🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. بَابُ: مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ مِنَ الْخُيَلاَءِ
باب: فخر و غرور سے ٹخنے سے نیچے کپڑا لٹکانے والے پر وارد وعید کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3570
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ عَطِيَّةَ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ مِنَ الْخُيَلَاءِ , لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" , قَالَ: فَلَقِيتُ بْنَ عُمَرَ بِالْبَلَاطِ , فَذَكَرْتُ لَهُ حَدِيثَ أَبِي سَعِيدٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: وَأَشَارَ إِلَى أُذُنَيْهِ , سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے غرور و تکبر سے اپنا تہبند گھسیٹا، اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی طرف قیامت کے روز نہیں دیکھے گا۔ عطیہ کہتے ہیں کہ مقام بلاط میں میری ملاقات ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ہوئی تو میں نے ان سے ابوسعید رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث بیان کی جو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے کانوں کی طرف اشارہ کر کے کہا: اسے میرے کانوں نے بھی سنا ہے، اور میرے دل نے اسے محفوظ رکھا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3570]
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے تکبر کی وجہ سے اپنا تہبند گھسیٹا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف (رحمت کی) نظر نہیں کرے گا۔ عطیہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: بلاط کے مقام پر میں ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے ابو سعید رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کا ذکر کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (یہ حدیث) بیان فرماتے ہیں۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے کانوں کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: (یہ صحیح ہے۔) میرے کانوں نے اسے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے) سنا اور میرے دل نے یاد رکھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3570]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4210، 7339، ومصباح الزجاجة: 1248)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/اللباس 30 (4093)، موطا امام مالک/اللباس 5 (12)، مسند احمد (3/5، 31، 44، 52، 97) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں عطیہ عوفی ضعیف راوی ہیں، لیکن باب کی احادیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3571
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: مَرَّ بِأَبِي هُرَيْرَةَ فَتًى مِنْ قُرَيْشٍ يَجُرُّ سَبَلَهُ , فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي , إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ مِنَ الْخُيَلَاءِ , لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان کے پاس سے قریش کا ایک جوان اپنی چادر لٹکائے ہوئے گزرا، آپ نے اس سے کہا: میرے بھتیجے! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جس نے غرور و تکبر سے اپنے کپڑے گھسیٹے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نہیں دیکھے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3571]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے پاس سے ایک قریشی نوجوان گزرا جو موٹے کپڑے کی چادر زمین پر گھسیٹ رہا تھا، انہوں نے فرمایا: بھتیجے! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنا کپڑا گھسیٹ کر چلتا ہے، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی طرف (رحمت کی) نظر نہیں فرمائے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3571]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15094)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/اللباس 5 (5788)، صحیح مسلم/اللباس 10 (2088)، موطا امام مالک/اللباس 5 (10)، مسند احمد (2/503) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. بَابُ: مَوْضِعِ الإِزَارِ أَيْنَ هُوَ
باب: تہبند اور پاجامہ کہاں تک لٹکا ہو؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3572
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ , عَنْ أَبِي إِسْحَاق , عَنْ مُسْلِمِ بْنِ نُذَيْرٍ , عَنْ حُذَيْفَةَ , قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَسْفَلِ عَضَلَةِ سَاقِي أَوْ سَاقِهِ , فَقَالَ:" هَذَا مَوْضِعُ الْإِزَارِ , فَإِنْ أَبَيْتَ فَأَسْفَلَ , فَإِنْ أَبَيْتَ فَأَسْفَلَ , فَإِنْ أَبَيْتَ فَلَا حَقَّ لِلْإِزَارِ فِي الْكَعْبَيْنِ".
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری پنڈلی کے نیچے کا پٹھا پکڑا اور فرمایا: تہبند کا مقام یہ ہے، اگر تم اتنا نہ کر سکو تو اس سے تھوڑا نیچے رکھو، اور اگر اتنا بھی نہ رکھ سکو تو اور نیچے رکھو، لیکن اگر اتنا بھی نہ کر سکو تو تمہیں ٹخنوں سے نیچے تہبند رکھنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3572]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری یا اپنی پنڈلی کے پٹھے کے نچلے حصے پر ہاتھ رکھا اور فرمایا: یہ تہبند کی جگہ ہے۔ اگر تو (یہاں تک رکھنا) نہ چاہے تو نیچے کر لے۔ اگر تو نہ چاہے تو (اور) نیچے کر لے۔ اگر تو (اتنا سا اونچا بھی رکھنا) نہ چاہے تو (معلوم ہونا چاہیے کہ) تہبند کا ٹخنوں میں کوئی حق نہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3572]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/اللباس 41 (1783)، سنن النسائی/الزینة من المجتبیٰ 48 (5331)، (تحفة الأشراف: 3383)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/382، 396، 398، 400، 401) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3573M
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاق , عَنْ مُسْلِمِ بْنِ نُذَيْرٍ , عَنْ حُذَيْفَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مِثْلَهُ.
اس سند سے بھی حذیفہ رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل مرفوعاً مروی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3573M]
قال الشيخ الألباني: صحيح

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3573
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي سَعِيدٍ هَلْ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا فِي الْإِزَارِ؟ قَالَ: نَعَمْ , سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" إِزْرَةُ الْمُؤْمِنِ إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ , لَا جُنَاحَ عَلَيْهِ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَيْنِ , وَمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ فِي النَّارِ" , يَقُولُ ثَلَاثًا:" لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ بَطَرًا".
عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تہبند کے بارے میں کچھ سنا ہے؟ فرمایا: ہاں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: مومن کا تہبند اس کی آدھی پنڈلی تک ہوتا ہے، اور اگر وہ اس کے اور ٹخنوں کے درمیان کسی بھی جگہ تک رکھے تو بھی کوئی حرج نہیں، لیکن جو ٹخنوں سے نیچے ہو وہ حصہ جہنم میں ہو گا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: اللہ تعالیٰ اس کی طرف نہیں دیکھے گا جو اپنا تہبند تکبر کی وجہ سے گھسیٹے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3573]
حضرت عبدالرحمن بن یعقوب جہنی حرقی رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تہبند کے بارے میں کوئی فرمان سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: مومن کا تہبند (شلوار، پینٹ اور پائجامہ وغیرہ) اس کی پنڈلیوں کے نصف تک (بلند) ہوتا ہے، اس جگہ اور ٹخنوں کے درمیان رکھنے میں اس پر گناہ نہیں، اور جو ٹخنوں سے نیچے ہو وہ جہنم میں ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین بار فرمائی: جو شخص تکبر کے ساتھ تہبند (زمین پر) گھسیٹے گا اللہ تعالیٰ اس کی طرف (رحمت کی نظر سے) نہیں دیکھے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3573]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/اللباس 30 (4093)، (تحفة الأشراف: 4136)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/اللباس 5 (12)، مسند احمد (3/5، 31، 44، 52، 97) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3574
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ , عَنْ حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ , عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ , قَالَ: قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا سُفْيَانَ بْنَ سَهْلٍ , لَا تُسْبِلْ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُسْبِلِينَ".
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفیان بن سہل! (ٹخنہ کے نیچے) تہبند نہ لٹکاؤ کہ اللہ تعالیٰ تہبند لٹکانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3574]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے سفیان بن سہل! کپڑا (جائز حد سے زیادہ) نہ لٹکا، اللہ تعالیٰ کپڑا لٹکانے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3574]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11493، ومصباح الزجاجة: 1249)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/246، 250، 250، 253) (حسن) (تراجع الألبانی: رقم: 391)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
شريك القاضي و عبد الملك بن عمير عنعنا
و الحديث السابق (الأصل: 3573) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 506

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. بَابُ: لُبْسِ الْقَمِيصِ
باب: قمیص اور کرتا پہننے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3575
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ , حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ , عَنْ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ بْنِ خَالِدٍ , عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ , عَنْ أُمِّهِ , عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , قَالَتْ:" لَمْ يَكُنْ ثَوْبٌ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْقَمِيصِ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے (قمیص) سے بڑھ کر کوئی لباس محبوب اور پسندیدہ نہ تھا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3575]
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی کپڑا قمیص سے زیادہ پسند نہیں تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3575]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/اللباس 3 (4025، 4026)، سنن الترمذی/اللباس 28 (1763، 1764)، (تحفة الأشراف: 18169)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/606، 317، 318، 321) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی سلے ہوئے کپڑوں میں، اور کپڑے کی جنس تو دوسری روایت میں ہے کہ سب سے زیادہ پسند آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو «حبرہ» تھا یعنی دھاری دار کپڑا جس میں سرخ دہاریاں ہوتی ہیں، اور اس زمانہ میں یہ کپڑا روئی کے سب کپڑوں میں عمدہ تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. بَابُ: طُولِ الْقَمِيصِ كَمْ هُوَ
باب: کرتے (اور قمیص) کی لمبائی کتنی ہو؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3576
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ , عَنْ ابْنِ أَبِي رَوَّادٍ , عَنْ سَالِمٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" الْإِسْبَالُ فِي الْإِزَارِ , وَالْقَمِيصِ وَالْعِمَامَةِ مَنْ جَرَّ شَيْئًا خُيَلَاءَ , لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" , قَالَ أَبُو بَكْرٍ: مَا أَغْرَبَهُ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اسبال»: تہبند، کرتے (قمیص) اور عمامہ (پگڑی) میں ہوتا ہے جو اسے محض تکبر اور غرور کے سبب گھسیٹے تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی طرف قیامت کے روز نہیں دیکھے گا ۱؎۔ ابوبکر بن ابی شیبہ کہتے ہیں کہ یہ کتنی غریب روایت ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3576]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جائز حد سے زیادہ) لٹکانا تہبند میں بھی ہوتا ہے، قمیص میں بھی اور پگڑی میں، جو شخص تکبر کے طور پر کسی بھی چیز کو لٹکائے، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی طرف (نظرِ رحمت سے) نہیں دیکھے گا۔ (امام ابن ماجہ رحمہ اللہ کے استاد) ابوبکر بن ابی شیبہ رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ کیسی نادر حدیث ہے! [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3576]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/اللباس 30 (4094)، (تحفة الأشراف: 6768) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: تہبند لٹکانا سخت گناہ ہے اور اس میں بڑی وعید آئی ہے، ایک روایت میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تہبندلٹکانے والوں کو نماز اور وضو دونوں کے دہرانے کا حکم دیا، اکثر علماء کے نزدیک یہ حکم تشدد اور تہدید کے طور پر تھا کیونکہ وضو ٹوٹنے کی کوئی وجہ نہیں ہے، بہرحال تہبند لٹکا کے نماز پڑھنا بڑی خرابی کی بات ہے کہ اس میں نماز صحیح نہ ہونے کا اندیشہ ہے، جو غرور اور کبر کی وجہ سے ایسا کرے تو وہ مزید دھمکی کا مستحق ہے کہ اس نے دو کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا۔ اور جس کی تہبند خود بخود کبھی ٹخنوں کے نیچے ہو جاتی ہے جیسا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں وارد ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان لوگوں میں سے نہیں ہو اور ٹخنے سے نیچے لٹکانا کچھ تہبند سے خاص نہیں ہے بلکہ ہر ایک کپڑے میں مقدار سنت یا مقدار ضرورت سے اور ٹخنوں تک بڑھانے کی رخصت ہے، اس سے نیچے پہننا حرام ہے، اسی طرح عمامہ کا شملہ نصف پشت سے زیادہ لٹکانا بدعت و حرام ہے، اور اسراف ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. بَابُ: كُمِّ الْقَمِيصِ كَمْ يَكُونُ
باب: قمیص (اور کرتے) کی آستین کتنی لمبی ہو؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3577
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ , حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ , قَالَ: حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ . ح وحَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ , عَنْ مُسْلِمٍ , عَنْ مُجَاهِدٍ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَلْبَسُ قَمِيصًا قَصِيرَ الْيَدَيْنِ وَالطُّولِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسی قمیص پہنتے جس کی آستین چھوٹی اور لمبائی بھی کم ہوتی تھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3577]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسی قمیص پہنتے تھے جس کی آستینیں بھی چھوٹی ہوتی تھیں اور لمبائی بھی کم ہوتی تھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3577]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6423، ومصباح الزجاجة: 1250) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں مسلم بن کیسان کوفی ضعیف راوی ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
مسلم بن كيسان الأعور الملائي: ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 506

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. بَابُ: حَلِّ الأَزْرَارِ
باب: گریبان کے بٹن کھلے رکھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3578
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ دُكَيْنٍ , عَنْ زُهَيْرٍ , عَنْ عُرْوَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُشَيْرٍ , حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ:" أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعْتُهُ , وَإِنَّ زِرَّ قَمِيصِهِ لَمُطْلَقٌ" , قَالَ عُرْوَةُ: فَمَا رَأَيْتُ مُعَاوِيَةَ وَلَا ابْنَهُ فِي شِتَاءٍ وَلَا صَيْفٍ , إِلَّا مُطْلَقَةً أَزْرَارُهُمَا.
قرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے بیعت کی، اس وقت آپ کے کرتے کی گھنڈیاں کھلی ہوئی تھیں، عروہ کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے بیٹے کو خواہ سردی ہو یا گرمی ہمیشہ اپنی گھنڈیاں (بٹن) کھولے دیکھا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3578]
حضرت قرہ بن ایاس مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بٹن کھلا ہوا تھا۔ حضرت قرہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے (حضرت قرہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے) معاویہ بن قرہ رضی اللہ عنہ اور ان کے بیٹے کو سردیوں اور گرمیوں میں جب بھی دیکھا، ان کے بٹن کھلے ہوئے دیکھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3578]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/اللباس 26 (4082)، (تحفة الأشراف: 11079)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/434، 4/19، 5/35) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو چھوٹی چھوٹی سنتوں میں بھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کا کتنا خیال تھا کہ جس حال میں اور جس وضع میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ساری عمر وہی وضع اور روش اختیار کی، آفریں ان کے جذبہ و محبت اور اتباع پر، اور کمال ایمان یہی ہے کہ عبادات اور عادات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی جائے، دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کرتہ کا گربیان بیچ میں رہتا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں