🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
40. بَابُ: تَخْفِيفِ رَكْعَتَىِ الْفَجْرِ
باب: فجر کی دونوں رکعتیں ہلکی پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 947
أَخْبرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قال: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قالت:" إِنْ كُنْتُ لَأَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ فَيُخَفِّفُهُمَا حَتَّى أَقُولَ أَقَرَأَ فِيهِمَا بِأُمِّ الْكِتَابِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فجر کی سنتیں پڑھتے دیکھتی، آپ انہیں اتنی ہلکی پڑھتے کہ میں (اپنے جی میں) کہتی تھی: کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں میں سورۃ فاتحہ پڑھی ہے (یا نہیں)۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 947]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صبح کی سنتیں پڑھتے دیکھتی تھی، آپ ان کو اس قدر ہلکا پڑھتے تھے کہ میں (دل میں) کہتی تھی: کیا آپ نے سورۂ فاتحہ بھی پڑھی ہے؟ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 947]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/التھجد 28 (1171)، صحیح مسلم/المسافرین 14 (724)، سنن ابی داود/الصلاة 292 (1255)، (تحفة الأشراف: 17913)، مسند احمد 6/40، 49، 100، 164، 172، 186، 235 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
41. بَابُ: الْقِرَاءَةِ فِي الصُّبْحِ بِالرُّومِ
باب: نماز فجر میں سورۃ الروم پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 948
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ شَبِيبٍ أَبِي رَوْحٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ صَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ فَقَرَأَ الرُّومَ فَالْتَبَسَ عَلَيْهِ فَلَمَّا صَلَّى قَالَ:" مَا بَالُ أَقْوَامٍ يُصَلُّونَ مَعَنَا لَا يُحْسِنُونَ الطُّهُورَ فَإِنَّمَا يَلْبِسُ عَلَيْنَا الْقُرْآنَ أُولَئِكَ".
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر پڑھائی، اس میں آپ نے سورۃ الروم کی تلاوت فرمائی، تو آپ کو شک ہو گیا، جب نماز پڑھ چکے تو آپ نے فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ ہمارے ساتھ نماز پڑھتے ہیں، اور ٹھیک سے طہارت حاصل نہیں کرتے، یہی لوگ ہمیں قرآت میں شک میں ڈال دیتے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 948]
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھی تو سورۂ روم کی قراءت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اشتباہ ہونے لگا۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: لوگ ہمارے ساتھ نماز پڑھتے ہیں مگر اچھی طرح وضو نہیں کرتے۔ اس قسم کے لوگ ہم پر قرآن کو مشتبہ کر دیتے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 948]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15594)، مسند احمد 3/471، 5/363، 368 (حسن) (تراجع الالبانی 72)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
42. بَابُ: الْقِرَاءَةِ فِي الصُّبْحِ بِالسِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ
باب: نماز فجر میں ساٹھ سے سو آیتوں تک پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 949
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قال: أَنْبَأَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ سَيَّارٍ يَعْنِي ابْنَ سَلَامَةَ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ بِالسِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ".
ابوبرزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر میں ساٹھ سے سو آیتوں تک پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 949]
حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز میں ساٹھ (60) سے لے کر سو (100) تک آیات پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 949]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 35 (461)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 5 (818)، (تحفة الأشراف: 11607) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
43. بَابُ: الْقِرَاءَةِ فِي الصُّبْحِ بِـ {ق}
باب: نماز فجر میں سورۃ «‏‏‏‏ق» ‏‏‏‏ پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 950
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ قال: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الرِّجَالِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ أُمِّ هِشَامٍ بِنْتِ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ قالت:" مَا أَخَذْتُ ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ إِلَّا مِنْ وَرَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي بِهَا فِي الصُّبْحِ".
ام ہشام بنت حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے «ق، والقرآن المجيد» کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے (سن سن کر) یاد کیا ہے، آپ اسے فجر میں (بکثرت) پڑھا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 950]
حضرت ام ہشام رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے سورۂ ﴿ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ﴾ [سورة ق: 1] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے (نماز پڑھتے ہوئے) سیکھی کیونکہ آپ اسے (اکثر) صبح کی نماز میں پڑھا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 950]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 18363)، مسند احمد 6/463 (شاذ) (اس کے راوی ’’ابن ابی الرجال‘‘ حافظہ کے کمزور ہیں اس لیے کبھی غلطی کر جاتے تھے، اور یہاں کر بھی گئے ہیں، محفوظ یہ ہے کہ منبر پر خطبہ میں پڑھنے کی بات ہے، جیسا کہ مؤلف کے یہاں بھی آ رہا ہے، دیکھئے رقم: 1412)»
قال الشيخ الألباني: شاذ والمحفوظ أن ذلك كان في خطبة الجمعة
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 951
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، وَاللَّفْظُ لَهُ قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ قال: سَمِعْتُ عَمِّي يَقُولُ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ" فَقَرَأَ فِي إِحْدَى الرَّكْعَتَيْنِ وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ لَهَا طَلْعٌ نَضِيدٌ"، قَالَ شُعْبَةُ: فَلَقِيتُهُ فِي السُّوقِ فِي الزِّحَامِ فَقَالَ ق.
زیاد بن علاقہ کے چچا قطبہ بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز فجر پڑھی، تو آپ نے ایک رکعت میں «والنخل باسقات لها طلع نضيد» پڑھی ۱؎، شعبہ کہتے ہیں: میں نے زیاد سے پر ہجوم بازار میں ملاقات کی تو انہوں نے کہا: سورۃ «ق» پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 951]
حضرت زیاد بن علاقہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے اپنے چچا سے سنا، وہ کہتے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صبح کی نماز پڑھی تو آپ نے ایک رکعت میں ﴿وَالنَّخْلَ بَاسِقَاتٍ لَهَا طَلْعٌ نَضِيدٌ﴾ [سورة ق: 10] اور کھجوروں کے لمبے لمبے درخت جن کے خوشے تہ بہ تہ ہوں گے۔ پڑھی۔ شعبہ نے کہا: میں زیاد سے بازار میں ہجوم میں ملا تو انہوں نے کہا: سورۂ ق پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 951]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 35 (457)، سنن الترمذی/فیہ 112 (306)، سنن ابن ماجہ/إقامة 5 (816)، (تحفة الأشراف: 11087)، مسند احمد 4/322، سنن الدارمی/الصلاة 66 (1334، 1335) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی وہ سورۃ پڑھی جس میں یہ آیت ہے جزء بول کر کل مراد لیا گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
44. بَابُ: الْقِرَاءَةِ فِي الصُّبْحِ بِـ {إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ}
باب: نماز فجر میں «إذا الشمس كورت» پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 952
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْبَلْخِيُّ قال: حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ مِسْعَرٍ، وَالْمَسْعُودِيِّ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ سُرَيْعٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ قال:" سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ".
عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فجر میں «إذا الشمس كورت» پڑھتے سنا۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 952]
حضرت عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فجر کی نماز میں ﴿إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ﴾ [سورة التكوير: 1] پڑھتے ہوئے سنا۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 952]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 10722)، مسند احمد 4/306، 307، سنن الدارمی/الصلاة 66 (1336) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
45. بَابُ: الْقِرَاءَةِ فِي الصُّبْحِ بِالْمُعَوِّذَتَيْنِ
باب: نماز فجر میں معوذتین پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 953
أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ حِزَامٍ التِّرُمِذِيُّ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قال: أَخْبَرَنِي سُفْيَانُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ،" أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُعَوِّذَتَيْنِ قَالَ عُقْبَةُ: فَأَمَّنَا بِهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے معوذتین کے متعلق پوچھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر میں انہیں دونوں سورتوں کے ذریعہ ہماری امامت فرمائی۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 953]
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے معوذتین (کی فضیلت) کے بارے میں پوچھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی امامت فرماتے ہوئے یہ دونوں سورتیں پڑھیں۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 953]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9915)، ویأتی عند المؤلف برقم: 5436 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: معوذتین سے مراد «قل أعوذ برب الناس» اور «قل أعوذ برب الفلق» ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
46. بَابُ: الْفَضْلِ فِي قِرَاءَةِ الْمُعَوِّذَتَيْنِ
باب: معوذتین پڑھنے کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 954
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ أَسْلَمَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قال: اتَّبَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ رَاكِبٌ فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَى قَدَمِهِ فَقُلْتُ: أَقْرِئْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ سُورَةَ هُودٍ، وَسُورَةَ يُوسُفَ، فَقَالَ:" لَنْ تَقْرَأَ شَيْئًا أَبْلَغَ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلا، اور آپ سوار تھے تو میں نے آپ کے پاؤں پہ اپنا ہاتھ رکھا، اور آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھے سورۃ هود اور سورۃ یوسف پڑھا دیجئیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے نزدیک «قل أعوذ برب الفلق‏» اور «قل أعوذ برب الناس» سے زیادہ بلیغ سورت تم کوئی اور نہیں پڑھو گے۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 954]
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلا جبکہ آپ سوار تھے۔ میں نے آپ کے پاؤں پر اپنا ہاتھ رکھا اور گزارش کی: اے اللہ کے رسول! مجھے سورۂ ہود اور سورۂ یوسف پڑھا دیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو ہرگز کوئی ایسی سورت نہیں پڑھے گا جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ» ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ [سورة الفلق: 1] اور «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ» ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ [سورة الناس: 1] سے زیادہ مرتبے والی ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 954]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9908)، مسند احمد 4/149، 155، 159، سنن الدارمی/فضائل القرآن 25 (3482)، ویأتي عند المؤلف برقم: 5441 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 955
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ قال: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" آيَاتٌ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ اللَّيْلَةَ لَمْ يُرَ مِثْلُهُنَّ قَطُّ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ، وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج رات میرے اوپر کچھ ایسی آیتیں اتریں ہیں جن کی طرح (کوئی اور آیتیں) نہیں دیکھی گئیں، وہ ہیں { «قل أعوذ برب الفلق‏» اور «قل أعوذ برب الناس» ۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 955]
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج رات مجھ پر کچھ آیات نازل ہوئی ہیں کہ ان جیسی آیات کبھی بھی نہیں دیکھی گئیں۔ اور وہ ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ [سورة الفلق: 1] اور ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ [سورة الناس: 1] ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 955]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 46 (814)، سنن الترمذی/فضائل القرآن 12 (2902)، (تحفة الأشراف: 9948)، مسند احمد 4/144، 150، 151، 152، سنن الدارمی/فضائل القرآن 25 (3484)، ویأتي عند المؤلف برقم: 5442 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
47. بَابُ: الْقِرَاءَةِ فِي الصُّبْحِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ
باب: جمعہ کے دن فجر میں قرأت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 956
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ. ح، وَأَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ الم تَنْزِيلُ، وَهَلْ أَتَى".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جمعہ کے دن فجر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «الم تنزیل» (سورۃ الم سجدہ) اور «ھل أتی» (سورۃ الدہر) پڑھتے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 956]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جمعۃ المبارک کے دن صبح کی نماز میں ﴿الٓمّٓ تَنْزِيلُ﴾ [سورة السجدة: 1] اور ﴿هَلْ أَتَىٰ﴾ [سورة الإنسان: 1] پڑھا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 956]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجمعة 10 (891)، سجود القرآن 2 (1068)، صحیح مسلم/الجمعة 17 (880)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 6 (823)، (تحفة الأشراف: 13647)، مسند احمد 2/430، 472، سنن الدارمی/الصلاة 192 (1583) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ جمعہ کو نماز فجر میں ان دونوں سورتوں کا پڑھنا مستحب ہے «کان یقرأ» کے صیغے سے اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مواظبت کا پتہ چلتا ہے، بلکہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت میں جس کی تخریج طبرانی نے کی ہے اس پر آپ کی مداومت کی تصریح آئی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں