🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. بَابُ: لُبْسِ السَّرَاوِيلِ
باب: پاجامہ پہننے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3579
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا يَحْيَى , وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ , قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ , عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ , قَالَ:" أَتَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَاوَمَنَا سَرَاوِيلَ".
سوید بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ نے ہم سے پاجامے کا مول بھاؤ (سودا) کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3579]
حضرت سوید بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم سے شلوار کا سودا کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3579]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/البیوع 7 (3336، 3337)، سنن الترمذی/البیوع 66 (1305)، سنن النسائی/البیوع 52 (4596)، (تحفة الأشراف: 4810)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/352)، سنن الدارمی/البیوع 47 (2627) (صحیح) (یہ مکر رہے، ملاحظہ ہو: 2220)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس سے یہ معلوم ہوا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پاجامہ پسند کیا، مگر پاجامے کا پہننا آپ سے ثابت نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. بَابُ: ذَيْلِ الْمَرْأَةِ كَمْ يَكُونُ
باب: عورت کے کپڑے کا دامن (نچلا حصہ) کتنا لمبا ہو؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3580
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمْ تَجُرُّ الْمَرْأَةُ مِنْ ذَيْلِهَا؟ قَالَ:" شِبْرًا" , قُلْتُ: إِذًا يَنْكَشِفُ عَنْهَا , قَالَ:" ذِرَاعٌ لَا تَزِيدُ عَلَيْهِ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا: عورت اپنے کپڑے کا دامن کتنا لٹکا سکتی ہے؟ فرمایا: ایک بالشت میں نے عرض کیا: اتنے میں تو پاؤں کھل جائے گا، تو فرمایا: ایک ہاتھ، اس سے زیادہ نہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3580]
ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا: عورت اپنا دامن کتنا لٹکائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک بالشت۔ میں نے کہا: تب اس (قدموں یا پنڈلیوں) سے کپڑا ہٹ جائے گا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک ہاتھ، اس سے زیادہ نہ لٹکائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3580]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/اللباس40 (4118)، (تحفة الأشراف: 18159)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/اللباس 9 (1731)، سنن النسائی/الزینة من المجتبیٰ 51 (5352)، موطا امام مالک/اللباس 6 (13)، مسند احمد (6/293، 296، 309، 315)، سنن الدارمی/الاستئذان 16 (2686) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3581
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ , عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , رُخِّصَ لَهُنَّ فِي الذَّيْلِ ذِرَاعًا , فَكُنَّ يَأْتِيَنَّا فَنَذْرَعُ لَهُنَّ بِالْقَصَبِ ذِرَاعًا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کو کپڑوں کے دامن ایک ہاتھ لٹکانے کی اجازت تھی، چنانچہ جب وہ ہمارے پاس آتیں تو ہم ان کے لیے لکڑی سے ایک ہاتھ کا ناپ بنا کر دیتے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3581]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کو ایک ہاتھ دامن کی اجازت دی گئی تھی۔ وہ ہمارے پاس آتیں تو ہم انہیں سرکنڈے سے ایک ہاتھ ماپ دیتے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3581]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/اللباس 40 (4119)، (تحفة الأشراف: 6661)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/اللباس 9 (1731)، مسند احمد (2/18، 90) (منکر)» ‏‏‏‏ (سند میں زید العمی ضعیف ہیں، اور «فكن يأتينا فنذرع لهن» کا لفظ منکر ہے، پہلا ٹکڑا صحیح ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1864)
قال الشيخ الألباني: صحيح دون جملة القصب
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (4119)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 506

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3582
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي الْمُهَزِّمِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ لِفَاطِمَةَ , أَوْ لِأُمِّ سَلَمَةَ:" ذَيْلُكِ ذِرَاعٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ یا ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: اپنے کپڑے کا دامن ایک ہاتھ کا رکھو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3582]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے یا حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: تمھارا دامن ایک ہاتھ ہونا چاہیے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3582]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14837، ومصباح الزجاجة: 1251)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/263، 416) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں ابو المہزم ضعیف راوی ہے، لیکن شواہد سے یہ صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
ضعفه البوصيري من أجل أبي المھزم: متروك
والحديث السابق (الأصل:3580) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 506

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3583
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ , حَدَّثَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ , عَنْ أَبِي الْمُهَزِّمِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ ّالنَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ فِي ذُيُولِ النِّسَاءِ:" شِبْرًا" , فَقَالَتْ: عَائِشَةُ: إِذًا تَخْرُجَ سُوقُهُنَّ , قَالَ:" فَذِرَاعٌ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے دامن کے سلسلے میں فرمایا: ایک بالشت کا ہو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ اتنے میں تو پنڈلی کھل جائے گی؟ فرمایا: تو پھر ایک ہاتھ ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3583]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کے دامن کے بارے میں فرمایا: ایک بالشت۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تب تو ان کی پنڈلیاں ظاہر ہو جائیں گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب ایک ہاتھ (کافی ہے)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3583]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17808، ومصباح الزجاجة: 1252)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/75، 123) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں ابو المہزم متروک ہے، لیکن حدیث نمبر (3581) میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے شاہد سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
انظر الحديث السابق (3582)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 506

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. بَابُ: الْعِمَامَةِ السَّوْدَاءِ
باب: سیاہ عمامہ (کالی پگڑی) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3584
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ مُسَاوِرٍ الْوَرَّاقِ , عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ".
عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر خطبہ دیتے دیکھا، آپ کے سر پر کالی پگڑی تھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3584]
حضرت عمر بن حریث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر خطبہ ارشاد فرماتے دیکھا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیاہ عمامہ باندھ رکھا تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3584]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 84 (1359)، سنن ابی داود/اللباس 24 (4077)، سنن الترمذی/الشمائل 16 (108)، سنن النسائی/الزینة من المجتبیٰ 56 (5348)، (تحفة الأشراف: 10716)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/307)، سنن الدارمی/ المناسک 88 (1982) (صحیح)» ‏‏‏‏ (یہ حدیث مکرر ہے، د یکھئے: 1114)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3585
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ , عَنْ جَابِرٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" دَخَلَ مَكَّةَ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ".
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں (فتح کے دن) داخل ہوئے، تو آپ کے سر پر کالی پگڑی تھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3585]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (فتح مکہ کے موقع پر) نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیاہ عمامہ باندھا ہوا تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3585]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «أنظر حدیث رقم: 2822 (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3586
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ , أَنْبَأَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" دَخَلَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ , وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن مکہ میں داخل ہوئے، آپ کے سر پر کالی پگڑی تھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3586]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم (مکہ میں) داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیاہ عمامہ باندھا ہوا تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3586]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7253، ومصباح الزجاجة: 1253) (صحیح)» ‏‏‏‏ (اس سند میں موسی بن عبیدة ربذی ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی وجہ سے یہ صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. بَابُ: إِرْخَاءِ الْعِمَامَةِ بَيْنَ الْكَتِفَيْنِ
باب: دونوں کندھوں کے درمیان عمامہ (پگڑی) لٹکانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3587
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ , عَنْ مُسَاوِرٍ , حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ:" كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ , قَدْ أَرْخَى طَرَفَيْهَا بَيْنَ كَتِفَيْهِ".
عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں، اور آ پ کے سر پر کالی پگڑی ہے جس کے دونوں کناروں کو آپ اپنے دونوں شانوں کے درمیان لٹکائے ہوئے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3587]
حضرت عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر سیاہ عمامہ ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے دونوں سرے اپنے کندھوں کے درمیان لٹکائے ہوئے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3587]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «أنظر حدیث رقم: (1104، 3584) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ان حدیثوں سے سیاہ عمامہ (کالی پگڑی) کا مسنون ہونا نکلتا ہے، دوسری روایتوں میں سفید بھی منقول ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
16. بَابُ: كَرَاهِيَةِ لُبْسِ الْحَرِيرِ
باب: ریشمی کپڑے پہننے کی حرمت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3588
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عُلَيَّةَ , عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا , لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الْآخِرَةِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے دنیا میں ریشمی کپڑا پہنا، وہ آخرت میں نہیں پہن سکے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3588]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے دنیا میں ریشم پہنا، وہ آخرت میں نہیں پہنے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3588]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/اللباس 2 (1073)، (تحفة الأشراف: 5392)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/اللباس 25 (5832)، مسند احمد (3/101) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں