🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
66. بَابُ: صِفَةِ الْوُضُوءِ - غَسْلُ الْكَفَّيْنِ
باب: دونوں ہتھیلی دھونے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 82
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَصْرِيُّ، عَنْ بِشْرِ بْنِ الْمُفَضَّلِ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ الْمُغِيرَةِ، وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ رَجُلٍ، حَتَّى رَدَّهُ إِلَى الْمُغِيرَةِ، قال ابْنُ عَوْنٍ: وَلَا أَحْفَظُ حَدِيثَ ذَا مِنْ حَدِيثِ ذَا، أَنَّ الْمُغِيرَةَ، قال: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَقَرَعَ ظَهْرِي بِعَصًا كَانَتْ مَعَهُ فَعَدَلَ وَعَدَلْتُ مَعَهُ حَتَّى أَتَى كَذَا وَكَذَا مِنَ الْأَرْضِ فَأَنَاخَ ثُمَّ انْطَلَقَ، قَالَ: فَذَهَبَ حَتَّى تَوَارَى عَنِّي، ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ:" أَمَعَكَ مَاءٌ؟ وَمَعِي سَطِيحَةٌ لِي، فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَأَفْرَغْتُ عَلَيْهِ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَوَجْهَهُ وَذَهَبَ لِيَغْسِلَ ذِرَاعَيْهِ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ شَامِيَّةٌ ضَيِّقَةُ الْكُمَّيْنِ فَأَخْرَجَ يَدَهُ مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ وَذَكَرَ مِنْ نَاصِيَتِهِ شَيْئًا وَعِمَامَتِهِ شَيْئًا، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: لَا أَحْفَظُ كَمَا أُرِيدُ، ثُمَّ مَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، ثُمَّ قَالَ: حَاجَتَكَ؟ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَيْسَتْ لِي حَاجَةٌ، فَجِئْنَا وَقَدْ أَمَّ النَّاسَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَقَدْ صَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ، فَذَهَبْتُ لِأُوذِنَهُ فَنَهَانِي، فَصَلَّيْنَا مَا أَدْرَكْنَا وَقَضَيْنَا مَا سُبِقْنَا".
مغیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ آپ نے میری پیٹھ پر ایک چھڑی لگائی ۱؎ اور آپ مڑے تو میں بھی آپ کے ساتھ مڑ گیا، یہاں تک کہ آپ ایک ایسی جگہ پر آئے جو ایسی ایسی تھی، اور اونٹ کو بٹھایا پھر آپ چلے، مغیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو آپ چلتے رہے یہاں تک کہ میری نگاہوں سے اوجھل ہو گئے، پھر آپ (واپس) آئے، اور پوچھا: کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ میرے پاس میری ایک چھاگل تھی، اسے لے کر میں آپ کے پاس آیا، اور آپ پر انڈیلا، تو آپ نے اپنے دونوں ہتھیلیوں کو دھویا، چہرہ دھویا، اور دونوں بازو دھونے چلے، تو آپ ایک تنگ آستین کا شامی جبہ پہنے ہوئے ہوئے تھے (آستین چڑھ نہ سکی) تو اپنا ہاتھ جبہ کے نیچے سے نکالا، اور اپنا چہرہ اور اپنے دونوں بازو دھوئے - مغیرہ رضی اللہ عنہ نے آپ کی پیشانی کے کچھ حصے اور عمامہ کے کچھ حصے کا ذکر کیا، ابن عون کہتے ہیں: میں جس طرح چاہتا تھا اس طرح مجھے یاد نہیں ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں موزوں پر مسح کیا، پھر فرمایا: اب تو اپنی ضرورت پوری کر لے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے حاجت نہیں، تو ہم آئے دیکھا کہ عبدالرحمٰن بن عوف لوگوں کی امامت کر رہے تھے، اور وہ نماز فجر کی ایک رکعت پڑھا چکے تھے، تو میں بڑھا کہ انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی خبر دے دوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے منع فرما دیا، چنانچہ ہم نے جو نماز پائی اسے پڑھ لیا، اور جو حصہ فوت ہو گیا تھا اسے (بعد میں) پورا کیا۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 82]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ آپ نے (متوجہ کرنے کے لیے) اپنی چھڑی میری پشت سے لگائی، پھر آپ ایک طرف کو چلے۔ میں بھی آپ کے ساتھ چلا حتیٰ کہ آپ ایک (مناسب) جگہ پہنچے۔ آپ نے اپنا اونٹ بٹھایا اور پیدل چل دیے حتیٰ کہ مجھ سے اوجھل ہوگئے۔ پھر واپس تشریف لائے اور فرمایا: تیرے پاس پانی ہے؟ میرے پاس میرا مشکیزہ تھا۔ میں وہ آپ کے پاس لے آیا اور میں نے پانی ڈالنا شروع کیا۔ آپ نے اپنے ہاتھ اور چہرہ دھویا۔ بازو دھونے لگے تو آپ پر تنگ آستینوں والا شامی جبہ تھا۔ آپ نے اپنا ہاتھ جبے کے نیچے سے نکالا۔ اس طرح اپنا چہرہ اور بازو دھوئے اور اپنے کچھ سر (پیشانی) اور باقی پگڑی پر مسح کیا۔ ابن عون نے کہا: جس طرح میں چاہتا ہوں مجھے اس طرح یاد نہیں ہے۔ پھر آپ نے اپنے موزوں پر مسح کیا۔ پھر آپ نے فرمایا: تو بھی قضائے حاجت کرلے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے حاجت نہیں ہے۔ پھر ہم (قافلے کے پاس) آئے تو حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ لوگوں کے آگے کھڑے امامت کرا رہے تھے اور صبح کی ایک رکعت پڑھا چکے تھے۔ میں نے انھیں اطلاع دینا چاہی، مگر آپ نے مجھے روک دیا۔ جو نماز ہم نے (جماعت کے ساتھ) پائی پڑھ لی اور جو گزر چکی تھی، اسے (بعد میں) ادا کرلیا۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 82]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 79 (تحفة الأشراف: 11514) (صحیح) (بخاری کی روایت میں ’’ناصیہ‘‘ اور ’’عمامہ‘‘ کا ذکر نہیں ہے)»
وضاحت: ۱؎: یہاں مار سے تیز مار مراد نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ پیٹھ میں چھڑی کونچی یہ بتانے کے لیے کہ ادھر مڑنا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح ق لكن ليس عند خ ذكر الناصية والعمامة
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
67. بَابُ: كَمْ تُغْسَلاَنِ
باب: دونوں ہتھیلیاں کتنی بار دھوئی جائیں؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 83
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ سُفْيَانَ وَهُوَ ابْنُ حَبِيبٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ أَوْسِ بْنِ أَبِي أَوْسٍ، عَنْ جَدِّهِ، قال: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" اسْتَوْكَفَ ثَلَاثًا".
ابواوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے (اپنی ہتھیلیوں پر) تین بار پانی ٹپکایا۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 83]
حضرت ابواوس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ نے (اپنی ہتھیلیوں پر) تین دفعہ پانی بہایا۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 83]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 1740)، مسند احمد 4/9، 10، سنن الدارمی/الطہارة 26 (719) (صحیح الاسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
68. بَابُ: الْمَضْمَضَةِ وَالاِسْتِنْشَاقِ
باب: کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 84
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَبَانَ، قال: رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَوَضَّأَ فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ ثَلَاثًا فَغَسَلَهُمَا ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ الْيُمْنَى إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلَاثًا ثُمَّ الْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ ثُمَّ غَسَلَ قَدَمَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا ثُمَّ الْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ. ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي. ثُمَّ قَالَ:" مَنْ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَا يُحَدِّثُ نَفْسَهُ فِيهِمَا بِشَيْءٍ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
حمران بن ابان کہتے ہیں کہ میں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو دیکھا آپ نے وضو کیا تو اپنے دونوں ہاتھوں پر تین دفعہ پانی انڈیلا، انہیں دھویا، پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، پھر تین مرتبہ اپنا چہرہ دھویا، پھر کہنی تک اپنا دایاں ہاتھ دھویا، پھر اسی طرح بایاں ہاتھ دھویا، پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنا دایاں پیر تین بار دھویا، پھر اسی طرح بایاں پیر دھویا، پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا، اور فرمایا: جو میرے اس وضو کی طرح وضو کرے اور دو رکعت نماز پڑھے، اور دل میں کوئی اور خیال نہ لائے تو اس کے گزشتہ گناہ بخش دیئے جائیں گے ۱؎۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 84]
حمران بن ابان رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو دیکھا، آپ نے وضو کیا اور اپنے ہاتھوں پر تین دفعہ پانی ڈالا اور انہیں دھویا، پھر آپ نے کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا، پھر اپنا چہرہ تین مرتبہ دھویا، پھر اپنا دایاں بازو کہنی تک تین دفعہ دھویا، پھر بایاں بازو بھی اسی طرح دھویا، پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنا دایاں پاؤں تین دفعہ دھویا اور پھر بایاں پاؤں بھی اسی طرح دھویا، پھر کہنے لگے: میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے وضو کی طرح وضو کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص میرے اس وضو کی طرح وضو کرے، پھر دو رکعتیں اس طرح ادا کرے کہ اپنے دل میں کوئی بات نہ کرے، اس کے گزشتہ سب گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 84]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 24 (159)، 28 (164)، الصوم 47 (1934)، صحیح مسلم/الطہارة3/226، سنن ابی داود/الطہارة 50 (106)، (تحفة الأشراف: 9794)، مسند احمد 1/59، 60، سنن الدارمی/الطہارة 27 (720)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 85، 116 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ایسا خیال جو دنیاوی امور سے متعلق ہو اور نماز سے اس کا کوئی تعلق نہ ہو، اور اگر خود سے کوئی خیال آ جائے اور اسے وہ ذہن سے جھٹک دے تو یہ معاف ہو گا، ایسے شخص کو ان شاءاللہ یہ فضیلت حاصل ہو گی کیونکہ یہ اس کا فعل نہیں۔ گزشتہ گناہ بخش دیئے جائیں گے: اس سے مراد وہ صغائر ہیں جن کا تعلق حقوق العباد سے نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
69. بَابُ: بِأَىِّ الْيَدَيْنِ يَتَمَضْمَضُ
باب: کس ہاتھ سے کلی کرے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 85
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، قال: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ هُوَ ابْنُ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ، عَنْ شُعَيْبٍ هُوَ ابْنُ أبِي حَمْزَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ حُمْرَانَ، أَنَّهُ رَأَى عُثْمَانَ دَعَا بِوَضُوءٍ، فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ مِنْ إِنَائِهِ فَغَسَلَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ أَدْخَلَ يَمِينَهُ فِي الْوَضُوءِ فَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ ثُمَّ غَسَلَ كُلَّ رِجْلٍ مِنْ رِجْلَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ وُضُوئِي هَذَا، ثُمَّ قَالَ:" مَنْ تَوَضَّأَ مِثْلَ وُضُوئِي هَذَا ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَا يُحَدِّثُ فِيهِمَا نَفْسَهُ بِشَيْءٍ، غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".
حمران سے روایت ہے کہ انہوں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے وضو کا پانی منگوایا، اور اسے برتن سے اپنے دونوں ہاتھ پر انڈیلا، پھر انہیں تین بار دھویا، پھر اپنا داہنا ہاتھ پانی میں ڈالا ۱؎ اور کلی کی، اور ناک صاف کی، پھر تین بار اپنا چہرہ دھویا اور کہنیوں تک تین بار ہاتھ دھوئے، پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنے دونوں پیروں میں سے ہر پیر کو تین تین بار دھویا، پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا، اور فرمایا: جو میرے اس وضو کی طرح وضو کرے، پھر کھڑے ہو کر دو رکعت نماز پڑھے، دل میں کوئی اور خیال نہ لائے تو اس کے گزشتہ گناہ بخش دئیے جائیں گے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 85]
حمران سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو دیکھا، آپ نے پانی منگوایا اور برتن سے اپنے دونوں ہاتھوں پر پانی ڈالا اور انہیں تین دفعہ دھویا۔ پھر اپنا دایاں ہاتھ پانی میں داخل کیا اور کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا۔ پھر اپنا چہرہ تین دفعہ دھویا اور اپنے دونوں بازوؤں کو کہنیوں تک تین مرتبہ دھویا۔ پھر اپنے سر کا مسح کیا۔ پھر دونوں پاؤں تین تین دفعہ دھوئے۔ پھر انہوں نے کہا: میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ نے میرے اس وضو جیسا وضو کیا اور فرمایا: جو شخص میرے اس وضو جیسا وضو کرے، پھر کھڑا ہو کر دو رکعت نماز پڑھے اور اس کی ادائیگی میں اپنے دل میں کوئی بات نہ کرے، اس کے گزشتہ تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 85]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 9794) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کے لیے داہنے ہاتھ سے پانی لے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
70. بَابُ: اتِّخَاذِ الاِسْتِنْشَاقِ
باب: ناک میں پانی سڑکنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 86
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، ح وحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى، عَنْ مَعْنٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَلْيَجْعَلْ فِي أَنْفِهِ مَاءً ثُمَّ لِيَسْتَنْثِرْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی وضو کرے تو اپنے ناک میں پانی سڑکے (ناک میں پانی ڈالے)، پھر اسے جھاڑے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 86]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص وضو کرے، تو اسے چاہیے کہ اپنی ناک میں پانی ڈالے اور پھر (اسے) اچھی طرح صاف کرے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 86]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «حدیث سفیان عن أبی الزناد أخرجہ: صحیح مسلم/الطہارة 8 (237)، (تحفة الأشراف: 13689)، صحیح البخاری/الوضوء 26 (162)، صحیح مسلم/الطہارة 8 (237)، سنن ابی داود/الطہارة 55 (140)، موطا امام مالک/فیہ 1 (2)، (تحفة الأشراف: 13820)، مسند احمد 2/242، 463، وحدیث مالک عن أبی الزناد أخرجہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
71. بَابُ: الْمُبَالَغَةِ فِي الاِسْتِنْشَاقِ
باب: ناک میں پانی سڑکنے میں مبالغہ کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 87
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ كَثِيرٍ، ح وَأَنْبَأَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قال: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي عَنِ الْوُضُوءِ. قَالَ:" أَسْبِغْ الْوُضُوءَ وَبَالِغْ فِي الِاسْتِنْشَاقِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا".
لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے وضو کے متعلق بتائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پوری طرح وضو کرو، اور ناک میں پانی سڑکنے (ڈالنے) میں مبالغہ کرو، اِلّا یہ کہ تم روزے سے ہو۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 87]
حضرت لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے وضو کے (صحیح طریقے) کے بارے میں بتائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اعضائے وضو کو مکمل (اچھی طرح) دھو اور ناک میں پانی ڈالنے میں مبالغہ کر، سوائے اس کے کہ تو روزے سے ہو۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 87]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 55 (142، 143، 144)، الصوم 27 (2366)، سنن الترمذی/الصوم 69 (788)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 44 (407)، 54 (448)، (وعندہ ’’وخلل بین الأصابع‘‘ بدل ’’وبالغ في الاستنشاق‘‘)، (تحفة الأشراف: 11172)، وھکذا عند المؤلف في باب 92 (114)، مسند احمد 4/32، 33، 211، سنن الدارمی/الطہارة 34 (732) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
72. بَابُ: الأَمْرِ بِالاِسْتِنْثَارِ
باب: ناک جھاڑنے کا حکم۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 88
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ تَوَضَّأَ فَلْيَسْتَنْثِرْ، وَمَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو وضو کرے تو اسے چاہیئے کہ ناک جھاڑے، اور جو استنجاء میں پتھر استعمال کرے تو اسے چاہیئے کہ طاق استعمال کرے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 88]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص وضو کرے، اسے چاہیے کہ وہ ناک جھاڑے۔ اور جو شخص (استنجے کے لیے) ڈھیلے استعمال کرے، اسے چاہیے کہ وہ طاق استعمال کرے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 88]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 25 (161)، صحیح مسلم/الطہارة 8 (237)، سنن ابن ماجہ/فیہ 44 (409)، (تحفة الأشراف: 13547)، موطا امام مالک/فیہ1 (3)، مسند احمد 2/236، 277، 308، 401، 518، سنن الدارمی/الطہارة 32 (730) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 89
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ قَيْسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا تَوَضَّأْتَ فَاسْتَنْثِرْ، وَإِذَا اسْتَجْمَرْتَ فَأَوْتِرْ".
سلمہ بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب وضو کرو تو ناک جھاڑو، اور جب ڈھیلے سے استنجاء کرو تو طاق ڈھیلا استعمال کرو۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 89]
حضرت سلمہ بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تو وضو کرے تو ناک جھاڑ اور جب تو (قضائے حاجت کے بعد) ڈھیلے استعمال کرے تو طاق استعمال کر۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 89]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطہارة 21 (27)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 44 (406)، (تحفة الأشراف: 4556)، مسند احمد 4/313، 339، 340 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
73. بَابُ: الأَمْرِ بِالاِسْتِنْثَارِ عِنْدَ الاِسْتِيقَاظِ مِنَ النَّوْمِ
باب: نیند سے اٹھنے پر ناک جھاڑنے کا حکم۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 90
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زُنْبُورٍ الْمَكِّيُّ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَهُ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَنَامِهِ فَتَوَضَّأَ، فَلْيَسْتَنْثِرْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَبِيتُ عَلَى خَيْشُومِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نیند سے جاگ کر وضو کرے تو (پانی لے کر) تین مرتبہ ناک جھاڑے، کیونکہ شیطان اس کے پانسے میں رات گزارتا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 90]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نیند سے جاگے اور وضو کرے تو وہ تین بار ناک کو جھاڑے، کیونکہ شیطان اس کی ناک کی جڑ میں رات گزارتا ہے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 90]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/بدء الخلق 11 (3295)، صحیح مسلم/الطہارة 8 (238)، (تحفة الأشراف: 14284)، مسند احمد 2/352 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اسے حقیقت پر محمول کرنا ہی راجح اور اولیٰ ہے، اس لیے کہ یہ جسم کے منافذ میں سے ایک ہے جس سے شیطان دل تک پہنچتا ہے، استنثار سے مقصود اس کے اثرات کا ازالہ ہے، کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہاں مجازی معنی مقصود ہے، وہ یہ کہ غبار اور رطوبت (جو ناک میں جمع ہو کر گندگی کا سبب بنتے ہیں) کو شیطان سے تعبیر کیا گیا ہے، کیونکہ پانسے گندگی جمع ہونے کی جگہ ہیں جو شیطان کے رات گزارنے کے لیے زیادہ مناسب ہیں، لہٰذا انسان کے لیے یہ مناسب ہے کہ اسے صاف کر لے تاکہ اس کے اثرات زائل ہو جائیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
74. بَابُ: بِأَىِّ الْيَدَيْنِ يَسْتَنْثِرُ
باب: کس ہاتھ سے ناک سے پانی جھاڑے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 91
أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّهُ" دَعَا بِوَضُوءٍ فَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَنَثَرَ بِيَدِهِ الْيُسْرَى، فَفَعَلَ هَذَا ثَلَاثًا. ثُمَّ قَالَ: هَذَا طُهُورُ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے وضو کا پانی منگوایا، کلی کی اور ناک میں پانی ڈال کر اسے اپنے بائیں ہاتھ سے تین بار جھاڑا، پھر کہنے لگے: یہ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو ہے۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 91]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ انہوں نے وضو کا پانی منگوایا، پھر اس سے کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا اور اپنے بائیں ہاتھ سے جھاڑا۔ یہ کام تین دفعہ کیا، پھر فرمایا: یہ ہے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 91]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 50 (111، 112، 113)، (تحفة الأشراف: 10203)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطہارة 37 (48)، مسند احمد 1/ 110، 122، 123، 135، 139، 154، سنن الدارمی/الطہارة 31 (728)، وعبداللہ بن أحمد 1/ 113، 114، 115، 116، 123، 124، 125، 127، 141، (نیز یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو: 92، 93، 94) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں