے کو آزاد کر دے گا، اور اگر وہ چار بار کہے گا تو اللہ اسے پورے طور پر جہنم سے نجات دیدے گا۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5069]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص صبح یا شام کے وقت درج ذیل دعا پڑھ لے، تو اللہ تعالیٰ اس کا چوتھائی حصہ آگ سے آزاد فرما دے گا۔ اور جو شخص اسے دو بار پڑھے، اللہ اس کا آدھا حصہ آگ سے آزاد کر دے گا۔ اور جو شخص اسے تین بار پڑھے، اللہ تعالیٰ اس کا تین چوتھائی آگ سے آزاد کر دے گا۔ اور جو شخص چار بار پڑھے، تو اللہ تعالیٰ اسے (کامل طور پر) آگ سے آزاد فرما دے گا۔ (دعا کے کلمات یہ ہیں) «اللَّهُمَّ إِنِّي أَصْبَحْتُ أُشْهِدُكَ، وَأُشْهِدُ حَمَلَةَ عَرْشِكَ، وَمَلَائِكَتَكَ، وَجَمِيعَ خَلْقِكَ، أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ» اے اللہ! میں نے صبح کی ہے اور تجھے گواہ بناتا ہوں اور تیرا عرش اٹھانے والے، دیگر فرشتوں اور تیری ساری مخلوق کو گواہ بناتا ہوں کہ تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5069]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 1603) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی عبدالرحمان بن عبدالمجید مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
الحديث الآتي (5078) شاھد له

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں