سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ: النَّهْيِ عَنِ النُّهْبَةِ
باب: لوٹ مار سے ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3936
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ , أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ عُقَيْلٍ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ , وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ , وَلَا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ , وَلَا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهِ أَبْصَارَهُمْ , حِينَ يَنْتَهِبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب زانی زنا کرتا ہے تو اس وقت وہ مومن نہیں ہوتا، اور جب شرابی شراب پیتا ہے تو اس وقت وہ مومن نہیں ہوتا، اور جب چور چوری کرتا ہے تو وہ اس وقت مومن نہیں ہوتا، جب لوٹ مار کرنے والا لوگوں کی نظروں کے سامنے لوٹ مار کرتا ہے تو اس وقت وہ مومن نہیں ہوتا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3936]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب زانی زنا کر رہا ہوتا ہے تو وہ مومن نہیں ہوتا۔ جب شرابی شراب پی رہا ہوتا ہے تو وہ مومن نہیں ہوتا۔ جب چور چوری کر رہا ہوتا ہے تو وہ مومن نہیں ہوتا۔ جب ڈاکو ڈاکہ ڈال رہا ہوتا ہے، لوگ اس کی طرف نظریں اٹھا کر دیکھتے ہیں (کہ کتنا ظالم ہے، اسے اللہ کا خوف بالکل نہیں) تو وہ مومن نہیں ہوتا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3936]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المظالم 30 (2775)، الأشربة 1 (5578)، الحدود 1 (6772)، صحیح مسلم/الإیمان 24 (57)، (تحفة الأشراف: 14863)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/السنة 16 (4689)، سنن الترمذی/الإیمان 11 (2625)، سنن النسائی/قطع السارق 1 (4874)، الأشربة 42 (5662، 5663)، مسند احمد (2/243، 317، 376، 386، 389)، سنن الدارمی/الأضاحي 23 (2037)، الأشربة 11 (2152) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 3937
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ , حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ , حَدَّثَنَا الْحَسَنُ , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" مَنِ انْتَهَبَ نُهْبَةً فَلَيْسَ مِنَّا".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو لوٹ مار کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3937]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص لوٹ مار کرتا ہے، وہ ہم میں سے نہیں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3937]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الجہاد 70 (2581)، سنن الترمذی/النکاح 29 (1123)، سنن النسائی/النکاح 60 (3337)، (تحفة الأشراف: 10793)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/439، 441، 443، 445) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 3938
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ , عَنْ سِمَاكٍ , عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ الْحَكَمِ , قَالَ: أَصَبْنَا غَنَمًا لِلْعَدُوِّ , فَانْتَهَبْنَاهَا , فَنَصَبْنَا قُدُورَنَا , فَمَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقُدُورِ , فَأَمَرَ بِهَا فَأُكْفِئَتْ , ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ النُّهْبَةَ لَا تَحِلُّ".
ثعلبہ بن حکم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں دشمن کی کچھ بکریاں ملیں تو ہم نے انہیں لوٹ لیا، اور انہیں ذبح کر کے ہانڈیوں میں چڑھا دیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ان ہانڈیوں کے پاس ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ وہ الٹ دی جائیں، چنانچہ وہ ہانڈیاں الٹ دی گئیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوٹ مار حلال نہیں ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3938]
حضرت ثعلبہ بن حَکم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”دشمن کی کچھ بکریاں ہمارے ساتھ لگیں، وہ ہم نے لوٹ لیں اور ہانڈیاں چڑھا دیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہانڈیوں کے پاس سے گزرے تو انہیں اُلٹ دینے کا حکم دیا، چنانچہ وہ الٹا دی گئیں۔ پھر آپ نے فرمایا: ”لُوٹ حلال نہیں۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3938]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2071، ومصباح الزجاجة: 1379) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ حکم عام ہے ہر ایک لوٹ کو شامل ہے معلوم ہوا دین اسلام میں کوئی لوٹ جائز نہیں، اور تہذیب کے بھی خلاف ہے، لوٹ میں کبھی کسی مسلمان کو ایذا و تکلیف پہنچتی ہے اس لئے بانٹ دینا بہتر ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
4. بَابُ: سِ بَابُ: الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ وَقِتَالُهُ كُفْرٌ
باب: مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے لڑنا کفر ہے۔
حدیث نمبر: 3939
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , عَنْ شَقِيقٍ , عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ , وَقِتَالُهُ كُفْرٌ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کو گالی دینا فسق ہے، اور اس سے لڑنا کفر ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3939]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ وَقِتَالُهُ كُفْرٌ» ”مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے لڑنا کفر ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3939]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «(یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 69) (تحفة الأشراف: 9243، 9251، 9299) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 3940
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْأَسْدِيُّ , حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ , عَنْ ابْنِ سِيرِينَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ , وَقِتَالُهُ كُفْرٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کو گالی دینا فسق ہے، اور اس سے لڑنا کفر ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3940]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے لڑنا کفر ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3940]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14505، ومصباح الزجاجة: 1380) (حسن صحیح)» (سند میں ابوہلال الراسبی اور محمد بن الحسن ہیں، اس لئے یہ حسن ہے، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 3941
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ شَرِيكٍ , عَنْ أَبِي إِسْحَاق , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ سَعْدٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ , وَقِتَالُهُ كُفْرٌ".
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کو گالی دینا فسق، اور اس سے لڑنا کفر ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3941]
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے لڑائی کرنا کفر ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3941]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3923، ومصباح الزجاجة: 1381)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/178) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
5. بَابُ: لاَ تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ
باب: (فرمان نبوی) تم میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ ان کی طرح ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو۔
حدیث نمبر: 3942
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , وَعْبَدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ بْنَ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ يُحَدِّثُ , عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ:" اسْتَنْصِتِ النَّاسَ" , فَقَالَ:" لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ".
جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں فرمایا: ”لوگوں کو خاموش کرو“ پھر فرمایا: ”تم لوگ میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ تم میں سے بعض بعض کی گردن مارنے لگے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3942]
حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کو خاموش کراؤ۔“ (جب لوگ خاموش ہو گئے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے بعد دوبارہ کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کے گلے کاٹنے لگ جاؤ۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3942]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العلم 43 (121)، والمغازي 77 (4405)، الدیات 2 (6869)، الفتن 8 (7080)، صحیح مسلم/الإیمان 29 (65)، سنن النسائی/تحریم الدم 25 (4136)، (تحفة الأشراف: 3236)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/358، 363، 366)، سنن الدارمی/ المناسک 76 (1962) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 3943
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" وَيْحَكُمْ أَوْ وَيْلَكُمْ , لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم پر افسوس ہے! یا (تمہارے لیے خرابی ہو!) تم لوگ میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ ان کی طرح تم میں سے بعض بعض کی گردن مارنے لگے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3943]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا بھلا ہو! میرے بعد دوبارہ کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کے گلے کاٹنے لگو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3943]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المغازي 77 (4402، 4403)، الأدب 95 (6166)، الحدود 9 (6785)، الدیات 2 (6868)، الفتن 8 (7077)، صحیح مسلم/الإیمان 29 (66)، سنن ابی داود/السنة 16 (4686)، سنن النسائی/تحریم الدم 25 (4130)، (تحفة الأشراف: 7418)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/85، 87، 104) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 3944
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا أَبِي , وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل , عَنْ قَيْسٍ , عَنْ الصُّنَابِحِ الْأَحْمَسِيِّ , قَالَ: قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا إِنِّي فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ , وَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ , فَلَا تَقَتِّلُنَّ بَعْدِي".
صنابح احمسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو! میں حوض کوثر پر تمہارا پیش رو ہوں گا، اور تمہاری کثرت (تعداد) کی وجہ سے میں دوسری امتوں پر فخر کروں گا، تو تم میرے بعد آپس میں ایک دوسرے کو قتل مت کرنا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3944]
حضرت صُنابع بن اعسر احمسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو! دوسری امتوں کے مقابلے میں تمہاری کثرت پر فخر کروں گا، لہٰذا میرے (فوت ہونے کے) بعد آپس میں لڑائی نہ کرنا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3944]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4957، ومصباح الزجاجة: 1382)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/349) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
6. بَابُ: الْمُسْلِمُونَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
باب: مسلمان اللہ تعالیٰ کے حفظ و امان میں ہیں۔
حدیث نمبر: 3945
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ , حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ , عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَبِي عَوْنٍ , عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ حَابِسٍ الْيَمَانِيِّ , عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَلَّى الصُّبْحَ فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ , فَلَا تُخْفِرُوا اللَّهَ فِي عَهْدِهِ , فَمَنْ قَتَلَهُ , طَلَبَهُ اللَّهُ حَتَّى يَكُبَّهُ فِي النَّارِ عَلَى وَجْهِهِ".
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز فجر پڑھی وہ اللہ تعالیٰ کے حفظ و امان یعنی پناہ میں ہے، اب تمہیں چاہیئے کہ تم اللہ کے ذمہ و عہد کو نہ توڑو، پھر جو ایسے شخص کو قتل کرے گا، اللہ تعالیٰ اسے بلا کر جہنم میں اوندھا منہ ڈالے گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3945]
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے صبح کی نماز پڑھی، وہ اللہ کی حفاظت میں ہے، چنانچہ تم اللہ کے (حفظ و امان کے) وعدے کو مت توڑو۔ جو شخص اس (نمازی مسلمان) کو قتل کرے گا، اللہ تعالیٰ اسے (ایک مجرم کی طرح اپنے دربار میں) طلب فرمائے گا، پھر اسے جہنم میں منہ کے بل اوندھا کر کے پھینک دے گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3945]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6591)، ومصباح الزجاجة: 1383)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/10) (صحیح)» (سند میں سعد بن ابراہیم اور حابس کے درمیان انقطاع ہے، لیکن طبرانی نے صحیح سند سے روایت کی ہے، اس لئے یہ صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح