سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ:
باب:
حدیث نمبر: 1550
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى , وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , عَنْ مُحَمَّدٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، قال: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ، قال شُعْبَةُ: كَتَبَ بِهِ إِلَيَّ وَقَرَأْتُهُ عَلَيْهِ وَسَمِعْتُهُ مِنْهُ يُحَدِّثُ وَلَكِنِّي حَفِظْتُهُ، قال ابْنُ بَشَّارٍ فِي حَدِيثِهِ: حِفْظِي مِنَ الْكِتَابِ:" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مُصَافَّ الْعَدُوِّ بِعُسْفَانَ وَعَلَى الْمُشْرِكِينَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، فَصَلَّى بِهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ , قَالَ الْمُشْرِكُونَ: إِنَّ لَهُمْ صَلَاةً بَعْدَ هَذِهِ هِيَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ وَأَبْنَائِهِمْ" فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ فَصَفَّهُمْ صَفَّيْنِ خَلْفَهُ فَرَكَعَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمِيعًا , فَلَمَّا رَفَعُوا رُءُوسَهُمْ سَجَدَ بِالصَّفِّ الَّذِي يَلِيهِ وَقَامَ الْآخَرُونَ فَلَمَّا رَفَعُوا رُءُوسَهُمْ مِنَ السُّجُودِ سَجَدَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ بِرُكُوعِهِمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ تَأَخَّرَ الصَّفُّ الْمُقَدَّمُ وَتَقَدَّمَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ , فَقَامَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ فِي مَقَامِ صَاحِبِهِ , ثُمَّ رَكَعَ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمِيعًا , فَلَمَّا رَفَعُوا رُءُوسَهُمْ مِنَ الرُّكُوعِ سَجَدَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ وَقَامَ الْآخَرُونَ، فَلَمَّا فَرَغُوا مِنْ سُجُودِهِمْ سَجَدَ الْآخَرُونَ , ثُمَّ سَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ".
ابوعیاش زرقی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مقام عسفان میں دشمن کے مقابلہ میں صف آرا تھے، مشرکین کی کمان خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ظہر کی نماز پڑھائی، تو مشرک آپ سے میں کہنے لگے کہ ان کی اس نماز کے بعد جو نماز ہے وہ انہیں اپنے اموال و اولاد سے بھی زیادہ محبوب ہے، (چنانچہ جب عصر کا وقت ہوا) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو عصر کی نماز پڑھائی، تو آپ نے اپنے پیچھے ان کی دو صفیں بنائیں، پھر آپ نے ان سبھوں کے ساتھ رکوع کیا، پھر جب لوگوں نے اپنے سروں کو رکوع سے اٹھا لیا تو (آپ کے ساتھ) اس صف نے سجدہ کیا جو آپ سے قریب تھی، اور دوسرے کھڑے رہے، پھر جب ان لوگوں نے اپنے سروں کو سجدے سے اٹھا لیا تو پچھلی صف نے بھی سجدہ کیا اپنے اس رکوع کے ساتھ جسے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا تھا، پھر پہلی صف پیچھے چلی گئی، اور پچھلی صف آگے بڑھ آئی، ان میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کی جگہ پر کھڑا ہو گیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سبھوں کے ساتھ مل کر رکوع کیا، پھر جب لوگوں نے رکوع سے اپنے سر اٹھا لیے تو وہ صف جو آپ سے قریب تھی سجدہ میں گئی، اور دوسرے لوگ کھڑے رہے، پھر جب یہ لوگ سجدے سے فارغ ہو گئے، تو دوسروں نے سجدہ کیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سبھوں کے ساتھ سلام پھیرا۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 1550]
حضرت ابوعیاش زرقی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عسفان کے علاقے میں دشمن کے ساتھ جنگ کی حالت میں تھے۔ مشرکین کے امیر خالد بن ولید تھے۔ (جو اس وقت مسلمان نہیں ہوئے تھے۔) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ظہر کی نماز پڑھائی تو مشرکین نے کہا: اس نماز کے بعد ایک ایسی نماز ہے (نماز عصر) جو ان مسلمانوں کو اپنے مال و منال اور اولاد سے بھی زیادہ پیاری ہے۔ (لہٰذا اس نماز میں ان پر حملہ کردو۔) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو عصر کی نماز اس طرح پڑھائی کہ اپنے پیچھے ان کی دو صفیں بنالیں، پھر آپ نے ان سب کے ساتھ رکوع کیا، پھر جب انہوں نے رکوع سے سر اٹھایا (اور آپ سجدے میں گئے) تو آپ کے ساتھ والی (یعنی پہلی) صف ہی نے سجدے کیے اور دوسری صف والے کھڑے رہے۔ جب انہوں نے سجدوں سے سر اٹھائے تو دوسری صف نے سجدے کیے جبکہ رکوع تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کر چکے تھے، پھر اگلی صف پیچھے ہوگئی اور پچھلی آگے اور وہ ایک دوسرے کی جگہ میں کھڑے ہوگئے، پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کے ساتھ رکوع کیا۔ جب انہوں نے رکوع سے سر اٹھائے تو آپ کے ساتھ صرف آپ کے ساتھ والی صف نے سجدے کیے جبکہ دوسرے کھڑے رہے، پھر جب وہ اپنے سجدوں سے فارغ ہوئے تو پچھلی صف والوں نے (اپنے) سجدے ادا کیے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کے ساتھ بیک وقت سلام پھیرا۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 1550]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 281 (1236)، (تحفة الأشراف: 3784)، مسند احمد 4/59، 60 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ”مقام عسفان“ مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ کا نام ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1551
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، قال: حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ، قال: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُسْفَانَ , فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الظُّهْرِ وَعَلَى الْمُشْرِكِينَ يَوْمَئِذٍ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ , فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: لَقَدْ أَصَبْنَا مِنْهُمْ غِرَّةً وَلَقَدْ أَصَبْنَا مِنْهُمْ غَفْلَةً فَنَزَلَتْ، يَعْنِي صَلَاةَ الْخَوْفِ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ،" فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعَصْرِ فَفَرَّقَنَا فِرْقَتَيْنِ , فِرْقَةً تُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِرْقَةً يَحْرُسُونَهُ، فَكَبَّرَ بِالَّذِينَ يَلُونَهُ وَالَّذِينَ يَحْرُسُونَهُمْ ثُمَّ رَكَعَ فَرَكَعَ هَؤُلَاءِ وَأُولَئِكَ جَمِيعًا , ثُمَّ سَجَدَ الَّذِينَ يَلُونَهُ وَتَأَخَّرَ هَؤُلَاءِ وَالَّذِينَ يَلُونَهُ، وَتَقَدَّمَ الْآخَرُونَ فَسَجَدُوا , ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ بِهِمْ جَمِيعًا الثَّانِيَةَ بِالَّذِينَ يَلُونَهُ وَبِالَّذِينَ يَحْرُسُونَهُ , ثُمَّ سَجَدَ بِالَّذِينَ يَلُونَهُ ثُمَّ تَأَخَّرُوا فَقَامُوا فِي مَصَافِّ أَصْحَابِهِمْ، وَتَقَدَّمَ الْآخَرُونَ فَسَجَدُوا ثُمَّ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ فَكَانَتْ لِكُلِّهِمْ رَكْعَتَانِ رَكْعَتَانِ مَعَ إِمَامِهِمْ" , وَصَلَّى مَرَّةً بِأَرْضِ بَنِي سُلَيْمٍ.
ابوعیاش زرقی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مقام عسفان میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی، اس وقت مشرکین کی کمان خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کر رہے تھے، مشرکوں نے (آپ سے میں) کہا: ہم نے انہیں دھوکہ دینے اور انہیں غفلت میں (دبوچنے کا) موقع پا لیا ہے، تو ظہر اور عصر کے درمیان خوف کی نماز نازل ہوئی، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز عصر پڑھائی تو ہم دو گروہوں میں بٹ گئے، ایک گروہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے لگا، اور ایک گروہ ان کی حفاظت کرتا رہا، آپ نے جو آپ کے ساتھ کھڑے تھے، اور جو آپ کی حفاظت میں لگے تھے سبھوں کے ساتھ تکبیر تحریمہ کہی، پھر آپ نے رکوع کیا، تو ان لوگوں نے اور ان لوگوں نے سبھوں نے ایک ساتھ رکوع کیا، پھر جو آپ کے قریب تھے ان لوگوں نے سجدہ کیا، اور سجدہ کر کے وہ پیچھے ہٹ گئے اور پیچھے والے آگے بڑھ آئے، پھر انہوں نے سجدہ کیا، پھر آپ کھڑے ہوئے، پھر جو آپ کے قریب تھے اور جو آپ کی حفاظت کر رہے تھے سبھوں کے ساتھ مل کر آپ نے دوسرا رکوع کیا، پھر آپ نے اپنے پاس والوں کے ساتھ سجدہ کیا، پھر وہ لوگ پیچھے ہٹ گئے، اور اپنے ساتھیوں کی صف میں کھڑے ہو گئے اور پیچھے والے آگے بڑھ آئے اور انہوں نے سجدہ کیا، پھر آپ نے ان پر سلام پھیرا، تو ان میں سے ہر ایک کی امام کے ساتھ دو دو رکعت ہو گئی، اور ایک بار آپ نے بنی سلیم کی سر زمین میں (بھی) خوف کی نماز پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 1551]
حضرت ابوعیاش زرقی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عسفان کے مقام پر تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی۔ ان دنوں مشرکین کے امیر خالد بن ولید تھے۔ مشرکین نے کہا: افسوس! ہم نے انہیں غافل پایا تھا۔ (کاش ہم حملہ کردیتے) تو ظہر اور عصر کے درمیان نمازِ خوف کا حکم اترا۔ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح عصر کی نماز پڑھائی کہ ہمارے دو گروہ بنا دیے۔ ایک گروہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتا تھا اور دوسرا گروہ ان کی حفاظت کرتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کے ساتھ تکبیر کہی، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور جو ان کی حفاظت کرتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع فرمایا تو دونوں گروہوں نے رکوع کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ والے گروہ نے سجدے کیے، پھر ساتھ والے پیچھے ہٹ آئے اور دوسرے آگے بڑھے اور انہوں نے اپنے سجدے مکمل کیے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم (دوسری رکعت کے لیے) اٹھے اور سب کے ساتھ رکوع کیا، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور جو ان کی حفاظت کرتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ والوں کے ساتھ سجدے کیے، پھر وہ پیچھے ہٹ گئے اور اپنے دوسرے ساتھیوں کی جگہ میں کھڑے ہوگئے اور دوسرے آگے بڑھے اور انہوں نے اپنے سجدے پورے کیے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کے ساتھ سلام پھیرا۔ اس طرح ان میں سے ہر ایک کی اپنے امام کے ساتھ دو دو رکعتیں ہوگئیں، اور ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنوسلیم کے علاقے میں نمازِ خوف پڑھی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 1551]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 1552
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , وَإِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى بِالْقَوْمِ فِي الْخَوْفِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ , ثُمَّ صَلَّى بِالْقَوْمِ الْآخَرِينَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ , فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعًا".
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو خوف کی نماز دو رکعت پڑھائی، پھر آپ نے سلام پھیر دیا، پھر آپ نے دوسرے لوگوں کو دو رکعت پڑھائی، پھر آپ نے سلام پھیر دیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار رکعت پڑھی (اور لوگوں نے دو دو رکعت)۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 1552]
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گروہ کو نمازِ خوف دو رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیر دیا، پھر دوسرے گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں اور پھر سلام پھیر دیا۔ اس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چار رکعات پڑھیں۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 1552]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 837 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، الحسن البصري مدلس وعنعن. وحديث مسلم (843) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 333
حدیث نمبر: 1553
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قال: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى بِطَائِفَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ , ثُمَّ صَلَّى بِآخَرِينَ أَيْضًا رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ میں سے ایک گروہ کو (خوف کی نماز) دو رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیر دیا، پھر دوسرے لوگوں کو بھی آپ نے دو رکعت پڑھائی، پھر آپ نے سلام پھیرا۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 1553]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ میں سے ایک گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں، پھر سلام پھیرا، پھر دوسرے گروہ کو بھی دو رکعتیں پڑھائیں، پھر سلام پھیرا۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 1553]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 12224)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین 57 (843) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، قتادة و الحسن البصري عنعنا. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 333
حدیث نمبر: 1554
أَخْبَرَنَا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ , قَالَ:" يَقُومُ الْإِمَامُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ وَتَقُومُ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ مَعَهُ وَطَائِفَةٌ قِبَلَ الْعَدُوِّ وَوُجُوهُهُمْ إِلَى الْعَدُوِّ , فَيَرْكَعُ بِهِمْ رَكْعَةً وَيَرْكَعُونَ لِأَنْفُسِهِمْ وَيَسْجُدُونَ سَجْدَتَيْنِ فِي مَكَانِهِمْ وَيَذْهَبُونَ إِلَى مَقَامِ أُولَئِكَ، وَيَجِيءُ أُولَئِكَ فَيَرْكَعُ بِهِمْ وَيَسْجُدُ بِهِمْ سَجْدَتَيْنِ فَهِيَ لَهُ ثِنْتَانِ وَلَهُمْ وَاحِدَةٌ , ثُمَّ يَرْكَعُونَ رَكْعَةً رَكْعَةً وَيَسْجُدُونَ سَجْدَتَيْنِ".
سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ نماز خوف کے سلسلہ میں کہتے ہیں امام قبلہ رو کھڑا ہو گا، اور اس کے لشکر میں سے ایک گروہ اس کے ساتھ کھڑا ہو گا، اور ایک گروہ دشمن کے سامنے رہے گا، ان کے چہرے دشمن کی طرف ہوں گے، پھر امام ان کے ساتھ ایک رکعت پڑھے گا، اور ایک رکوع اور دو سجدے وہ خود سے اپنی جگہوں پر کریں گے، اور ان لوگوں کی جگہ میں چلے جائیں گے، پھر وہ لوگ آئیں گے، تو امام ان کے ساتھ (بھی) ایک رکوع اور دو سجدے کرے گا، تو (اس طرح) اس کی دو رکعتیں ہوں گی، اور ان لوگوں کی ایک ہو گی، تو پھر یہ لوگ ایک ایک رکوع اور دو دو سجدے کریں گے۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 1554]
حضرت سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے نماز خوف کے بارے میں روایت ہے کہ ”امام قبلہ رخ کھڑا ہو، اور مقتدیوں میں سے ایک گروہ اس کے ساتھ کھڑا ہو جائے اور دوسرا گروہ دشمن کے مقابل ان کی طرف منہ کر کے کھڑا رہے۔ تو امام پہلے گروہ کو ایک رکعت پڑھا دے، پھر وہ اپنی جگہ کھڑے ہو کر دوسری رکعت کے رکوع سجدے ادا کر لیں۔ اور دوسروں کی جگہ چلے جائیں اور وہ آ جائیں تو امام انہیں بھی رکوع اور دو سجدے پڑھا دے۔ اس طرح امام کی دو رکعتیں ہو جائیں گی اور ان کی ایک رکعت، پھر وہ خود دوسری رکعت کے رکوع اور دو سجدے ادا کر لیں۔“ [سنن نسائي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 1554]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1537 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 1555
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، قال: حَدَّثَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى بِأَصْحَابِهِ صَلَاةَ الْخَوْفِ فَصَلَّتْ طَائِفَةٌ مَعَهُ وَطَائِفَةٌ وُجُوهُهُمْ قِبَلَ الْعَدُوِّ، فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَامُوا مَقَامَ الْآخَرِينَ وَجَاءَ الْآخَرُونَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو خوف کی نماز پڑھائی، تو ایک گروہ نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی، اور ایک گروہ کے چہرے دشمن کے مقابل رہے، تو آپ نے انہیں دو رکعت پڑھائی، پھر وہ لوگ اٹھ کر دوسرے لوگوں کی جگہ میں جا کھڑے ہوئے، اور دوسرے ان کی جگہ آ گئے تو آپ نے انہیں (بھی) دو رکعت پڑھائی، پھر آپ نے سلام پھیر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 1555]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو نمازِ خوف پڑھائی، ان میں سے ایک گروہ نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی اور دوسرے گروہ کے چہرے دشمن کی طرف تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گروہ کو دو رکعتیں پڑھا دیں، پھر وہ دوسرے گروہ کی جگہ چلے گئے اور دوسرے آ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں بھی دو رکعتیں پڑھائیں اور سلام پھیر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 1555]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 2225) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1556
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا الْأَشْعَثُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ:" صَلَّى صَلَاةَ الْخَوْفِ بِالَّذِينَ خَلْفَهُ رَكْعَتَيْنِ وَالَّذِينَ جَاءُوا بَعْدُ رَكْعَتَيْنِ , فَكَانَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ وَلِهَؤُلَاءِ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ".
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو جو آپ کے پیچھے تھے انہیں نماز خوف دو رکعت پڑھائی، اور جو اس کے بعد آئے انہیں بھی دو رکعت پڑھائی، تو (اس طرح) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعت ہوئی، اور لوگوں کی دو دو رکعت ہوئی۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 1556]
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے کھڑے لوگوں کو دو رکعتیں پڑھائیں، پھر جو ان کے بعد آئے، انھیں بھی دو رکعتیں پڑھائیں، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعتیں ہو گئیں اور ان کی دو دو۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة الخوف/حدیث: 1556]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 837 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن