🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
25. باب : لبس جلود الميتة إذا دبغت
باب: مردار کا چمڑا رنگنے (دباغت) کے بعد پہننے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3611
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ لَيْثٍ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ سَلْمَانَ , قَالَ: كَانَ لِبَعْضِ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ شَاةٌ فَمَاتَتْ , فَمَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهَا , فَقَالَ:" مَا ضَرَّ أَهْلَ هَذِهِ لَوِ انْتَفَعُوا بِإِهَابِهَا".
سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ امہات المؤمنین میں سے کسی ایک کے پاس ایک بکری تھی جو مر گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس پر گزر ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگ اس کی کھال کو کام میں لے آتے تو اس کے مالکوں کو کوئی نقصان نہ ہوتا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3611]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4492، ومصباح الزجاجة: 1259) (صحیح)» ‏‏‏‏ (سند میں لیث بن ابی سلیم اور شہر بن حوشب دونوں ضعیف راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ليث بن أبي سليم ضعيف
و للحديث شاھد ضعيف عند الطبراني في الكبير (212/7 ح 576)
و الحديث السابق (الأصل: 3610) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 507

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سلمان الفارسي، أبو عبد اللهصحابي
👤←👥شهر بن حوشب الأشعري، أبو سعيد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن، أبو الجعد
Newشهر بن حوشب الأشعري ← سلمان الفارسي
صدوق كثير الإرسال والأوهام
👤←👥الليث بن أبي سليم القرشي، أبو بكر، أبو بكير
Newالليث بن أبي سليم القرشي ← شهر بن حوشب الأشعري
ضعيف الحديث
👤←👥عبد الرحيم بن سليمان الكناني، أبو علي
Newعبد الرحيم بن سليمان الكناني ← الليث بن أبي سليم القرشي
ثقة حافظ
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← عبد الرحيم بن سليمان الكناني
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
3611
ما ضر أهل هذه لو انتفعوا بإهابها
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3611 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3611
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل:

(1)
جس جانور کا گوشت کھانا حلال ہے وہ مر جائے تو اس کا چمڑا اتار کر رنگ لیا جائے پھر استعمال کی کوئی بھی چیز بنا لی جائے تو یہ جائز ہے۔

(2)
بعض علماءگزشتہ حدیث: 3609 کی روشنی میں بیان کرتے ہیں کہ جس جانور کا گوشت کھانا جائز نہیں اس کا چمڑا بھی دبا غت سے پاک ہو جاتا ہے۔
اور بعض علماء کے نزدیک جن جانوروں کا گوشت نہیں کھایا جاتا ان کا چمڑا دباغت سے پاک نہیں ہوتا۔
تاہم صحیح اور راجح موقف یہی معلوم ہوتا ہے کہ ماکول اللحم جانوروں ہی کا چمڑا دباغت سے پاک ہوتا ہے۔
واللہ أعلم۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3611]