🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ: بِرِّ الْوَالِدَيْنِ
باب: ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3657
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيٍّ , عَنْ ابْنِ سَلَامَةَ السُّلَمِيِّ , قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُوصِي امْرءًا بِأُمِّهِ , أُوصِي امْرءًا بِأُمِّهِ , أُوصِي امْرءًا بِأُمِّهِ ثَلَاثًا , أُوصِي امْرءًا بِأَبِيهِ , أُوصِي امْرءًا بِمَوْلَاهُ الَّذِي يَلِيهِ , وَإِنْ كَانَ عَلَيْهِ مِنْهُ أَذًى يُؤْذِيهِ".
ابن سلامہ سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں آدمی کو اپنی ماں کے ساتھ اچھے سلوک اور برتاؤ کرنے کی وصیت کرتا ہوں، میں آدمی کو اپنی ماں کے ساتھ اچھے سلوک اور برتاؤ کرنے کی وصیت کرتا ہوں، میں آدمی کو اپنی ماں کے ساتھ اچھے سلوک اور برتاؤ کرنے کی وصیت کرتا ہوں، میں آدمی کو اپنے باپ کے ساتھ اچھے سلوک اور برتاؤ کرنے کی وصیت کرتا ہوں، میں آدمی کو اپنے مولیٰ ۱؎ کے ساتھ جس کا وہ والی ہو اچھے سلوک اور برتاؤ کرنے کی وصیت کرتا ہوں، خواہ اس کو اس سے تکلیف ہی کیوں نہ پہنچی ہو ۲؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3657]
حضرت خداش بن سلامہ سلامی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں آدمی کو اس کی ماں کے بارے میں (حسن سلوک کی) وصیت کرتا ہوں۔ میں (ہر) آدمی کو اس کی ماں کے بارے میں وصیت کرتا ہوں۔ میں (ہر) آدمی کو اس کی ماں کے بارے میں وصیت کرتا ہوں۔ (تین بار فرمایا)۔ میں (ہر) آدمی کو اس کے باپ کے بارے میں وصیت کرتا ہوں۔ میں (ہر) آدمی کو اس کے تعلق دار کے بارے میں وصیت کرتا ہوں جس کا اس سے قریبی تعلق ہے، اگرچہ اس کی طرف سے تکلیف کا سامنا ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3657]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12054، ومصباح الزجاجة: 1269)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/311) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں شریک بن عبد اللہ القاضی اور عبیداللہ بن علی دونوں ضعیف ہیں)
وضاحت: ۱؎: عربی میں مولیٰ کا لفظ آزاد کردہ غلام یا دوست یا رشتے دار یا حلیف سبھی معنوں میں مستعمل ہے، یہاں کوئی بھی معنی مراد لے سکتے ہیں۔
۲؎: اگرچہ اس سے تکلیف پہنچے لیکن اس کے عوض میں تکلیف نہ دے جواں مردی یہی ہے کہ برائی کے بدلے نیکی کرے، اور جو اپنے سے رشتہ توڑے اس سے رشتہ جوڑے جیسے دوسری حدیث میں ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عبيد اللّٰه بن علي بن عرفطة: مجھول (تقريب: 4323)
و قال معاوية بن حيدة رضي اللّٰه عنه قلت: يا رسول اللّٰه ! من أبرّ ؟ قال: ((أمّك)) قال قلت: ثم من ؟ قال: ((أمّك)) قال قلت: ثم من ؟ قال: ((أمّك)) قال قلت: ثم من ؟ قال: ((ثم أباك ثم فالأقرب فالأقرب)) رواه الترمذي (1897) و قال: ’’ و ھذا حديث حسن ‘‘ و سنده حسن
و صححه الحاكم (4/ 150) و وافقه الذهبي
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 508

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3658
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ الْمَكِّيُّ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ , عَنْ أَبِي زُرْعَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَنْ أَبَرُّ؟ قَالَ:" أُمَّكَ" , قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ:" أُمَّكَ" , قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ:" أَبَاكَ" , قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ:" الْأَدْنَى فَالْأَدْنَى".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! حسن سلوک (اچھے برتاؤ) کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری ماں، پھر پوچھا: اس کے بعد کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری ماں، پھر پوچھا اس کے بعد کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا باپ، پھر پوچھا: اس کے بعد کون حسن سلوک (اچھے برتاؤ) کا سب سے زیادہ مستحق ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر جو ان کے بعد تمہارے زیادہ قریبی رشتے دار ہوں، پھر اس کے بعد جو قریبی ہوں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3658]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں کس سے نیکی کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی ماں سے۔ پوچھنے والے نے کہا: اس کے بعد کس سے؟ فرمایا: اپنی ماں سے۔ اس نے کہا: اس کے بعد کس سے؟ فرمایا: اپنے باپ سے۔ اس نے کہا: اس کے بعد کس سے؟ فرمایا: جو زیادہ قریبی (تعلق رکھتا) ہو، پھر جو (اس کے بعد) زیادہ قریبی ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3658]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14920، ومصباح الزجاجة: 1270)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأدب 2 (5971 تعلیقاً)، صحیح مسلم/البر والصلة 1 (2548)، مسند احمد (2/391) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
ح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3659
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا جَرِيرٌ , عَنْ سُهَيْلٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَجْزِي وَلَدٌ وَالِدَهُ , إِلَّا أَنْ يَجِدَهُ مَمْلُوكًا فَيَشْتَرِيَهُ , فَيُعْتِقَهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی بھی اولاد اپنے باپ کا حق ادا نہیں کر سکتی مگر اسی صورت میں کہ وہ اپنے باپ کو غلامی کی حالت میں پائے پھر اسے خرید کر آزاد کر دے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3659]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیٹا اپنے باپ کا حق ادا نہیں کر سکتا مگر صرف اس صورت میں (ادا کر سکتا ہے) کہ اسے غلام پائے، پھر اسے خرید کر آزاد کر دے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3659]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/العتق 6 (1510)، سنن الترمذی/البر والصلة 8 (1906)، (تحفة الأشراف: 12595)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/263) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3660
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ , عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ , عَنْ عَاصِمٍ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" الْقِنْطَارُ اثْنَا عَشَرَ أَلْفَ أُوقِيَّةٍ , كُلُّ أُوقِيَّةٍ خَيْرٌ مِمَّا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ" , وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الرَّجُلَ لَتُرْفَعُ دَرَجَتُهُ فِي الْجَنَّةِ , فَيَقُولُ: أَنَّى هَذَا , فَيُقَالُ: بِاسْتِغْفَارِ وَلَدِكَ لَكَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «قنطار» بارہ ہزار «اوقیہ» کا ہوتا ہے، اور ہر «اوقیہ» آسمان و زمین کے درمیان پائی جانے والی چیزوں سے بہتر ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بھی فرمان ہے: آدمی کا درجہ جنت میں بلند کیا جائے گا، پھر وہ کہتا ہے کہ میرا درجہ کیسے بلند ہو گیا (حالانکہ ہمیں عمل کا کوئی موقع نہیں رہا) اس کو جواب دیا جائے گا: تیرے لیے تیری اولاد کے دعا و استغفار کرنے کے سبب سے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3660]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الْقِنْطَارُ» بارہ ہزار اوقیے کے برابر ہے۔ ہر اوقیہ زمین و آسمان کے درمیان کی تمام چیزوں سے بہتر ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3660]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12815، ومصباح الزجاجة: 1271)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/363، 509)، سنن الدارمی/فضائل القرآن 32 (3507) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں عاصم بن بھدلة ضعیف ہیں، اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے قول سے معروف ہے)
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3661
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ , عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ , عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ يكَرِبَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ يُوصِيكُمْ بِأُمَّهَاتِكُمْ ثَلَاثًا , إِنَّ اللَّهَ يُوصِيكُمْ بِآبَائِكُمْ , إِنَّ اللَّهَ يُوصِيكُمْ بِالْأَقْرَبِ فَالْأَقْرَبِ".
مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ تم کو اپنی ماؤں کے ساتھ حسن سلوک (اچھے برتاؤ) کی وصیت کرتا ہے یہ جملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا بیشک اللہ تعالیٰ تم کو اپنے باپوں کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کرتا ہے، پھر جو تمہارے زیادہ قریب ہوں، پھر ان کے بعد جو قریب ہوں ان کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کرتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3661]
حضرت مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری ماؤں کے بارے میں (حسن سلوک کی) وصیت کرتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین بار فرمائی، پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں تمہارے باپوں کے بارے میں وصیت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہیں زیادہ قریبی، پھر (اس کے بعد زیادہ) قریبی رشتہ داروں کے بارے میں وصیت فرماتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3661]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11562، ومصباح الزجاجة: 1277)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/131، 132) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3662
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ , حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاتِكَةِ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , أَنَّ رَجُلًا , قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا حَقُّ الْوَالِدَيْنِ عَلَى وَلَدِهِمَا؟ قَالَ:" هُمَا جَنَّتُكَ وَنَارُكَ".
ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! والدین کا حق ان کی اولاد پر کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہی دونوں تیری جنت اور جہنم ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3662]
حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اولاد پر والدین کا کیا حق ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تیری جنت اور تیری جہنم ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3662]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4920، ومصباح الزجاجة: 1273) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں علی بن یزید ضعیف راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف،وقال الساجي: اتفق أھل النقل علي ضعف علي بن يزيد ‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 508

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3663
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ , سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" الْوَالِدُ أَوْسَطُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ , فَأَضِعْ ذَلِكَ الْبَابَ أَوِ احْفَظْهُ".
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: باپ جنت کا درمیانی دروازہ ہے، چاہے تم اس دروازے کو ضائع کر دو، یا اس کی حفاظت کرو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3663]
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: باپ جنت کا درمیانی دروازہ ہے، چاہے اس دروازے کو ضائع کر لو، چاہے محفوظ کر لو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3663]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/البر والصلة 3 (1900)، (تحفة الأشراف: 10948)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/196، 197، 6/445، 448، 451) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: درمیان میں جو دروازہ ہوتا ہے اس میں سے مکان میں جلدی پہنچ جاتے ہیں، تو والدین کو جنت میں جانے کا قریب اور آسان راستہ قرار دیا اگر آدمی اپنے والدین کو خوش رکھے جو کچھ مشکل نہیں تو آسانی سے جنت مل سکتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ: صِلْ مَنْ كَانَ أَبُوكَ يَصِلُ
باب: جس سے تمہارا باپ اچھا سلوک کرتا ہو تم بھی اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3664
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سُلَيْمَانَ , عَنْ أَسِيدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عُبَيْدٍ مَوْلَى بَنِي سَاعِدَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ مَالِكِ بْنِ رَبِيعَةَ , قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَبَقِيَ مِنْ بِرِّ أَبَوَيَّ شَيْءٌ أَبَرُّهُمَا بِهِ مِنْ بَعْدِ مَوْتِهِمَا , قَالَ:" نَعَمْ , الصَّلَاةُ عَلَيْهِمَا , وَالِاسْتِغْفَارُ لَهُمَا , وَإِيفَاءٌ بِعُهُودِهِمَا مِنْ بَعْدِ مَوْتِهِمَا , وَإِكْرَامُ صَدِيقِهِمَا , وَصِلَةُ الرَّحِمِ الَّتِي لَا تُوصَلُ إِلَّا بِهِمَا".
ابواسید مالک بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے، اتنے میں قبیلہ بنی سلمہ کا ایک شخص حاضر ہوا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میرے والدین کی نیکیوں میں سے کوئی نیکی ایسی باقی ہے کہ ان کی وفات کے بعد میں ان کے لیے کر سکوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، ان کے لیے دعا اور استغفار کرنا، اور ان کے انتقال کے بعد ان کے وعدوں کو پورا کرنا، اور ان کے دوستوں کی عزت و تکریم کرنا، اور ان رشتوں کو جوڑنا جن کا تعلق انہیں کی وجہ سے ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3664]
حضرت ابو اسید مالک بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ قبیلہ بنو سلمہ کا ایک آدمی آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میرے والدین سے حسن سلوک کی کوئی صورت باقی ہے جس کے ذریعے سے ان کی وفات کے بعد میں ان سے نیکی کر سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، ان کے لیے دعا کرنا، ان کے لیے (اللہ سے) بخشش کی درخواست کرنا، ان کی وفات کے بعد ان کے وعدے پورے کرنا (جو زندگی میں پورے نہ کر سکے ہوں) ان کے دوستوں کا احترام کرنا اور ان رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرنا، جن سے تعلق صرف ان کے واسطے سے ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3664]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأدب 129 (5142)، (تحفة الأشراف: 11197)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/497، 498) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں عبد الرحمن بن سلیمان لین (ضعیف)، اور علی بن عبید مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَابُ: بِرِّ الْوَالِدِ وَالإِحْسَانِ إِلَى الْبَنَاتِ
باب: باپ کو اپنے بچوں خاص کر بیٹیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا چاہئے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3665
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: قَدِمَ نَاسٌ مِنْ الْأَعْرَابِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالُوا: أَتُقَبِّلُونَ صِبْيَانَكُمْ؟ قَالُوا: نَعَمْ , فَقَالُوا: لَكِنَّا وَاللَّهِ مَا نُقَبِّلُ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَأَمْلِكُ أَنْ كَانَ اللَّهُ قَدْ نَزَعَ مِنْكُمُ الرَّحْمَةَ؟".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ کچھ اعرابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور کہا: کیا آپ لوگ اپنے بچوں کا بوسہ لیتے ہیں؟ لوگوں نے کہا: ہاں، تو ان اعرابیوں (خانہ بدوشوں) نے کہا: لیکن ہم تو اللہ کی قسم! (اپنے بچوں کا) بوسہ نہیں لیتے، (یہ سن کر) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے کیا اختیار ہے جب کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے دلوں سے رحمت اور شفقت نکال دی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3665]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: کچھ اعرابی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے کہا: کیا تم لوگ اپنے بچوں کو چومتے ہو؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: ہاں۔ انہوں نے کہا: لیکن قسم ہے اللہ کی! ہم تو (اپنے بچوں کو) نہیں چومتے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ میرے اختیار کی بات تو نہیں جب اللہ نے تمہارے اندر سے رحم کا جذبہ سلب کر لیا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3665]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الفضائل 15 (2317)، (تحفة الأشراف: 16822)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأدب 17 (5993)، مسند احمد (6/70) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3666
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ , عَنْ يَعْلَى الْعَامِرِيِّ , أَنَّهُ قَالَ: جَاءَ الْحَسَنُ , وَالْحُسَيْنُ يَسْعَيَانِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَمَّهُمَا إِلَيْهِ , وَقَالَ:" إِنَّ الْوَلَدَ مَبْخَلَةٌ مَجْبَنَةٌ".
یعلیٰ عامری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حسن اور حسین (رضی اللہ عنہما) دونوں دوڑتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو اپنے سینے سے چمٹا لیا، اور فرمایا: یقیناً اولاد بزدلی اور بخیلی کا سبب ہوتی ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3666]
حضرت یعلی (بن مرہ) عامری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما دوڑے دوڑے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سینے سے لگا لیا اور فرمایا: اولاد بخل اور بزدلی کا باعث ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3666]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 11853، ومصباح الزجاجة: 1274)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/172) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی آدمی اولاد کی محبت میں مال خرچ کرنے میں بخل کرتا ہے، اور اولاد کے لئے مال چھوڑ جانا چاہتا ہے، اور جہاد سے سستی کرتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں