🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. بَابُ: سُؤْرِ الْكَلْبِ
باب: کتے کے جھوٹے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 336
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ وَأَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ، فَلْيُرِقْهُ ثُمَّ لِيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ ڈال دے تو (جو اس میں ہے) اسے بہا دے، پھر اسے سات مرتبہ دھو ڈالے۔ [سنن نسائي/كتاب المياه/حدیث: 336]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ ڈال کر پیے تو اسے چاہیے کہ مشروب کو گرا دے اور برتن کو سات دفعہ دھوئے۔ [سنن نسائي/كتاب المياه/حدیث: 336]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 66 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. بَابُ: تَعْفِيرِ الإِنَاءِ بِالتُّرَابِ مِنْ وُلُوغِ الْكَلْبِ فِيهِ
باب: کتا کے منہ ڈالنے سے برتن کو مٹی سے مانجھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 337
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، قال: سَمِعْتُ مُطَرِّفًا، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، وَرَخَّصَ فِي كَلْبِ الصَّيْدِ وَالْغَنَمِ". وَقَالَ:" إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي الْإِنَاءِ، فَاغْسِلُوهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ وَعَفِّرُوهُ الثَّامِنَةَ بِالتُّرَابِ".
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا، اور شکاری کتوں کی نیز بکریوں کی رکھوالی کرنے والے کتوں کی اجازت دی، اور فرمایا: جب کتا برتن میں منہ ڈال دے تو اسے سات مرتبہ دھو لو، اور آٹھویں دفعہ مٹی سے مانجھو۔ [سنن نسائي/كتاب المياه/حدیث: 337]
حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا اور شکار اور بکریوں کی حفاظت کے لیے کتا رکھنے کی اجازت دی اور فرمایا: جب کتا برتن میں منہ ڈال دے تو اسے سات دفعہ دھوؤ اور آٹھویں دفعہ اسے مٹی سے مانجو۔ [سنن نسائي/كتاب المياه/حدیث: 337]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 67 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 338
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، قال: حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ يَزِيدَ بْنِ حُمَيْدٍ، قال: سَمِعْتُ مُطَرِّفًا يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قال:" أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، قَالَ: مَا بَالُهُمْ وَبَالُ الْكِلَابِ؟ قَالَ: وَرَخَّصَ فِي كَلْبِ الصَّيْدِ وَكَلْبِ الْغَنَمِ". وَقَالَ:" إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي الْإِنَاءِ، فَاغْسِلُوهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ وَعَفِّرُوا الثَّامِنَةَ بِالتُّرَابِ". خَالَفَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ، فَقَالَ: إِحْدَاهُنَّ بِالتُّرَابِ.
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کو کتوں سے کیا سروکار؟ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شکاری کتوں اور بکریوں کی رکھوالی کرنے والے کتوں کی اجازت دی، اور فرمایا: جب کتا برتن میں منہ ڈال دے تو اسے سات دفعہ دھو لو، آٹھویں دفعہ مٹی سے مانجھو، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن مغفل کی مخالفت کی ہے اور (اپنی روایت میں) یوں کہا ہے: ان میں سے ایک بار مٹی سے مانجھو ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب المياه/حدیث: 338]
حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کے قتل کرنے کا حکم دیا، فرمایا: لوگوں کا کتوں سے کیا تعلق؟ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شکار اور بکریوں کی حفاظت کے لیے کتا رکھنے کی اجازت دی اور فرمایا: جب کتا برتن میں منہ ڈال دے تو اس (برتن) کو سات دفعہ دھوؤ اور آٹھویں بار مٹی سے مانجو۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کی مخالفت کی اور کہا: ایک دفعہ مٹی کے ساتھ (دھوو)۔ [سنن نسائي/كتاب المياه/حدیث: 338]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 67 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے پہلے ایک روایت میں «عفروه الثامنة» اور دوسری روایت میں «إحداهن بالتراب» کے الفاظ آئے ہیں، ان تینوں روایتوں میں بظاہر تعارض ہے، ان میں تطبیق اس طرح دی جاتی ہے کہ «إحداهن» والی مبہم روایت «أولاهن» والی معین روایت پر محمول کی جائے گی، اب سات اور آٹھ کی عدد میں جو اختلاف باقی رہ گیا ہے تو سات کو وجوب، اور آٹھ کو ندب اور احتیاط پر محمول کیا جائے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 339
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلَاسٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ، فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ أُولَاهُنَّ بِالتُّرَابِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ ڈال دے تو وہ اسے سات مرتبہ دھوئے ان میں سے پہلی مرتبہ مٹی سے (مانجھے)۔ [سنن نسائي/كتاب المياه/حدیث: 339]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کتا کسی کے برتن میں چاٹ جائے تو وہ اسے سات دفعہ دھوئے۔ ان میں سے پہلی دفعہ مٹی کے ساتھ (دھوئے)۔ [سنن نسائي/كتاب المياه/حدیث: 339]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف 14664) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 340
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ، فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ أُولَاهُنَّ بِالتُّرَابِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ ڈال دے تو اسے سات مرتبہ دھوئے، ان میں سے پہلی مرتبہ مٹی سے (مانجھے)۔ [سنن نسائي/كتاب المياه/حدیث: 340]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کتا کسی کے برتن سے پی جائے تو وہ اسے سات دفعہ دھوئے، ان میں سے پہلی دفعہ مٹی کے ساتھ (دھوئے)۔ [سنن نسائي/كتاب المياه/حدیث: 340]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطہارة 37 (73) بنحوہ وفیہ السابقة بالتراب، (تحفة الأشراف 14495) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. بَابُ: سُؤْرِ الْهِرَّةِ
باب: بلی کے جھوٹے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 341
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ حُمَيْدَةَ بِنْتِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ كَبْشَةَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ دَخَلَ عَلَيْهَا، ثُمَّ ذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا، فَسَكَبْتُ لَهُ وَضُوءًا، فَجَاءَتْ هِرَّةٌ فَشَرِبَتْ مِنْهُ فَأَصْغَى لَهَا الْإِنَاءَ حَتَّى شَرِبَتْ، قالت كَبْشَةُ: فَرَآنِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: أَتَعْجَبِينَ يَا ابْنَةَ أَخِي؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قال: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ، إِنَّمَا هِيَ مِنَ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ وَالطَّوَّافَاتِ".
کبشہ بنت کعب سے روایت ہے کہ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے (پھر راوی نے ایک کلمے کا ذکر کیا جس کا مفہوم ہے) کہ میں نے ان کے لیے وضو کا پانی (لوٹے میں) ڈالا، اتنے میں ایک بلی آئی، اور اس سے پینے لگی، تو انہوں نے اس کے لیے برتن جھکا دیا یہاں تک کہ اس نے پی لیا، کبشہ کہتی ہیں: تو انہوں نے مجھے دیکھا کہ میں انہیں (تعجب سے) دیکھ رہی ہوں، تو کہنے لگے: بھتیجی! کیا تم تعجب کر رہی ہو؟ میں نے کہا: ہاں! تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: یہ ناپاک نہیں ہے، یہ تو تمہارے پاس بکثرت آنے جانے والوں اور آنے جانے والیوں میں سے ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المياه/حدیث: 341]
حضرت کبشہ بنت کعب بن مالک رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے، میں نے ان کے لیے وضو کا پانی ڈالا، اتنے میں ایک بلی آئی اور اس سے پینے لگی، انہوں نے اس کے لیے برتن جھکا دیا (تاکہ وہ اچھی طرح پی سکے۔) حضرت کبشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: چنانچہ انہوں نے مجھے دیکھا کہ میں (تعجب سے) دیکھ رہی ہوں تو وہ کہنے لگے: اے بھتیجی! کیا تعجب کرتی ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں! وہ کہنے لگے: تحقیق اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: «إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ، إِنَّهَا مِنَ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ وَالطَّوَّافَاتِ» بلاشبہ یہ (بلی) پلید نہیں ہے۔ یہ تو تم پر آنے جانے والے (نوکروں اور نوکرانیوں) کی طرح ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المياه/حدیث: 341]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 68 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. بَابُ: سُؤْرِ الْحَائِضِ
باب: حائضہ کے جھوٹے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 342
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت:" كُنْتُ أَتَعَرَّقُ الْعَرْقَ، فَيَضَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاهُ حَيْثُ وَضَعْتُهُ وَأَنَا حَائِضٌ، وَكُنْتُ أَشْرَبُ مِنَ الْإِنَاءِ فَيَضَعُ فَاهُ حَيْثُ وَضَعْتُ وَأَنَا حَائِضٌ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اپنے دانتوں سے ہڈی سے گوشت نوچتی تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا منہ مبارک وہیں رکھتے جہاں میں نے رکھا ہوتا، اور میں حائضہ ہوتی تھی، اور میں برتن سے پانی پیتی تھی تو آپ اپنا منہ مبارک اسی جگہ رکھتے جہاں میں رکھا ہوتا، اور میں حائضہ ہوتی۔ [سنن نسائي/كتاب المياه/حدیث: 342]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: بسا اوقات میں ایک ہڈی سے گوشت نوچتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا دہن مبارک وہیں رکھتے جہاں میں نے رکھا تھا، حالانکہ میں حیض کی حالت میں ہوتی تھی۔ اسی طرح میں برتن سے پانی پیتی تو آپ اپنا منہ مبارک وہیں رکھتے جہاں میں نے اپنا منہ رکھا تھا، حالانکہ میں حیض کی حالت میں ہوتی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب المياه/حدیث: 342]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 70 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي فَضْلِ الْمَرْأَةِ
باب: عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی کے استعمال کی رخصت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 343
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قال: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قال:" كَانَ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ يَتَوَضَّئُونَ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمِيعًا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مرد اور عورتیں دونوں ایک ساتھ وضو کرتے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب المياه/حدیث: 343]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں (نزول حجاب سے قبل یا محرم) مرد اور عورتیں اکٹھے وضو کرلیا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب المياه/حدیث: 343]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 71 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ظاہر ہے دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے سے پہلے فارغ ہوتا، اور پانی دوسرے کے لیے بچ جاتا تو اگر یہ جائز نہ ہوتا تو وہ ایسا نہ کرتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. بَابُ: النَّهْىِ عَنْ فَضْلِ، وَضُوءِ الْمَرْأَةِ،
باب: عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی کے استعمال کی ممانعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 344
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، قال: سَمِعْتُ أَبَا حَاجِبٍ، قال أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: وَاسْمُهُ سَوَادَةُ بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ يَتَوَضَّأَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ وُضُوءِ الْمَرْأَةِ".
حکم بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد کو عورت کے وضو کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب المياه/حدیث: 344]
حضرت حکم بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ مرد، عورت کے وضو (یا غسل) سے بچے ہوئے پانی کے ساتھ وضو کرے۔ [سنن نسائي/كتاب المياه/حدیث: 344]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطھارة 40 (82)، سنن الترمذی/فیہ 47 (64)، سنن ابن ماجہ/فیہ 34 (373)، (تحفة الأشراف 3421)، مسند احمد 4/213 و 5/66 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ نہی تحریمی نہیں تنزیہی ہے، (دیکھیں پچھلی حدیث)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي فَضْلِ الْجُنُبِ
باب: جنبی کے بچے ہوئے پانی کے استعمال کی رخصت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 345
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا" كَانَتْ تَغْتَسِلُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْإِنَاءِ الْوَاحِدِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک ہی برتن سے غسل کرتی تھیں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب المياه/حدیث: 345]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے، فرماتی ہیں: بلاشبہ وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک برتن میں غسل کیا کرتی تھیں۔ [سنن نسائي/كتاب المياه/حدیث: 345]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 72 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس میں اور اس سے پہلے والی حدیث میں تعارض ہے، دونوں میں تطبیق اس طرح سے دی جاتی ہے کہ نہی والی روایت کو نہی تنزیہی پر محمول کیا جاتا ہے، اور اس حدیث کو بیان جواز پر۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں