سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. بَابُ: الْقَوْلِ عِنْدَ دُخُولِ الْخَلاَءِ
باب: پاخانہ کی جگہ میں داخل ہونے کے وقت کون سی دعا پڑھے۔
حدیث نمبر: 19
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ، قَالَ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب پاخانہ کی جگہ میں داخل ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: «اللهم إني أعوذ بك من الخبث والخبائث» ”اے اللہ! میں ناپاک جنوں اور جنیوں (کے شر) سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔“ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 19]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلا میں داخل ہوتے، تو فرماتے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ» ”اے اللہ! میں شرارتی جنوں اور جننیوں سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔“ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 19]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء 9 (142)، الدعوات 15 (6322)، صحیح مسلم/حیض 32 (375)، سنن ابی داود/الطہارة 3 (4)، سنن الترمذی/فیہ 4 (5)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 9 (298)، (تحفة الأشراف: 997)، مسند احمد 3/101، 282، سنن الدارمی/الطہارة 10 (696) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
19. بَابُ: النَّهْىِ عَنِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ، عِنْدَ الْحَاجَةِ
باب: قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنے کی ممانعت۔
حدیث نمبر: 20
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ إِسْحَاقَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ وَهُوَ بِمِصْرَ، يَقُولُ: وَاللَّهِ مَا أَدْرِي كَيْفَ أَصْنَعُ بِهَذِهِ الْكَرَايِيسِ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا ذَهَبَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْغَائِطِ أَوِ الْبَوْلِ فَلَا يَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَلَا يَسْتَدْبِرْهَا".
رافع بن اسحاق سے روایت ہے کہ انہوں نے ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو مصر میں ان کے قیام کے دوران کہتے سنا: اللہ کی قسم! میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ان کھڈیوں کو کیا کروں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ”جب تم میں سے کوئی پاخانے یا پیشاب کے لیے جائے تو قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ نہ کرے۔“ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 20]
رافع بن اسحاق سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو شہر مصر میں یہ کہتے سنا: ”اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا کہ ان بیت الخلاؤں کو کیا کروں (جو کہ قبلے رخ بنے ہوئے ہیں) حالانکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”جب تم میں سے کوئی بول و براز کے لیے جائے، تو نہ قبلے کی طرف منہ کرے اور نہ پیٹھ۔“” [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 20]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، مسند احمد 5/414، 419، (تحفة الأشراف: 3458) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح وله شواهد كثيرة
20. بَابُ: النَّهْىِ عَنِ اسْتِدْبَارِ الْقِبْلَةِ، عِنْدَ الْحَاجَةِ
باب: قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف پیٹھ کرنے کی ممانعت۔
حدیث نمبر: 21
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا لِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ، وَلَكِنْ شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا".
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پاخانہ و پیشاب کے لیے قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ نہ کرو، بلکہ پورب یا پچھم کی طرف کرو۔“ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 21]
حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بول و براز کے وقت قبلے کی طرف منہ کرو نہ پیٹھ، بلکہ مشرق یا مغرب کی طرف کرو۔“ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 21]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 11 (144)، الصلاة 29 (394)، صحیح مسلم/الطھارة 17 (264)، سنن ابی داود/فیہ 4 (9)، سنن الترمذی/فیہ 6 (8)، سنن ابن ماجہ/فیہ 17 (318)، (تحفة الأشراف: 3478)، مسند احمد 5/416، 417، 421، سنن الدارمی/فیہ 6 (692) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ خطاب اہل مدینہ اور ان لوگوں کو ہے جو خانہ کعبہ سے اتر یا دکھن کی سمت میں رہتے ہیں، اس سے مقصود اس سمت کی جانب رہنمائی ہے جس میں قبلہ نہ آدمی کے آگے ہو نہ پیچھے، برصغیر ہند و پاک والوں کا قبلہ چونکہ پچھم میں ہے اس لیے یہاں اس حدیث کے مطابق اتر اور دکھن کی طرف منہ یا پیٹھ کی جائے گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
21. بَابُ: الأَمْرِ بِاسْتِقْبَالِ الْمَشْرِقِ أَوِ الْمَغْرِبِ عِنْدَ الْحَاجَةِ
باب: قضائے حاجت کے وقت پورب یا پچھم کی طرف منہ کرنے کا حکم۔
حدیث نمبر: 22
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا غُنْدَرٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَتَى أَحَدُكُمُ الْغَائِطَ، فَلَا يَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَلَكِنْ لِيُشَرِّقْ أَوْ لِيُغَرِّبْ".
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی قضائے حاجت کے لیے جائے تو قبلہ کی طرف رخ نہ کرے، بلکہ پورب یا پچھم کی طرف کرے۔“ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 22]
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی قضائے حاجت کرے تو قبلے کی طرف منہ نہ کرے بلکہ مشرق یا مغرب کی طرف منہ کرے۔“ (بشرطیکہ قبلہ مشرق یا مغرب کی طرف نہ ہو)۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 22]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
22. بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ فِي الْبُيُوتِ
باب: قضائے حاجت کے وقت گھروں میں قبلہ کی جانب منہ یا پیٹھ کرنے کی رخصت۔
حدیث نمبر: 23
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: لَقَدِ ارْتَقَيْتُ عَلَى ظَهْرِ بَيْتِنَا، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى لَبِنَتَيْنِ" مُسْتَقْبِلَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ لِحَاجَتِهِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں اپنے گھر کی چھت پر چڑھا، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو کچی اینٹوں پر قضائے حاجت کے لیے بیت المقدس کی طرف منہ کئے ہوئے بیٹھے دیکھا ۱؎۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 23]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں اپنے گھر کی چھت پر چڑھا تو میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دو کچی اینٹوں پر بیت المقدس کی طرف منہ کیے ہوئے قضائے حاجت کرتے دیکھا۔“ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 23]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 12 (145)، 14 (148، 149)، الخمس 4 (3102)، صحیح مسلم/الطہارة 17 (266)، سنن ابی داود/فیہ 5 (12)، سنن الترمذی/فیہ 7 (11)، سنن ابن ماجہ/فیہ 18 (322)، (تحفة الأشراف: 8552)، موطا امام مالک/القبلة 2 (3)، مسند احمد 2/12، 13، 41، سنن الدارمی/طہارة 8 (694) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مدینہ منورہ میں بیت المقدس کی طرف رخ کرنے والے کی پیٹھ مکہ مکرمہ کی طرف ہو گی، چونکہ بیت الخلاء گھر میں تھا اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا، کھلے میدان میں یہ جائز نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
23. بَابُ: النَّهْىِ عَنْ مَسِّ الذَّكَرِ، بِالْيَمِينِ عِنْدَ الْحَاجَةِ
باب: قضائے حاجت کے وقت داہنے ہاتھ سے ذکر (عضو تناسل) چھونے کی ممانعت۔
حدیث نمبر: 24
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْمَاعِيلَ وَهُوَ الْقَنَّادُ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَتَادَةَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا بَالَ أَحَدُكُمْ، فَلَا يَأْخُذْ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی پیشاب کرے تو داہنے ہاتھ سے اپنا ذکر (عضو تناسل) نہ پکڑے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 24]
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی پیشاب کرے تو اپنے عضو تناسل (شرم گاہ) کو دائیں ہاتھ سے نہ پکڑے۔“ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 24]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 18 (153)، 19 (154)، الأشربة 25 (5630) مطولاً، صحیح مسلم/الطہارة 18 (267)، سنن ابی داود/فیہ 18 (31)، سنن الترمذی/فیہ 11 (15)، سنن ابن ماجہ/فیہ 15 (310)، (تحفة الأشراف: 12105)، مسند احمد 4/384، 5/295، 296، 300، 309، 310، 311، سنن الدارمی/الطہارة 13 (700) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ ناپسندیدہ کاموں کے لیے بایاں ہاتھ استعمال کیا جائے تاکہ داہنے ہاتھ کا احترام و وقار قائم رہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 25
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ يَحْيَى هُوَ ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْخَلَاءَ فَلَا يَمَسَّ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی پاخانہ کی جگہ میں داخل ہو تو اپنے داہنے ہاتھ سے اپنا ذکر نہ چھوئے۔“ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 25]
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی بیت الخلا میں داخل ہو تو اپنے عضو تناسل کو دایاں ہاتھ نہ لگائے۔“ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 25]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
24. بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي الْبَوْلِ فِي الصَّحْرَاءِ قَائِمًا
باب: صحرا (میدان) میں کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کی رخصت۔
حدیث نمبر: 26
أَخْبَرَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، قال: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَتَى سُبَاطَةَ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا".
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے کوڑا خانہ پر آئے تو کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 26]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قوم کے کوڑے کرکٹ کے ڈھیر پر آئے اور وہاں کھڑے کھڑے پیشاب کیا۔“ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 26]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 18 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 27
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: أَنْبَأَنَا مُحَمَّدٌ، قال: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، قال: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، أَنَّ حُذَيْفَةَ، قال: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَتَى سُبَاطَةَ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا".
حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے کوڑا خانہ پر آئے تو کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 27]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایک قوم کے کوڑے کرکٹ کے ڈھیر پر آئے اور وہاں کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔“ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 27]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 18 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 28
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، قال: أَنْبَأَنَا بَهْزٌ، قال: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، وَمَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" مَشَى إِلَى سُبَاطَةِ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا". قَالَ سُلَيْمَانُ فِي حَدِيثِهِ:" وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ" وَلَمْ يَذْكُرْ مَنْصُورٌ الْمَسْحَ.
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے ایک کوڑا خانہ پر چل کر آئے تو آپ نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 28]
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک قوم کے کوڑے کرکٹ کے ڈھیر کی طرف چلے، پھر کھڑے کھڑے پیشاب کیا۔ راویٔ حدیث سلیمان نے اپنی روایت میں کہا: ”اور آپ نے اپنے موزوں پر مسح کیا۔“ جبکہ (ان کے ساتھی) منصور نے مسح کا ذکر نہیں کیا۔ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 28]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 18 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه