سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. بَابُ: لُبْسِ جُلُودِ الْمَيْتَةِ إِذَا دُبِغَتْ
باب: مردار کا چمڑا رنگنے (دباغت) کے بعد پہننے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3609
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" أَيُّمَا إِهَابٍ دُبِغَ , فَقَدْ طَهُرَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”ہر وہ کھال جسے دباغت دے دی گئی ہو پاک ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3609]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ارشاد سنا: ”جو بھی چمڑا رنگ لیا جائے وہ پاک ہو جاتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3609]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحیض 27 (366)، سنن ابی داود/اللباس 41 (4123)، سنن الترمذی/اللباس 7 (1728)، سنن النسائی/الفرع والعتیرة 3 (4246)، (تحفة الأشراف: 5822)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصید 6 (17)، مسند احمد (1/219، 237، 270، 279، 280، 343، سنن الدارمی/الأضاحي 20 (2031) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جو حلال جانور ہیں ان کی کھال دباغت سے پاک ہو جاتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 3610
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , عَنْ مَيْمُونَةَ , أَنَّ شَاةً لِمَوْلَاةِ مَيْمُونَةَ , مَرَّ بِهَا يَعْنِي: النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أُعْطِيَتْهَا مِنَ الصَّدَقَةِ مَيْتَةً , فَقَالَ:" هَلَّا أَخَذُوا إِهَابَهَا فَدَبَغُوهُ فَانْتَفَعُوا بِهِ" , فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّهَا مَيْتَةٌ , قَالَ:" إِنَّمَا حُرِّمَ أَكْلُهَا".
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کی ایک لونڈی کو صدقہ کی ایک بکری ملی تھی جو مری پڑی تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر اس بکری کے پاس ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان لوگوں نے اس کی کھال کیوں نہیں اتار لی کہ اسے دباغت دے کر کام میں لے آتے“؟ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ تو مردار ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صرف اس کا کھانا حرام ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3610]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ام المؤمنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کی آزاد کردہ لونڈی کی ایک مری ہوئی بکری کے پاس سے گزرے جو انہیں (آزاد کردہ لونڈی کو) صدقہ میں ملی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہوں نے اس کا چمڑا کیوں نہ اتار لیا کہ اسے رنگ کر اس سے فائدہ اٹھاتے؟“ حاضرین نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ تو مردار ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے صرف کھانا حرام ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3610]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحیض 27 (363)، سنن الترمذی/اللباس 7 (1727)، سنن ابی داود/اللباس41 (1420)، سنن النسائی/الفرع والعتیرة 3 (4240)، (تحفة الأشراف: 18066)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الزکاة 61 (1492)، البیوع 101 (2221)، موطا امام مالک/الصید 6 (16)، مسند احمد (6/329، 236)، سنن الدارمی/الأضاحي 20 (2031) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہر مرے ہوئے ماکول اللحم جانور کا گوشت کھانا حرام ہے، لیکن اس کے چمڑے سے دباغت کے بعد ہر طرح کا فائدہ اٹھانا جائز ہے، وہ بیچ کر ہو یا ذاتی استعمال میں لا کر۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 3611
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ لَيْثٍ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ سَلْمَانَ , قَالَ: كَانَ لِبَعْضِ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ شَاةٌ فَمَاتَتْ , فَمَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهَا , فَقَالَ:" مَا ضَرَّ أَهْلَ هَذِهِ لَوِ انْتَفَعُوا بِإِهَابِهَا".
سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ امہات المؤمنین میں سے کسی ایک کے پاس ایک بکری تھی جو مر گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس پر گزر ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر لوگ اس کی کھال کو کام میں لے آتے تو اس کے مالکوں کو کوئی نقصان نہ ہوتا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3611]
حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”امہات المؤمنین میں سے کسی کی ایک بکری تھی، وہ مر گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ”اگر اس کے مالک اس کے چمڑے سے فائدہ اٹھا لیتے تو ان کا کیا نقصان تھا؟“” [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3611]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4492، ومصباح الزجاجة: 1259) (صحیح)» (سند میں لیث بن ابی سلیم اور شہر بن حوشب دونوں ضعیف راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ليث بن أبي سليم ضعيف
و للحديث شاھد ضعيف عند الطبراني في الكبير (212/7 ح 576)
و الحديث السابق (الأصل: 3610) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 507
إسناده ضعيف
ليث بن أبي سليم ضعيف
و للحديث شاھد ضعيف عند الطبراني في الكبير (212/7 ح 576)
و الحديث السابق (الأصل: 3610) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 507
حدیث نمبر: 3612
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ , عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ قُسَيْطٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أُمِّهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنْ يُسْتَمْتَعَ بِجُلُودِ الْمَيْتَةِ إِذَا دُبِغَتْ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا: ”جب مردہ جانوروں کی کھال کو دباغت دے دی جائے، تو لوگ ا سے فائدہ اٹھائیں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3612]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردہ جانور کے چمڑے سے فائدہ اٹھانے کا حکم دیا جب اسے رنگ لیا جائے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3612]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/اللباس 41 (4124)، سنن النسائی/الفرع والعتیرة 5 (4257)، (تحفة الأشراف: 17991)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصید 6 (18)، مسند احمد (6/73، 104، 148، 153)، سنن الدارمی/الأضاحي 20 (2030) (صحیح لغیرہ)» (نیز ملاحظہ ہو: صحیح موارد الظمآن: 122وغایة المرام: 26)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح: 509
أم محمد بن عبد الرحمٰن بن ثوبان: وثقھا ابن حبان و ابن عبد البر و يعقوب بن سفيان الفارسي (المعرفة والتاريخ 349/1۔ 350، 425) فالسند حسن
مشكوة المصابيح: 509
أم محمد بن عبد الرحمٰن بن ثوبان: وثقھا ابن حبان و ابن عبد البر و يعقوب بن سفيان الفارسي (المعرفة والتاريخ 349/1۔ 350، 425) فالسند حسن
26. بَابُ: مَنْ كَانَ لاَ يَنْتَفِعُ مِنَ الْمَيْتَةِ بِإِهَابٍ وَلاَ عَصَبٍ
باب: مردار کی کھال اور پٹھے سے فائدہ نہ اٹھانے کے قائلین کی دلیل کا بیان۔
حدیث نمبر: 3613
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا جَرِيرٌ , عَنْ مَنْصُورٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ , عَنْ الشَّيْبَانِيِّ . ح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ , عَنْ شُعْبَةَ كُلُّهُمْ , عَنْ الْحَكَمِ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ , قَالَ: أَتَانَا كِتَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنْ لَا تَنْتَفِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِإِهَابٍ , وَلَا عَصَبٍ".
عبداللہ بن عکیم کہتے ہیں کہ ہمارے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب آیا کہ مردار کی کھال اور پٹھوں سے فائدہ نہ اٹھاؤ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3613]
حضرت عبداللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ہمارے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خط آیا (جس میں یہ تحریر تھا) مردار کے چمڑے سے یا پٹھے سے فائدہ نہ اٹھاؤ۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3613]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/اللباس 42 (4127، 4128)، سنن الترمذی/اللباس 7 (1729)، سنن النسائی/الفرع والعتیرة 4 (4254)، (تحفة الأشراف: 6642)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/310، 311) (صحیح) (تراجع الألبانی: رقم: 470)»
وضاحت: ۱ ؎: حدیث میں «إِهَاب» کا لفظ آیا ہے، اور نضر بن شمیل کہتے ہیں کہ «إِهَاب» اسی کھال کو کہا جاتا جس کی دباغت نہ ہوئی ہو، اور جس کی دباغت ہو جائے اسے «إِهَاب» نہیں کہتے، بلکہ اسے «شن» یا «قربہ» کہا جاتا ہے، لہذا اس حدیث میں «إِهَاب» یعنی بغیر دباغت والے چمڑے کا ذکر ہے، اس «إِهَاب» یعنی کچے چمڑے سے فائدہ اٹھانا جائز نہیں،لیکن دوسری صحیح حدیثوں میں مشروط طریقے سے فائدہ اٹھانا جائز ہے، وہ یہ کہ حلال مردہ جانوروں کے چمڑے کو پہلے دباغت دے دیں، پھر اس سے فائدہ اٹھائیں لفظ «إِهَاب» کی وضاحت کے بعد حدیث میں کسی طرح کا نہ کوئی تعارض ہے اور نہ ہی اشکال۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
27. بَابُ: صِفَةِ النِّعَالِ
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جوتی کیسی تھی؟
حدیث نمبر: 3614
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَبَّاسِ , قَالَ:" كَانَ لِنَعْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قِبَالَانِ مَثْنِيٌّ شِرَاكُهُمَا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جوتیوں کے دو تسمے تھے، جو آگے سے دہرے ہوتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3614]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتے کی دو پٹیاں تھیں جن کے تسمے دہرے تھے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3614]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5784، ومصباح الزجاجة: 1260) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: آپ صلی اللہ علیہ وسلم چپل پہنتے تھے اور تسموں سے مراد یہ کہ ہر جوتی میں سامنے دو دو حلقے چمڑے کے تھے ایک میں انگوٹھا اور بیچ کی انگلی ڈالتے، اور دوسرے میں باقی انگلیاں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (في الشمائل: 75)
سفيان الثوري عنعن
و الحديث الآتي (الأصل: 3615) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 507
إسناده ضعيف
ترمذي (في الشمائل: 75)
سفيان الثوري عنعن
و الحديث الآتي (الأصل: 3615) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 507
حدیث نمبر: 3615
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , عَنْ هَمَّامٍ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَنَسٍ , قَالَ:" كَانَ لِنَعْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَالَانِ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جوتیوں کے دو تسمے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3615]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتوں کی دوپٹیاں تھیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3615]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الخمس 5 (107)، اللباس 41 (5857)، سنن ابی داود/اللباس 44 (4134)، سنن الترمذی/اللباس 33 (1772)، الشمائل 10 (71)، سنن النسائی/الزینة من المجتبیٰ 62 (5369)، (تحفة الأشراف: 1392)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/122، 203، 245، 269) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري
28. بَابُ: لُبْسِ النِّعَالِ وَخَلْعِهَا
باب: جوتے پہننے اور اتارنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3616
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ شُعْبَةَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا انْتَعَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَبْدَأْ بِالْيُمْنَى , وَإِذَا خَلَعَ فَلْيَبْدَأْ بِالْيُسْرَى".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی جوتا پہنے تو دائیں پیر سے شروع کرے، اور اتارے تو پہلے بائیں پیر سے اتارے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3616]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص جوتے پہنے تو دائیں جوتے سے شروع کرے اور جب اتارے تو بائیں سے شروع کرے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3616]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14400)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/اللباس 39 (5854)، صحیح مسلم/اللباس 19 (2097)، سنن ابی داود/اللباس 44 (4139)، سنن الترمذی/اللباس 37 (1779)، موطا امام مالک/اللباس 7 (15)، مسند احمد (2/245، 265، 283، 430) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
29. بَابُ: الْمَشْيِ فِي النَّعْلِ الْوَاحِدِ
باب: ایک پاؤں میں جوتا پہن کر چلنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3617
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ , عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَمْشِي أَحَدُكُمْ فِي نَعْلٍ وَاحِدٍ , وَلَا خُفٍّ وَاحِدٍ , لِيَخْلَعْهُمَا جَمِيعًا , أَوْ لِيَمْشِ فِيهِمَا جَمِيعًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بھی شخص ایک جوتا یا ایک موزہ پہن کر نہ چلے، یا تو دونوں جوتے اور موزے اتار دے یا پھر دونوں جوتے اور موزے پہن لے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3617]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص ایک جوتا یا ایک موزہ پہن کر نہ چلے، چاہیے کہ دونوں (جوتے یا موزے) اتار لے یا دونوں پہن کر چلے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3617]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13064، ومصباح الزجاجة: 1261)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/اللباس40 (5855)، صحیح مسلم/اللباس 19 (2097)، سنن ابی داود/اللباس 44 (4136)، سنن الترمذی/اللباس 34 (1774)، موطا امام مالک/اللباس 7 (14)، مسند احمد (2/245، 253، 314، 424، 443، 477) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ حکم ادب کے طور پر ہے اگر کوئی عذر ہو مثلا ایک پاؤں میں پھوڑا یا درد ہو تو جوتا اس میں نہ پہنا جائے، تو بہتر یہ ہے کہ دوسرے پاؤں کا جوتا بھی اتار کر چلے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم
30. بَابُ: الاِنْتِعَالِ قَائِمًا
باب: کھڑے ہو کر جوتا پہننے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3618
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنْ يَنْتَعِلَ الرَّجُلُ قَائِمًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر جوتا پہننے سے منع فرمایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3618]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”کھڑے کھڑے جوتے پہننے سے منع فرمایا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3618]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفةالأشراف: 12546) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو معاوية والأعمش مدلسان و عنعنا
وللحديث طرق ضعيفة عند الترمذي (1775،1776) وغيره
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 507
إسناده ضعيف
أبو معاوية والأعمش مدلسان و عنعنا
وللحديث طرق ضعيفة عند الترمذي (1775،1776) وغيره
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 507