🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. بَابُ: كَرَاهِيَةِ لُبْسِ الْحَرِيرِ
باب: ریشمی کپڑے پہننے کی حرمت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3589
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ , عَنْ الشَّيْبَانِيِّ , عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ , عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدٍ , عَنْ الْبَرَاءِ , قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَنِ الدِّيبَاجِ، وَالْحَرِيرِ، وَالْإِسْتَبْرَقِ".
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مردوں کے لیے) دیباج، حریر اور استبرق (موٹا ریشمی کپڑا) پہننے سے منع کیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3589]
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشمی کپڑے سے، عام ریشم سے اور موٹے ریشم سے منع فرمایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3589]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 2 (1239)، النکاح 71 (5175)، الأشربة 28 (5635)، المرضی 4 (5650)، اللباس 36 (5838)، 45 (5863)، الأدب 124 (6222)، الاستئذان 8 (6235)، صحیح مسلم/اللباس 2 (2066)، سنن الترمذی/الأدب 45 (2809)، سنن النسائی/الجنائز 53 (1941)، الزینة من المجتبیٰ 37 (5311)، (تحفة الأشراف: 1916)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/284، 287، 299) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہ تینوں ریشمی کپڑے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3590
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ شُعْبَةَ , عَنْ الْحَكَمِ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنْ حُذَيْفَةَ , قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ وَالذَّهَبِ، وَقَالَ:" هُوَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا , وَلَنَا فِي الْآخِرَةِ".
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مردوں کے لیے) ریشم اور سونا پہننے سے منع کیا، اور فرمایا: یہ ان (کافروں) کے لیے دنیا میں ہے اور ہمارے لیے آخرت میں ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3590]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم اور سونا پہننے سے منع کیا اور فرمایا: وہ دنیا میں ان (کافروں) کے لیے ہے اور آخرت میں ہمارے لیے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3590]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأطعمة 29 (5426)، الأشربة 27 (5632)، 28 (5633)، اللباس 25 (5831)، 27 (5837)، صحیح مسلم/اللباس1 (2067)، سنن ابی داود/الأشربة 17 (3723)، سنن الترمذی/الأشربة 10 (1878)، سنن النسائی/الزینة من المجتبیٰ 33 (5303)، (تحفة الأشراف: 3373)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/385، 390، 396، 398، 400، 408)، سنن الدارمی/الأشربة 25 (2176) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3591
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , عَنْ نَافِعٍ , أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ , أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَأَى حُلَّةً سِيَرَاءَ مِنْ حَرِيرٍ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوِ ابْتَعْتَ هَذِهِ الْحُلَّةَ لِلْوَفْدِ وَلِيَوْمِ الْجُمُعَةِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِا مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ریشم کا ایک سرخ جوڑا دیکھا تو کہا: اللہ کے رسول! اگر آپ اس جوڑے کو وفود سے ملنے کے لیے اور جمعہ کے دن پہننے کے لیے خرید لیتے تو اچھا ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے وہ لوگ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3591]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لکیر دار ریشمی کپڑے کا جوڑا دیکھا تو عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ یہ جوڑا وفود کے استقبال اور جمعہ کے دن پہننے کے لیے خرید لیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے تو وہی پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3591]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8023)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة 7 (886)، العیدین 1 (948) الھبة 27 (2612)، 29 (2619)، الجہاد 177 (3054)، اللباس 30 (5841)، الأدب 9 (5981)، 66 (6081)، صحیح مسلم/اللباس 1 (2068)، سنن ابی داود/الصلاة 219 (1076)، اللباس 10 (4040)، سنن النسائی/الجمعة 11 (1383)، العیدین 4 (1561)، الزینة في المجتبیٰ 29 (5297)، 31 (5301)، موطا امام مالک/اللباس 8 (18)، مسند احمد (2/20، 39، 49) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
17. بَابُ: مَنْ رُخِّصَ لَهُ فِي لُبْسِ الْحَرِيرِ
باب: جن لوگوں کو ریشم پہننے کی اجازت دی گئی ان کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3592
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ , حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ , عَنْ قَتَادَةَ , أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ , نَبَّأَهُمْ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَخَّصَ لِلزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ , وَلِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ , فِي قَمِيصَيْنِ مِنْ حَرِيرٍ مِنْ وَجَعٍ كَانَ بِهِمَا حِكَّةٍ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر بن عوام اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہما کو اس تکلیف کی وجہ سے جو انہیں کھجلی کی وجہ سے تھی، ریشم کے کرتے پہننے کی اجازت دی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3592]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ اور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو ریشم کی قمیصیں پہننے کی اجازت دی کیونکہ انہیں خارش کی تکلیف تھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3592]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجہاد 91 (2919)، اللباس 29 (5839)، صحیح مسلم/اللباس 3 (2076)، سنن ابی داود/اللباس 13 (4056)، سنن النسائی/الزینة من المجتبیٰ 38 (5312)، (تحفة الأشراف: 1169)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/اللباس 2 (1722)، مسند احمد (3/127، 180، 215، 255، 273) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
18. بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي الْعَلَمِ فِي الثَّوْبِ
باب: کپڑے میں ریشمی گوٹ لگانے کی رخصت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3593
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ , عَنْ عَاصِمٍ , عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يَنْهَى عَنِ الْحَرِيرِ وَالدِّيبَاجِ , إِلَّا مَا كَانَ هَكَذَا , ثُمَّ أَشَارَ بِإِصْبَعِهِ , ثُمَّ الثَّانِيَةِ , ثُمَّ الثَّالِثَةِ , ثُمَّ الرَّابِعَةِ , فَقَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَانَا عَنْهُ".
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ خالص ریشمی کپڑے (حریر و دیباج) کے استعمال سے منع فرماتے تھے سوائے اس کے جو اس قدر ریشمی ہوتا، پھر انہوں نے اپنی ایک انگلی، پھر دوسری پھر تیسری پھر چوتھی انگلی سے اشارہ کیا ۱؎ پھر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس سے منع کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3593]
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ باریک اور موٹے ریشم (کا کپڑا پہننے) سے منع کرتے تھے، مگر جو اتنا سا ہو۔ پھر (حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے) ایک انگلی سے اشارہ کیا، پھر دوسری سے، پھر تیسری سے، پھر چوتھی سے اور فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس سے منع فرمایا کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3593]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم (2820) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی چار انگل ریشم اگر کسی کپڑے میں ہوتو کوئی حرج نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3594
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ زِيَادٍ , عَنْ أَبِي عُمَرَ مَوْلَى أَسْمَاءَ , قَالَ: رَأَيْتُ بْنَ عُمَرَ اشْتَرَى عِمَامَةً لَهَا عَلَمٌ , فَدَعَا بِالْجَلَمَيْنِ فَقَصَّهُ , فَدَخَلْتُ عَلَى أَسْمَاءَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهَا , فَقَالَتْ:" بُؤْسًا لِعَبْدِ اللَّهِ , يَا جَارِيَةُ , هَاتِي جُبَّةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَجَاءَتْ بِجُبَّةٍ مَكْفُوفَةِ الْكُمَّيْنِ , وَالْجَيْبِ , وَالْفَرْجَيْنِ بِالدِّيبَاجِ".
اسماء رضی اللہ عنہا کے غلام ابوعمر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ انہوں نے ایک عمامہ خریدا جس میں گوٹے بنے تھے، پھر قینچی منگا کر انہیں کتر دیا ۱؎، میں اسماء رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا، اور اس کا تذکرہ کیا، تو انہوں نے کہا: تعجب ہے عبداللہ پر، (ایک اپنی خادمہ کو پکار کر کہا:) اے لڑکی! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جبہ لے آ، چنانچہ وہ ایک ایسا جبہ لے کر آئی جس کی دونوں آستینوں، گریبان اور کلیوں کے دامن پر ریشمی گوٹے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3594]
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے دیکھا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے عمامہ خریدا جس (کے کنارے) پر (ریشم کے) نشان تھے، انہوں نے قینچی طلب کی اور اسے کاٹ ڈالا۔ میں نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ واقعہ بیان کیا تو انہوں نے فرمایا: تعجب ہے عبداللہ (رضی اللہ عنہ) پر (اور اپنی خادمہ کو آواز دی): اے لڑکی! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جبہ لاؤ۔ وہ (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا) جبہ لائی جس کی آستینوں، گریبان اور دونوں طرف کے چاک کے کناروں پر ریشم لگا ہوا تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3594]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/اللباس 2 (2069)، سنن ابی داود/اللباس 12 (4054)، (تحفة الأشراف: 15721)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/348، 353، 354، 355) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: شاید ابن عمر رضی اللہ عنہما اس رخصت کی خبر نہ ہو گی، اور شاید ان کے عمامہ کا حاشیہ چار انگل سے زیادہ ہو گا، اس لئے انہوں نے کاٹ ڈالا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
19. بَابُ: لُبْسِ الْحَرِيرِ وَالذَّهَبِ لِلنِّسَاءِ
باب: عورتوں کے ریشم اور سونا پہننے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3595
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق , عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ , عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي الصَّعْبَةِ , عَنْ أَبِي الْأَفْلَحِ الْهَمْدَانِيِّ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَيْرٍ الْغَافِقِيِّ , سَمِعْتُهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ , يَقُولُ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرِيرًا بِشِمَالِهِ , وَذَهَبًا بِيَمِينِهِ , ثُمَّ رَفَعَ بِهِمَا يَدَيْهِ , فَقَالَ:" إِنَّ هَذَيْنِ حَرَامٌ عَلَى ذُكُورِ أُمَّتِي , حِلٌّ لِإِنَاثِهِمْ".
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بائیں ہاتھ میں ریشم اور دائیں ہاتھ میں سونا لیا، اور دونوں کو ہاتھ میں اٹھائے فرمایا: یہ دونوں میری امت کے مردوں پر حرام، اور عورتوں کے لیے حلال ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3595]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بائیں ہاتھ میں ریشم اور دائیں ہاتھ میں سونا لیا، پھر دونوں ہاتھ بلند کر کے فرمایا: یہ دونوں چیزیں میری امت کے مردوں پر حرام اور ان کی عورتوں کے لیے حلال ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3595]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/اللباس 14 (4057)، سنن النسائی/الزینة 40 (5147)، (تحفة الأشراف: 10183)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/96، 115) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3596
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ , عَنْ أَبِي فَاخِتَةَ , حَدَّثَنِي هُبَيْرَةُ بْنُ يَرِيمَ , عَنْ عَلِيٍّ , أَنَّهُ أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةٌ مَكْفُوفَةٌ بِحَرِيرٍ , إِمَّا سَدَاهَا , وَإِمَّا لَحْمَتُهَا فَأَرْسَلَ بِهَا إِلَيَّ فَأَتَيْتُهُ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا أَصْنَعُ بِهَا أَلْبَسُهَا , قَالَ:" لَا وَلَكِنْ اجْعَلْهَا خُمُرًا بَيْنَ الْفَوَاطِمِ".
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ریشمی (جوڑا) تحفہ میں آیا جس کے تانے یا بانے میں ریشم ملا ہوا تھا، آپ نے وہ میرے پاس بھیج دیا، میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اس کا کیا کروں؟ کیا میں اسے پہنوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ اسے فاطماؤں کی اوڑھنیاں بنا دو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3596]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک حلہ (چادروں کا جوڑا) ہدیے کے طور پر پیش کیا گیا جس کا تانا یا بانا ریشم کا بنا ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ حلہ میرے پاس بھیج دیا۔ میں نے حاضر خدمت ہو کر عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اسے کیا کروں؟ کیا میں اسے پہن سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، اس سے فاطماؤں کو اوڑھنیاں بنا دے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3596]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10308)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/اللباس30 (5840)، صحیح مسلم/اللباس 2 (2071)، سنن ابی داود/اللباس10 (4043)، سنن النسائی/الزینة من المجتبیٰ 30 (5300)، مسند احمد (1/90، 130، 153) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ایک فاطمہ بنت اسد علی رضی اللہ عنہ کی ماں، دوسری فاطمہ بنت حمزہ رضی اللہ عنہ، تیسری سیدۃ النسا، فاطمہ رضی اللہ عنہا صاحبزادی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3597
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ الْإِفْرِيقِيِّ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو , قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي إِحْدَى يَدَيْهِ ثَوْبٌ مِنْ حَرِيرٍ , وَفِي الْأُخْرَى ذَهَبٌ , فَقَالَ:" إِنَّ هَذَيْنِ مُحَرَّمٌ عَلَى ذُكُورِ أُمَّتِي , حِلٌّ لِإِنَاثِهِمْ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس گھر سے نکل کر آئے، آپ کے ایک ہاتھ میں ریشم کا کپڑا، اور دوسرے میں سونا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دونوں چیزیں میری امت کے مردوں پر حرام، اور عورتوں کے لیے حلال ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3597]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس (گھر سے) باہر تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ہاتھ میں ریشمی کپڑا تھا اور دوسرے ہاتھ میں سونا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دونوں چیزیں میری امت کے مردوں پر حرام اور ان کی عورتوں کے لیے حلال ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3597]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8879، ومصباح الزجاجة: 1254) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں افریقی اور ابن رافع ضعیف ہیں، لیکن سابقہ حدیث (نمبر 3595) سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3598
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ , عَنْ مَعْمَرٍ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ أَنَسٍ , قَالَ:" رَأَيْتُ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَمِيصَ حَرِيرٍ سِيَرَاءَ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحب زادی زینب رضی اللہ عنہا کو سرخ دھاری دار ریشمی کرتا پہنے دیکھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3598]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی سیدتنا زینب رضی اللہ عنہا کو دھاری دار ریشمی قمیص پہنے دیکھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3598]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الزینة من المجتبیٰ 30 (5298)، (تحفة الأشراف: 1540) (شاذ)» ‏‏‏‏ (حدیث میں ”زینب“ کا ذکر شاذ ہے، محفوظ حدیث میں ”ام کلثوم“ کا ذکر ہے)
قال الشيخ الألباني: شاذ والمحفوظ أم كلثوم مكان زينب
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (5298)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 507

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں