سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. بَابُ: لُبْسِ جُلُودِ الْمَيْتَةِ إِذَا دُبِغَتْ
باب: مردار کا چمڑا رنگنے (دباغت) کے بعد پہننے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3609
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" أَيُّمَا إِهَابٍ دُبِغَ , فَقَدْ طَهُرَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”ہر وہ کھال جسے دباغت دے دی گئی ہو پاک ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3609]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ارشاد سنا: ”جو بھی چمڑا رنگ لیا جائے وہ پاک ہو جاتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3609]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحیض 27 (366)، سنن ابی داود/اللباس 41 (4123)، سنن الترمذی/اللباس 7 (1728)، سنن النسائی/الفرع والعتیرة 3 (4246)، (تحفة الأشراف: 5822)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصید 6 (17)، مسند احمد (1/219، 237، 270، 279، 280، 343، سنن الدارمی/الأضاحي 20 (2031) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جو حلال جانور ہیں ان کی کھال دباغت سے پاک ہو جاتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 3610
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , عَنْ مَيْمُونَةَ , أَنَّ شَاةً لِمَوْلَاةِ مَيْمُونَةَ , مَرَّ بِهَا يَعْنِي: النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أُعْطِيَتْهَا مِنَ الصَّدَقَةِ مَيْتَةً , فَقَالَ:" هَلَّا أَخَذُوا إِهَابَهَا فَدَبَغُوهُ فَانْتَفَعُوا بِهِ" , فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّهَا مَيْتَةٌ , قَالَ:" إِنَّمَا حُرِّمَ أَكْلُهَا".
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کی ایک لونڈی کو صدقہ کی ایک بکری ملی تھی جو مری پڑی تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر اس بکری کے پاس ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان لوگوں نے اس کی کھال کیوں نہیں اتار لی کہ اسے دباغت دے کر کام میں لے آتے“؟ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ تو مردار ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صرف اس کا کھانا حرام ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3610]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ام المؤمنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کی آزاد کردہ لونڈی کی ایک مری ہوئی بکری کے پاس سے گزرے جو انہیں (آزاد کردہ لونڈی کو) صدقہ میں ملی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہوں نے اس کا چمڑا کیوں نہ اتار لیا کہ اسے رنگ کر اس سے فائدہ اٹھاتے؟“ حاضرین نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ تو مردار ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے صرف کھانا حرام ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3610]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحیض 27 (363)، سنن الترمذی/اللباس 7 (1727)، سنن ابی داود/اللباس41 (1420)، سنن النسائی/الفرع والعتیرة 3 (4240)، (تحفة الأشراف: 18066)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الزکاة 61 (1492)، البیوع 101 (2221)، موطا امام مالک/الصید 6 (16)، مسند احمد (6/329، 236)، سنن الدارمی/الأضاحي 20 (2031) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہر مرے ہوئے ماکول اللحم جانور کا گوشت کھانا حرام ہے، لیکن اس کے چمڑے سے دباغت کے بعد ہر طرح کا فائدہ اٹھانا جائز ہے، وہ بیچ کر ہو یا ذاتی استعمال میں لا کر۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 3611
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ لَيْثٍ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ سَلْمَانَ , قَالَ: كَانَ لِبَعْضِ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ شَاةٌ فَمَاتَتْ , فَمَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهَا , فَقَالَ:" مَا ضَرَّ أَهْلَ هَذِهِ لَوِ انْتَفَعُوا بِإِهَابِهَا".
سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ امہات المؤمنین میں سے کسی ایک کے پاس ایک بکری تھی جو مر گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس پر گزر ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر لوگ اس کی کھال کو کام میں لے آتے تو اس کے مالکوں کو کوئی نقصان نہ ہوتا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3611]
حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”امہات المؤمنین میں سے کسی کی ایک بکری تھی، وہ مر گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ”اگر اس کے مالک اس کے چمڑے سے فائدہ اٹھا لیتے تو ان کا کیا نقصان تھا؟“” [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3611]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4492، ومصباح الزجاجة: 1259) (صحیح)» (سند میں لیث بن ابی سلیم اور شہر بن حوشب دونوں ضعیف راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ليث بن أبي سليم ضعيف
و للحديث شاھد ضعيف عند الطبراني في الكبير (212/7 ح 576)
و الحديث السابق (الأصل: 3610) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 507
إسناده ضعيف
ليث بن أبي سليم ضعيف
و للحديث شاھد ضعيف عند الطبراني في الكبير (212/7 ح 576)
و الحديث السابق (الأصل: 3610) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 507
حدیث نمبر: 3612
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ , عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ قُسَيْطٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أُمِّهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنْ يُسْتَمْتَعَ بِجُلُودِ الْمَيْتَةِ إِذَا دُبِغَتْ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا: ”جب مردہ جانوروں کی کھال کو دباغت دے دی جائے، تو لوگ ا سے فائدہ اٹھائیں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3612]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردہ جانور کے چمڑے سے فائدہ اٹھانے کا حکم دیا جب اسے رنگ لیا جائے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3612]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/اللباس 41 (4124)، سنن النسائی/الفرع والعتیرة 5 (4257)، (تحفة الأشراف: 17991)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصید 6 (18)، مسند احمد (6/73، 104، 148، 153)، سنن الدارمی/الأضاحي 20 (2030) (صحیح لغیرہ)» (نیز ملاحظہ ہو: صحیح موارد الظمآن: 122وغایة المرام: 26)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح: 509
أم محمد بن عبد الرحمٰن بن ثوبان: وثقھا ابن حبان و ابن عبد البر و يعقوب بن سفيان الفارسي (المعرفة والتاريخ 349/1۔ 350، 425) فالسند حسن
مشكوة المصابيح: 509
أم محمد بن عبد الرحمٰن بن ثوبان: وثقھا ابن حبان و ابن عبد البر و يعقوب بن سفيان الفارسي (المعرفة والتاريخ 349/1۔ 350، 425) فالسند حسن