🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
44. بَابُ: الصُّوَرِ فِي الْبَيْتِ
باب: گھر میں تصاویر رکھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3649
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , عَنْ أَبِي طَلْحَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس گھر میں فرشتے نہیں داخل ہوتے جس میں کتا اور تصویر ہو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3649]
حضرت ابوطلحہ (زید بن سہل انصاری) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3649]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/بدء الخلق 7 (3225)، 17 (3322)، المغازي 12 (4002)، اللباس 88 (5949)، 92 (5958)، صحیح مسلم/اللباس 26 (2106)، سنن ابی داود/اللباس 48 (4153)، سنن الترمذی/الأدب 44 (2804)، سنن النسائی/الصید والذبائح 11 (4287)، سنن النسائی/الزینة من المجتبیٰ 57 (5349)، (تحفة الأشراف: 3779)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الاستئذان 3 (6)، مسند احمد (4/28، 29، 30) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: وہ کتے جو کھیت اورجائداد کی رکھوالی، یا شکار کے لئے ہوں اس ممانعت کے حکم سے مستثنیٰ ہیں، اور تصویر سے بے جان چیزوں کی تصویریں مستثنیٰ ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3650
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ , عَنْ شُعْبَةَ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ , عَنْ أَبِي زُرْعَةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ".
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا اور تصویر ہو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3650]
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3650]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 90 (227)، اللباس 48 (4152)، سنن النسائی/الطہارة 168 (262)، الصید 11 (4286)، (تحفة الأشراف: 10291)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/83، 104)، سنن الدارمی/الاستئذان 34 (2705) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی رحمت کے فرشتے جو مسلمان اور سچے مومنوں کے پاس شوق اور محبت کی وجہ سے آتے ہیں وہ اس گھر میں نہیں داخل ہوتے جس میں کتا یا مورت ہو، مطلب یہ ہے کہ فرشتوں کو ان چیزوں سے نفرت ہے اور اس کا یہ قطعاً مطلب نہیں کہ جہاں کتا یا مورت ہو وہاں فرشتہ مطلق داخل ہی نہیں ہوتا، اگرچہ اس کو حکم دے دیا گیا ہو، ورنہ لازم آتا ہے جس کوٹھری میں کتا یا تصویر ہو وہاں کوئی نہ مرے کیونکہ موت کا فرشتہ اس کوٹھری کے اندر نہ آ سکے گا، واضح رہے یہ فرشتوں کے شوق و محبت سے اور اللہ کی رحمت لے کر گھر میں داخل ہونے کی بات ہے ورنہ جب ان کو حکم الہی ہوتا ہے تو کتا اور مورت کیا پاخانہ اور غلاظت خانہ میں بھی جا کر روح قبض کر لیتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3651
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: وَاعَدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فِي سَاعَةٍ يَأْتِيهِ فِيهَا فَرَاثَ عَلَيْهِ , فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ بِجِبْرِيلَ قَائِمٌ عَلَى الْبَابِ , فَقَالَ:" مَا مَنَعَكَ أَنْ تَدْخُلَ" , قَالَ: إِنَّ فِي الْبَيْتِ كَلْبًا , وَإِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ایسے وقت میں آنے کا وعدہ کیا جس میں وہ آیا کرتے تھے، لیکن آنے میں دیر کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے، دیکھا تو جبرائیل علیہ السلام دروازے پر کھڑے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: آپ کو اندر آنے سے کس چیز نے باز رکھا؟ فرمایا: گھر میں کتا ہے، اور ہم لوگ ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں کتے اور تصویریں ہوں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3651]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جبریل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک خاص وقت پر تشریف لانے کا وعدہ کیا۔ ان کے آنے میں تاخیر ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم (گھر سے) باہر تشریف لائے۔ دیکھا تو جبریل علیہ السلام دروازے پر کھڑے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ کو اندر آنے میں کیا رکاوٹ تھی؟ انہوں نے فرمایا: «إِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ» ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر ہو۔ گھر میں ایک کتا تھا (جس کی وجہ سے وہ داخل نہیں ہوئے)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3651]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17761، ومصباح الزجاجة: 1267)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/142) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3652
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ , حَدَّثَنَا عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ , حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَتْهُ , أَنَّ زَوْجَهَا فِي بَعْضِ الْمَغَازِي ," فَاسْتَأْذَنَتْهُ أَنْ تُصَوِّرَ فِي بَيْتِهَا نَخْلَ , فَمَنَعَهَا أَوْ نَهَاهَا".
ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ کو بتایا کہ اس کا شوہر کسی جنگ میں گیا ہوا ہے، اور اپنے گھر میں کھجور کے درخت کی تصویر بنانے کی اجازت طلب کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منع فرما دیا یا روک دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3652]
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک خاتون نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ ان کا شوہر جہاد میں گیا ہوا ہے، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی کہ وہ گھر میں کھجور کے درخت کی تصویر بنوالے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منع فرما دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3652]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4873) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں عفیر بن معدان ضعیف راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عفير بن معدان:ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 508

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
45. بَابُ: الصُّوَرِ فِيمَا يُوطَأُ
باب: تصویروں کو پامال اور روندی جانے والی جگہوں میں رکھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3653
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: سَتَرْتُ سَهْوَةً لِي تَعْنِي: الدَّاخِلَ بِسِتْرٍ فِيهِ تَصَاوِيرُ , فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَتَكَهُ , فَجَعَلْتُ مِنْهُ مَنْبُوذَتَيْنِ:" فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئًا عَلَى إِحْدَاهُمَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے اپنے روشن دان پر پردہ ڈالا یعنی اندر سے، پردے میں تصویریں تھیں، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، تو آپ نے اسے پھاڑ ڈالا، میں نے اس سے دو تکیے بنا لیے پھر میں نے دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے ایک تکیے پر ٹیک لگائے ہوئے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3653]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے گھر کے اندر اپنے ایک طاقچے پر تصویروں والا پردہ لٹکا دیا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھاڑ ڈالا۔ میں نے اس کے دو گدے بنا لیے، پھر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان میں سے ایک گدے پر ٹیک لگائے ہوئے دیکھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3653]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17427، ومصباح الزجاجة: 1268)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المظالم 32 (2479، 2476)، اللباس 91 (5954، 5955)، الأدب 75 (6109)، (بدون ذکرالصلاة في المواضع الثلاثة) صحیح مسلم/اللباس 26 (2107)، سنن النسائی/القبلة 12 (762)، الزینة من المجتبیٰ 57 (5356)، مسند احمد (6/174)، سنن الدارمی/الاستئذان 33 (2704) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں اسامہ بن زید ضعیف ہے، لیکن دوسرے طرق سے صحیح ہے، کمافی التخریج)
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے نقشی تصویر کی بھی حرمت نکلتی ہے، اور بعضوں نے کہا آپ کا یہ فعل حرمت کی وجہ سے نہ تھا، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کے خاندان میں دنیا کی زیب و زینت اور آرائستگی کو برا سمجھا۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن، بخاري ومسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
46. بَابُ: الْمَيَاثِرِ الْحُمْرِ
باب: سرخ زین پوش کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3654
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ , عَنْ أَبِي إِسْحَاق , عَنْ هُبَيْرَةَ , عَنْ عَلِيٍّ , قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ , وَعَنِ الْمِيثَرَةِ" , يَعْنِي: الْحَمْرَاءَ.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی پہننے اور گدے استعمال کرنے سے منع فرمایا یعنی سرخ ریشمی گدے زین پوش۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3654]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی سے اور (سرخ) زین پوش سے منع فرمایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3654]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/اللباس 11 (4051)، سنن الترمذی/الأدب 45 (2808)، سنن النسائی/الزینة 43 (5168)، (تحفة الأشراف: 10304)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/93، 104، 127، 132، 133، 137) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
47. بَابُ: رُكُوبِ النُّمُورِ
باب: چیتے کی کھال سواری پر رکھ کر بیٹھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3655
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ , حَدَّثَنِي عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ الْحِمْيَرِيُّ , عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ الْحَجْرِيِّ الْهَيْثَمِ , عَنْ عَامِرٍ الْحَجْرِيِّ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا رَيْحَانَةَ صَاحِبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَنْهَى عَنْ رُكُوبِ النُّمُور".
ابوریحانہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چیتوں کی کھال پر سواری کرنے سے منع فرماتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3655]
صحابئ رسول حضرت ابوریحانہ شمعون بن زید ازدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چیتے (کی کھال) پر سواری کرنے سے منع فرمایا کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3655]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/اللباس 11 (4049)، سنن النسائی/الزینة 20 (5094)، 27 (5113، 5114، 5115)، (تحفة الأشراف: 12039)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/134)، سنن الدارمی/الاستئذان 20 (2690) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏ (بعد کی حدیث معاویہ رضی اللہ عنہ سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (4049) نسائي (5094)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 508

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3656
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ أَبِي الْمُعْتَمِرِ , عَنْ ابْنِ سِيرِينَ , عَنْ مُعَاوِيَةَ , قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَنْهَى عَنْ رُكُوبِ النُّمُورِ".
معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چیتوں کی کھال پر سواری کرنے سے منع فرماتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3656]
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چیتے (کی کھال) پر سوار ہونے سے منع فرمایا کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3656]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/اللباس 43 (4129)، (تحفة الأشراف: 11439)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/93، 94) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ یہ زینت اور فخر کی چیز ہے، اور اس لئے بھی کہ یہ غیر مسلموں کا لباس ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں