🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. بَابُ: مَا نُهِيَ عَنْهُ مِنَ اللِّبَاسِ
باب: ممنوع لباس کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3560
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ , وَأَبُو أُسَامَةَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ لِبْسَتَيْنِ: عَنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ , وَعَنِ الِاحْتِبَاءِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ يُفْضِي بِفَرْجِهِ إِلَى السَّمَاءِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کے پہناوے سے منع فرمایا: «اشتمال صماء» سے اور ایک کپڑے میں «احتباء» سے، کہ شرمگاہ آسمان کی طرف کھلی رہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3560]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو انداز سے لباس پہننے سے منع فرمایا: «اشْتِمَالِ صَمَّاء» سے اور ایک کپڑے کے ساتھ اس طرح «احْتِبَاء» کرنے سے کہ آسمان کی طرف اس کا ستر کھلا ہوا ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3560]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «(یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 1248)، (تحفة الأشراف: 12665) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3561
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ , وَأَبُو أُسَامَةَ , عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ , عَنْ عَمْرَةَ , عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَنْ لِبْسَتَيْنِ: اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ , وَالِاحْتِبَاءِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، وَأَنْتَ مُفْضٍ فَرْجَكَ إِلَى السَّمَاءِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کے پہناوے سے منع فرمایا: «اشتمال صماء» سے، اور ایک کپڑے میں «احتباء» سے، کہ تم اپنی شرمگاہ کو آسمان کی طرف کھولے رہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3561]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو انداز سے لباس پہننے سے منع فرمایا: «اشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ» اشتمال صماء سے اور ایک کپڑے کے ساتھ اس طرح «الِاحْتِبَاءُ» احتباء کرنے سے کہ تمہارا ستر آسمان کی طرف کھلا ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3561]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17895، ومصباح الزجاجة: 1244) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بَابُ: لُبْسِ الصُّوفِ
باب: اونی کپڑا پہننے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3562
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى , عَنْ شَيْبَانَ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَبِي بُرْدَةَ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: قَالَ لِي: يَا بُنَيَّ , لَوْ شَهِدْتَنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , إِذَا أَصَابَتْنَا السَّمَاءُ , لَحَسِبْتَ أَنَّ رِيحَنَا رِيحُ الضَّأْنِ".
ابوبردہ اپنے والد ابوموسیٰ اشعری سے روایت کرتے ہیں کہ میرے والد نے مجھ سے کہا: میرے بیٹے! کاش تم ہم کو اس وقت دیکھتے جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، جب ہم پر آسمان سے بارش ہوتی تو تم خیال کرتے کہ ہماری بو بھیڑ کی بو جیسی ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3562]
حضرت ابوبردہ اپنے والد حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے مجھ سے فرمایا: بیٹا! کاش تم نے ہمیں اس وقت دیکھا ہوتا جب ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتے تھے، ہم پر بارش ہو جاتی (تو ایسی بو پیدا ہوتی) کہ تم ہماری بو کو بھیڑوں کی بو سمجھتے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3562]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/اللباس 6 (4033)، سنن الترمذی/صفة القیامة 38 (2479)، (تحفة الأشراف: 9126)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/407، 419) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: کیونکہ بالوں کے کپڑے جب بھیگ جاتے ہیں ان میں سے ایسی ہی بو پھوٹ نکلتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (4033) ترمذي (2479)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 505

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3563
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ , حَدَّثَنَا الْأَحْوَصُ بْنُ حَكِيمٍ , عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ , عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ , قَالَ:" خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ , رُومِيَّةٌ مِنْ صُوفٍ ضَيِّقَةُ الْكُمَّيْنِ , فَصَلَّى بِنَا فِيهَا لَيْسَ عَلَيْهِ شَيْءٌ غَيْرُهَا".
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اون کا بنا ہوا تنگ آستین والا رومی جبہ پہنے ہمارے پاس تشریف لائے، اور اسی میں ہمیں نماز پڑھائی، اس کے علاوہ آپ پر کوئی اور لباس نہ تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3563]
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (گھر سے) ہمارے پاس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اون کا بنا ہوا، تنگ آستینوں والا ایک رومی جبہ پہن رکھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی لباس میں ہمیں نماز پڑھائی جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک پر اور کوئی کپڑا نہ تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3563]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5086، ومصباح الزجاجة: 1245) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (احوص بن حکم ضعیف راوی ہیں، اور خالد بن معدان کی نہ تو عبادہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہے، اور نہ سماع)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
خالد بن معدان: لم يسمع من عبادة،والأحوص ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 506

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3564
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ , وَأَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ , قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ السِّمْطِ ، حَدَّثَنِي الْوَضِينُ بْنُ عَطَاءٍ , عَنْ مَحْفُوظِ بْنِ عَلْقَمَةَ , عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَوَضَّأَ فَقَلَبَ جُبَّةَ صُوفٍ كَانَتْ عَلَيْهِ , فَمَسَحَ بِهَا وَجْهَهُ".
سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا، پھر اون والے جبہ کو جو آپ پہنے ہوئے تھے الٹ دیا، اور اس سے اپنا چہرہ پونچھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3564]
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، پھر جسم مبارک پر پہنا ہوا اونی جبہ الٹا کر اس سے چہرہ مبارک پونچھ لیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3564]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4509، ومصباح الزجاجة: 1246) (حسن)» ‏‏‏‏ (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 468)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
انظر الحديث السابق (468)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 506

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3565
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ الْفَضْلِ , عَنْ شُعْبَةَ , عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَسِمُ غَنَمًا فِي آذَانِهَا , وَرَأَيْتُهُ مُتَّزِرًا بِكِسَاءٍ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بکریوں کے کانوں میں داغتے دیکھا، اور میں نے آپ کو چادر کا تہبند پہنے دیکھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3565]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بکریوں کے کانوں پر نشان لگا رہے تھے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک چادر تہ بند کے طور پر باندھے ہوئے دیکھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3565]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الذبائح 35 (5542)، صحیح مسلم/اللباس 30 (2119)، سنن ابی داود/الجہاد 57 (2563)، (تحفة الأشراف: 1632)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/169، 171، 254، 259) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (ابن ماجہ کی روایت میں ان کے شیخ سوید بن سعید ضعیف ہے، اس لئے آخری ٹکڑا «ورأيته متزرا بكساء» تک ضعیف ہے دوسرے کسی طریق میں یہ ٹکڑا نہیں ہے، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: 2309)
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابُ: الثِّيَابِ الْبَيَاضِ
باب: سفید کپڑوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3566
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ , أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْمَكِّيُّ , عَنْ ابْنِ خُثَيْمٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَيْرُ ثِيَابِكُمُ الْبَيَاضُ , فَالْبَسُوهَا , وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے بہترین کپڑے سفید کپڑے ہیں، لہٰذا انہیں کو پہنو اور اپنے مردوں کو انہیں میں کفناؤ۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3566]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے بہترین کپڑے سفید ہیں، انہیں پہنا کرو اور فوت ہونے والوں کو ان میں کفن دیا کرو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3566]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/اللباس 16 (4061)، الجنائر 18 (994)، سنن الترمذی/الجنائز 18 (994)، (تحفة الأشراف: 5534)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/231، 247، 274، 328، 355، 363) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3567
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ , عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ , عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْبَسُوا ثِيَابَ الْبَيَاضِ , فَإِنَّهَا أَطْهَرُ وَأَطْيَبُ".
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفید کپڑے پہنو کہ یہ زیادہ پاکیزہ اور عمدہ لباس ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3567]
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفید کپڑے پہنا کرو، وہ زیادہ پاک اور زیادہ عمدہ ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3567]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الأدب 46 (2810)، (تحفة الأشراف: 4635)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الجنائز 38 (1897)، الزینة من المجتبیٰ 44 (5343)، مسند احمد (5/10، 12، 13، 17، 18، 19، 21) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3568
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ الْأَزْرَقُ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ , حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ سَالِمٍ , عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو , عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ الْحَضْرَمِيِّ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَحْسَنَ مَا زُرْتُمُ اللَّهَ بِهِ فِي قُبُورِكُمْ وَمَسَاجِدِكُمُ الْبَيَاضُ".
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے بہتر لباس جس کو پہن کر تم اپنی قبروں اور مسجدوں میں اللہ کی زیارت کرتے ہو، سفید لباس ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3568]
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہترین لباس جس میں تم اپنی قبروں اور اپنی مسجدوں میں اللہ سے ملتے ہو، سفید لباس ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3568]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10938، ومصباح الزجاجة: 1247) (موضوع)» ‏‏‏‏ (سند میں مروان متروک راوی ہے، ساجی وغیرہ نے اس پر وضع حدیث کا الزام لگایا ہے، اور شریح بن عبید کا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني: موضوع
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
مروان بن سالم: متروك
وشريح لم يسمع من أبي الدرداء (تهذيب التهذيب 289/4)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 506

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. بَابُ: مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ مِنَ الْخُيَلاَءِ
باب: فخر و غرور سے ٹخنے سے نیچے کپڑا لٹکانے والے پر وارد وعید کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3569
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ جَمِيعًا , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" إِنَّ الَّذِي يَجُرُّ ثَوْبَهُ مِنَ الْخُيَلَاءِ , لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنے کپڑے فخر و غرور سے گھسیٹے گا، اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی طرف قیامت کے دن نہیں دیکھے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3569]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص تکبر کے ساتھ اپنا کپڑا گھسیٹ کر چلتا ہے، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی طرف (رحمت کی) نظر نہیں فرمائے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3569]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/اللباس 9 (2085)، (تحفة الأشراف: 7835، 7952)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/فضائل الصحابة 5 (3664)، اللباس 1 (5783)، 2 (5784)، 5 (5791)، سنن ابی داود/اللباس 28 (4085)، سنن الترمذی/اللباس 8 (1730)، 9 (1731)، سنن النسائی/الزینة من المجتبیٰ 50 (5337)، موطا امام مالک/اللباس 5 (9)، مسند احمد (2/5، 10، 32، 42، 44، 46، 55، 56، 60، 65، 67، 69، 74، 81) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں