سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. بَابُ: نَوْعٌ آخَرُ مَنْ صَلاَةِ الْكُسُوفِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ
باب: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے مروی کسوف کی نماز کی ایک اور قسم کا بیان۔
حدیث نمبر: 1470
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ ابْنِ نَمِرٍ وَهُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَمِرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبَّاسٍ. ح وَأَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قال: أَخْبَرَنِي كَثِيرُ بْنُ عَبَّاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ," أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى يَوْمَ كَسَفَتِ الشَّمْسُ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي رَكْعَتَيْنِ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس دن سورج گرہن لگا، دو رکعت نماز پڑھی، تو چار رکوع اور چار سجدے کیے۔ [سنن نسائي/كتاب الكسوف/حدیث: 1470]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن کے دن دو رکعتوں میں چار رکوع اور چار سجدے کیے۔ (یعنی ہر رکعت میں دو رکوع کیے۔) [سنن نسائي/كتاب الكسوف/حدیث: 1470]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الکسوف 4 (1046) مطولاً، صحیح مسلم/الکسوف 1 (901، 902)، سنن ابی داود/الصلاة 262 (1181) مطولاً، (تحفة الأشراف: 6335) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
10. بَابُ: نَوْعٌ آخَرُ مِنْ صَلاَةِ الْكُسُوفِ
باب: سورج گرہن کی نماز کی ایک اور قسم کا بیان۔
حدیث نمبر: 1471
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قال: أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قال: سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يُحَدِّثُ، قال: حَدَّثَنِي مَنْ أُصَدِّقُ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يُرِيدُ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ:" كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ بِالنَّاسِ قِيَامًا شَدِيدًا، يَقُومُ بِالنَّاسِ ثُمَّ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُومُ ثُمَّ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُومُ ثُمَّ يَرْكَعُ، فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ، رَكَعَ الثَّالِثَةَ ثُمَّ سَجَدَ، حَتَّى إِنَّ رِجَالًا يَوْمَئِذٍ يُغْشَى عَلَيْهِمْ، حَتَّى إِنَّ سِجَالَ الْمَاءِ لَتُصَبُّ عَلَيْهِمْ مِمَّا قَامَ بِهِمْ , يَقُولُ: إِذَا رَكَعَ اللَّهُ أَكْبَرُ , وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَلَمْ يَنْصَرِفْ حَتَّى تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، فَقَامَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَقَالَ:" إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ , وَلَكِنْ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ يُخَوِّفُكُمْ بِهِمَا، فَإِذَا كَسَفَا فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى يَنْجَلِيَا".
عبید بن عمیر کہتے ہیں کہ مجھ سے اس شخص نے بیان کیا ہے جسے میں سچا سمجھتا ہوں، میرا گمان ہے کہ ان کی مراد ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگا، تو آپ نے لوگوں کے ساتھ بڑی دیر تک نماز میں قیام کیا، آپ لوگوں کے ساتھ قیام کرتے، پھر رکوع کرتے، پھر قیام کرتے، پھر رکوع کرتے، پھر قیام کرتے پھر رکوع کرتے، اس طرح آپ نے دو رکعت پڑھی، ہر رکعت میں آپ نے تین رکوع کیا، تیسرے رکوع سے اٹھنے کے بعد آپ نے سجدہ کیا یہاں تک کہ اس دن آدمیوں پر غشی طاری ہو گئی تھی جس کی وجہ سے ان کے اوپر پانی کے ڈول انڈیلنے پڑ گئے تھے، آپ جب رکوع کرتے تو «اللہ اکبر» کہتے، اور جب سر اٹھاتے تو «سمع اللہ لمن حمده» کہتے، آپ فارغ نہیں ہوئے جب تک کہ سورج صاف نہیں ہو گیا، پھر آپ کھڑے ہوئے، اور آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، اور فرمایا: ”سورج اور چاند کو نہ تو کسی کے مرنے سے گرہن لگتا ہے، اور نہ ہی کسی کے پیدا ہونے سے، لیکن یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں جن کے ذریعہ وہ تمہیں ڈراتا ہے، تو جب ان میں گرہن لگے تو اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو، اور ذکر الٰہی میں لگے رہو جب تک کہ وہ صاف نہ ہو جائیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الكسوف/حدیث: 1471]
حضرت عطاء بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عبید بن عمیر کو کہتے سنا کہ مجھے اس شخصیت نے بیان کیا جنہیں میں قطعاً سچا سمجھتا ہوں۔ میرا خیال ہے ان کا اشارہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف تھا۔ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بڑا لمبا قیام کروایا۔ قیام فرماتے تھے، پھر رکوع کرتے تھے، پھر قیام فرماتے تھے، پھر رکوع کرتے تھے، پھر قیام فرماتے تھے، پھر رکوع فرماتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں۔ ہر رکعت میں تین رکوع تھے۔ تیسرا رکوع کرنے کے بعد سجدہ کیا حتیٰ کہ اتنے لمبے قیام کی وجہ سے اس دن کچھ لوگوں پر غشی کی حالت طاری ہو گئی اور ان پر پانی کے ڈول بہائے گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کو جاتے تو «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہتے اور جب اپنا سر اٹھاتے تو «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی پکار سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے اس وقت فارغ ہوئے جب سورج بالکل روشن ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (تقریر کے لیے) کھڑے ہوئے۔ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی اور فرمایا: ”سورج اور چاند کسی کی موت و حیات کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے، بلکہ وہ تو اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ تمہیں ان کے ذریعے سے ڈراتا ہے، لہٰذا جب وہ بے نور ہو جائیں تو خوف زدہ ہو کر اللہ تعالیٰ کا ذکر شروع کر دو حتیٰ کہ وہ روشن ہو جائیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الكسوف/حدیث: 1471]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الکسوف 1 (901)، سنن ابی داود/الصلاة 261 (1177)، (تحفة الأشراف: 16323)، مسند احمد 6/76 (شاذ) (تین رکوع کا تذکرہ شاذ ہے، محفوظ بات دو رکوع کی ہے، خود عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں دو رکوع کا تذکرہ ہے، دیکھئے حدیث رقم: 1473)۔»
قال الشيخ الألباني: شاذ والمحفوظ عنها في كل ركعة ركوعان
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 1472
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ فِي صَلَاةِ الْآيَاتِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَائِشَةَ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى سِتَّ رَكَعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ" , قُلْتُ لِمُعَاذٍ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: لَا شَكَّ وَلَا مِرْيَةَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار سجدوں میں چھ رکوع کئے۔ اسحاق بن ابراہیم کہتے ہیں میں نے معاذ بن ہشام سے پوچھا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے نا، انہوں نے کہا: اس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الكسوف/حدیث: 1472]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چار سجدوں میں (یعنی دو رکعتوں میں) چھ رکوع کیے۔ (راویٔ حدیث اسحاق کہتے ہیں کہ) میں نے معاذ (ابن ہشام) سے کہا: یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے؟ انہوں نے کہا: کوئی شک و شبہ نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الكسوف/حدیث: 1472]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الکسوف 1 (901)، (تحفة الأشراف: 16325) (شاذ) (دیکھئے سابقہ روایت)»
قال الشيخ الألباني: شاذ
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
11. بَابُ: نَوْعٌ آخَرُ مِنْهُ عَنْ عَائِشَةَ،
باب: ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی سورج گرہن کی نماز کی ایک اور قسم کا بیان۔
حدیث نمبر: 1473
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قال: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" خَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ فَكَبَّرَ وَصَفَّ النَّاسُ وَرَاءَهُ، فَاقْتَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ , فَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، ثُمَّ قَامَ فَاقْتَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً هِيَ أَدْنَى مِنَ الْقِرَاءَةِ الْأُولَى، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا هُوَ أَدْنَى مِنَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، فَاسْتَكْمَلَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ وَانْجَلَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَنْصَرِفَ، ثُمَّ قَامَ فَخَطَبَ النَّاسَ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ تَعَالَى لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَصَلُّوا حَتَّى يُفْرَجَ عَنْكُمْ". (حديث موقوف) (حديث مرفوع) وَقَالَ رَسُولُ اللَّه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَأَيْتُ فِي مَقَامِي هَذَا كُلَّ شَيْءٍ وُعِدْتُمْ، لَقَدْ رَأَيْتُمُونِي أَرَدْتُ أَنْ آخُذَ قِطْفًا مِنَ الْجَنَّةِ حِينَ رَأَيْتُمُونِي جَعَلْتُ أَتَقَدَّمُ، وَلَقَدْ رَأَيْتُ جَهَنَّمَ يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَأَخَّرْتُ، وَرَأَيْتُ فِيهَا ابْنَ لُحَيٍّ وَهُوَ الَّذِي سَيَّبَ السَّوَائِبَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سورج گرہن لگا تو آپ (نماز کے لیے) کھڑے ہوئے، اور تکبیر کہی، اور لوگوں نے آپ کے پیچھے صفیں باندھیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی لمبی قرآت کی، پھر «اللہ اکبر» کہا، اور ایک لمبا رکوع کیا، پھر اپنا سر اٹھایا، تو «سمع اللہ لمن حمده ربنا لك الحمد» کہا، پھر آپ کھڑے رہے، اور ایک لمبی قرآت کی مگر پہلی قرآت سے کم، پھر تکبیر کہی، اور ایک لمبا رکوع کیا، مگر پہلے رکوع سے چھوٹا، پھر آپ نے «سمع اللہ لمن حمده ربنا لك الحمد» کہا، پھر سجدہ کیا، پھر دوسری رکعت میں بھی آپ نے اسی طرح کیا، اس طرح آپ نے چار رکوع اور چار سجدے پورے کیے، آپ کے نماز سے فارغ ہونے سے پہلے ہی سورج صاف ہو گیا، پھر آپ نے کھڑے ہو کر لوگوں کو خطاب کیا، تو اللہ تعالیٰ کی ثنا بیان کی جو اس کے شایان شان تھی، پھر فرمایا: بلاشبہ سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، انہیں نہ کسی کے مرنے سے گرہن لگتا ہے، نہ کسی کے پیدا ہونے سے، جب تم انہیں دیکھو تو نماز پڑھو، جب تک کہ وہ تم سے چھٹ نہ جائے، نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے اس کھڑے ہونے کی جگہ میں ہر وہ چیز دیکھ لی جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے، تم نے مجھے آگے بڑھتے ہوئے دیکھا، میں نے چاہا کہ جنت کے پھلوں میں سے ایک گچھا توڑ لوں، جب تم نے مجھے دیکھا میں آگے بڑھا تھا، اور میں نے جہنم کو دیکھا، اس حال میں کہ اس کا ایک حصہ دوسرے کو توڑ رہا تھا جب تم نے مجھے پیچھے ہٹتے ہوئے دیکھا، اور میں نے اس میں ابن لحی کو دیکھا ۱؎، یہی ہے جس نے سب سے پہلے سائبہ چھوڑا ۲؎“۔ [سنن نسائي/كتاب الكسوف/حدیث: 1473]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں سورج کو گرہن لگ گیا۔ آپ (نماز کے لیے) اٹھے، «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا۔ لوگوں نے بھی آپ کے پیچھے صفیں باندھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لمبی قراءت فرمائی، پھر «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا اور لمبا رکوع کیا، پھر اپنا سر اٹھایا اور «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی، اے ہمارے رب! اور تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں“ کہا، پھر قیام شروع کر دیا اور لمبی قراءت کی جو کہ پہلی قراءت سے کم تھی، پھر «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا اور لمبا رکوع کیا جو پہلے رکوع سے کم تھا، پھر «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی، اے ہمارے رب! اور تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں“ کہا، پھر سجدہ کیا، پھر دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا اور چار رکوع اور چار سجدے مکمل کیے۔ آپ کے (نماز سے) فارغ ہونے سے پہلے سورج مکمل روشن ہو چکا تھا، پھر آپ کھڑے ہوئے اور لوگوں کو خطبہ دیا۔ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی جس کا وہ اہل ہے، پھر فرمایا: ”سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، انہیں کسی کی موت و حیات کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا، جب تم انہیں (گرہن لگا ہوا) دیکھو تو نماز کسوف شروع کر دو حتیٰ کہ گرہن کی حالت ختم ہو جائے۔“ نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اس (نماز کے) قیام کے دوران میں ہر چیز دیکھ لی جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے، جب تم نے مجھے آگے بڑھتے ہوئے دیکھا تھا تو دراصل میں نے جنت سے ایک خوشہ توڑنے کا ارادہ کیا تھا، اور جب تم نے مجھے پیچھے ہٹتے ہوئے دیکھا تھا تو دراصل میں نے جہنم کو دیکھا تھا کہ اس کے مختلف حصے ایک دوسرے کو توڑ رہے تھے، نیز میں نے جہنم میں عمرو بن لحی کو دیکھا اور یہ وہ شخص ہے جس نے بتوں کے نام پر جانور کھلے چھوڑنے کی رسم ڈالی۔“ [سنن نسائي/كتاب الكسوف/حدیث: 1473]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الکسوف 4 (1046)، 5 (1047)، 13 (1058)، العمل فی ال صلاة 11 (1212)، بدء الخلق 4 (3203)، صحیح مسلم/الکسوف 1 (901)، سنن ابی داود/الصلاة 262 (1180) مختصراً، سنن ابن ماجہ/الإقامة 152 (1263)، (تحفة الأشراف: 16692) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس کا نام عمرو ہے اور باپ کا نام عامر ہے اور لقب لحی ہے۔ ۲؎: سائبہ ایسی اونٹنی کو کہتے ہیں جسے بتوں کے نام پر آزاد چھوڑ دیا گیا ہو، اور اس سے سواری اور بار برداری کا کوئی کام نہ لیا جاتا ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1474
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنُودِيَ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ فَاجْتَمَعَ النَّاسُ فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي رَكْعَتَيْنِ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگا تو «الصلاة جامعة» (صلاۃ باجماعت ہو گی) کی منادی کرائی گئی، چنانچہ لوگ اکٹھا ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ دو رکعت میں چار رکوع اور چار سجدے کئے۔ [سنن نسائي/كتاب الكسوف/حدیث: 1474]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگ گیا تو اعلان کیا: ”نماز کی جماعت ہونی ہے۔“ لوگ اکٹھے ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز پڑھائی اور (دو رکعتوں میں) چار رکوع اور چار سجدے کیے۔ [سنن نسائي/كتاب الكسوف/حدیث: 1474]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1466 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1475
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" خَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ، فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ قَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ فَسَجَدَ، ثُمَّ فَعَلَ ذَلِكَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَادْعُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَكَبِّرُوا وَتَصَدَّقُوا"، ثُمَّ قَالَ:" يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ , مَا مِنْ أَحَدٍ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَزْنِيَ عَبْدُهُ أَوْ تَزْنِيَ أَمَتُهُ، يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ , وَاللَّهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی، آپ نے لمبا قیام کیا، پھر لمبا رکوع کیا، پھر لمبا قیام کیا، اور یہ پہلے قیام سے کم تھا، پھر لمبا رکوع کیا، اور یہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر آپ نے رکوع سے سر اٹھایا، اور سجدہ کیا، پھر آپ نے دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا، پھر آپ فارغ ہوئے اس حال میں کہ سورج صاف ہو چکا تھا، تو آپ نے لوگوں کو خطاب کیا، پہلے آپ نے اللہ کی حمد و ثنا کی، پھر فرمایا: ”سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، ان دونوں کو نہ کسی کے مرنے سے گرہن لگتا ہے، اور نہ ہی کسی کے جینے سے، تو جب تم اسے دیکھو تو اللہ تعالیٰ سے دعا کرو، اور اس کی بڑائی بیان کرو، اور صدقہ کرو“، پھر آپ نے فرمایا: ”اے امت محمد! اللہ تعالیٰ سے زیادہ کوئی اس بات پر غیرت کرنے والا نہیں کہ اس کا غلام یا لونڈی زنا کرے، اے امت محمد! قسم اللہ کی، اگر تم وہ جانتے جو میں جانتا ہوں، تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ“۔ [سنن نسائي/كتاب الكسوف/حدیث: 1475]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں سورج کو گرہن لگ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نمازِ کسوف پڑھائی۔ آپ نے قیام فرمایا اور بہت لمبا قیام فرمایا، پھر رکوع فرمایا اور بہت لمبا رکوع فرمایا، پھر قیام فرمایا اور لمبا قیام فرمایا لیکن یہ پہلے قیام سے کم تھا، پھر رکوع فرمایا اور لمبا رکوع فرمایا لیکن یہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر سر اٹھایا، پھر سجدہ کیا، پھر دوسری رکعت میں بھی ایسے ہی کیا، پھر فارغ ہوئے تو سورج پوری طرح روشن ہو چکا تھا، پھر آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا۔ اللہ کی حمد و ثنا کی، پھر فرمایا: ”بلاشبہ سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ انھیں کسی کی موت و حیات کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا۔ جب تم یہ صورت حال دیکھو تو اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرو اور اللہ تعالیٰ کی بزرگی بیان کرو اور صدقات کرو۔“ پھر فرمایا: ”اے امتِ محمد! کوئی شخص اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر اس بات پر غیرت نہیں کرتا کہ اس کا کوئی غلام یا لونڈی زنا کرے۔ اے امتِ محمد! اللہ کی قسم! اگر تم وہ چیزیں جان لو جو میں جانتا ہوں تو تم بہت کم ہنسو اور بہت زیادہ روؤ۔“ [سنن نسائي/كتاب الكسوف/حدیث: 1475]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الکسوف 2 (1044)، صحیح مسلم/الکسوف 1 (901)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 265 (1191)، (تحفة الأشراف: 17148)، موطا امام مالک/الکسوف 1 (1)، سنن الدارمی/الصلاة 187 (1570) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1476
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ عَمْرَةَ حَدَّثَتْهُ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهَا , أَنَّ يَهُودِيَّةً أَتَتْهَا , فَقَالَتْ: أَجَارَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ , قَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ النَّاسَ لَيُعَذَّبُونَ فِي الْقُبُورِ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَائِذًا بِاللَّهِ" , قَالَتْ عَائِشَةُ:" إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مَخْرَجًا فَخَسَفَتِ الشَّمْسُ فَخَرَجْنَا إِلَى الْحُجْرَةِ فَاجْتَمَعَ إِلَيْنَا نِسَاءٌ , وَأَقْبَلَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَلِكَ ضَحْوَةً، فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ دُونَ رُكُوعِهِ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ قَامَ الثَّانِيَةَ فَصَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ، إِلَّا أَنَّ رُكُوعَهُ وَقِيَامَهُ دُونَ الرَّكْعَةِ الْأُولَى , ثُمَّ سَجَدَ وَتَجَلَّتِ الشَّمْسُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ , فَقَالَ فِيمَا يَقُولُ:" إِنَّ النَّاسَ يُفْتَنُونَ فِي قُبُورِهِمْ كَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ" , قَالَتْ عَائِشَةُ: كُنَّا نَسْمَعُهُ بَعْدَ ذَلِكَ يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک یہودی عورت ان کے پاس آئی، اور کہنے لگی: اللہ تعالیٰ تمہیں قبر کے عذاب سے بچائے، یہ سنا تو عائشہ نے پوچھا: اللہ کے رسول! لوگوں کو قبر میں بھی عذاب دیا جائے گا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی پناہ“۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہیں جانے کے لیے نکلے اتنے میں سورج گرہن لگ گیا، تو ہم حجرہ میں چلے گئے، یہ دیکھ کر دوسری عورتیں بھی ہمارے پاس جمع ہو گئیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور یہ چاشت کا وقت تھا، آپ نماز کے لیے کھڑے ہوئے، آپ نے نماز میں لمبا قیام کیا، پھر لمبا رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھایا، تو قیام کیا پہلے قیام سے کم، پھر آپ نے رکوع کیا، اپنے پہلے رکوع سے کم، پھر سجدہ کیا، پھر آپ دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے، تو اسی طرح کیا مگر دوسری رکعت میں آپ کا رکوع اور قیام پہلی رکعت سے کم تھا، پھر آپ نے سجدہ کیا، اور سورج صاف ہو گیا، تو جب آپ فارغ ہوئے، تو منبر پر بیٹھے، اور جو باتیں کہنی تھیں کہیں، اس میں ایک بات یہ بھی تھی: ”کہ لوگ اپنی قبروں میں آزمائے جائیں گے، جیسے دجال کے فتنے میں آزمائے جائیں گے“، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اس کے بعد سے برابر ہم آپ کو قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے ہوئے سنتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الكسوف/حدیث: 1476]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک یہودی عورت میرے پاس آئی اور کہنے لگی: اللہ تعالیٰ تجھے قبر کے عذاب سے بچائے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا لوگوں کو قبروں میں عذاب ہوگا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ نکلے۔ اتنے میں سورج کو گرہن لگ گیا۔ ہم سب حجرے میں چلے آئے۔ ہمارے پاس بہت سی عورتیں اکٹھی ہوگئیں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئے۔ یہ چاشت (دن چڑھنے) کے وقت کی بات ہے، پھر آپ نے لمبا قیام فرمایا، پھر لمبا رکوع فرمایا، پھر سر اٹھا کر دوبارہ قیام کیا لیکن یہ پہلے قیام سے کم تھا، پھر پہلے رکوع سے کم رکوع کیا، پھر سجدہ کیا، پھر دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے اور اس میں بھی اسی طرح کیا مگر اس رکعت کے قیام و رکوع پہلی رکعت کے مقابلے میں کم تھے، پھر سجدے کیے اور سورج بھی پورا روشن ہوگیا۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو منبر پر بیٹھ گئے اور (تقریر کے دوران میں) فرمایا: ”بلاشبہ لوگوں کو قبروں میں فتنۂ دجال کی طرح آزمایا جائے گا۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اس کے بعد ہم آپ کو اکثر عذاب سے پناہ مانگتے سنتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الكسوف/حدیث: 1476]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الکسوف 7 (1049)، 12 (1055)، صحیح مسلم/الکسوف 2 (903)، (تحفة الأشراف: 17936)، موطا امام مالک/الکسوف 1 (3)، مسند احمد 6/35، سنن الدارمی/الصلاة 187 (1568، 1573)، ویأتی عند المؤلف برقم: 1477، 1500 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
12. بَابُ: نَوْعٌ آخَرُ
باب: سورج گرہن کی نماز کے ایک اور طریقہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 1477
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ هُوَ الْأَنْصَارِيُّ، قال: سَمِعْتُ عَمْرَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ: جَاءَتْنِي يَهُودِيَّةٌ تَسْأَلُنِي , فَقَالَتْ: أَعَاذَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَيُعَذَّبُ النَّاسُ فِي الْقُبُورِ؟ فَقَالَ:" عَائِذًا بِاللَّهِ" , فَرَكِبَ مَرْكَبًا يَعْنِي وَانْخَسَفَتِ الشَّمْسُ فَكُنْتُ بَيْنَ الْحُجَرِ مَعَ نِسْوَةٍ،" فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَرْكَبِهِ فَأَتَى مُصَلَّاهُ فَصَلَّى بِالنَّاسِ، فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ , ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَأَطَالَ الْقِيَامَ , ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ، ثُمَّ قَامَ قِيَامًا أَيْسَرَ مِنْ قِيَامِهِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ أَيْسَرَ مِنْ رُكُوعِهِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ أَيْسَرَ مِنْ قِيَامِهِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ أَيْسَرَ مِنْ رُكُوعِهِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ أَيْسَرَ مِنْ قِيَامِهِ الْأَوَّلِ، فَكَانَتْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ وَانْجَلَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ:" إِنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ كَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ" , قَالَتْ عَائِشَةُ: فَسَمِعْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک یہودی عورت مجھ سے کچھ پوچھنے آئی تو اس نے کہا: اللہ تعالیٰ تمہیں قبر کے عذاب سے بچائے، تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا لوگ قبروں میں بھی عذاب دیئے جاتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”اللہ کی پناہ“، پھر آپ (کہیں جانے کے لیے) سواری پر سوار ہوئے کہ ادھر سورج گرہن لگ گیا، اور میں دوسری عورتوں کے ساتھ حجروں کے درمیان بیٹھی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے اتر کر آئے، اور اپنے مصلیٰ کی طرف بڑھے، آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی تو لمبا قیام کیا، پھر لمبا رکوع کیا، پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا تو لمبا قیام کیا، پھر لمبا رکوع کیا، پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا تو لمبا قیام کیا، پھر آپ نے سجدہ کیا تو لمبا سجدہ کیا، پھر آپ (سجدہ سے کھڑے ہوئے) اور آپ نے قیام کیا، مگر اپنے پہلے قیام سے کم، پھر رکوع کیا، اپنے پہلے رکوع سے کم، پھر اپنا سر اٹھایا تو قیام کیا اپنے پہلے قیام سے کم، تو یہ چار رکوع اور چار سجدے ہوئے، اور سورج صاف ہو گیا، تو آپ نے فرمایا: ”تم قبروں میں آزمائے جاؤ گے اسی طرح جس طرح دجال کے فتنے سے آزمائے جاؤ گے“۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اس کے بعد سے میں نے برابر آپ کو قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے ہوئے سنا۔ [سنن نسائي/كتاب الكسوف/حدیث: 1477]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت میرے پاس کچھ مانگنے آئی، وہ کہنے لگی: اللہ تعالیٰ تجھے عذابِ قبر سے بچائے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا لوگوں کو قبروں میں عذاب دیا جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر سوار ہو کر کہیں گئے۔ ادھر سورج کو گرہن لگ گیا۔ میں دوسری عورتوں کے ساتھ حجروں کے درمیان کھڑی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سواری سے اتر کر تشریف لائے، اپنی نماز کی جگہ میں پہنچے، پھر لوگوں کو نماز پڑھانا شروع کی، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام کیا اور بہت لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیا اور لمبا رکوع کیا، پھر اپنا سر اٹھایا اور دیر تک کھڑے رہے، پھر سجدہ کیا اور لمبا سجدہ کیا، پھر (دوسرے سجدے کے بعد) کھڑے ہوئے اور پہلے قیام سے ہلکا قیام کیا، پھر پہلے رکوع سے ہلکا رکوع کیا، پھر اپنا سر اٹھایا اور پہلے قیام سے ہلکا قیام کیا، پھر اپنے پہلے رکوع سے ہلکا رکوع کیا، پھر سر اٹھایا اور پہلے سے کچھ کم دیر کھڑے رہے، اس طرح چار رکوع اور چار سجدے ہوئے۔ ادھر سورج بھی روشن ہو گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (خطبہ کے دوران میں) فرمایا: ”تمہیں قبروں میں فتنۂ دجال کی طرح آزمایا جائے گا۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: اس کے بعد میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عذابِ قبر سے پناہ مانگتے سنا۔ [سنن نسائي/كتاب الكسوف/حدیث: 1477]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1478
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي كُسُوفٍ فِي صُفَّةِ زَمْزَمَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسوف کی نماز میں زمزم کے چبوترے پر چار چار رکوع اور چار چار سجدے کئے۔ [سنن نسائي/كتاب الكسوف/حدیث: 1478]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن کے موقع پر زم زم کے چبوترے پر نماز پڑھی، اس میں چار رکوع کیے اور چار سجدے کیے۔ [سنن نسائي/كتاب الكسوف/حدیث: 1478]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الکسوف 18 (1064) بلفظ ’’أربع رکعات فی سجدتین‘‘ بدون ذکر الصفة (شاذ) (آپ صلی الله علیہ وسلم نے زندگی میں صرف ایک بار وہ بھی مدینہ میں سورج گرہن کی صلاة پڑھی ہے، یہ روایت شاذ ہے، کسی راوی سے وہم ہو گیا ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح دون ذكر الصفة فإنه شاذ مخالف لكل الروايات السابقة واللاحقة
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 1479
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ، قال: حَدَّثَنَا هِشَامٌ صَاحِبُ الدَّسْتَوَائِيِّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قال:" كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَصْحَابِهِ فَأَطَالَ الْقِيَامَ حَتَّى جَعَلُوا يَخِرُّونَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ، ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ، ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فَصَنَعَ نَحْوًا مِنْ ذَلِكَ، وَجَعَلَ يَتَقَدَّمُ ثُمَّ جَعَلَ يَتَأَخَّرُ، فَكَانَتْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ , كَانُوا يَقُولُونَ: إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَخْسِفَانِ إِلَّا لِمَوْتِ عَظِيمٍ مِنْ عُظَمَائِهِمْ , وَإِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ يُرِيكُمُوهُمَا , فَإِذَا انْخَسَفَتْ فَصَلُّوا حَتَّى تَنْجَلِيَ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک انتہائی گرم دن میں سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو نماز پڑھائی، اور لمبا قیام کیا یہاں تک کہ لوگ (بیہوش ہو ہو کر) گرنے لگے، پھر آپ نے لمبا رکوع کیا، پھر آپ رکوع سے اٹھے تو آپ نے لمبا قیام کیا، پھر آپ نے لمبا رکوع کیا، پھر آپ رکوع سے اٹھے تو لمبا قیام کیا، پھر دو سجدے کیے، پھر آپ کھڑے ہوئے تو آپ نے پھر اسی طرح کیا، نیز آپ آگے بڑھے پھر پیچھے ہٹنے لگے، تو یہ چار رکوع اور چار سجدے ہوئے، لوگ کہتے تھے کہ سورج اور چاند گرہن ان کے بڑے آدمیوں میں سے کسی بڑے آدمی کی موت کی وجہ سے لگتا ہے، حالانکہ یہ دونوں اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں جنہیں اللہ تمہیں دکھاتا ہے، تو جب گرہن لگے تو نماز پڑھو جب تک کہ وہ چھٹ نہ جائے۔ [سنن نسائي/كتاب الكسوف/حدیث: 1479]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک سخت گرم دن میں سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو نماز کسوف پڑھائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت لمبا قیام فرمایا حتیٰ کہ لوگ گرنے لگے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع فرمایا اور لمبا رکوع فرمایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا تو لمبا قیام فرمایا، پھر رکوع فرمایا اور لمبا رکوع فرمایا، پھر سر اٹھایا تو کافی دیر کھڑے رہے، پھر دو سجدے کیے، پھر کھڑے ہوئے اور دوسری رکعت بھی اسی طرح پڑھی۔ (قیام کے دوران میں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھتے تھے، پھر پیچھے ہٹتے تھے۔ تو اس طرح یہ چار رکوع اور چار سجدے ہوئے۔ لوگ کہا کرتے تھے کہ سورج اور چاند کو کسی عظیم سردار کی وفات پر ہی گرہن لگتا ہے۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں جو اللہ تعالیٰ تمہیں دکھاتا ہے، تو جب ان میں سے کسی کو گرہن لگ جائے تو نماز پڑھو حتیٰ کہ وہ روشن ہو جائے۔“ [سنن نسائي/كتاب الكسوف/حدیث: 1479]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الکسوف 3 (904)، سنن ابی داود/الصلاة 262 (1179)، (تحفة الأشراف: 2976)، مسند احمد 3/374، 382 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم